29/05/2026
حج: اسلام کا پانچواں رکن اور اتحادِ امت کا عظیم مظہر
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جو ہر اس صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مکہ مکرمہ تک پہنچنے کا سفر اور اخراجات برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ یہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی، گناہوں سے توبہ، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد و مساوات کا ایک بے مثال عالمی اجتماع ہے۔
ذی الحجہ کے مہینے میں دنیا کے ہر کونے سے لاکھوں مسلمان، رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق کو مٹا کر ایک لباس (احرام) میں الٰہی حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی روشنی میں حج کی اہمیت
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت اور اس کے منافع کا ذکر متعدد مقامات پر فرمایا ہے۔ سورہ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو کفر کرے (نہ مانے) تو اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔" (سورہ آل عمران: 97)
اسی طرح سورہ الحج میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کا اعلان کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ
"اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر دبلے پتلے اونٹ پر بھی، جو دور دراز کے راستوں سے سفر کر کے آئیں گے۔" (سورہ الحج: 27)
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حج کے فضائل
حضور اکرم ﷺ نے حج کی فضیلت اور اس کے اجر و ثواب کو تفصیلاً بیان فرمایا ہے۔ چند مستند احادیث درج ذیل ہیں:
گناہوں سے پاکیزگی:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔" (صحیح بخاری)
حجِ مبرور کا اجر:
ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حجِ مبرور (مقبول حج) کا بدلہ صرف جنت ہی ہے۔" (صحیح بخاری و مسلم)
افضل ترین اعمال میں شمولیت:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔" پوچھا گیا، پھر کون سا؟ فرمایا: "اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔" پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "حجِ مبرور۔" (صحیح بخاری)
حج کے بنیادی ارکان اور مناسک
حج کے مناسک 8 ذی الحجہ سے 12 یا 13 ذی الحجہ تک جاری رہتے ہیں۔ اس کے اہم مراحل یہ ہیں:
احرام باندھنا: حج کی نیت سے دو سفید چادریں (مردوں کے لیے) پہننا اور "لبیک اللّٰہم لبیک" کی صدائیں بلند کرنا۔
وقوفِ عرفات (9 ذی الحجہ): یہ حج کا سب سے بڑا اور بنیادی رکن ہے۔ تمام حجاج میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اللہ کے حضور رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں۔
مزدلفہ میں رات گزارنا: عرفات سے واپسی پر حجاج مزدلفہ میں رات گزارتے ہیں اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔
رمی جمار (کنکریاں مارنا): منیٰ میں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔
قربانی اور حلق: اللہ کی راہ میں جانور قربان کیا جاتا ہے اور مرد سر منڈواتے ہیں یا بال کٹواتے ہیں۔
طوافِ زیارت اور سعی: خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے اور صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ لگائی جاتی ہے۔
حج کا فلسفہ اور سماجی پیغام
حج کا سب سے خوبصورت پہلو اس کا عالمگیر اتحاد ہے۔ جب دنیا بھر کے بادشاہ، فقیر، سفید فام، سیاہ فام، عرب اور عجم سب ایک ہی صف میں، ایک جیسا لباس پہنے، ایک ہی رب کے سامنے جھکتے ہیں، تو دنیا کا ہر تفاخر اور تکبر خاک میں مل جاتا ہے۔ یہ منظر خطبہ حجتہ الوداع کی یاد دلاتا ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔
حج انسان کو صبر، ایثار، سخاوت اور نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے جب بندہ اپنے وطن واپس لوٹتا ہے، تو وہ ایک بدلا ہوا اور متقی انسان بن چکا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اخلاص کے ساتھ حجِ مبرور کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔
حج کا منظر (تصویر)
یہاں مکہ مکرمہ میں حج کے دوران خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے حجاج کرام کا ایک خوبصورت منظر