The Android Guy DK

The Android Guy DK This is the official page of the youtube channel "The Android Guy DK"
https://www.youtube.com/TagDK Welcome to The Android Guy DK.

My name is Mudassir Hashmi and I am from Pakistan.

آج میں گھر پہ تھا تو بابا کی کال آئی کہ میں فلاں دکان پہ ہوں جلدی آؤ اور مدثری کیلئے پکی قبر پسند کر لو۔۔ چالیسویں سے پہ...
24/01/2023

آج میں گھر پہ تھا تو بابا کی کال آئی کہ میں فلاں دکان پہ ہوں جلدی آؤ اور مدثری کیلئے پکی قبر پسند کر لو۔۔ چالیسویں سے پہلے قبر پکی کرنی ہے۔۔!!

میں ماربل کی دکان پہ جاتے پورے راستے یہی سوچتا رہا کہ عموماً بڑے بھائی اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کیلئے رشتے پسند کرتے ہیں پر میں کتنا بدقسمت بھائی ہوں کہ اپنے چھوٹے بھائی کیلئے قبر پسند کرنے جا رہا ہوں۔۔!!

لیکن دوسری طرف مجھے بابا کا خیال آ رہا تھا کہ وہ بھی تو اپنے لخت جگر کیلئے قبر دیکھنے ہی گئے ہوئے ہیں۔۔

یہ اللہ رب العزت کے فیصلے ہیں جہاں انسان بلکل بے بس ہو جاتا ہے۔۔ اور انسان کے پاس صبر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔۔

میں نے کئی مرتبہ بابا کو یہ کہتے سنا ہے کہ اولاد کا غم تو وہ غم ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب پیغمبروں کو بھی دیا ہے۔۔ اور میں تو خوش قسمت ہوں کہ مولا نے مجھے وہ غم عطا کیا جو اُس نے اپنے محبوب پیغمبروں کو دیا تھا۔۔

اللہ رب العزت مدثری کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔

#بشرہاشمی

اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ہو پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو، اور می...
22/01/2023

اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ہو پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو، اور میری جنت میں آ۔ القران

طیب طاہر معصوم السید مدثر ہاشمی بن قاضی جاوید ہاشمی

تاریخ وفات 27 دسمبر 2022 بروز منگل بمطابق ۳ جمادی الاول ۱۴۴۴ ھ

میرے چاند جیسے بھائی کی آج دوسری جمعرات ہے۔۔ اللہ پاک مدثری کی قبر پہ بے شمار رحمتوں کا نزول فرمائے۔۔ تمام احباب سے گزار...
12/01/2023

میرے چاند جیسے بھائی کی آج دوسری جمعرات ہے۔۔ اللہ پاک مدثری کی قبر پہ بے شمار رحمتوں کا نزول فرمائے۔۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر بھائی کیلئے دعائے مغفرت فرمائیں۔۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔

#بشرہاشمی

میرا چاند جیسا پیارا بھائی۔۔۔مدثر چھوٹا سا تھا جب ہمیں پتہ چلا کہ وہ TOF کا پیشنٹ ہے یعنی ٹیٹرالوجی آف فالٹ۔۔ یہ ایک پید...
05/01/2023

میرا چاند جیسا پیارا بھائی۔۔۔

مدثر چھوٹا سا تھا جب ہمیں پتہ چلا کہ وہ TOF کا پیشنٹ ہے یعنی ٹیٹرالوجی آف فالٹ۔۔ یہ ایک پیدائشی نقص ہوتا ہے جو دل کے ذریعے عام خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ مدثر کے دل میں سوراخ ہے اور والز بھی کام نہیں کر رہے۔۔ چناچہ محض چار سال کی عمر میں مدثر کا آپریشن کر دیا گیا۔۔ آپریشن پنڈی AFIC میں کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ آپریشن کامیاب نہیں ہوا۔۔

مسلسل ایک ہفتے بیہوش رہنے کے بعد مدثر ریگولر میڈیسنز پہ آ چکا تھا۔۔ خونی الٹیوں نے برا حال کر دیا تھا۔۔ انتہائی کمزور ہو چکا تھا مدثر۔۔ لیکن پھر بہت زیادہ کئیر کرنے کی وجہ سے مدثر تھوڑا بہتر ہو گیا۔۔

