09/01/2026
پاکستان کی دفاعی اقتصادی حکمت عملی: جنگ یا معیشت؟
تحریر: عمر فاروق
پاکستان کی موجودہ دفاعی اور اقتصادی حکمت عملی نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ صرف تباہی کا نام نہیں، بلکہ صحیح حکمت عملی کے تحت ملک کی معیشت اور دفاع کو بھی تقویت دی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں عالمی خبر رساں ادارہ روئٹرز کی ایک رپورٹ نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ چار ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں جے ایف-17 تھنڈر طیارے سرِفہرست ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کا پاکستان پر واجب الادا دو ارب ڈالر قرضہ بھی اسی معاہدے میں شامل کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں کل ڈیل چھ ارب ڈالر کی ہو گئی ہے۔ پاکستان اب اس معاہدے کے تحت مزید طیارے اور اسلحہ فراہم کرے گا، جبکہ واجب الادا قرضہ بھی اس کے ذریعے کلیئر ہو جائے گا۔
یہ معاہدہ محض دفاعی طاقت میں اضافے کا ثبوت نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی کا بھی شاندار مظاہرہ ہے۔ خواجہ آصف نے درست کہا تھا کہ اگلے چھ مہینوں میں دفاعی معاہدوں اور اسلحہ کی فروخت سے ملک اتنی آمدنی حاصل کر لے گا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے قرضے بھی ختم ہو جائیں گے۔
حقیقت میں مئی 2025 کی سرحدی کشیدگی نے بھارت کو ہر محاذ پر شرمندگی کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، جبکہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی اعتبار سے مضبوطی حاصل کی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی واضح نظر آئے۔
یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ اس مرتبہ فیصلہ سازی کے کردار میں وزیراعظم اور آرمی چیف نے انتہائی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے درست انداز میں بھارت کے خطرے کا جواب دیا، جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ چین کی دفاعی حمایت بھی شامل رہی۔ ورنہ ماضی میں حکمران پارلمینٹ میں کھڑے ہوکر ایسے بیان دیتے جس سے پوری قوم کو سبکی کا سامنا ہوتا تھا، "کیا میں انڈیا پر حملہ کرلوں؟"
اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ صرف زبانی جوش و خروش کافی نہیں، بلکہ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعلقات کی سمجھ بوجھ ہی حقیقی کامیابی دلا سکتی ہے۔
لیکن دفاع صرف ایک پہلو ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس آمدنی اور قرضے کی کلیئرنس کے بعد عوام کی فلاح اور ملکی ترقی کے لیے معاشی پالیسیوں کو مضبوط کیا جائے۔ لوکل انڈسٹریز میں سرمایہ کاری کے راستے کھولنا، ٹیکس نظام کو شفاف اور آسان بنانا، اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جب ملک کے دفاع کے ساتھ معاشرتی ترقی بھی ہم آہنگ ہو جائے تو نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان ایک قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ابھرے گا، جہاں دنیا کے لوگ روزگار کی تلاش میں آئیں۔