AL-Kazmi Electronics

AL-Kazmi Electronics الکاظمی الیکٹرونکس الکاظمی موبائل سنٹر 37 سال سے آپ کی خدمت میں پیش پیش
آپ کا اعتماد ہمارا معیار

17/09/2024

‏رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا، جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔

(السلسلۃ الصحیحۃ ، ۲۰۹)

17/09/2024

حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
میری تو ساری بہار آپ سے ہے

جشن عید میلادالنبی بہت بہت مبارک ہو

25/08/2024

‏رسول الله ﷺ نے فرمایا:

سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

اپنی صفوں کو سیدھا کرو، کیونکہ صف کا سیدھا کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے.

مسلم 975
(ابوداؤد 668؛ ماجہ 993؛ مشکوٰۃ 1087)

24/08/2024

‏اگر آپ 15سال سے ایک ہی فون نمبر استمعال کر رہے ہیں تو آپ میں یہ 6 خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

‏ (1)۔ آپ کے خلاف کوئی پولس کیس نہیں ہے.

‏ (2)۔ آپ پر کوئی قرض نہیں ہے.!

‏ (3)۔ آپ اپنے ساتھی کے ساتھ بہت ایماندار ہیں۔

‏ (4)۔ آپ ایک ذمہ دار انسان ہیں

‏(5)۔ آپ کا لین دین درست ہے!

‏ (6)۔ آپ شیخی باز نہیں ہیں!😎

22/08/2024

ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔
بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت کی داستان ہے، ہر طرف خوشی ہی خوشی!"
جب وہ شیروں کے پنجرے کے پاس گئے، تو بیوی نے دیکھا کہ شیر اپنی بیوی سے دور، خاموشی سے بیٹھا ہے اور کہا: "یہ کتنی افسردہ محبت کی کہانی ہے، سب کچھ دکھ بھرا ہے!"
شوہر نے کہا: "یہ خالی بوتل اٹھا کر شیرنی کی طرف پھینکو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔"
جب بیوی نے بوتل پھینکی، تو شیر غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے اٹھا اور اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھا!
پھر شوہر نے کہا: "اب یہ بوتل بندر کی بیوی کی طرف پھینکو۔"
جب بیوی نے ایسا کیا، تو بندر اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگ گیا تاکہ بوتل اس کو نہ لگے!

شوہر نے کہا: "ظاہر پر مت جاؤ، لوگوں کے سامنے جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی جعلی محبت سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی محبت کو دل کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔

یاد رکھو:
- جو تنہا رہتا ہے، وہ خواہشات سے خالی نہیں ہوتا!
- جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ فیشن سے بے خبر نہیں ہوتی!
- جو سخی ہے، وہ مال سے نفرت نہیں کرتا!
بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو پا کر مضبوط ہوتے ہیں۔

آپ کا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، بلکہ یہ آپ کے دین اور تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔

اس لیے:
- اپنی اخلاقیات میں مالدار بنو،
- اپنی قناعت میں امیر بنو،
- اور اپنے تواضع میں بڑے بنو۔

اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو پیٹھ پیچھے بات کرتے ہیں، کیونکہ وہ واقعی تمہارے پیچھے ہیں۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا، تو ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجیں، جو قیامت کے دن ہمارے شفیع ہوں گے۔

credit Mubakhsh1980

15/08/2024

نیچے انگیزی کا ایک جملہ لکھا ہے۔ یہ ایک اعصابی (نیورولوجیکل) ٹیسٹ ہے۔

ابتدائی الفاظ مشکل لگیں گے لیکن آگے بڑھنے پر آپ محسوس کرینگے کہ آپ انگریزی سے ملتی جلتی اس بھاشا سے واقف ہیں۔

انسانی ذہن کتنی جلدی ماحول سے مطابقت پیدا کرتا ہے، یہ اعصابی ٹیسٹ اس بات کا ثبوت ہے۔ جبھی اسے اشرف المخلوقات کہتے ہیں!

---

7H15 M3554G3 53RV35 7O PR0V3:

H0W 0UR M1ND5 C4N D0 4M4Z1NG 7H1NG5! 1MPR3551V3 7H1NG5!

1N 7H3 B3G1NN1NG, 17 WA5 H4RD BU7 N0W, 0N 7H15 LIN3, Y0UR M1ND 1S R34D1NG 17 4U70M471C4LLY W17H0U7 3V3N 7H1NK1NG 4B0U7 17.