اسی دوران پاکستان اور انڈیا کے حالات خراب ہو گے۔۔ بابا کی یونٹ کارگل پہنچ گئی۔۔ بابا بارڈر پہ والدہ اور مدثر AFIC اور میں کبھی کہاں تو کبھی کہاں۔۔ پتہ ہی نہیں چلا کیسے بچپن گزر گیا۔۔

مجھے یاد ہے کہ میں AFIC کے باہر کھڑا رہتا تھا کیونکہ اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔۔ اور میں باہر امی کے انتظار میں کھڑا رو رہا ہوتا تھا۔۔ پھر جب اماں آتیں تو ہم دونوں گلے لگ کے رویے تھے۔۔ اور اماں مجھے کہتیں کہ توں تو میرا بڑا اور بہادر بچہ ہے نا۔۔ توں نہ رو۔۔

پھر جس دن مدثر سے مل لوں وہ تو میری عید کا دن ہوتا تھا۔۔ گھر آ کر خوشی سے اپنے ایک ایک کزن کو بتاتا تھا کہ میں آج اپنے بھائی سے مل کر آیا ہوں۔۔

وقت گزرتا گیا مدثر کی صحت بھی کافی بہتر ہو گئی۔۔ لیکن ڈاکٹرز نے اُسے چلنے پھرنے اسکول جانے سے منع کر دیا۔۔ چلنے سے اسکو دل کی تکلیف شروع ہو جاتی تھی۔۔ ریگولر میڈیسن لینا اُسکے لیے انتہائی ضروری تھا۔۔ جیساکہ ڈائجکسن، سپیرومائیٹ، رینی ٹیک وغیرہ۔۔

اس دوران ہم بابا کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں میں رہے۔۔ پھر بابا ریٹائر ہو گئے اور ہم لوگ اپنے گھر شفٹ ہوئے۔۔ یہاں بھی سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔ مدثر اور میں کامیاب یوٹیوبرز اور بلاگر بن چکے تھے۔۔ دونوں کو یوٹیوب کی طرف سے سلور پلے بٹن مل چکے تھے۔۔ ہماری ویب سائٹس بہترین ارننگ کر رہی تھیں۔۔ سب کچھ زبردست تھا لیکن پھر اللہ پاک کی طرف سے ایک آزمائش نے آنا تھا۔۔

سال 2021 کے آخر میں مدثر کو کھانسی شروع ہو گئی۔۔ پہلے تو ہم نے اس کھانسی کو موسمی بدلاؤ کا اثر سمجھا اور مدثر کو چیک اپ کیلئے میڈیکل سپیشلسٹ کرنل شاہد اقبال صاحب کے پاس لے گے۔۔ وہاں انہوں نے ایکو اور کُچھ بلڈ ٹیسٹ کئے اور رپورٹس دیکھ کر کہا کہ آپ مدثر کو کسی کارڈیالوجسٹ سے چیک کروائیں۔۔ پھر مدثر کا علاج راول انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی RIC میں شروع ہوا۔۔

یہاں RIC میں مدثر وقتاً فوقتاً کُچھ عرصہ ایڈمٹ بھی رہا۔۔ جہاں اسے البومن کے دو انجکشن اور لیزکس کے کئی انجکشن لگے۔۔ ڈاکٹر عبدالمالک صاحب نے ہمیں بتا دیا تھا کہ مدثر کی حالت کافی کریٹیکل ہے۔۔ یہ کنجیسٹیو ہارٹ فئیلیر کا کیس ہے۔۔ آپریشن کے وقت جو پیچ لگایا گیا تھا وہ کھانسی کی وجہ سے کھل گیا ہے اور والوز بھی لیک ہیں۔۔ دل کے لوئر چنبرز بھی کام نہیں کر رہے اس لیے اسے ایڈیما سویلنگ ہو رہی ہے۔۔ ایڈیما سویلنگ ایک میڈیکل ٹرم ہے جو کہ ایک خاص طرح کی سوجن کیلئے استعمال ہوتی ہے۔۔ جس میں انسان کا دل سہی سے خون پمپ نہیں کر پاتا اور خون باڈی پارٹس/اورگنز وغیرہ میں رُکنا شروع ہو جاتا ہے۔۔ اسی وجہ سے مدثر کی ٹانگیں۔۔ پیٹ۔۔ چہرہ۔۔ اور باقی جسم پر کافی سوجن ہو چکی تھی۔۔

