سمارٹ موبائل اینڈ کمپوزنگ عظیم خان مارکیٹ صوابی

  • Home
  • Pakistan
  • Swabi
  • سمارٹ موبائل اینڈ کمپوزنگ عظیم خان مارکیٹ صوابی

سمارٹ موبائل اینڈ کمپوزنگ عظیم خان مارکیٹ صوابی all types mobile accessories use and New mobile ggg

10/06/2026

ایک عہد کا اختتام – فخرِ صوابی جناب اعجاز احمد خان صاحب کی ریٹائرمنٹ
​ضلع صوابی، وادیِ کنڈاؤ، گاؤں بوکو کی مٹی کے سپوت اور ہم سب کے لیے قابلِ فخر شخصیت، جناب اعجاز احمد خان صاحب اپنی شاندار تعلیمی خدمات مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو گئے ہیں۔
​اعجاز صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 1996 میں دی فضلِ حق کالج مردان سے بطور استاد کیا تھا۔ 30 سالہ طویل سفر میں انہوں نے نہ صرف ہزاروں طلبہ کی علمی آبیاری کی بلکہ اپنی محنت، دیانت اور قابلیت کے بل بوتے پر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ڈائریکٹر کے معتبر عہدے تک پہنچے.
26اپریل 2026 ان کے تعلیمی سفر کا وہ یادگار دن ہے جب وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا دورِ ملازمت علم و دانش، نظم و ضبط اور بہترین تربیت کا ایک روشن باب ہے۔
​اللہ پاک سے دعا ہے کہ اعجاز احمد خان صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی صحت، سکون اور خوشیوں کے ساتھ گزرے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے۔ آمین...

10/06/2026

دیارِ بوکو کا علمی وقار: مفسرِ اخلاق، محترم مفتی محمد رحیم صاحب ولد عبد الرحیم تاشقند بوکو
کچھ شخصیات اپنے وجود میں ایک انجمن اور اپنے کردار میں روشنی کا مینار ہوتی ہیں۔ ہمارے پیارے علاقے (بوکو اور وادی(کنډاو) کی مٹی خوش قسمت ہے جس نے ایسے گوہرِ نایاب پیدا کیے جنہوں نے علم و حکمت کی شمع سے تاریک راہوں کو منور کیا۔ انھی جلیل القدر اور مخلص ہستیوں میں ایک درخشندہ نام **محترم مفتی محمد رحیم صاحب** کا ہے، جن کا اوڑھنا بچھونا اور زندگی کا ہر لمحہ دینِ متین کی سرفرازی، تدریس اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف ہے۔
📚 علمِ نافع کا حصول اور فکری سفر
مفتی صاحب نے علم کی پیاس بجھانے اور معرفتِ الٰہی کے سفر کا آغاز ۱۹۹۲ء میں کیا:
* **علمِ دین کی معراج:** آپ ۱۹۹۲ء میں علم و ادب کے گہوارے **مدرسہ رحمانیہ مینی** کے حصار میں داخل ہوئے اور اپنی شبانہ روز محنت، بے پناہ لگن اور اخلاص کی بدولت **2006ء** میں دورۂ حدیث مکمل کر کے فضیلت کی دستار سے سرفراز ہوئے۔
* **افتاء کی مسند:** علم کی جستجو یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ آپ نے **2007ء** میں "مدرسہ تعلیم القرآن" (میاں والی کالونی) کا رخ کیا اور تخصص فی الافتاء (مفتی کورس) کی کٹھن منزل طے کر کے شرعی رہنمائی اور افتاء کا منصبِ جلیلہ حاصل کیا۔
دعوتِ حق اور مسندِ تدریس پر بوقلمونی
مفتی صاحب صرف کتابی علوم تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے علم کو عمل کے سانچے میں ڈھالا:
* **سفرِ ہدایت (تبلیغ):** آپ نے **2010ء اور 2011ء** میں ایک سال کا طویل عرصہ دعوت و تبلیغ کی مبارک محنت میں گزارا، تاکہ دلوں کو ایمان کی حرارت سے گرما سکیں۔
* **شمعِ تدریس فروزاں:** تبلیغی میدان سے واپسی پر، **2011ء** سے آپ نے مسندِ تدریس سنبھالی۔ کبھی مینی کے گلشن میں اور کبھی اپنے آبائی علاقے کی علمی محفلوں میں، آپ مستقل مزاجی سے پیاسوں کو علمِ نبوت کے جام پلا رہے ہیں اور یہ فیضانِ علم آج بھی پورے جاہ و جلال سے جاری ہے۔
پائیدار علمی صدقہ جاریہ (تعلیمی انقلاب)
علاقے کی نئی نسل بالخصوص ہماری بیٹیوں کو فکری اور اخلاقی پستی سے بچانے کے لیے مفتی صاحب نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ۔ 2024 میں آپ کی فکری بصیرت اور سرپرستی میں دو عظیم الشان علمی اداروں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا:
۱. **مدرسہ رحیمیہ (برائے بنین / طلبہ):** جہاں نو نہالانِ قوم کے افکار کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔
۲. **مدرسہ ام حبیبہ للبنات (برائے طالبات):** جو ہماری ماؤں, بہنوں اور بیٹیوں کو حیا، عفت اور علمِ دین کے زیور سے آراستہ کر رہا ہے۔
**فکرِ نو (پیج کا مقصد):** ہمارے اس پلیٹ فارم کا مشن اپنے علاقے کے انھی خاموش مجاہدوں اور حقیقی ہیروز کے نقوشِ پا کو دنیا کے سامنے لانا ہے، تاکہ ہماری نوجوان نسل ان کے اسوہ اور کردار سے تحریک (Motivation) حاصل کرے، اندھیروں سے لڑنے کا حوصلہ پائے اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ بیدار ہو۔
> اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مفتی صاحب کے اس علمی و عملی مرتبے کو مزید سربلندی عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان کا سایۂ عاطفت و شفقت ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ آمین یا رب العالمین!
>

