Trust Plaza Sargodha

Trust Plaza Sargodha ہم آپکے لیئے معلوماتی مواد فراہم کرتے ہیں

28/05/2026

Page is For Sale .

24/05/2026

Urgent selling .com.pk
Dm whatsapp

03137707770

اپنے گھر کے پرانے اور خراب پنکھے دیں اور ان کو 12 وولٹ پر کنورٹ کریں یہ چھوٹی سی کٹ لگا کر اسے خرچہ صرف 1360 روپے ہے
24/05/2026

اپنے گھر کے پرانے اور خراب پنکھے دیں اور ان کو 12 وولٹ پر کنورٹ کریں یہ چھوٹی سی کٹ لگا کر اسے خرچہ صرف 1360 روپے ہے

اس کا پی ڈی ایف کسی کے پاس ہو تو وہ اس کا لنک شیر کر دے
04/11/2025

اس کا پی ڈی ایف کسی کے پاس ہو تو وہ اس کا لنک شیر کر دے

سنہ 2015 میں لاہور میں انجینیئرز نے قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں ایک نہایت دلچسپ تجربہ  کیا۔ انہوں نے اپنی ریسرچ سے ایک ای...
10/07/2025

سنہ 2015 میں لاہور میں انجینیئرز نے قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں ایک نہایت دلچسپ تجربہ کیا۔ انہوں نے اپنی ریسرچ سے ایک ایسا ماحول دوست حل دیا کہ جس پر عمل کرنے سے ایک بڑے فلائی اوور بنانے سے بھی کم لاگت میں پورے شہر لاہور کی سڑکوں کو مون سون کی بارشوں میں تالاب بننے سے بچایا جا سکتا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور میں پینے کا سارا پانی زیرِزمین ایکوائفر سے آتا ہے جس کا ری چارج دریائے راوی سے ہوتا تھا جوکہ انڈیا کی طرف سے راوی پر سنہ 2000 میں تھہین ڈیم بنانے سے 85فی صد کم ہو گیا تھا اور اب اس سال شاہ پور کنڈی بیراج کی تعمیر کے بعد تقریباً صفر ہو گیا ہے۔ دوسری طرف لاہور کے زیرِزمین پینے کے قابل پانی کی سطح 6سو سے 8 سو فٹ تک گرچکی ہے اور 12 فٹ انتہائی حد ہے جس کے بعد زیرِزمین پانی موجود نہیں۔ زیرِزمین پانی کی سطح ہر سال 3 فُٹ کے لحاظ سے گر رہی ہے۔

اس ریسرچ کے لئے انجینیئرز نےشہر لاہور کی سڑکوں پر 43 ایسی نشیبی جگہوں کی نشاندہی کی جو مون سون میں بارش کے بعد تالاب کی شکل اختیار کر لیتی تھیں۔ان کا اندازہ تھا کہ سڑکوں پرصرف ان 43 مقامات پر ہی 1000 ایکڑ فٹ حجم کا پانی کھڑا ہوجاتا ہے جس کا بہت سا حصہ پانی چوس کنویں بنا کر زیرزمین اتارا جاسکتا ہے۔

اپنی اندازے کی سچائی جانچنے کے لئے انجینیئرز نے قذافی اسٹیڈیم کے ساتھ والی نشیبی سڑکوں پر دو پانی چوس کنویں بنائے۔ ہر ایک کنواں6x9x8 فُٹ کا تھا جس کی سطح پر انہوں نے 2 فُٹ موٹے پتھر اور ایک ایک فٹ بجری اور ریت کی تہہ جما دی جس کے نیچے ایک فٹ گولائی والا سوراخ دار پائپ زیرزمین پانی تک پہنچا دیا۔

حیرت انگیز طور پر پہلی ہی بارش میں سڑک پر کھڑا ہونے والا ایک لاکھ لٹر پانی صرف تین گھنٹوں میں کنووں نے چوس لیا تھا اور بارش میں ہر دفعہ بند رہنے والی سڑک پر تھوڑی دیر بعد ہی ٹریفک رواں دواں تھا۔

