Sial Mahar

Sial Mahar اس پیج کا مقصد صرف انٹرٹینمنٹ اور ولاگنگ ہے جو لوگ ولاگنگ اور مختلف جگہوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں ضرور فالو کریں۔

*اگر پاقستان  کے صقولوں میں اصی ترح مصلصل چھٹیاں رہیں تو تالیم  کا یحی ہال حو جائے گا**بص عاپ چھٹیاں قرتے جائیں*👻😂😂😂😂
29/03/2026

*اگر پاقستان کے صقولوں میں اصی ترح مصلصل چھٹیاں رہیں تو تالیم کا یحی ہال حو جائے گا*
*بص عاپ چھٹیاں قرتے جائیں*👻😂😂😂😂

سانوں مِل جان  یار ﷺ دیاں گلیاںاساں ساری خدائی کی کرنی۔۔!!محشر وچ ساڈی بن جاوے دنیا دی بنائی کی کرنی۔۔!!اسیں چپ چپ دُکھڑ...
23/03/2026

سانوں مِل جان یار ﷺ دیاں گلیاں
اساں ساری خدائی کی کرنی۔۔!!
محشر وچ ساڈی بن جاوے
دنیا دی بنائی کی کرنی۔۔!!
اسیں چپ چپ دُکھڑے سہنے ہاں
دنیا نوں کچھ نہیں کہنے ہاں
ناں یار ﷺ دا لیندے رہندے ہاں
اساں حال دہائی کی کرنی۔۔!!
جس دن دیاں اَکھیاں لا بیٹھے
اکھیاں دا چین گنوا بیٹھے
اساں یار ﷺ دے دَر تے آ بیٹھے
اساں ہور کمائی کی کرنی۔۔!!
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

23/03/2026

Dil ko sukoon sirf yahan milta hai...🤍

بیشک
20/03/2026

بیشک

20/03/2026

معصوم فرشتے کی ہنسی دیکھ کر آنکھوں میں آنسوں آ گئے

اللہ پاک ہر مسلمان کو اس نوجوان کی طرح بڑے دل والا بناۓ

19/03/2026

❤️ دل خوش ہو گیا

👌کمال کر دیا اس گاڑی والے صاحب نے،

🤲 اللہ ایسے بااحساس لوگوں میں اضافہ فرمائے ❤️👍

آمین

19/03/2026

پشاور میں سات بندوں کو عید کا چاند نظر آگیا ہے۔
پولیس ان کو تھانے لے گئی ہے
اب ان کو تارے نظر آ رہے ہیں۔

الحمدللہ ختم قرآن مجید کے خوبصورت لمحات کے موقع پر لی گئی ایک تصویر جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دیتا ہ...
19/03/2026

الحمدللہ ختم قرآن مجید کے خوبصورت لمحات کے موقع پر لی گئی ایک تصویر جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں اور نیک لوگوں کے ساتھ جوڑے رہیں

😘Day and night view of the Royal clock Tower 🙌
19/03/2026

😘
Day and night view of the Royal clock Tower 🙌

19/03/2026

🌼

*کن کن وقتوں میں دعا قبول ہوتی ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں*

جس طرح مخصوص اوقات مقبولیتِ دعا میں اثر رکھتے ہیں، اسی طرح انسان کے بعض حالات کو بھی حق تعالیٰ نے مقبولیتِ دعا کے لیے مخصوص فرمایا ہے، جن میں کوئی عار نہیں کی جاتی۔ وہ حالات یہ ہیں:

اذان کے وقت۔ (ابوداؤد، مستدرک)

اذان و اقامت کے درمیان۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کے بعد، اس شخص کے لیے جو کسی مصیبت میں گرفتار ہو، اس وقت دعا کرنا بہت مجرب و مفید ہے۔ (مستدرک)

جہاد میں صف باندھنے کے وقت۔ (ابن حبان، طبرانی، مؤطا)
جہاد میں گھمسان کی لڑائی کے وقت۔ (ابوداؤد)

فرض نمازوں کے بعد۔ (ترمذی، نسائی)

سجدہ کی حالت میں۔ (مسلم، ابوداؤد، نسائی)
فائدہ: مگر فرائض میں نہیں۔

تلاوتِ قرآن کے بعد (ترمذی) اور بالخصوص ختمِ قرآن کے بعد۔ (طبرانی، بیہقی)
اور بالخصوص پڑھنے والوں کی دعا بہ نسبت سننے والوں کے زیادہ مقبول ہے۔ (ترمذی، طبرانی)

آبِ زمزم پینے کے وقت۔ (مستدرک حاکم)

میت کے پاس حاضر ہوتے وقت، یعنی جو شخص نزع کی حالت میں ہو، اس کے پاس آنے کے وقت بھی دعا قبول ہوتی ہے۔
(مسلم و سننِ اربعہ)