10/06/2026

🌟 کامیابی کی ایک لازوال داستان: ڈاکٹر اسحاق کی کہانی، ان کی زبانی!
تعلق: محلہ اسلام پورہ، وادی کنڈاؤ (گاؤں جھنڈا، صوابی)
پہچان: ایک باہمت مزدور کا ذہین اور قابل بیٹا، جو اپنی محنت سے کامیابی کے آسمان تک پہنچا!
📝 ابتدائی دور اور تعلیمی سفر: مسجد اسکول سے اسلامیہ کالج پشاور تک
میرا تعلیمی سفر کامیابیوں، انتھک محنت اور مخلص محسنوں کی ایک لازوال کہانی ہے۔ چونکہ ہمارے خاندان میں پہلے کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اور رہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ تھا، اس لیے مالی مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود میں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔
مسجد سے آغاز: میں نے اپنی پڑھائی کا باقاعدہ آغاز اپنے گاؤں اسلام پورہ جھنڈا کی مسجد میں قائم پرائمری اسکول سے کیا اور ایک سال 'بوکو' کے پرائمری اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔
شاہین ماڈل پبلک اسکول (جھنڈا): اس کے بعد میں نے یہاں داخلہ لیا، جہاں اللہ کے فضل سے میں نے چھٹی جماعت تک ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کی اور پورے اسکول میں ٹاپ کیا۔
محسن اساتذہ کی سرپرستی: میری زندگی کے اس نازک موڑ پر اساتذہ نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ خاص طور پر شاہین اسکول کے پرنسپل عباس سر اور بوکو کے سہیل احمد صاحب نے ذاتی طور پر میرے لیے بہت دوڑ دھوپ کی۔ انھی کی کوششوں، اور امجد سر، فقیر سید صاحب،اختر سید سر،اور مقصود صاحب کی سرپرستی میں میرا داخلہ 'ماڈل پبلک ہائی اسکول مینی' میں ہوا۔
مردان بورڈ میں ٹاپ 20: مینی اسکول کے پرنسپل ریاض صاحب،مقصود صاحب، سجاد سر، اور کئی اساتذہ کی شاندار گائیڈنس اور رہنمائی نے میری زندگی بدل دی۔ ان کی دیکھ ریکھ میں نویں اور دسویں جماعت میں بہترین پوزیشنز حاصل کرنے کے بعد، میں نے 2008 میں میٹرک کیا اور مردان بورڈ کے ٹاپ 20 (Top 20) میں اپنی جگہ بنائی۔
اسلامیہ کالج پشاور: اسی محنت اور اپنے مخلص اساتذہ کی بدولت میرا داخلہ 'اسلامیہ کالج پشاور' جیسی تاریخی اور عظیم درسگاہ میں ممکن ہوا، جہاں سے میں نے 2010 میں ایف ایس سی (FSc) مکمل کی۔
🩺 طبی سفر اور پیشہ ورانہ کامیابیاں (Medical Career)
ایف ایس سی کے بعد، اللہ کے فضل و کرم سے میں نے 2011 کے آغاز میں انٹری ٹیسٹ پاس کیا۔
خیبر میڈیکل کالج (KMC) پشاور: میرا داخلہ کے پی کے (KPK) کے سب سے ٹاپ میڈیکل کالج میں اوپن میرٹ پر ہوا، اور 2016 میں، میں نے اپنی گریجویشن (MBBS) مکمل کی۔
ہاؤس جاب اور سپیشلائزیشن: 2017-2018 میں اپنی ہاؤس جاب مکمل کرنے کے بعد، میں نے معدے کے شعبے یعنی گیسٹرو اینٹرولوجی (Gastroenterology) میں اپنی سپیشلائزیشن کا آغاز کیا، جو 2018/2019 سے لے کر 2023 تک جاری رہی اور میں نے اسے کامیابی سے مکمل کیا۔
موجودہ خدمات (Current Profile): فی الحال میں اکاخیل میڈیکل کمپلیکس، گاڑ منارہ میں بطور گیسٹرو اینٹرولوجسٹ اور ہاسپٹل ڈائریکٹر کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ، عوام کی خدمت کے لیے صوابی اور ٹوپی میں میرے پرائیویٹ کلینکس بھی موجود ہیں: صوابی کلینک: فیملی کیئر ہاسپٹل، مال روڈ، صوابی۔
ٹوپی کلینک: عثمان میڈیکل سینٹر، ٹوپی بائی پاس، میلے روڈ۔
تعلیم اور حکمت میں مہارت کے ساتھ ساتھ، ڈاکٹر صاحب کھیلوں سے بھی گہرا شوق رکھتے تھے اور اپنے دور کے ایک مقبول اور مشہور کرکٹر تھے۔"
👨‍انوکھا خاندان اور عظیم والد کا سایہ: ایک باہمت مزدور کے ہونہار بچے
میری اس کامیابی کے پیچھے ایک ایسے باپ کا خون پسینہ شامل ہے جس نے تپتی دھوپ میں مزدوری کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کیا۔ میرے والد محترم نظیر محمد صاحب نے ہمارے لیے بہت سختیاں اور تکلیفیں دیکھیں، لیکن انہوں نے کبھی ہم بہن بھائیوں کی پڑھائی پر آنچ نہ آنے دی۔ وہ اکیلے اپنے دم پر مزدوری کرتے رہے اور آج ان کا پورا خاندان کامیابی کی مثال بن چکا ہے:
بڑا بھائی: پاک فوج سے بطور حوالدار ریٹائرڈ ہیں۔
محترم بھائی (مولانا مفتی ابراہیم صاحب): ماشاءاللہ آپ علاقے کی جانی مانی علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ وہ ایک اسکول ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد کے مہتمم بھی ہیں، اور ایک ویلفیئر ٹرسٹ (Welfare Trust) بھی چلاتے ہیں جس کی خدمات سے سب واقف ہیں۔
مجھ سے چھوٹا بھائی: انہوں نے ڈی ای اے (DAE) الیکٹریکل مکمل کیا ہوا ہے۔
سب سے چھوٹا بھائی: انہوں نے فارمیسی (Pharmacy) کی تعلیم مکمل کی ہے۔
🌹 اظہارِ تشکر (محسنوں کے نام)
"اس ساری جدوجہد میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار میرے اساتذہ کا ہے، جنہوں نے مجھے وقت بہ وقت اچھے راستے پر گائیڈ کیا۔ ان کی انگلی پکڑ کر ہی میں زندگی کے اس مقام تک پہنچا ہوں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میرے والدین کی بے لوث محبت، ان کی محنت اور میرے بھائی بہنوں کی قربانیاں اور دعائیں شاملِ حال رہیں، جن کا احسان میں زندگی بھر نہیں اتار سکتا۔