B3 PROUD! 0NLY C3R741N P30PL3 C4N R3AD 7H15!

PL3453 F0RW4RD 1F U C4N R34D 7H15!

---

Note:

If you can read this without error, your mind is still young and you are free from Parkinson.

Congrats!!!

Credit: Dr Justin Jones, Melbourne

14/08/2024

ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانہ دل کا

نہ سنا اس نے توجہ سے فسانہ دل کا
زندگی گزری ، مگر درد نہ جانا دل کا

کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا

وہ محبت کی شروعات ، وہ بے تہاشہ خوشی
دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا

دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا

ایک تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے
اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا

میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ،ٹھکانا دل کا

وہ بھی اپنے نہ ہوئے ، دل بھی گیا ہاتھوں سے
“ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا “

خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا

بے جھجک آ کے ملو، ہنس کے ملاؤ آنکھیں
آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا

نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا

حسرتیں خاک ہوئیں، مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچہء جاناں میں خزانہ دل کا

لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا

ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا

پیر سیّد نصیر الدین نصؔیر

13/08/2024

اہل وطن کو جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔

12/08/2024

حالانکہ یہ تلخ حقیقت ہے۔
پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا
کتے سے کہا گیا: "تم انسانوں کے گھروں کی حفاظت کرو گے، اور انسان کے بہترین دوست بنو گے۔ تمہیں ان کے چھوڑے ہوئے کھانے سے گزارا کرنا ہوگا، اور میں تمہیں تیس سال کی زندگی دوں گا۔"
کتے نے کہا: "تیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف پندرہ سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔

بندر سے کہا گیا: "تم درخت کی شاخوں پر جھولتے رہو گے، اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے کرتب دکھاؤ گے۔ تمہیں بیس سال کی زندگی دی جائے گی۔"
بندر نے کہا: "بیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف دس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔

گدھے سے کہا گیا: "تم بغیر کسی شکایت کے دن بھر کام کرو گے، اور اپنے اوپر بھاری بوجھ اٹھاؤ گے۔ تمہیں جو اور کھانا پڑے گا، اور تمہاری کوئی عقل نہیں ہوگی۔ تمہیں پچاس سال کی زندگی دی جائے گی۔"
گدھے نے کہا: "پچاس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف بیس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔

انسان سے کہا گیا: "تم زمین پر سب سے زیادہ عقل مند مخلوق ہو، اور تم اپنی عقل کو استعمال کر کے باقی مخلوقات پر حاکم بنو گے۔ تمہیں ایک خوبصورت زندگی دی جائے گی اور تم بیس سال تک زندہ رہو گے۔"
انسان نے کہا: "بیس سال بہت کم ہیں! مجھے ان تیس سالوں کی بھی ضرورت ہے جو گدھے نے نہیں چاہے، اور ان پندرہ سالوں کی جو کتے نے نہیں چاہے، اور ان دس سالوں کی جو بندر نے نہیں چاہے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔

تب سے انسان بیس سال تک انسان کی طرح زندہ رہتا ہے، پھر شادی کے بعد:
تیس سال گدھے کی طرح کام کرتا ہے، صبح سے شام تک مشقت کرتا ہے اور بوجھ اٹھاتا ہے۔
پھر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، تو پندرہ سال کتے کی طرح گھر کی حفاظت کرتا ہے، دروازے بند کرتا ہے اور کم کھاتا ہے یا اپنے بچوں کے چھوڑے ہوئے کھانے پر گزارا کرتا ہے۔
پھر جب بوڑھا ہو جاتا ہے اور ریٹائر ہو جاتا ہے، تو دس سال بندر کی طرح زندہ رہتا ہے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر، ایک بیٹے سے دوسرے، ایک بیٹی سے دوسری، اور اپنے پوتے پوتیوں کو ہنسانے کے لیے کہانیاں سناتا ہے۔

