Information about science

Information about  science اس پیج پر آپ ہر طرح کے سائنسی معلومات یعنی حیاتیات،کیمیا،طبعیات،فلکیات،ریاضی ،تاریخ اور دوسرے بہترین معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

 قسط نمبر 12.ایمیزون ایلکساایمیزون ایلکسا اب فوت شدہ اہلِ خانہ کی آواز میں بات کرسکے گااگر آپ چاہتے ہیں کہ ایمیزون ایل...
25/06/2022


قسط نمبر 12.ایمیزون ایلکسا
ایمیزون ایلکسا اب فوت شدہ اہلِ خانہ کی آواز میں بات کرسکے گا
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایمیزون ایلکسا آپ کی گھر والوں کی اور یہاں تک کہ فوت شدہ افراد کی آواز میں بات کرسکے تو اس کے لیے ایک منٹ تک کی آڈیو اسے سنادیں اور ایلکسا اس کا نقال بن جائے گا۔
ایلکسا سے وابستہ سینیئر سائنسداں، روہت پرساد نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ایلکسا کو انسانوں کے مزید قریب کرنا ہے تاکہ لوگ اسے ایک نئے احساس کے ساتھ قبول کرسکے۔’ دوسری جانب حالیہ کووڈ وبا کے تناظر میں لاکھوں کروڑوں افراد دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت اس دکھ کا ازالہ نہیں کرسکتی لیکن مرنے والوں کو ان کی یادوں میں زندہ ضرور رکھ سکتی ہے۔‘ روہت نے بتایا۔
ایمیزون کمپنی کے مطابق ایک بچے نے ان سے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اسی طرح ایلکسا سے کہانیاں سنے جس طرح اس کی نانی یا دادی سنایا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایمیزون نے سنجیدگی سے اس ٹیکنالوجی پر کام کیا اور اب اسے عوام کے لیے پیش کردیا ہے۔
تاہم ایمیزون نے بتایا کہ بلند معیار کے آواز کی نقل کے لیے سینکڑوں منٹ کی آواز درکار ہوتی ہے۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی کے تحت ایک منٹ کی آواز بھی بہت ہوتی ہے، تاہم اس کی دیگر تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

نیوزی لینڈ: آسمان میں نیلی روشنیاںیہ منفرد منظر اتوار کی شام دیکھا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ نیلی رنگ کی مدھم روشنیاں آسم...
21/06/2022