میں روز رات مدثر کی مالش کرتا تھا جس سے اُسے تھوڑا سکون محسوس ہوتا تھا۔۔ ایک دن میں مالش کر رہا تھا تو میرے ماتھے پہ مدثر نے پیار کیا۔۔ میں نے مدثر سے کہا خیر ہے نا آج بڑا لاڈ پیار آ رہا ہے تُجھے۔۔ تو مدثر نے جواب دیا کہ بھیا اگر آپ نہ ہوتے تو میرا کیا ہوتا۔۔ 💔 میں اُسکے پاس بیٹھا اور اُسے سمجھایا کہ دیکھ مدثری اللہ کسی پہ بھی اُس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔ میں ہوتا نہ ہوتا اللہ تو ہے نا تیرے ساتھ۔۔ پھر اس نے کہا تھا کہ ہاں بھیا اللہ تو ہے نا۔۔!! 😭

مالش کیلئے مجھے پاؤں پہ ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا۔۔ کہ آپ میرے بڑے بھائی ہو مجھے نہیں اچھا لگتا کہ آپ میرے پاؤں دباؤ۔۔ پھر میں اُسے سمجھتا تھا کہ ابھی تو بیمار نا اس لیے۔۔ جب تو ٹھیک ہو گیا تو پھر نہیں دباؤں گا۔۔

مجھے کہتا تھا کہ بھیا اس عمر میں آپکو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے تھی اور آپ میری دیکھ بھال کر رہے ہو۔۔ میں اُسے کہتا ہوتا تھا کہ جب تو ٹھیک ہو گا نا پھر میں شادی بھی کر لوں گا۔۔ کہتا کہ ہاں بھیا آپ کی شادی پہ ایسا کروں گا۔۔ ویسا کروں گا۔۔ اپنے پورے پورے پلان شیئر کر رہا ہوتا تھا۔۔ لیکن میرا بھائی مجھ سے یہ وعدہ توڑ گیا 💔😭

مجھے کہتا تھا کہ بھیا میری اتنی خدمت نہ کیا کرو۔۔ میں چلا گیا تو آپ سب سے زیادہ رو گے۔۔!!
مدثری میں تیرے بعد بہت رویا۔۔ تیری ایک ایک چیز کو دیکھ کے رویا۔۔ تیری قبر دیکھ دیکھ کر رويا۔۔ اتنا رویا اتنا رویا کہ میری آنکھیں خشک ہو گئی مدثر میری جان۔۔ لیکن تیرے جانے کا دُکھ کم نہ ہوا۔۔ میرا دل جل رہا ہے۔۔ ایک ایسی آگ لگی ہوئی ہے جسے نہ پانی بھجھا سکتا ہے نہ کوئی اور چیز۔۔ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہیں مدثری جن سے میں اپنا درد بیان کر سکوں۔۔ 😭

لاسٹ ٹائم جب مدثر کو گھر لایا تو اُسے شدید موشن شروع ہو گئے تھے۔۔ جن کے بعد مدثر کے حالت کافی خراب ہو گئی۔۔ یہاں تک کہ اُسے سہارا دے کر باتھ روم لےجانا پڑتا تھا اور واپس لانا پڑتا تھا۔۔ پھر 25 دسمبر 2022 سے مدثر کا بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہوا۔۔ 26 دسمبر کو ہمیں RIC آنا پڑا۔۔ شام کو ہم RIC ایمرجنسی میں تھے۔۔ یہاں ڈاکٹر نے مدثر کو فوری طور پہ ایڈمٹ کرلیا۔۔ رات 12 بجے ہم جنرل وارڈ ونگ 06 میں تھے۔۔ یہاں میرا کزن عادل ہاشمی اور ایک دوست انس بھی RIC پہنچ گئے۔۔

میں نے بابا سے کہا کہ یہاں وارڈ میں ایک اٹینڈنٹ کے علاوہ کسی کو بھی نہیں رہنے دیں گے تو آپ ماما کو خالہ کے گھر چھوڑ آؤ۔۔ بڑی مشکل سے ماما بابا کو خالہ کے گھر جانے کیلئے راضی کیا۔۔ اُن کے جاتے ہی وارڈ میں ڈاکٹر آ گئی۔۔ میں ایڈمشن فارم بنوانے گیا ہو تھا واپس آ کر عادل سے پوچھا کہ ڈاکٹر آئی ہیں؟ کہتا کہ ہاں ڈاکٹر آئی تھی لیکن فائل تیرے پاس تھی تو وہ ریسیپشن پہ چلی گئی ہے۔۔ میں ریسیپشن پہ گیا تو ڈاکٹر مدثر کا فارم تیار کر رہی تھی۔۔

ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ مدثر کے اٹینڈنٹ ہیں؟
میں نے جواب دیا جی میں مدثر کا بڑا بھائی ہوں۔۔
ڈاکٹر کہتی کہ آپکو مدثر کا کیس پتہ ہے۔۔؟
میں نے جواب دیا جی اچھے سے پتہ ہے۔۔
ڈاکٹر کہتی کہ پھر تو آپکو پتہ ہوگا کہ یہ بہت کریٹیکل کنڈیشن ہے۔۔ آج رات مدثر کیلئے کافی مشکل رات ہونے والی ہے۔۔ تو آپ ذہنی طور پہ تیار رہیں۔۔
یہ سن کر مجھے بہت شدید جھٹکا لگا۔۔

میری آنکھوں میں آنسوں تھے میں واپس وارڈ میں آیا تو عادل پوچھتا کیا ہوا ہے تُجھے۔۔ میں نے اُسے بتایا کہ ڈاکٹر کہہ رہی ہے کہ آپ ذہنی طور پہ تیار رہیں۔۔ خیر میں نے اپنے جذبات کو قابو کرتے ہوئے عادل سے کہا کہ ابھی گھر نہ بتانا۔۔ ان شاء اللہ یہ مشکل رات بھی گزر جائے گی اور صبح بابا فرسٹ ٹائم پہنچ جائیں گے۔۔

کُچھ ٹائم گزُرا تو مدثر کی طبیعت خراب ہونے لگی۔۔ سانس لینے میں مشکل آ رہی تھی۔۔ ڈاکٹر نے آکسیجن ماسک لگا دیا۔۔ لیکن مدثر ماسک اُتار رہا تھا۔۔ میں نے مدثر سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ماسک کیوں اُتار رہے ہو۔۔ کہتا کہ بھیا میرا دم گھٹ رہا ہے ماسک میں۔۔

اسی دوران نرس نے مدثر کو لیزیکس کا انجکشن بھی لگا دیا تھا۔۔ انجکشن لگنے کے کُچھ ٹائم بعد میں نے مدثر سے پوچھا کہ ہاں بھائی کیسی طبیعت ہے۔۔؟ کُچھ فرق پڑا۔۔؟ تو مدثر نے ہاں میں سر ہلایا کہ ہاں فرق پڑا ہے۔۔ میں نے کہا کہ جھوٹ بول رہے ہو نا مجھ سے۔۔؟ تو مدثر نے نا میں سر ہلایا کہ نہیں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔۔ بلڈ پریشر بہت زیادہ لو تھا کہ مدثر بلکل نیم بیہوش حالت میں تھا۔۔

پھر میں نیچے تھا تو انس کا فون آیا کہ بشر جلدی سے وارڈ میں آ۔۔ مدثر کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔ جلدی سے وارڈ میں پہنچا۔۔ ریسیپشن پہ بتایا ڈاکٹر کو کال کی فوراً۔۔ اتنے میں نرسز ایکو مشین اور دیگر مشینیں وارڈ میں لانے لگیں۔۔

میں نے مدثر کو لیٹایا۔۔ ڈاکٹر بھی فوراً پہنچ چکی تھی۔۔ عادل کو کہا کہ بابا کو کال کر کہ جلدی ہاسپٹل پہنچیں۔۔

مدثر کو سیدھا لیٹایا۔۔ دائیں سائڈ پہ میں کھڑا تھا مدثر نے مجھے دیکھا۔۔ اُن آنکھوں کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔۔ وہ بڑی اور خوبصورت آنکھوں والا میرا چھوٹا بھائی اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔۔ اور سوجن کی وجہ سے اُسکی آنکھیں کافی سرخ ہو چکی تھیں۔۔ وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔۔ میرا ایک ہاتھ مدثر کے سر پہ اور دوسرا اُسکے سینے پہ تھا۔۔

