Abdullahvlog

25/08/2026

Riyadh Metro Train 🚆

Explore the Riyadh Metro 🚆 in this vlog complete travel guide. Learn how to travel by Riyadh Metro, use the stations, buy tickets, and make payments using available card options.

Riyadh Metro
Riyadh Metro Train
Metro Train Saudi Arabia
How to Travel in Riyadh Metro
Riyadh Metro Guide
Riyadh Metro Stations
Riyadh Metro Tickets
Riyadh Public Transport
Riyadh Bus Station
SAPTCO Riyadh

سوچ کا فرقصنف کتاب کے آغاز میں ایک ایسے شخص کی حقیقی کہانی کا ذکر کرتا ہے جو ایک کامیاب کاروباری اور سی ای او تھا لیکن و...
09/08/2026

سوچ کا فرق
صنف کتاب کے آغاز میں ایک ایسے شخص کی حقیقی کہانی کا ذکر کرتا ہے جو ایک کامیاب کاروباری اور سی ای او تھا لیکن وہ شدید ذہنی کوفت اور مایوسی کا شکار رہتا تھا کیونکہ اس کے نزدیک اس کے اردگرد کام کرنے والے تمام لوگ نااہل اور بیوقوف تھے۔ اس تاجر کا شکوہ تھا کہ جب بھی وہ کسی کو کوئی ذمہ داری سونپتا ہے یا کوئی پروجیکٹ شروع کرتا ہے، تو وہ لوگ اس کے معیار کے مطابق کام کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں اور ہر کام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ لیکن جب مصنف نے اس کاروباری شخص کی پوری بات گہرائی سے سنی اور اس کے اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کیا، تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ مصنف کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ ملازمین یا ساتھی دراصل بیوقوف نہیں تھے، بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ سی ای او اپنے اردگرد کے لوگوں کی جبلت، نفسیات اور ان کے کام کرنے کے انداز سے بالکل ناواقف تھا। وہ ہر انسان کو اپنے ہی زاویے سے دیکھتا تھا اور یہ توقع کرتا تھا کہ ہر کوئی بالکل اسی کی طرح سوچے اور عمل کرے، جو کہ انسانی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ یہ کتاب دراصل اسی بنیادی غلط فہمی کا احاطہ کرتی ہے جس میں ہم اکثر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہمارے اردگرد موجود لوگ احمق ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ ہم سے صرف مختلف ہوتے ہیں۔ مصنف یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا میں مواصلات یا کمیونیکیشن کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جو بات ہم نے کہی ہے، سامنے والے نے اسے بالکل اسی مفہوم میں سمجھ لیا ہوگا جیسا کہ ہم نے سوچا تھا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ہر انسان کا اپنا ایک فکری فریم ورک، ذاتی تجربات، اور تعصبات ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ ہر بات کو چھانٹ کر سمجھتا ہے। اسی لیے ایک ہی بات کو مختلف لوگ بالکل الگ طریقوں سے سمجھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی بات دوسروں تک مؤثر انداز میں پہنچانا چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے خود اپنے مواصلاتی انداز کو بدلنا ہوگا اور سامنے والے کی پسند اور مزاج کے مطابق بات چیت کرنی ہوگی।
اس مقصد کے لیے مصنف نے کتاب میں انسانی رویوں کو چار بنیادی رنگوں یعنی سرخ، پیلا، سبز اور نیلا میں تقسیم کیا ہے، جو کہ دراصل مشہور زمانہ DISC ماڈل کی ہی ایک عملی اور آسان شکل ہے। سرخ رنگ کے حامل افراد بہت خود اعتماد، فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اور نتائج کے پکے ہوتے ہیں جو ہر وقت آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ پیلے رنگ کے لوگ پرجوش، باتونی، ملنسار اور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جو محفل کی جان ہوتے ہیں। سبز رنگ کے لوگ پرسکون، گھریلو مزاج، صلح جو اور استحکام پسند ہوتے ہیں جو تنازعات سے دور بھاگتے ہیں۔ جبکہ نیلے رنگ کے لوگ انتہائی نکتہ سنج، حقائق پسند، اصول پرست اور ہر چیز میں پرفیکشن ڈھونڈنے والے ہوتے ہیں۔ مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان سو فیصد درست یا غلط نہیں ہوتا، بلکہ سبھی اپنے اپنے مزاج کے مطابق ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ جب تک ہم ان چاروں رویوں کی نفسیات کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہمیں ہر انسان اپنے راستے کا کانٹا یا بیوقوف ہی محسوس ہوتا رہے گا.





09/08/2026

Media wala yam 😁😂😂

09/08/2026

Which country is this that delivers food on donkeys?