تو، اے ابن آدم، کیوں غرور کرتے ہو

11/08/2024

میں جب اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلتا ہوں تو مین روڈ پر آنے کے لیے مجھے دو سڑکیں کراس کرنا پڑتی ہیں۔ یہ اصل میں دو گلیاں ہیں لیکن بہت کشادہ ہیں۔آخری والی گلی کے بائیں جانب ایک بڑا خوبصورت سا گھر ہے جس کے باہر ایک قریب المرگ شخص چارپائی پر پڑا ہوتاہے۔ یہ نہ کسی سے بات کرتا ہے نہ چلتا پھرتاہے۔۔۔بس چارپائی پر بیٹھا کھانستا رہتا ہے اور جب کھانس کھانس کر تھک جاتا ہے تو پھر کھانسنے لگتاہے۔یہ اس گھر کا چوکیدار ہے‘ لیکن میں جب بھی اسے دیکھتاہوں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اگر اِس گھر میں کوئی چور ڈاکو آگئے تو کیا یہ چوکیدار اُنہیں روک پائے گا؟ اُس روز بھی میں نے گاڑی آخری گلی میں موڑی تو وہی چوکیدار کھانستا ہوا نظر آیا۔ یہ میری روز کی روٹین ہے‘ چوکیدار کی چارپائی کے بعد مین روڈ شروع ہوجاتی ہے لہذا میں نے مین روڈ پر گاڑی چڑھائی اور آئینے میں اپنا جائزہ لیا۔پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیور کے بعد میری منزل آگئی۔۔۔!!!

میں شہر کے ایک بڑے اور متوسط علاقے میں معروف موٹیویشنل سپیکر کا خطاب سننے آیا تھا۔ احباب زور دے کر مجھے یہاں لائے تھے۔ سچی بات ہے کہ خود میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی یہ لیکچر سنوں۔ تھوڑی ہی دیر میں موٹیویشنل سپیکرصاحب بلیک کلر کی ایک چمکتی ہوئی گاڑی میں تشریف لائے۔ اس گاڑی کے پچھلے بمپر پر الگ سے ایک تختی لگی ہوئی تھی جس پر ’’MS ‘‘ لکھا ہوا تھا۔۔۔شائد یہ موٹیویشنل سپیکرکا مخفف تھا۔ اور اپنی گفتگو سے حاضرین پر ایک سحر طاری کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ہم لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں اس قدر مگن ہوگئے ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم اپنے سامنے چلتے پھرتے لوگوں کو کس قدر اگنور کر رہے ہیں۔

اگرسکون اور خوشی چاہیے تو ہمیں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بھلانا ہوگا‘ سب کو معاف کرنا ہوگا۔۔۔موٹیویشنل سپیکر کی بات سن کر پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے پوچھا’’کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جس نے کبھی اپنے باپ کو جپھی ڈالی ہو؟‘‘۔ کچھ دیر سکوت رہا۔ پھر موٹیویشنل سپیکر نے آہستہ سے کہا’’آج گھر جائیں اور جن کے باپ زندہ ہیں انہیں گلے سے لگائیں‘ پیار کریں اوراگر کوئی شکوہ ٰ بھی ہے تو اسے بھلا دیں‘‘۔

پروگرام کے اختتام سے پہلے ہی مجھے ایک ضروری میٹنگ کی کال آگئی اور اٹھنا پڑ گیا۔ میٹنگ دو گھنٹے جاری رہی اور اس دوران کھانا بھی نہیں کھایا جاسکا۔ واپسی پر شدید بھوک لگی تھی لہذا ایک جگہ رک کر کھانا کھایا۔ بھوک کی وجہ سے کافی زیادہ آرڈر دے دیا تھا لیکن اب کافی سارا کھانا بچ گیا تھا۔ میں نے وہ سارا پیک کروایا اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ آخری گلی میں مڑتے ہی چوکیدار پھر میری نظروں کے سامنے تھا۔ میرے ذہن میں اچانک موٹیویشنل سپیکر کے الفاظ گونجنے لگے’’کیا کوئی ایسا ہے جس نے کبھی اپنے باپ کو جپھی ڈالی ہو؟‘‘۔خیال آیا کہ یہ چوکیدار بھی تو کسی کا باپ ہوگا‘ پتا نہیں اس کو کبھی اپنے بیٹے کی جپھی نصیب ہوئی یا نہیں؟ میں نے کسی خیال کے تحت گاڑی چوکیدار کے پاس روکی اور پیک کروائے گئے کھانے کا شاپر اٹھا کر اس کے پاس آگیا۔ سلام دعا کے بعد میں نے شاپر اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے نہایت احترام سے کہا کہ یہ بالکل تازہ کھانا ہے‘ آپ کھا لیجئے۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری اور پھر اُس نے انتہائی تیزی سے شاپر جھپٹ لیا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ شدید بھوک لگی ہے۔