نیوزی لینڈ: آسمان میں نیلی روشنیاں
یہ منفرد منظر اتوار کی شام دیکھا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ نیلی رنگ کی مدھم روشنیاں آسمان میں بنتی کسی چھوٹی کہکشاں کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔
عجیب و غریب روشنیاں سوشل میڈیا پر کئی طرح کی اطلاعات کا سبب بن گئیں کیونکہ لوگ یہ وضاحت چاہتے تھے کہ ان بل کھاتی روشنیوں کا سبب کیا ہے۔
جلد ہی اس منظر کے ماخذ کے بارے میں انکشاف کر دیا گیا۔ ان روشنیوں کا سبب تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والی امریکی نجی خلائی کمپنی سپیس ایکس کا راکٹ تھا، جس میں سے اسے چھوڑے جانے کے بعد ایندھن خارج ہو رہا تھا۔
کوئینزٹاؤن، آکلینڈ اور موٹوایکا کے مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹوئٹر اور فیس بک پر روشیوں کی تصویریں پوسٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ کسی کو علم ہے کہ آسمان میں دکھائی دینے والا عجیب منظر کیا تھا۔
جریدے ’نیوزی لینڈ ہیرالڈ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق بحرالکاہل کے بعض علاقوں میں زیادہ واضح نظر آنے والی پیچ دار روشنیاں فجی، ساموآ، نیو کیلیڈونیا اور ٹوکیلاؤ کے چھوٹے جزیرے میں بھی دیکھی گئیں۔
تصاویر میں شام کے وقت ستاروں سے پوری طرح بھرا آسمان اور ان کے درمیان کئی بازوؤں والی بل کھاتی نیلی روشنیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا کے ایک صارف ایون میک کے نے فیس بک پر لکھا: ’یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی راکٹ گھومتے ہوئے قابو سے باہر ہو رہا ہو۔‘
لوگوں کا تجسس ختم کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی نیو پلیماؤتھ ایسٹرونومیکل سوسائٹی نے تصدیق کی کہ آسمان میں دکھائی دینے والا منظر خلائی مخلوق کی پر اسرار سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس نظارے کا سبب سپیس ایکس کا راکٹ لانچ ہونے کے بعد انسانی سرگرمیاں تھیں۔
سوسائٹی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا: ’آج رات ساڑھے سات بجے کے قریب آسمان پر جو ’پیچ دار‘ شے دیکھی گئی غالب امکان ہے کہ وہ سپیکس ایکس کی طرف سے خلا میں بھیجے گئے راکٹ کا ’گرایا جانے والا ایندھن‘ یا اس کے انجن سے خارج ہونے والی ’گیس‘ تھی۔
سوسائٹی کا مزید کہنا تھا: ’اس سے پہلے بھی ایسے مناظر دیکھے جا چکے ہیں اور ممکن ہے کہ سپیس ایکس کا گلوب سٹار ٹو ایف ایم 15 راکٹ اس وقت نیوزی لینڈ کے اوپر سے گزرا ہو۔‘
پوسٹ میں کہا گیا: ’یہ نیچے دی گئی ویڈیو میں نیوزی لینڈ کے جنوب سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تقریباً ساڑھے پانچ بجے لانچ کے بعد اس کی پرواز کو محض ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزرا ہوگا اور شاید بعد میں تقریباً 90 سے 120 منٹ میں دوبارہ گزرا ہو جو تقریباً ساڑھے سات بجے کا وقت بنتا ہے۔‘
اس بات کی تصدیق سپیس ایکس سے ہوئی، جس نے ہفتے کے اختتام پر فالکن نائن قسم کے تین راکٹوں کو کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا۔ کمپنی مجموعی طور پر 55 راکٹ خلا میں بھیج چکی ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے نیو پلیماؤتھ ایسٹرونومیکل سوسائٹی سے دریافت کیا کہ راکٹ ایندھن کیوں گراتے ہیں۔ جواب میں سوسائٹی کا کہنا تھا کہ اس امر کی وضاحت موجود ہے کہ راکٹ کے مرحلہ وار الگ ہوتے وقت ایندھن کیوں گرایا جاتا ہے۔
سوسائٹی کے بقول: ’ایسا کرنے کی وجہ حفاظت ہے۔ راکٹ کے پھٹنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں خلائی کباڑ یا مدار کے ملبے کی ایک بڑی تعداد پیدا ہو جاتی ہے جو خلا میں بھیجے جانے والے دوسرے راکٹوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ اتنی زیادہ بلندی پر ایندھن تیزی سے ختم ہو جاتا ہے اور زمین کو کوئی ماحولیاتی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔
تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والی کسی کمپنی کی جانب سے تین خلائی مشنز کے تاریخی ریکارڈ کی حامل سپیس ایکس اتوار کو اپنی مواصلاتی سیٹلائٹ گلوب سٹار مدار میں بھیجنے میں کامیاب رہی۔
خلائی سرگرمی پر نظر رکھنے والی کمپنی سپیس فلائیٹ ناؤ کا سوشل میڈیا پر کہنا تھا: ’سپیس ایکس نے اتوار کو دن کے آغاز پر کیپ کنیورل سے گلوب سٹار مواصلاتی سیارہ مدار میں بھیجا۔ کمپنی نے 36 گھنٹے میں تیسرا فالکن نائن راکٹ خلا میں بھیجا۔ تاریخ میں کسی کمرشل لانچ کمپنی کی جانب سے یہ تیز ترین سلسلہ ہے۔‘
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

 #کیاآپ_جانتےہیںقسط نمبر46.کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہےبرطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکی...
15/06/2022