10/06/2026

🩸 ایک عام طالبِ علم سے بون میرو ٹرانسپلانٹ سپیشلسٹ تک کا سفر: ڈاکٹر عزیر احمد(بوکو )کی زبانی
ڈاکٹر عزیر احمد ولد اسرار احمد پوتا محمد رؤف (ملا کاکا)
(اسسٹنٹ پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ)
"میری پہچان میرے عہدے سے نہیں، ان زندگیوں سے ہو جنہیں میرے رب نے شفا کا وسیلہ بنایا۔"
🔹 خواب، جنہیں تعبیر ملی
میرا تعلیمی سفر جھنڈا اور مینی کے عام تعلیمی اداروں سے شروع ہوا۔ ایک عام طالبِ علم کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر محنت، استقامت، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی رہنمائی کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ زندگی کے ابتدائی مراحل میں وسائل اگرچہ محدود تھے، لیکن خواب بہت بڑے تھے۔ میں نے انہی خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مسلسل محنت اور لگن کو اپنا شعار بنایا۔
تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کے باعث میرا انتخاب تاریخی اسلامیہ کالج پشاور میں ہوا، جو میری زندگی کا ایک نیا اور سنہرا باب تھا۔ اس کے بعد، میڈیکل انٹری ٹیسٹ (Medical Entry Test) میں پورے صوبے میں 26ویں پوزیشن حاصل کرنا میری زندگی کا ایک اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے میرے لیے خیبر میڈیکل کالج پشاور (KMC) سے ایم بی بی ایس (MBBS) کرنے کے راستے کھول دیے۔ میڈیکل کی تعلیم کے دوران ہی مجھے یہ شدت سے احساس ہوا کہ خون کی موذی بیماریوں میں مبتلا معصوم مریض نہ صرف علاج، بلکہ سچی امید، حوصلے اور خصوصی توجہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہی وہ دردِ دل تھا جو مجھے ہیماتولوجی (Hematology - خون کی بیماریاں) اور بون میرو ٹرانسپلانٹ (Bone Marrow Transplant) جیسے انتہائی نازک اور تخصصی شعبے کی طرف لے آیا۔
🔹 تخصص اور عملی مہارت کا دور
میں نے اپنی ایف سی پی ایس (FCPS) کی تخصصی تربیت پاکستان کے ممتاز ترین طبی تربیتی مرکز سی ایم ایچ (CMH) راولپنڈی سے حاصل کی۔ اس کٹھن اور سیکھنے کے دور میں، میں نے لیوکیمیا (Leukemia - بلڈ کینسر)، لمفوما (Lymphoma)، اپلاسٹک انیمیا (Aplastic Anemia)، تھیلیسیمیا (Thalassemia) اور خون کی دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں عملی مہارت حاصل کی۔ مجھے پاکستان کے ان چند ابتدائی ماہرین میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ (Bone Marrow Transplant) کے اس انتہائی تخصصی شعبے میں باقاعدہ تربیت حاصل کی اور دکھی انسانیت کی خدمت شروع کی۔
🔹 امید کی نئی کرن: 95 سے زائد کامیاب ٹرانسپلانٹس
گزشتہ تین برسوں سے مجھے سندھ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر (Assistant Professor) اور سربراہ (Head of Department)، بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ (Bone Marrow Transplant Unit) خدمات انجام دینے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ شعبہ ایک ایسا میدان ہے جو بہت سے مایوس مریضوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان امید کا آخری سہارا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور شب و روز کی محنت کے نتیجے میں، اب تک 95 سے زائد بون میرو ٹرانسپلانٹس میں بطور معالج اور ٹیم لیڈر کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ ان کامیاب ٹرانسپلانٹس میں اپلاسٹک انیمیا (Aplastic Anemia)، تھیلیسیمیا (Thalassemia) اور لیوکیمیا (Leukemia - بلڈ کینسر) جیسے امراض سے لڑتے ہوئے معصوم بچے اور نوجوان شامل تھے۔