پھر اس کے بعد میرا معمول بن گیا۔۔۔میں کبھی کبھارکوئی نہ کوئی بچا کھچا برگریا شوارما وغیرہ چوکیدار کے لیے لے جاتا۔ چونکہ اسے بولنے میں دقت ہوتی تھی لہذا ہماری اکثر دعا سلام اشاروں کنایوں میں ہی ہوجاتی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ اس کے سرہانے کوئی کتاب پڑی ہوئی ہے اور وہ ایک ایک لفظ غور سے پڑھ رہا ہے۔مجھے بہت اچھا لگا کہ ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی اسے کتاب پڑھنے کا شوق ہے۔ میں نے گاڑی روکی ‘ سلام لیا اور قریب جاکردیکھا تو ہوش اڑ گئے۔۔۔وہ دیوانِ غالب پڑھ رہا تھا۔یہ میرے لیے شدید حیرت کی بات تھی ۔البتہ یہ نہیں پتا تھا کہ کیا وہ واقعی کتا ب پڑھ رہا تھا یا کسی اور کی کتاب اس کے سرہانے رکھی تھی۔ میں نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اشاروں سے پوچھ ہی لیا کہ یہ کتاب یہاں کیسے آئی؟۔ اُس نے مریل سی آواز میں ٹوٹے پھوٹے جملوں میں بتایا کہ یہ کتاب اُسے بہت پسند ہے اور وہ جتنی بار پڑھتاہے اُتنی بار نیا لطف ملتا ہے۔ میرے ہاتھ پاؤ ں پھول گئے۔ غالب کو پڑھنے اور سمجھنے والا یہ چوکیدار میری نظروں میں مزید معتبر ہوگیا۔ میں نے پوچھا کہ کیاآپ تعلیم یافتہ ہیں؟ جواب اثبات میں آیا اور میری حیرت دوچند ہوگئی۔ اُس نے بتایا کہ وہ ایم اے پاس ہے اور ریٹائرڈ پروفیسر ہے۔

یہ بات بہت الجھا دینے والی تھی کہ آخر ایک پروفیسر کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ اسے اس عمر میں چوکیدار ی کرنا پڑرہی ہے۔ اس راز سے بھی اُس نے خود ہی پردہ اٹھا دیا اور ایسی حقیقت بیان کی کہ کچھ دیر کے لیے مجھے اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یہ بزرگ جسے میں چوکیدار سمجھتا رہا وہ اس گھر کا مالک تھا۔ تین بیٹے تھے۔ تینوں کی شادیاں کر دیں۔ بیوی فوت ہوگئی تو یہ دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھا ہوگیا۔ کھانسی اور بیماری کی وجہ سے بچوں کو تشویش ہوئی کہ کہیں باپ کی بیماری اُن کے بچوں کو نہ لگ جائے لہذا سب گھر والوں کے باہم مشورے سے طے پایا کہ ’ابا جی‘ کی چارپائی گھر سے باہر لگوا دی جائے تاکہ وہ آرام سکون سے جی بھر کے کھانس سکیں۔ یوں اب گھر والے بھی چین کی نیند سوتے تھے اور ابا جی کو بھی اپنے بیٹوں اور اولاد کی جلی کٹی باتیں نہیں سننا پڑتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی اولاد سے بالکل بھی ناراض نہیں کیونکہ انہوں نے کہیں سنا تھا کہ’اگر سکون اور خوشی چاہیے تو ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھلانا ہوگا‘سب کو معاف کرنا ہوگا‘‘۔ یہ جملہ سن کر میں چونک اٹھا۔ یقیناًانہوں نے بھی موٹیویشنل سپیکر کا کوئی لیکچر پڑھا یا سنا تھا کیونکہ یہ بات میں نے بھی وہیں سنی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ماشاء اللہ ان کے تینوں بیٹے بزنس مین ہیں اور بہت اچھا کماتے ہیں‘ تینوں کے پاس اچھی گاڑیاں ہیں۔