#کیاآپ_جانتےہیں
قسط نمبر46.کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔
تحقیق میں محققین نے بتایا کہ دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
جرنل برین میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا۔ مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔
صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا۔لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا۔ مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔
جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا۔
محققین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

 قسط نمبر40.چلی میں پانچ ہزار سالہ دنیا کا قدیم ترین درختایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ کے ملک چ...
11/06/2022


قسط نمبر40.چلی میں پانچ ہزار سالہ دنیا کا قدیم ترین درخت
ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ کے ملک چلی میں سرسبز و شاداب جنگل دنیا کے قدیم ترین درخت کا مسکن ہو سکتا ہے۔اس قدیم درخت کو ’گریٹ گرینڈ فادر ٹری‘ (پر دادا) کا نام دیا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی عمر پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
درخت کا تنا اتنا موٹا ہے کہ سائنس دان رنگ کاؤنٹس کی بنیاد پر اس کی صحیح عمر کا تعین نہیں کر سکے۔
عام طور پر کسی بھی درخت کے رنگز کو شمار کرنے کے لیے اس کے تنے کا ایک میٹر سلنڈر نکالا جاتا ہے لیکن ’گریٹ گرینڈ فادر ٹری‘ کے تنے کا قُطر ہی چار میٹر ہے۔
اس تحقیق کی قیادت کرنے والے سائنس دان جوناتھن باریچیوچ نے کہا کہ انہوں نے جو سیمپل نکالا ہے اس کے ڈیٹنگ میتھڈ کے مطابق اس درخت کی عمر پانچ ہزار 484 سال ہے۔
جوناتھن باریچیوچ نے کہا: ’ممکنہ نمو کے طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے اس بات کا 80 فیصد امکان ہے کہ اس زندہ درخت کی عمر پانچ ہزار سال سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فیصد امکان ہے کہ درخت اس سے کم عمر ہو۔‘
اس سے پہلے کیلی فورنیا میں موجود بریسٹلکون پائن کو قدیم ترین درخت تصور کیا جاتا تھا جس کی عمر چار ہزار 853 سال ہے۔ گریٹ گرینڈ فادر ٹری اس سے پانچ سو سال پرانا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ یہ درخت کئی انسانی تہذیبوں کے ادوار میں زندہ رہا لیکن سائنس دان کوسٹیرو نیشنل پارک میں موجود اس درخت کے بارے میں فکر مند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کا دورہ کرنے والے اکثر احتیاط نہیں کرتے اور درخت کی جڑوں پر قدم رکھتے ہیں اور اس کی چھال کے ٹکڑے بھی اتار لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے نقصان سے بچنے کے لیے امریکہ میں اسی طرح کے درختوں کے مقامات پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔
باریچیوچ نے کہا کہ لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ پانچ ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہے اور وہ اپنی زندگیوں اور موسمیاتی بحران کو مدنظر رکھیں۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

ساینس نیوز اپڈیٹجیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کی ٹکرواشنگٹن: خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ س...
09/06/2022

ساینس نیوز اپڈیٹ
جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کی ٹکر
واشنگٹن: خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا۔
امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوڑے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا۔
ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ رہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے۔
اداراے کا کہنا تھا کہ بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
ناسا نے مزید کہا کہ ٹیلی اسکوپ میں ایسے تصادمات برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے، چاہے چٹان کا ٹکڑا متوقع ٹکڑے سے بڑا ہی کیوں نہ ہو۔
امریکی خلائی ادارے نے کہا کہ تشکیلی مراحل میں محقیقن نے آئینوں کے ٹکڑوں پر حقیقی و مصنوعی تصادمات کا استعمال کیا تاکہ یہ دیکھ جاسکے کہ ٹیلی اسکوپ خلا میں تیرتے ایسے ٹکڑوں کی ٹکر کو کیسے برداشت کرتی ہے۔
ناسا کے ٹیکنیکل ڈپٹی پروجیکٹ منیجر پال گِیتھنر کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو یہ علم تھا کہ ویب کو خلائی ماحول کو برداشت کرنا ہوگا جس میں سورج سے آتی سخت الٹرا وائلٹ روشنی اور چارجڈ ذرّات، کہکشاں میں غیر معمولی ذرائع سے آتی خلائی شعائیں اور ہمارے نظامِ شمسی میں موجود چھوٹے شہابی پتھروں کی وقتاً فوقتاً ٹکر شامل ہے۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