ماحول اور رویے اس باب میں مصنف یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارے رویے اور شخصیت کی تشکیل کیسے ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پ...
05/08/2026

ماحول اور رویے
اس باب میں مصنف یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارے رویے اور شخصیت کی تشکیل کیسے ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر وراثت اور ماحول کا ایک امتزاج ہے۔ پیدائش سے پہلے ہی ہمارے مزاج اور کردار کی وہ بنیادی راہیں طے ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو آگے چل کر جوانی میں ہمارے رویے کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ ہم اپنے والدین اور آباواجداد سے کچھ جینیاتی خصوصیات ورثے میں پاتے ہیں جو زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے ردعمل کو متاثر کرتی ہیں۔
بچپن میں بچے زیادہ تر فطری اور espontaneous رویہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اردگرد کے ماحول، خاص طور پر والدین اور بااثر شخصیات کی نقل کرتے ہوئے سیکھتے ہیں۔ اس عمل کے دوران ہمارے بنیادی اقدار تشکیل پاتے ہیں جو بچپن کی تعلیم اور تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ یہ بنیادی اقدار ہمیں صحیح اور غلط کا فرق سکھاتی ہیں اور اتنے پختہ ہوتے ہیں کہ عمر کے ساتھ ان میں تبدیلی بہت مشکل ہوتی ہے۔ بنیادی اقدار کے برعکس ہمارے رویے اور نظریات وقت اور ذاتی تجربات کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ماضی میں کسی دکاندار یا سیلز مین کے ساتھ ہمارا تجربہ برا رہا ہو تو ہمارا رویہ اس کے متعلق منفی ہو سکتا ہے، جو بعد میں اچھے تجربات کی وجہ سے تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بنیادی اقدار اور رویے مل کر ہمارے اصل مزاج کو بناتے ہیں جس کے تحت ہم آزادی سے عمل کرتے ہیں۔ تاہم، انسان مکمل طور پر آزاد ماحول میں نہیں رہتا بلکہ اس کا رویہ ہمیشہ اس کی شخصیت اور اردگرد کے حالات کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ زندگی میں بہت کم ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ہم مکمل طور پر خود بن کر رہ سکیں، جیسے کہ جب ہم اکیلے ہوں یا ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو بالکل ہماری طرح سوچتے ہوں۔ باقی تمام حالات میں ہم معاشرے اور اردگرد کے لوگوں کے مطابق اپنے رویے کو ڈھالتے ہیں اور مختلف نقاب پہن کر زندگی گزارتے ہیں.




سمارٹ ورکاس اصول کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ انسانی دماغ قدرتی طور پر توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے اور جب ہمارے پاس دو ا...
04/08/2026

سمارٹ ورک
اس اصول کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ انسانی دماغ قدرتی طور پر توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے اور جب ہمارے پاس دو ایسے راستے ہوں جو ایک جیسے نتائج دے سکیں تو ہم ہمیشہ اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں جس میں کم سے کم محنت اور توانائی درکار ہو۔ مصنف کے مطابق یہ محض سستی یا کاہلی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی فطرت اور حیاتیاتی بقا کا تقاضا ہے کیونکہ ہمارا دماغ ہمیشہ ایسی حکمتِ عملی تلاش کرتا ہے جو کم سے کم وقت اور توانائی خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی تبدیلیوں کے خواب دیکھنے کے باوجود ہم اکثر ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے اچھے کام کرنا مشکل اور غلط کام کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔
اس کتاب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی میں کوئی نئی اور اچھی عادت اپنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی قوتِ ارادی یا موٹیویشن پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو اس طرح ڈھالنا چاہیے کہ اچھے کاموں میں رکاوٹیں یا فرکشن (Friction) کم سے کم ہو جائے۔ جب کسی اچھے کام تک رسائی آسان ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی تو اسے روزمرہ کا معمول بنانا اور نبھانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی اچھا کام کرنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ تگ و دو یا تیاری کرنی پڑے تو ہمارا دماغ سستی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم اس کام کو ٹالنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس اصول کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آپ اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیں اور اپنے ماحول کی ایسی تیاری کریں کہ درست کام خود بخود آپ کے روزمرہ کے بہاؤ (Flow) کا حصہ بن جائیں۔
مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ اچھے کاموں کو آسان بنانے کا سب سے بہترین طریقہ ماحول کی ایسی اصلاح یا پرائمنگ (Priming) ہے جو مستقبل کے اقدامات کو خود بخود آسان بنا دے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ صبح اٹھ کر ورزش کرنے کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں تو رات کو سونے سے پہلے اپنے ورزش کے کپڑے اور جوتے بالکل سامنے تیار کر کے رکھ لیں تاکہ صبح اٹھتے ہی آپ کو انہیں ڈھونڈنے یا اضافی محنت نہ کرنی پڑے، کیونکہ ذرا سا فاصلہ یا معمولی سی رکاوٹ بھی انسان کو ارادہ بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اسی طرح صحت مند خوراک کو قریب اور آسان جگہ پر رکھنا اور غیر ضروری چیزوں یا distractions کو اپنی نظروں سے دور کرنا اس قانون کا عملی حصہ ہے۔ جب اچھے کاموں کے درمیان کا فاصلہ اور دشواری کم ہو جاتی ہے تو کامیابی کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا ہے اور عادتیں بغیر کسی ذہنی بوجھ کے خود کار طریقے سے بننے لگتی ہیں۔
اس اصول کا دوسرا اور اتنا ہی اہم رخ یہ ہے کہ بری عادتوں کو ختم کرنے کے لیے بالکل الٹ طریقہ کار اختیار کیا جائے یعنی ان کی راہ میں رکاوٹیں یا فرکشن کو اتنا بڑھا دیا جائے کہ ان کا کرنا مشکل ہو جائے۔ اگر کوئی بری عادت یا ایسی چیز جو آپ کے وقت کو ضائع کرتی ہے آپ کے لیے آسانی سے دستیاب ہو گی تو آپ بار بار اس کا شکار ہوں گے، لیکن اگر آپ اس تک پہنچنے کے راستے میں مشکلات کھڑی کر دیں مثلاً موبائل یا ٹی وی کا استعمال کم کرنے کے لیے انہیں کسی دوسری جگہ یا دراز میں بند کر کے رکھ دیں تو سستی اور مشکل کی وجہ سے آپ کا دماغ اس بری عادت کو خود بخود ترک کرنے لگے گا۔ غرض یہ پورا اصول اس بات پر محیط ہے کہ کامیابی کا راز انسان کی اپنی غیر معمولی قوتِ ارادی میں نہیں بلکہ ایک ایسے نظام اور ماحول کی تشکیل میں چھپا ہے جہاں اچھے کام قدرتی طور پر سب سے آسان راستہ بن جائیں۔




