20/07/2017
کچھ دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا.
میں رات کے ٹائم لاہور پہنچا تھا اور اپنے کام کو نمٹا کر کچھ شاپنگ وغیرہ کی.
جب میں فیصل آباد واپسی کے لیے بس میں بیٹھا تو رات کے تقریباً 3 بج رہے تھے میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک باریش بزرگ آدمی بیٹھے تھے بس میں سواریاں کم تھیں اور بس نے اڈے سے نکلتے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ لگا دیا.
اب بس فیصل آباد کی طرف رواں دواں تھی اور کنڈیکٹر سواریوں سے کرایہ لے رہا تھا میں نے بھی اپنا کرایہ دیا اور ٹکٹ لے لیا میرے ساتھ بیٹھے بزرگ جب کرایہ دینے لگے تو ان نے کنڈیکٹر سے پوچھا کہ بس کتنے بجے فیصل آباد پہنچے گی کنڈیکٹر کہنے لگا کہ 6 بجے تک ان شاءاللہ.
اس پر وہ بزرگ بولےنہیں تم مجھے شاہ کوٹ کا ٹکٹ دے دو (شاہ کوٹ فیصل آباد سے تقریباً 45 منٹ پہلے آتا ہے)
کنڈیکٹر ان کو ٹکٹ دے کر چلا گیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے فیصل آباد نہیں جانا تھا..؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ جانا تو فیصل آباد ہی ہے جب تک وہاں پہنچیں گے فجر کی نماز کا ٹائم نکل جائے گا اس لیے میں شاہ کوٹ اتر کر نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں گا پھر اگلی بس میں بیٹھ کر فیصل آباد چلا جاؤں گا.
وہ بزرگ تو شاہ کوٹ اتر گئے مگر مجھے سوچوں کے سمندر میں دھکیل گئے.
ایک وہ تھے جنہوں نے اپنا سفر نماز کے لیے ادھورا چھوڑ دیا اور ایک ہم ہیں فارغ بیٹھے ہوتے ہیں. مسجد میں اذان ہو رہی ہوتی ہے مگر ہمارے کانوں پر جّوں تک نہیں رینگتی فارغ نہ بھی ہوں تو بھی نماز ہر کام سے اہم ہے موذن کہتا رہتا ہے آؤ فلاح کی طرف مگر ہم دنیاوی کاموں میں مگن رہتے ہیں.
غور کریں.
فلاح نماز میں ہے یا دنیا کے کاموں میں..؟
اور شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک کا عذاب رکا ہوا ہے وہ ہماری بد اعمالیاں تو ایسی ہیں کہ ہم پر عذاب کے کوڑے برسیں