*** جون 2022 کے اہم فلکیاتی واقعات اور مشاہدات ***11 جوم : سیارہ عطارد اور خوبصورت مجموعہ نجوم ثریا Pleiades ایک دوسرے ک...
02/06/2022

*** جون 2022 کے اہم فلکیاتی واقعات اور مشاہدات ***

11 جوم : سیارہ عطارد اور خوبصورت مجموعہ نجوم ثریا Pleiades ایک دوسرے کے قریب دیکھے جا سکیں گے۔
11 جون: سال کی سب جلد سحر ہوگی یعنی سورج سال بھر میں اس دن سب سے پہلے طلوع ہوگا۔
12 جون : سیارہ زہرہ اور سیارہ یورانیس ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں گے۔ اگرچہ سیارہ یورانیس کو عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں لیکن یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صبح صادق کے وقت مشرق کی سمت میں دیکھنے پر یورانیس زہرہ سے ہلکا سا شمال کی طرف آسمان میں صرف ایک چھوٹی انگلی جتنی فاصلے پر موجود ہوگا۔
14 جون : پورے چاند کی رات ہوگی۔
16 جون : سیارہ عطارد آسمان میں سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر ہوگا اور یہ صبح صادق کے اوقات میں عطارد کے نظارے کا بہترین موقع ہوگا۔
18 جون : چاند اور سیارہ زحل رات کے آخری پہر میں ایک دوسرے کے نزدیک دکھائی دیں گے۔
18 جون : سیارہ نیپچون کو چھوٹی دوربین سے صبح صادق کے وقت دیکھنے کا بہترین موقع ہوگا۔
21 جون : اس سال کا سب سے لمبا دن ہوگا۔
21 جون : سیارہ مریخ اپنے مدار میں سورج سے کم سے کم فاصلے پر ہوگا۔
22 جون : صبح صادق کے وقت چاند اور سیارہ مشتری ایک دوسرے کے بہت قریب مشرق میں دکھائی دیں گے۔
22 جون : سیارہ زہرہ اور مجموعہ نجوم ثریا صبح صادق کے اوقات میں مشرق کی طرف ایک دوسرے کے قریب نظر آئیں گے۔
23 جون : چاند اور سیارہ مریخ صبح صادق کے وقت مشرق کی سمت میں آسمان میں ایک دوسرے کے بہت نزدیک نظر آئیں گے۔
26 جون : چاند اور ثریا ایک دوسرے کے قریب طلوع آفتاب سے پہلے مشرق کی طرف دیکھے جا سکیں گے۔
26 جون : چاند اور سیارہ زہرہ طلوع آفتاب سے قبل مشرق میں پاس پاس نظر آئیں گے۔
27 جون : چاند اور سیارہ عطارد ایک دوسرے کے قریب طلوع آفتاب سے پہلے مشرق کی جانب دکھائی دیں گے۔
29 جون : صبح 7 بج کر 53 منٹ پر نئے چاند کی پیدائش ہوگی تاہم اسلامی مہینے کے آغاز کا تعین رویت ہلال کے اصولوں پر ہوگا۔

(مرتبہ : ڈاکٹر احمد نعیم)
پیج۔information about science
وٹس ایپ ۔information about science
یو ٹیوب ۔Science info in Urdu

موضوع ۔  قسط نمبر4.۔کائنات کا پھیلاوامریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل خلائی دوربین اپنے کام میں ایک ...
27/05/2022

