23/01/2026
“نوکری رزق نہیں دیتی… نوکری آپ کی زندگی قسطوں میں چھین لیتی ہے!”
کیا واقعی ملازمت ترقی کا راستہ ہے یا ذہنی غلامی کا جدید نظام؟ ڈاکٹر یونس کے اس چونکا دینے والے مؤقف کی اصل حقیقت جانئے۔
نوکری ایک غلط(بیکار/ناکارہ) کنسپٹ ہے۔
یہ کہنا ہے بنگلہ دیش کے صدر ڈاکٹر یونس کا۔ہمارے صدر محترم کے برعکس ڈاکٹر یونس نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ہیں۔
نوکری یا ملازمت بے شمار وجوہات کی بنا پہ ایک بیکار کنسپٹ ہے۔ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ نوکری سے حاصل ہونے والی محدود آمدن ہے۔اس آمدن سے کبھی بھی معاشی طبقاتی کلاس نہیں بدلی جاسکتی۔ہاں آپ پاکستان جیسے ملک میں سرکاری افسر ہوں اور آپ کو “اوپر سے” آمدن ہو یا آپ پہ “اللہ کا فضل” ہو تو وہ مختلف بات ہے۔عمومی حالات میں نوکری محض وہ گھر چلانے جتنی آمدن ہی آپکو دیتی ہے جس گھر میں رہ کے آپ وہ ملازمت کرتے ہیں۔آپ لاہور رہیں تو لاہور رہنے کے اخراجات پورے ہوجائیں گے،آپ لندن ہوں تو نوکری سے لندن کے اخراجات پورے ہوتے رہیں گے۔ملازم بحر حال ہر ماہ کے آخرے ایام انگلی کے پوروں پہ گِن کے گزارتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ ملازمت کے ساتھ جُڑی نفسیاتی ، ذہنی اور زمان و مکان کی غلامی ہے۔ملازم چاہے جنرل مینجر ہی کیوں نہ ہو کسی سرمایہ کار کا غلام ہی ہوتا ہے۔اسکا ذہن ایک مخصوص دائرے کے اندر ہی کام کرتا ہے۔اس کی اپنی مرضی اسکی ذاتی زندگی میں بھی نہیں رہتی۔اس کے ساری زندگی کے پلان،اپنے وہیاہ سے لے کے بچوں کی رخصتی تک ہر معاملہ دفتر سے چھٹی سے منسلک ہوتا ہے۔وہ سالہا سال اپنے مرضی سے نہ سوتا ہے،نہ جاگتا ہے،اس کا فیملی ڈِنر تک کسی سرمایہ کار کی اجازت سے منسلک ہوتا ہے۔سعودی عرب آٹھ مہینے گزارنے کے بعد کمپنی مالک کو چھٹی کی عرضی دی تو اس نے جو سوال پوچھا وہ آج تک یاد ہے،چھٹی کیوں کرنی ہے؟
گھر جانا ہے۔
کیوں؟
میں چپ تھا،سوچ رہا تھا کہ اپنے گھر جانے کی بھی بھلا کوئی وجہ ہوتی ہے؟اپنے ہی گھر جانے کو اجازت چاہیے۔
نوکری کے ساتھ ایک خوف ہمیشہ رہتا ہے۔کسی بھی لمحے نوکری سے ہاتھ دھونے کا خوف۔پھر چاہے آپ گوگل یا میٹا جیسی کمپنی میں کام کررہے ہوں یا سیٹھ طفیل کے پاس محلے کی فیکٹری میں کام کررہے ہوں۔ آپ کو ساری زندگی میرے ورگے ایچ آر کے لوگ “وی آر لائک فیملی” کے بھاشن دیں گے۔ لیکن جس دن سیٹھ صاحب کا میٹر شارٹ ہوگیا آپکو خاندان سے بےدخل کردیا جائے گا۔
بے دخل کرنے پہ کارپوریشنز کے پاس اتنے بہانے اور قانونی راستے ہوتے ہیں کہ وہ آپکی پینشن پہ ایک لمحے میں کاٹا مار سکتی ہیں۔مین کمپنی اپنا پیسہ کسی ذیلی کمپنی میں ڈال کے دو سو بندہ بے دخل کرکے خود کو دیوالیہ ڈیکلیر کرسکتی ہے۔آپ قانونی طور پہ ککھ بھی نہیں کرسکتے۔سیٹھ صاحب کی زندگی دیوالیہ ہونے کے بعد بھی شاندار ہوتی ہے اور ملازم پائی پائی کو ترس رہا ہوتا ہے۔اس کی جوانی کے بدلے اسے ایک کاغذ کے ٹکڑے پہ ٹرمینیشن آرڈر مل جاتے ہیں۔
اگر آپ کسی ایسے ملک میں نوکری سے نکالے جاتے ہیں جہاں آپ ورک ویزہ پہ ہوتے ہیں تو آپ کو اپنے خاندان سمیت چند ہفتوں میں وہ ملک چھوڑنا ہوتا ہے۔جس ملک کو آپ نے کئی سال دیے ہوتے ہیں،بڑے سال اپنا گھر کہا ہوتا ہے،دوستیاں پالی ہوتی ہیں وہی ملک ایک لیٹر کے بعد بیگانہ ہوجاتا ہے۔آپ ایک لگی بندھی زندگی چھوڑ کے جانے پہ مجبور ہوتے ہیں اور یہ موت کے بعد دوسرا سب سے بھیانک انتقال ہوتا ہے۔
ان سب وجوہات سے بھی ایک بڑی وجہ اور ہوتی ہے۔جس انسان کو قدرت نے ذہانت دی،ایک تخلیق کار پیدا کیا،جو مختلف کام اور مختلف کردار نبھا سکتا ہے وہ ساری عمر ایک مخصوص دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔
میں کاروبار کا ہر زاویہ دیکھ سکتا ہوں،چلا سکتا ہوں۔میں کاروبار کے دور رست منصوبوں سے لے کے روزانہ کی آپریشنل رہورٹس دیکھ سکتا ہوں ان پہ تجزیے کرکے فیصلے کرسکتا ہوں۔میرے اندر ایک تخلیق کار ہے،میں بہترین مارکیٹنگ کرسکتا ہوں،مجھے حساب کی سمجھ ہے،مجھے انسانوں کی پرکھ ہے۔اس سب کے باوجود میں ملازم ایک خاص ڈربے کے اندر بند ہوں۔میں چند فائلیں سیدھی کرتا ہوں، انٹرویوز کرتا ہوں،ایک خاص دائرے کے اندر کے معاملات دیکھتا ہوں۔کیا یہ قدرت کے دیے ان انعامات کی ناشکری نہیں کہ مجھے اتنے ہنر دیے اور میں ایچ آر میں بیٹھا چار فائلیں سیدھی کررہا ہوں؟
نوکری پیشہ انسان کبھی بھی اپنے پورے پوٹینشل تک نہیں پہنچ سکتے۔وہ اپنی خوبیاں اور خصوصیات دریافت نہیں کرسکتے۔اپنی ذات کا جادو دیکھنے کو کاروبار ہی واحد متبادل ہے۔ملازمت ایک گھُن ہے،جو ملازم کے قدرتی ہنر کو کھاجاتا ہے.,👑👑☝️👑👑🇵🇰🚀