مرغ کے آواز کرنے کے وقت۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)

مسلمانوں کے اجتماع کے وقت۔ (صحاح، عن صلبۃ الانصاریہ)

مجالسِ ذکر میں۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)

امام کے ولا الضالین کہنے کے وقت۔ (مسلم، ابوداؤد، نسائی)

فائدہ: بظاہر امام جزری کی مراد اس سے وہ حدیث ہے جو ابوداؤد نے کتاب التشہد میں ذکر کی ہے:
"وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى"
یعنی جب امام "ولا الضالین" کہے تو تم "آمین" کہو، حق تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس موقع پر دعا سے مراد صرف آمین کہنا ہے، دوسری دعا مراد نہیں۔

اقامتِ نماز کے وقت۔ (طبرانی)

بارش کے وقت۔ (ابوداؤد، طبرانی، عن سهل بن سعد الساعدی)

امام شافعیؒ نے کتاب "الام" میں فرمایا ہے کہ میں نے بہت سے صحابہ کرامؓ و تابعین سے یہ عمل سنا ہے کہ وہ بارش کے وقت خصوصیت سے دعا مانگتے تھے۔

بیت اللہ پر نظر پڑنے کے وقت۔ (ترمذی، طبرانی)

🌸🌼🌹🤲♥️

دنیا کی سب سے پراسرار اور خطرناک دھات  پلوٹونیم تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک دھات کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ بظاہر وہ عام ...
19/03/2026

دنیا کی سب سے پراسرار اور خطرناک دھات پلوٹونیم

تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک دھات کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے۔ بظاہر وہ عام دھاتوں جیسا ہی لگتا ہے، جیسے Iron یا Copper کا ٹکڑا۔ لیکن چند لمحوں بعد آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دھات آہستہ آہستہ گرم ہو رہی ہے۔ نہ اس کے نیچے آگ ہے، نہ بجلی، مگر اس کے اندر کہیں گہرائی میں توانائی کا ایک خاموش سمندر موجیں مار رہا ہے۔

یہ کوئی عام دھات نہیں۔
یہ ہے Plutonium وہ عنصر جس نے انسان کو کائنات کی سب سے خوفناک طاقتوں میں سے ایک تک رسائی دی۔

بعض سائنسدان اسے مذاق میں “Devil’s Element” یا “شیطان کی دھات” بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ بظاہر خاموش اور بے جان نظر آتی ہے لیکن اس کے اندر تباہ کن طاقت چھپی ہوتی ہے۔

یہ کہانی ہمیں لے جاتی ہے سنہ 1940 میں۔ دنیا اس وقت World War II کی آگ میں جل رہی تھی۔ ہر بڑی طاقت اس کوشش میں تھی کہ سائنس کو جنگی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔

اسی دوران University of California, Berkeley کی ایک خفیہ لیبارٹری میں چند سائنسدان ایک عجیب تجربہ کر رہے تھے۔ اس ٹیم کی قیادت معروف امریکی کیمیا دان Glenn T. Seaborg کر رہے تھے۔

وہ ایک بھاری عنصر Uranium پر نیوکلیئر تجربات کر رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اس کے ایٹموں کو تبدیل کر کے دیکھا جائے کہ اس کے اندر اور کیا چھپا ہے۔

تجربات کے دوران ایک ایسا عنصر سامنے آیا جو قدرت میں تقریباً موجود نہیں تھا۔ یہ بالکل نیا تھا انسان کے ہاتھوں پیدا ہونے والا۔

جب اس عنصر کا نام رکھنے کا وقت آیا تو سائنسدانوں نے نظامِ شمسی کے ایک دور دراز سیارے Pluto کے نام پر اسے Plutonium کہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Pluto یونانی دیومالا میں زیرِ زمین دنیا اور موت کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔
بعد میں تاریخ نے دکھایا کہ شاید یہ نام اتفاق نہیں بلکہ پیش گوئی تھا۔

ایٹم کا ٹوٹنا اور توانائی کا طوفان

پلوٹونیم کی اصل طاقت اس کے ایٹم کے اندر چھپی ہے۔ اس کے ایٹم خاص طور پر Plutonium‑239 انتہائی غیر مستحکم ہوتے ہیں۔

جب ایک چھوٹا سا نیوٹران اس کے ایٹم سے ٹکراتا ہے تو ایٹم دو حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس عمل کو Nuclear fission کہتے ہیں۔

لیکن اصل ڈرامہ یہاں شروع ہوتا ہے۔

ایک ایٹم کے ٹوٹنے سے مزید نیوٹران نکلتے ہیں، جو دوسرے ایٹموں سے ٹکراتے ہیں۔ پھر وہ بھی ٹوٹتے ہیں، اور مزید نیوٹران نکلتے ہیں۔