موضوع ۔
قسط نمبر4.۔کائنات کا پھیلاو
امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل خلائی دوربین اپنے کام میں ایک نئے سنگ میل پر پہنچ گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے- اور یہ اس خیال کی تائید کرتی ہے کہ ہماری کائنات میں کچھ عجیب وغریب ہو رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں ماہرین فلکیات نے یہ سمجھنے کے لیے ہبل جیسی دوربینوں کا استعمال کیا ہے کہ ہماری کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
لیکن جیسے جیسے یہ اقدامات مزید درست ہوتے جا رہے ہیں انہوں نے کچھ عجیب بھی دکھایا ہے۔ اگر بگ بینگ کے فوری بعد کے مشاہدات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمارے ارد گرد موجود کائنات کی توسیع کی شرح میں ایک کلیدی فرق ہے۔
سائنسدان اس تضاد کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری کائنات میں ’کچھ عجیب‘ ہو رہا ہے، جو نامعلوم نئی فزکس کا نتیجہ ہو سکتا ہے
گذشتہ 30 سالوں سے ہبل دوربین خلا اور وقت میں’ مائلپوسٹ مارکرز‘ کائنات کی توسیع کی شرح کو درست طریقے سے ماپنے والے نشانات کے ایک سیٹ پر معلومات اکٹھی کر رہی ہے ایسا اس دوران کیا جا رہا ہے جب وہ ہم سے دور جاتے ہیں۔ ان معلومات کو کائنات کی توسیع کی شرح معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ناسا نے اعلان کیا کہ ہبل سپیس ٹیلی سکوپ نے اب تک 40 سے زیادہ ’مائل پوسٹ مارکرز‘ کا تعین کیا ہے جن کی مدد سے سائنسدان درست طریقے سے کائنات کے پھیلاؤ کی شرح معلوم کر سکیں گے۔
سپیس ٹیلی سکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ (ایس ٹی ایس سی آئی) اور بالٹیمور، میری لینڈ میں جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے نوبل انعام یافتہ ایڈم ریز نے ایک بیان میں کہا کہ: ’دوربینوں اور کائناتی میل مارکر سے آپ کائنات کی توسیع کی شرح کا سب سے درست پیمانہ حاصل کر رہے ہیں۔‘
وہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے سربراہ ہیں جنہوں نے ایک نیا مقالہ شائع کیا ہے جس میں سب سے اہم اور شاید ہبل خلائی دوربین سے آخری بڑی اپ ڈیٹ شامل ہے، جس میں مائل مارکرز کے پچھلے سیٹ کو دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ڈیٹا کا بھی دوبارہ تجزیہ کیا گیا ہے۔
کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کے درست پیمانے کی تلاش اس وقت شروع ہوئی جب امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے کہا تھا کہ ہماری کہکشاں سے باہر کہکشائیں ہم سے دور ہوتی نظر آرہی ہیں۔ تب سے سائنسدان اس پھیلاؤ کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(اس ماہر فلکیات کے کام کے اعزاز میں توسیع کی شرح اور خلائی دوربین جو اس پر تحقیق کر رہی ہے، دونوں کا نام ہبل رکھا گیا ہے۔)
تاہم جب خلائی دوربین نے کائنات کی توسیع کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں تو یہ ماڈلز کی پیش گوئی سے زیادہ تیز ثابت ہوئی۔ ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی کہ یہ پھیلاؤ لگ بھگ تقریبا 67.5 کلومیٹر فی سیکنڈ فی میگاپرسیک ہونا چاہیے، لیکن مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ 73 کلومیٹر فی سیکنڈ فی میگاپرسیک کے لگ بھگ ہے۔
ماہرین فلکیات کی جانب سے اس کو غلط سمجھنے کا امکان دس لاکھ میں سے صرف ایک بار ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات کا ارتقا اور توسیع ہماری سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اور بھی بہت کچھ باقی ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ نئی خلائی دوربین جیمز ویب کی مدد سے اس پیچیدگی کی مزید گہرائی میں جائیں گے۔ اس دوربین کو حال ہی میں خلا میں بھیجا گیا ہے اور یہ جلد ہی اپنے ابتدائی مشاہدات واپس بھیجے گی۔ اس کی مدد سے سائنسدان خلا اور وقت میں مزید فاصلے پر موجود مائل پوسٹوں کو واضح طور پر دیکھ سکیں گے۔
نیچے دیا گیے تصویر میں 12 کروڑ نوری سال دور موجود ایک گلیکسی کو دیکھا جا سکتا ہے
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