ٹو منٹ رول ایک انتہائی انقلابی اور مؤثر تکنیک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق، جب آپ کوئی نئی عادت اپنانا چاہتے ...
31/07/2026

ٹو منٹ رول ایک انتہائی انقلابی اور مؤثر تکنیک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق، جب آپ کوئی نئی عادت اپنانا چاہتے ہیں یا کسی مشکل کام کو ٹالنے کی عادت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے کام کی شروعات کو اتنا آسان بنا لیں کہ اس پر عمل کرنا دو منٹ یا اس سے بھی کم وقت لے۔ اکثر اوقات ہمارے لیے سب سے مشکل مرحلہ کسی کام کا آغاز کرنا ہوتا ہے، اور ایک بار جب ہم شروعات کر لیتے ہیں، تو آگے بڑھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ جیمز کلیئر وضاحت کرتے ہیں کہ ہمارے دماغ کا یہ فطری طریقہ کار ہے کہ وہ مشکل یا بڑے کاموں سے گھبراتا ہے اور فوری طور پر آسان چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہم کاموں کو کل پر ٹالنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نفسیاتی رکاوٹ کو توڑنے کے لیے ٹو منٹ رول دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چھوٹا کام دو منٹ یا اس سے کم وقت میں ہو سکتا ہے (جیسے کھانا کھانے کے بعد فوری برتن سنبھالنا، ای میل کا جواب دینا، یا اپنے کپڑے الماری میں رکھنا)، تو اسے اسی وقت نمٹا دیں اور اسے کل پر مت چھوڑیں۔
دوسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جب آپ کو کسی بڑے اور مشکل کام کا سامنا ہو جسے آپ لگاتار ٹال رہے ہوں (مثلاً کوئی کتاب پڑھنا، ورزش کرنا، یا کوئی بڑی رپورٹ تیار کرنا)، تو اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اس پورے کام کو ایک ہی بار میں ختم نہیں کریں گے، بلکہ اس پر صرف دو منٹ کے لیے کام کریں گے۔ خود کو یہ یقین دلائیں کہ آپ کو صرف دو منٹ کے لیے کتاب کھول کر پڑھنا ہے یا صرف دو منٹ کے لیے ورزش کے کپڑے پہن کر میٹ پر کھڑے ہونا ہے۔ یہ سوچنے میں بہت معمولی بات لگتی ہے، لیکن یہ آپ کے لاشعوری خوف اور دماغی دباؤ کو فوراً ختم کر دیتی ہے کیونکہ دماغ یہ جانتا ہے کہ اس عمل میں صرف دو منٹ صرف ہوں گے۔
حقیقت میں، یہ چھوٹی سی شروعات ایک فزیکل مومینٹم یا رفتار پیدا کرتی ہے۔ جیمز کلیئر بتاتے ہیں کہ ایک بار جب آپ دو منٹ کے لیے کام شروع کر دیتے ہیں، تو رکنا مشکل ہو جاتا ہے اور آپ کا دماغ اس میں رچ بس جاتا ہے۔ دو منٹ پورے ہونے کے بعد بھی اکثر لوگ اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور اسے مکمل کر لیتے ہیں۔ اس تکنیک کا اصل مقصد کسی کام کو زبردستی کھینچنا نہیں بلکہ شروعات کی اس رکاوٹ کو پار کرنا ہے جو ہمیں ناکام بناتی ہے۔ جب آپ اپنی عادتوں کی ابتدا اس طرح انتہائی چھوٹے پیمانے پر کرتے ہیں، تو ٹال مٹول کی بیماری خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور کامیابی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

30/07/2026

Beautiful Cultural Moment on the Street in Saudi Arabia

Address

Riyadh
12745

Telephone

+923059532202

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdullahvlog posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abdullahvlog:

Shortcuts

Share