میں نے اُس رو ز بہانے بہانے سے اُنہیں بہت کریدا کہ شائد اُن کے دل میں اپنے بیٹوں کے لیے کوئی تھوڑی سی بھی نفرت ہو لیکن وہ ہر حال میں اولاد سے راضی نظر آئے۔ پچھلے دنوں میں اُن کے گھر کے قریب سے گذرا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔ ان کی چارپائی کے پاس ایک گاڑی کھڑی تھی۔ میں نے تھوڑا آگے جاکر اپنی گاڑی روکی اور پروفیسر صاحب کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ وہ فخر سے مجھے بتانے لگے کہ یہ گاڑی ان کے بیٹے کی ہے ۔ اسی دوران گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی ۔ غالباًہم دونوں کی گفتگو کے دوران ہی ان کا بیٹا گیٹ سے باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔پروفیسر صاحب نے بیٹے کی جاتی ہوئی گاڑی کی طرف دیکھا اور بے اختیار ہاتھ اٹھا کر بولے’’خیرنال جا تے خیر نال آ‘۔ میں نے چونک کر گردن موڑی۔۔۔گاڑی کافی آگے جاچکی تھی لیکن اس کے پچھلے بمپر پر ’MS‘ کے الفاظ صاف نظر آرہے تھے۔۔۔!!