میرے لیے ہر کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ صرف ایک طبی کامیابی نہیں بلکہ پورے خاندان کی نئی زندگی کی شروعات ہے۔ جب کوئی مریض مہینوں اور برسوں کی تکلیف اور غیر یقینی صورتحال کے بعد صحت یاب ہو کر مسکراتے ہوئے اپنے گھر واپس جاتا ہے، جب ایک بے بس ماں اپنے جگر گوشے کو دوبارہ تندرست دیکھتی ہے، اور جب کوئی نوجوان اپنی معمول کی زندگی میں واپس لوٹتا ہے، تو وہ لمحے دنیا کے کسی بھی بڑے اعزاز, عہدے یا تمغے سے زیادہ قیمتی محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وہ خوشی ہے جو مجھے ہر روز ایک نئے خلوص، جذبے اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ترغیب دیتی ہے۔
🔹 تحقیق، تعلیم اور اصل سرمایہ
علاج معالجے کے ساتھ ساتھ میری خصوصی دلچسپی طبی تعلیم اور تحقیق (Research) میں بھی رہی ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ ہمارے پاس آنے والے نوجوان ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز (Postgraduate Trainees) کو جدید طبی علم اور تحقیق کے ساتھ ساتھ "مریض دوست رویوں" سے آراستہ کیا جائے، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ علم کی اصل طاقت تبھی ظاہر ہوتی ہے جب وہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرے۔
اگر آج میں پلٹ کر اپنے اس طویل سفر پر نظر ڈالوں، تو مجھے اپنی کامیابیوں سے زیادہ وہ مخلص چہرے یاد آتے ہیں جنہوں نے اس سفر کو ممکن بنایا۔
میرا خاندان اور والدین: میرے دادا محترم محمد رؤف (ملا کاکا) کی دی ہوئی اقدار، میرے والدِ محترم (اسرار احمد) اور میری والدہ کی وہ لازوال قربانیاں جنہوں نے اپنی آسائشوں کو قربان کر کے میری تعلیم و تربیت کو ترجیح دی، میری ہر کامیابی کے اصل حقدار ہیں۔ ان کی دعائیں، بے لوث محبت اور اعتماد میرا وہ سرمایہ ہیں جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
میرے بھائی: جو ہر مشکل وقت میں میری طاقت بنے رہے اور میری ہر کامیابی میں برابر کے شریک رہے۔
میرے اساتذہ: جنہوں نے مجھے صرف طب (Medicine) کا علم ہی نہیں سکھایا، بلکہ دیانت داری، عاجزی، خدمتِ خلق اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا درس دیا۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے سے پہلے، ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے۔
🔹 دعا اور عزم
میرا پختہ یقین ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، شہرت یا کامیابیوں سے نہیں، بلکہ اس مخلصانہ خدمت سے ہوتی ہے جو وہ اللہ کی مخلوق کے لیے انجام دیتا ہے۔ میری دعا اور کوشش یہی ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے، اپنے والدین اور اساتذہ کا نام روشن کرنے، اور ان مریضوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن بنے رہنے کی توفیق عطا فرمائے جو زندگی کے مشکل ترین امتحان سے گزر رہے ہیں۔
الحمدللہ، یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ میری پہچان میرے نام یا عہدے سے نہیں، بلکہ ان مسکراتی ہوئی زندگیوں سے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے شفا، امید اور ایک نیا حوصلہ عطا فرمایا۔