اُس وقت میری بس ایک دعا تھی کہ یا اللہ پاک بس کُچھ دیر اور۔۔ بس کُچھ دیر اور۔۔۔!! لیکن مدثر کا وقت پورا ہو چکا تھا۔۔ 26 سال کی مسلسل تکلیف کاٹنے کے بعد اب اُسے جنت میں جانا تھا۔۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ مدثر کا دل رُک چکا ہے۔۔ میں نے فوراً ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔۔ میں انتہائی مجبور اور حسرت والی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا کہ بس ڈاکٹر کُچھ بھی کر کے میرا بھائی ٹھیک کر دو۔۔

مدثر کو مشینیں لگ چکی تھیں۔۔ دو منٹ نہیں گزرے تھے کہ ڈاکٹر نے مجھے باہر آنے کو کہا۔۔ جیسے ہی میں باہر آیا تو بس ایک ہی لفظ تھا جس نے مجھے توڑ دیا۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔!!

اسکے بعد کُچھ وقت کیلئے مجھے کُچھ ہوش نہیں کیا ہو رہا ہے۔۔ کیوں ہو رہا ہے۔۔
میرے پیٹ سے سینے تک عجیب سا درد اُٹھا کہ ایک منٹ کیلئے بھی کھڑا رہنا میرے لیے مشکل ہو گیا۔۔ میرے ہاتھ سن ہو چکے تھے۔۔ کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔

مجھے عادل یا شاید انس نے گلے لگایا ہوا تھا۔۔ میں واپس وارڈ میں مدثر کے پاس آیا۔۔ وہ ایک دم سکون سے سویا ہوا تھا۔۔ یہ وہ بچہ تھا جو پچھلے 26 سال سے کبھی بھی سیدھا لیٹ نہیں سکا تھا۔۔ یہ وہ بچہ تھا جو پچھلے ایک سال سے ایک کمر بستر کے ساتھ ٹچ نہ کر سکا۔۔ اور پوری پوری رات بیٹھے بیٹھے گزار دیں۔۔ لیکن آج وہی بچہ پرسکون طریقے سے سیدھا سویا ہوا تھا۔۔

میں مدثر کے پاس گیا اُسکے ریشم جیسے بالوں میں ہاتھ پھیرا کہ مدثری اٹھو نا۔۔ اُٹھو نا مدثری۔۔ بھیا قربان جائے اُٹھ جاؤ نا۔۔ لیکن مدثر ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔ وہ ایک لمبی بیمار زندگی کاٹنے کے بعد ابدی نیند سو چکا تھا۔۔

مدثری مجھے کہتا ہوتا تھا کہ بھیا میں بہت مشکل وقت گزار رہا ہوں دیکھنا میری موت بہت پرسکون ہوگی۔۔ اور جیسا اُسنے کہا تھا ویسا ہی ہوا بھی۔۔ پتہ ہی نہیں چلا اچانک مدثری اللہ کو پیارا ہو گیا۔۔

اپنے چاند جیسے بھائی مدثر کو میں نے اپنے ہاتھوں سے سفید چادر پہ رکھا۔۔ وہ لمحہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔۔ اتنے میں اماں بابا بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔۔ ایک ماں کیلئے اپنے جوان بیٹے کو اس حالت میں دیکھنا یقینی طور پہ ایک بڑی آزمائش تھی۔۔ اماں بیہوش ہو گئیں۔۔

عادل ایمبولینس کروا چکا تھا۔۔ مدثر کی وصیّت تھی کہ اُسکی قبر آبائی گاؤں میں نہ کرنا۔۔ بلکہ اپنے شہر میں ہی کرنا۔۔ یہاں مدثر کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیا۔۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائی کا آخری لباس کفن خریدا۔۔

جس عمر میں بھائیوں کی بارات جاتی ہے اُس عمر میں میرے بھائی کا جنازہ اٹھایا گیا۔۔ اور مدثری اپنے اصل گھر میں آج سکون کی نیند سو رہا ہے۔۔

وہ نیک روح تھی ساری زندگی بیماری میں کاٹی اور یقیناً آج وہ جنت میں ہوگا۔۔ لیکن مدثری بھیا کو تیری بہت یاد آتی ہے۔۔ 💔

#بشرہاشمی

04/01/2023

Announcement video related to "The Android Guy DK"

30/09/2022

ہیکر کی جگہ آپکو 20 ارب روپے کی آفر دی جاتی کہ آڈیو لیک نہ کرو۔۔
تو کیا کرتے؟ 🤔

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Android Guy DK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Android Guy DK:

Share