منقول

09/08/2024

‏لؤ جی پنجابی زبان دے لازوال محاورے۔
1. ویہلی رَنْ پرونِیاں جوگی
2. ٹںیڈ بھر گیا پر اَکھّاں نہ بھَریاں
3. شیر ساریاں نوں کھاوے، پر شیر نوں کوئی نہ کھاوے
4. ماں نی ماں، میں رہ نہ سکاں
5. نہ نِیتی نہ قَضا کِیتی
6. راہ پیا جانے یا وَاہ پیا جانے
7. ویلا نہ وقت، بی بی چڑھ بیٹھی تخت
8. کہنِیاں دھی نوں سُنانیاں نُوہ نُوں
9. ویلے دی نماز کُویلے دیاں ٹَکراں
10. باندر ہتھ کٹُورا لَگیا پانی پی پی آپھریا- اوچھے جٹ کٹورا لبھیا، پانی پی پی آپھریا
11. کرتوت نہ کوئی پلّے، کرنی بلے بلے
12. پلے نئیں دھیلا تے کردی میلا میلا
13. کر پرایاں آن جایاں
14. بھاویں ماسی بنے سَس اوہنوں وی ڈَین والا چَس
15. سادھو نوں کی سواداں نال
16. کاواں ٹولی اِکو بولی
17. بہتی رنی اوت مرندا، جدھ کدھ ویکھو سورنیاں دا ٹرنڈا
18. گنا نئیں بوٹا ای ماریا
19. ذات دی کُوڑھ کِرلی تے شہتِیریاں نُوں جَپّھے
20. او دن ڈبّا جَدَن گھوڑی چَڑّھیا کبّا-
21. وہیلے توں وِنگار پلّی
22. گوڈے ڈھڈھ توں اگے نئیں ہوندے
23. جناں نِکّا اُنا تِکّھا
24. جناں زمین دے باہر اناں زمین دے اندر
25. سُکّے نوں ویکھ کے لڑ ناں، موٹے نوں ویکھ کے ڈر ناں
26. مُونہہ ناں متھّا جنْ پہاڑوں لَتّھا
27. جِتّھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی
28. اَنھّے ہَتھ بٹیرا
29. پُکھے نوں چن وی روٹی ورگا لگدا اے
30. جناں گُڑ پاؤ گے اُوناں مٹّھا
31. چاچا چاگھ جہاناں دی تے میں چاچے دی چاگھ
32. سگھی نا بلائی میں لاڑے دی تائی
32ب. ڈھٹی نہ بھالی میں لاڑے دی سالی
33. آٹا گُندی ہلدی کیوں اے
34. اَنھا ونڈے ریوڑیاں، مُڑ مُڑ اَپنیاں نوں
35. ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
36. چوراں نالوں پنڈ کاہلی
37. چور تے کُتّی رل گئے
38. اک تے بَنّوں سوہنی مگروں سُتی اُٹھی
39. بَنّوں ناتی دھوتی رہ گئی تے نک تے مکھی بہ گئی
40. ہیجڑیاں گھر منڈا جمیا تے چم چم مار سُٹیا
41. کاہلیاں اگے ٹوئے
42. رب نیڑے کے گُھسن
43. پڑھائی نالوں وائی چنگی
44. بُووے تے جَنج، ونُّوں کڑی دے کَن
45. ذات دا تیلی تے شوق نوابی
46. اک تاں بھابھُو نَچنی، اُتُّوں ڈھولاں دے گُھمکار
47. اوہ لَے نئیں سی جاندے ، اوہ پہلاں چڑھدی سی
48. جنہاں دے گھر دانے، اوناں دے کَملے وی سِیانے
49. آب آب کر موہیوں بچڑا، ایناں فارسیاں گھر گالے
50. نیتاں نال مُراداں
51. جیہدی باندری اُوہو ای نچاوے
52. جیہنوں رب رکھے اوہنوں کون چکھے
53. چِڑیاں دی موت تے گَنواراں دا ہاسا
54. جیدی ہوے عطّاری تے کیہ کر تھانے داری
55. چلّہے پچھے پردیس
56. چندرا گواہنڈھ تے لائی لگ کھسم دونویں بھیڑے ہوندے نیں
57. چُوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز
58. چُوراں نوں مور
59. چُور دے پیر نہیں ہوندے
60. خاناں دے خان پَروہنے
61. دو گھراں دا پَروہنا بُھکھا رَہندا اے
62. دھی موئی، جوائی چور
63. ڈگی کھوتی توں تے غصہ کُمیار اُتے
64. ڈلہے بیراں دا کچھ نہیں وگڑیا
65. ڈومنی دا پُت چَپنی وَجائے
66. سپّاں دے پُتر مَتر نہیں بن دے
67. اپنا مارے گا تے چھاویں ای سُٹّے گا
68. اپنیاں دے میں گٹے بھناں، چماں پیر پرایاں دے
69۔ اجڑیاں باگاں دے گالھڑ پٹواری- سنجی مسیت دا گالڑ امام
70. ادھل گیا نوں داج کیہا
71. اندر ہوے سچ، تے باہر کھلو کے نچ
72. باروہیں وری مُکان آئیاں، ہسدیاں نوں روان آئیاں
73. آپ نہ ونجے سوہرے، لوکاں متیں دے
74. برے نوں نہ مارئیے، برے دی ماں نوں مارئیے
75. بندے دا بندہ دارو
76. پانی پئیے پُن کے تے مُرشد پَھڑئیے چُن کے
77. پتھر نوں جَونک نہیں لگدی
78. تَریل چَٹیاں ترِیہہ نہیں لَتھدی
79. تیل ہٹی دا، تے گھیو جٹی دا
80. ٹر ناں سکّاں تے فِٹے منہ گوڈیاں دا
81. جتھے پئی پھُٹ، اوتھے پئی لُٹ
82. جنہاں کھادیاں گاجراں، ڈیھڈ انہاں دے پیڑ
83. جںناں گُڑ پاؤ گے اُونہاں مِٹھا
84. جِنی گوڈی اونی ڈوڈی
85. جیہڑا بولے اوہو کُنڈی کھولے
86. جیہڈے ڈھگے ماڑے، اوہدے کرم وی ماڑے-
87. خواجے دا گواہ ڈڈّو
88. ایناں پکایا کہ رج کہ ٹرکایا
89۔ نانی نے خَصم کیتا بُرا کیتا، کر کے چھڈ دتا ہور وی بُرا کیتا
90۔ آپ نہ جَیہی،گوانڈھ ولانویں
91۔ آپ نہ جَیہی، گل کرنوں نہ رہی
-92۔ توں کون؟ میں اگل واہنڈی
۔93۔ سَبھے ہوئیاں رانیاں، کیہڑی دانے چھٹّے
۔94۔ جِنی وَڈی پگ، اونا اس دا بھار
۔95۔ آنڈے کِتے تے کُڑکُڑ کِتے
۔96۔ بکری دُدھ دیندی اے پر مینگناں پا کے
97۔ اک مَجھ لِبڑی تے ساریاں لِبڑیاں
98۔ مُونہوں نکلی تے کوٹھے چڑھی
99۔ کِھدّو دا کی پھرولنا
100۔ سو ہتھ رسا سر تے گنڈھ
101 - آلکسیاں دے پنڈ وکھرے نئیں ہندے۔
102 - آٹے دی بلی بناواں میاؤں کون کرے۔
103 - آئی موج فقیر دی لائی جھگی نوں اگ
104 - آدمیاں نوں آدمی ملدے نیں تے کھواں نوں کھو
105 ۔ کانواں دے آکھیاں ڈھور نہیں مردے۔
106۔ جیہڑے ایتھے بَلھے اوہ لھور وی بَلھے۔

08/08/2024

حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (ص) کو کیسے دیکھا؟
بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔
قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔
بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
وہ بلال جس نے حضور کی وفات پاک کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔
ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین۔

Address

Dist. Gujrat Teh. Saraialamgir
Shakrila

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 13:05
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923425981084

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AL-Kazmi Electronics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AL-Kazmi Electronics:

Share