10/06/2026

مرحوم اشتیاق احمد خان صاحب
جو 80 اور 90 کی دہائی میں گاؤں بوکو گاؤں کے ممبر رہ چکے ہیں، ایک نہایت دلیر، ایماندار اور عظیم شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں گاؤں کی ترقی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ خصوصاً سڑکوں اور راستوں کی تعمیر ایسے خلوص، ذمہ داری اور دیانتداری سے کروائی کہ آج بھی وہ کام عوام کے لیے فائدہ مند ہیں اور لوگ اُن کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
مرحوم اشتیاق احمد خان صاحب نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھا اور اپنی نیک نامی، کردار اور خدمت کی وجہ سے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
آج اُن کے صاحبزادے ناصر خان بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نہ صرف اپنے گاؤں بلکہ پورے علاقے وادی کنڈاو کا فخر بن چکے ہیں۔ عوام کی خدمت، اخلاق اور اپنے علاقے کے لیے محبت اُن کی شخصیت کا خاصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم اشتیاق احمد خان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ناصر خان صاحب کو اپنے والد کی نیک روایات جاری رکھنے کی مزید توفیق دے۔ آمین۔ 🌹

11/02/2026

Address

Swabi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+971545031099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سمارٹ موبائل اینڈ کمپوزنگ عظیم خان مارکیٹ صوابی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سمارٹ موبائل اینڈ کمپوزنگ عظیم خان مارکیٹ صوابی:

Shortcuts

Share