21/05/2024
پاکستان میں جہاں دو نمبر پیرومرشد وافر مقدار میں موجود ہیں وہیں دو نمبر مولوی اور دو نمبر ڈاکٹر ، سائنیسدان بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کوئی بھی شخص کسی دوسرے کو کسی بھی وقت کوئی بھی ٹیکا باآسانی لگا سکتا ہے۔ کوئی بھی شخص کسی سے ٹیکا لگوانا نہیں چاہتا لیکن ڈاکٹر وہ واحد شخص ہے جس سے انسان خوشی خوشی ٹیکا لوا لیتا ہے چاہے وہ ٹیکا زہر کا ہی کیوں نہ ہو۔
زیر نظر صرف ایک تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل ہوتی ہے تو لنڈے کے ڈاکٹر واویلا شروع کر دیتے ہیں اور سنسی خیز ٹیکا صرف ویوز کے چکر میں عوام اور کسانوں کو لگا دیتے ہیں کہ کسان تربوز میں ٹیکے لگا کر بیچتے ہیں ۔
آپ کسی بھی پھل میں کسی رنگ والا یا رنگ کے بغیر بھی ٹیکہ لگاؤ گے یا چھوٹا سا بھی سوراخ کرو تو وہ پھل کچھ وقت گزرنے کے بعد خراب ہونا شروع ہو جائے گا۔
کسان اتنی محنت سے اناج اگاتا ہے پہلے حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اب لنڈے کے ڈاکٹر ویوز کے چکر میں اس پیشے کو تباہ و برباد کر رہے ہیں ۔ لہٰزا ان ٹیکو پہ کان دھرنے کی بجائے جو بھی موسمی پھل ملے شوق سے کھائیں۔