 #کیاآپ_جانتےہیںقسط نمبر۔45.مشرقی وسطیٰ میں ریت کے طوفان معمول کیوں بنتے جارہے ہیں؟سعودی عرب سے عراق اور کویت سے ایران ...
24/05/2022

#کیاآپ_جانتےہیں
قسط نمبر۔45.مشرقی وسطیٰ میں ریت کے طوفان معمول کیوں بنتے جارہے ہیں؟
سعودی عرب سے عراق اور کویت سے ایران تک ریت کے طوفانوں نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر، اسکول بند ہونے اور ہزاروں افراد کو سانس لینے میں دشواری کے ساتھ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی مزید خراب ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں ناخوشگوار موسمی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب میں ریت کے طوفان کے نتیجے میں ایک ہی دن میں تقریباً 1,285 افراد کو ریاض کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا جو کہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوئے۔
عراق کو بھی رواں ہفتے شدید ریت کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپریل کے وسط کے بعد سے اس کا آٹھواں ریت کا طوفان پیر کو آیا۔ کم از کم 4,000 افراد کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتالوں میں زیر علاج رکھا گیا اور ملک بھر میں ہوائی اڈے، اسکول اور عوامی دفاتر بند کر دیے گئے۔
اگرچہ ریت یا دھول کے طوفانوں کی صحیح وجوہات ابھی تک سائنسدان مکمل طور پر نہیں جان سکے ہیں تاہم بہت سے ماہرین ایسے طوفانوں کا تعلق جنگلات کی کٹائی اور خطوں کے ریگستان میں تبدیل ہوجانے سے جوڑتے ہیں۔
مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام میں ایک اسکالر، بنفشہ کینوش نے کہا کہ ریت اور دھول کے طوفان اکثر ان ممالک میں شروع ہوتے ہیں جہاں پیڑ پودوں کی تعداد انتہائی محدود ہوتی ہے اور تیز ہواؤں کے لیے کم رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کویت سال میں تین ماہ سے زائد تک ریت کے طوفانوں کی زد میں آچکا ہے۔ کویت میں گردآلود ہوائیں 93-109 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں جس سے مرئیت تقریباً صفر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح سال بھر میں بحرین میں 5.6 فیصد، قطر میں 7.1 فیصد اور ابوظہبی میں 3.9 فیصد ریت کے طوفان آئے۔
خطے کے ماہرین جنہوں نے برسوں کے دوران ریت اور مٹی کے طوفانوں کا جائزہ لیا، کہا ہے کہ ایران اور عراق جیسے ممالک میں جہاں پانی کے وسائل کی بدانتظامی اور دریا خشک ہو چکے ہیں وہاں طوفانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ورلڈ میٹرولوجی آرگنائزیشن میں ریت کے طوفان کی پیش گوئی کے مرکز کے ماہر موسمیات اینرک ٹیراڈیلاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ریت کے طوفانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا براہ راست تعلق عراق اور ایران میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے ہے۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

 قسط نمبر11.چھ سو یوٹرن والی 75 کلومیٹر طویل سڑککاشغر: اگر آپ دائیں بائیں مڑتی سواری میں بیٹھنے پر چکر آتے ہیں تو چین ...
20/05/2022