مذید تسلی کے لئے انجینیئرز نے سڑک پر اکٹھا ہونے والے بارشی پانی اور کنوؤں میں فلٹر ہو کر جانے والے پانی کی کوالٹی کے مختلف ٹیسٹ مستند لیبارٹریوں سے کرائے تو پتہ چلا کہ کنوؤں نے فلٹر کے عمل میں بارشی پانی سے آلودگی بھی صاف کردی تھی اور زیرِ زمین جانے والا پانی انتہائی صاف ستھراتھا۔سب اہم بات یہ تھی کہ ایک ہی بارش کے ریچارج نے زیرزمین پانی کی سطح 3.5 فٹ بلند کر دی تھی۔

یہ فوائد صرف 15 لاکھ کی لاگت سے بنے دو کنوؤں سے حاصل ہو گئے تھے۔اگر اس حساب سے پورے لاہور میں بھی پانی چوس کنویں بنا دئیے جاتے تو ان کی مجموعی لاگت صرف ایک بڑا فلائی اوور بنانےسے کم ہوتی۔

انجینیئرز نے تخمینہ لگایا کہ 1800 اسکوائر کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے لاہور شہرسے مون سون میں پڑنے والی بارشوں سے ایک کروڑ سے زائد لاہور یوں کے لئے پورے سال کا پینے کاپانی اور ہر قسم کے صنعتی استعمال کا پانی زیرزمین ذخیرہ کروایا جاسکتا ہے ۔ اس سے شہر کی سڑکیں برسات میں تالاب یا جوہڑ نہیں بنیں گی نہ ہی بارشوں میں سڑکوں پر ٹریفک پھنسے گا اور سڑکوں کی مرمت یا تعمیر نو پر اضافی خرچ بھی بچے گا۔

لاہور کا زیرِ زمین پانی جو کبھی 15 گہرائی پر مل جاتا تھا آج کل 150 فٹ سے نیچے جا چکاہے۔ پرانے شہر میں تو یہ 600 فٹ گہرائی پر بھی مشکل سے ملتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح ہر سال تین فٹ کے حساب نیچےگرتی جارہی ہے کیونکہ شہر کے دو ہزار ٹیوب ویلوں سے روزانہ 3500 ایکڑ فٹ پانی زمین سے کھینچ لیا جاتا ہے۔

لاہور کو اپنے زمینی پانی کی سطح بحال رکھنے کے لئے سالانہ ایک لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ حجم کے پانی کے خسارے کا سامنا ہے جب کہ انجینیئرز کا تخمینہ ہے کہ ہر سال صرف مون سون کے موسم میں لاہور شہر سےبارش کا پانی اس سے دُگنا حجم میں زیرزمین ایکوائفر میں واپس بھیجا جاسکتاہے۔

لاہور میں زیرِ زمین پانی کوریچارج کرنے کے لئے جدید طرز کا”،چھپڑ ُ”سسٹم بحال کرنا ہوگا جس نے ماضی میں صدیوں تک اس شہر کے زیر زمین پانی کو میٹھا اور پانی کی سطح کو برقرار رکھا۔چھپڑ کی طرز پر لاہور شہر کے پارکوں اور کھلی جگہوں پر کثیر تعداد میں ڈونگی گروانڈ ز کا قیام عمل میں لایا جائے جن کے اطراف میں ریچارج کنویں بنے ہوں۔

سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں دفاتر فیکٹریوں الغرض تمام کھلی جگہوں پر ریچارج کنویں بنا کر ری سائیکل پانی سے زیر زمین پانی کو مون سون کے دوران ہی پورے سال کے استعمال کے لئے ریچارج کیا جائے ۔اس کام کو پھر تمام چھوٹے بڑے شہروں تک پہنچانا ہوگا۔

ہمیں فی الفور ریچارج اتھارٹی بناکر کام شروع کرنا ہوگا کیونکہ 2015 کے بعد بھی کئی برساتیں گزر چکی ہیں لیکن لاہور کی سڑکیں ابھی بھی تالاب بنی ہوتی ہیں۔ ایل ڈی اے، واسا، پنجاب اریگیشن، جماعت اسلامی، WWF ، PCRWR ، IWMI ، یو ای ٹی لاہور اور چند سوسائٹیوں اور انفرادی لوگوں کے پائلٹ ریچارج پراجیکٹس کے علاوہ انجینیئرز کے دلچسپ تجربے سے بڑے اسکیل پر آج تک فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