یوں ایک chain reaction شروع ہو جاتی ہے۔

یہ عمل اتنی تیزی سے بڑھتا ہے کہ ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے میں بے پناہ توانائی آزاد ہو جاتی ہے۔ اگر اس عمل کو قابو نہ کیا جائے تو نتیجہ ایک تباہ کن دھماکہ ہوتا ہے۔

وہ لمحہ جب زمین پر ایک نیا سورج طلوع ہوا

16 جولائی 1945 کو امریکہ نے نیو میکسیکو کے صحرا میں تاریخ کا پہلا ایٹمی تجربہ کیا جسے Trinity nuclear test کہا جاتا ہے۔

یہ تجربہ دراصل Manhattan Project کا حصہ تھا، جس کی قیادت مشہور طبیعیات دان J. Robert Oppenheimer کر رہے تھے۔

جب دھماکہ ہوا تو رات کے اندھیرے میں اچانک ایسا لگا جیسے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہو گیا ہو۔ آسمان سفید روشنی سے بھر گیا اور زمین کئی کلومیٹر تک لرز اٹھی۔

اس لمحے اوپن ہائمر کو قدیم ہندو صحیفہ Bhagavad Gita کی ایک سطر یاد آئی:

اب میں موت بن چکا ہوں، دنیا کو تباہ کرنے والا۔

یہ صرف ایک سائنسی تجربہ نہیں تھا۔
یہ انسان کی تاریخ کا نیا دور تھا۔

ایک شہر… اور چند کلو دھات

صرف تین ہفتے بعد، 9 اگست 1945 کو دنیا نے اس طاقت کا حقیقی انجام دیکھا۔

امریکہ نے جاپان کے شہر Nagasaki پر ایک ایٹمی بم گرایا جسے Fat Man atomic bomb کہا جاتا تھا۔

اس بم کے اندر چند کلوگرام پلوٹونیم موجود تھا۔

لیکن ان چند کلو دھات نے پورے شہر کی تقدیر بدل دی۔

چند سیکنڈ میں:

درجہ حرارت سورج کی سطح کے قریب پہنچ گیا

ہزاروں عمارتیں راکھ بن گئیں

اور ہزاروں انسان لمحوں میں جان سے گئے

جو لوگ بچ گئے وہ بعد میں Radiation sickness اور کینسر جیسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

پلوٹونیم کی تباہی صرف دھماکے تک محدود نہیں۔

اس کا سب سے خوفناک پہلو اس کی لمبی عمر ہے۔

Plutonium-239 کی half-life تقریباً 24,000 سال ہے۔
یعنی اگر آج اس کا ایک ٹکڑا زمین میں دفن کر دیا جائے تو ہزاروں سال بعد بھی وہ خطرناک ریڈی ایشن خارج کرتا رہے گا۔

ذرا تصور کیجیے:

24 ہزار سال پہلے انسان ابھی زراعت سیکھ رہا تھا۔
اور آج ہم نے ایسی چیز بنا لی ہے جو ہم سے بھی ہزاروں سال زیادہ زندہ رہ سکتی ہے۔

پلوٹونیم باہر سے چاندی جیسی عام دھات لگتی ہے۔

لیکن یہ مسلسل الفا ریڈی ایشن خارج کرتی رہتی ہے۔ اگر اس کی باریک دھول سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو جائے تو یہ پھیپھڑوں اور ہڈیوں میں جا کر جمع ہو سکتی ہے۔

پھر آہستہ آہستہ یہ انسانی DNA کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے اور سالوں بعد کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی لیے دنیا کی نیوکلیئر لیبارٹریوں میں پلوٹونیم کو خاص سیفٹی چیمبرز اور روبوٹک بازوؤں کے ذریعے سنبھالا جاتا ہے۔

آج دنیا میں سینکڑوں ٹن پلوٹونیم موجود ہے۔
اس کا استعمال:

ایٹمی ہتھیاروں میں

نیوکلیئر ری ایکٹروں میں

اور بعض خلائی مشنز میں توانائی کے ذرائع کے طور پر کیا جاتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی عالمی ادارے جیسے International Atomic Energy Agency اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ طاقت انسانیت کے خلاف استعمال نہ ہو۔

پلوٹونیم صرف ایک دھات نہیں۔

یہ انسان کی ذہانت، جستجو اور خطرناک طاقت کی علامت ہے۔

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
انسان نے ایٹم کو توڑنے کا راز تو سیکھ لیا ہے…

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ
کیا وہ اس طاقت کو سنبھالنے کی حکمت بھی سیکھ پایا ہے؟

کیونکہ بعض اوقات
انسان کی سب سے عظیم دریافت…

اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی بن جاتی ہے۔

25/11/2025

ڈریسنگ پروٹوکول کو معیار نہ بنائیں بعض اوقات سستے لباس میں بہت مہنگا انسان ہوتا ہے

صبح بخیر

Address

Makkah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sial Mahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share