اگرچہ یہ ریسرچ اور عملی تجربہ لاہور تک محدود تھا لیکن اس کے نتائج کی بنیاد پر پورے پنجاب اور سندھ کے لیے ایسے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ PCRWR بھی اس سلسلے میں کافی ریسرچ کرچکا ہے۔ ضرورت اب عملی اقدامات کی ہے۔ پاکستان کے خُشک ہوتے دریاؤں کے پیشِ نظر مون سون میں بارش کے پانی سے ایکوائفر کا ری چارج ایک بہترین قدرتی حل ہے جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نوٹ : یہ یسرچ انٹرنیشنل جرنل میں شائع ہوچکی ہے ۔ دلچسپی رکھنے والے احباب ریفرنس کے لئے کومنٹ سیکشن دیکھیں۔
Cepied

01/06/2025

Vip.com.pk
Is available For sale in just 350,000

چائنا کی ہواوؤں میں سبز J35 کی گونج دشمن کی نیندیں اڑ گئیں۔۔جی ہاں چائنا بیت جلد پہلے تین جہازوں کی کھیپ 2026  مارچ کے م...
23/05/2025

چائنا کی ہواوؤں میں سبز J35 کی گونج دشمن کی نیندیں اڑ گئیں۔۔
جی ہاں چائنا بیت جلد پہلے تین جہازوں کی کھیپ 2026 مارچ کے مہینے میں یوم پاکستان پر تحفہ بھیجنے والہ ہے ۔اور پاکستانی پائلٹ اس وقت جدید جہاز کی ٹرینینگ میں مصروف ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسی خبر ہے جس نے بھارت کی نیندیں بالکل ختم کر دی ہیں۔ یہ سبز طیارہ چائنا کی ہواوؤں میں اڑنے لگا ہے اور اس کی تصویریں عالمی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔

باپ بیٹے کا رشتہ بہت خاص ہوتا ہے،خاموشی میں بھی ایک احساس ہوتا ہے۔باپ دعاؤں کا پہرہ ہے راتوں میں،بیٹا سکون ہے باپ کی بات...
22/05/2025

باپ بیٹے کا رشتہ بہت خاص ہوتا ہے،
خاموشی میں بھی ایک احساس ہوتا ہے۔
باپ دعاؤں کا پہرہ ہے راتوں میں،
بیٹا سکون ہے باپ کی باتوں میں۔

بریکنگ نیوز: کشیدہ حالات کے باعث پاکستان کو J-35 طیارے اور PL-21 میزائل طے شدہ وقت سے قبل ملیں گے۔خطے میں تیزی سے بدلتی ...
21/05/2025

بریکنگ نیوز: کشیدہ حالات کے باعث پاکستان کو J-35 طیارے اور PL-21 میزائل طے شدہ وقت سے قبل ملیں گے۔

خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ جھڑپوں کے بعد، پاکستان نے اپنی فضائی صلاحیت کو فوری طور پر مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق، چین نے پاکستان کو J-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ اور PL-21 بی وی آر (Beyond Visual Range) ایئر ٹو ایئر میزائل کی فراہمی طے شدہ ڈیلیوری شیڈول سے کافی پہلے کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

J-35 لڑاکا طیارہ، جو جدید ترین ریڈار ایویژن ٹیکنالوجی، سپر سونک اسپیڈ اور ملٹی رول صلاحیتوں کا حامل ہے، پاکستان ایئر فورس کی دفاعی قوت میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ PL-21 میزائل، جو 300 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھارت کے کسی بھی ممکنہ فضائی حملے کا مؤثر جواب ثابت ہو سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان کو جلد از جلد یہ ٹیکنالوجی ملنے کا فیصلہ صرف عسکری نہیں بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی اہم ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا فالس فلیگ آپریشن کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اور مظہر ہے، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دفاع کو باہمی ذمہ داری سمجھ کر اہم اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جنوبی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا

Address

Sargodha

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00

Telephone

+923000127137

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Trust Plaza Sargodha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Trust Plaza Sargodha:

Share