قسط نمبر11.چھ سو یوٹرن والی 75 کلومیٹر طویل سڑک
کاشغر: اگر آپ دائیں بائیں مڑتی سواری میں بیٹھنے پر چکر آتے ہیں تو چین کی عجیب و غریب سڑک آپ کے لیے عذاب بن سکتی ہے کیونکہ کل 75 کلومیٹر طویل سڑک پر 600 سے زائد اتنے تنگ موڑ ہیں کہ انہیں بال پِن موڑ کہا جاسکتا ہے کیونکہ سانپ کی طرح بل کھاتا خمیدہ ترین راستہ اوپر سے دیکھنے پر بال پن کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے ہم اسے یوٹرن سے بھرپور سڑک کہہ سکتے ہیں جسے پامیر پلیٹیو (سطح مرتفع) اسکائے روڈ کا نام دیا گیا ہے۔ صوبہ شنجیانگ کی پہاڑیوں پر واقع یہ سڑک دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہے۔ تاہم اوپر سے دیکھنے میں لگتا ہے کہ کوئی بڑا سانپ اپنے جسم کو بل دے کر بیٹھا ہے۔
2019میں افتتاح کردہ یہ سڑک کاشغر سے ایویغور خطے تک جاتی ہے اور اپنی پیچیدہ راہ کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد اسے دیکھنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ تیزرفتار کار چلانے والے باہمت افراد بھی اسی سڑک پر اپنا ہنرآزماتے ہیں۔ لیکن گاڑیوں میں چکر محسوس کرنے والوں یا پھر کمزور دل کے حامل افراد اس سڑک سے دور رہیں۔
یہ سڑک سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند ہے اور 36 کلومیٹر کی سڑک کو بڑھا کر 75 کلومیٹر تک بڑھایا گیا ہے۔ تاہم اب بھی یہ دنیا کے خطرناک ترین روڈ میں شامل نہیں۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

موضوع ۔نظام شمسی کے سیارے اور چاند قسط نمبر 36۔زحل کے چاند ( حصہ چہارم ) Enceladus 12.Enceladusنام اور دریافت۔History of...
17/05/2022

موضوع ۔نظام شمسی کے سیارے اور چاند
قسط نمبر 36۔زحل کے چاند ( حصہ چہارم ) Enceladus
12.Enceladus
نام اور دریافت۔History of Name & Discovery
اس چاند کو سب سے پہلے 28 اگست 1789 کو William Herschel نے دریافت کیا ۔جبکہ نام اس کو ان کے بیٹے John Herschel نے دیا۔یہ نام Enceladus یونانی میتھالوجی میی ایک titan کا نام ہے ۔چونکہ Saturn ان تمام titans کا لیڈر تھا۔اس لئے سیارہ زحل کے پہلے 7 دریافت شدہ چاندوں کو نام titans کے ناموں پر دئیے گئے۔
مدار اور گردش۔Orbit and rotation
انسیلیڈس زحل کے چند بڑے چاندوں میی سے ہے۔یہ زحل کے مرکز سے 238000 کلومیٹر اور اس کے سطح سے 180000 کلومیٹر کے فاصلے سے گردش کررہا ہے۔یہ دو اور چاندوں mimas اور tythes کے درمیان گردش کررہا ہے۔اور ایک چکر 32.9 گھنٹے میی مکمل کرتا ہے۔Ebceladus ایک اور چاند dione کے ساتھ 2:1کے تناسب سے گردش کررہا ہے۔یعنی جب یہ ایک چکر مکمل کرتا ہے dione دو چکر مکمل کرچکا ہوتا ہے۔اس گردشی تناسب کی وجہ سے اس کی سطح پر tidel heating پیدا ہوتی ہے۔ tidel heating کیا ہے یہ میی نے نیچے تفصیل سے لکھا ہے ۔ہوسکے تو تحریر پورا پڑھ لے تاکہ آپ کو سمجھ آسکے ۔
یہ بھی ہمارے چاند کی طرح locked ہے یعنی اس کا ہمیشہ ایک رخ زحل کی طرف رہتا ہے۔
طبعی خصوصیات ۔Physical characteristic
یہ سیارہ زحل کا چھٹا بڑا چاند ہے اس کی ڈایا میٹر 500 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے یہ زحل کے سب سے بڑے چاند titan کا 10 فیصد ہے۔اس کا اوسط درجہ حرارت منفی 198 سینٹی گریڈ ہے۔یہ نظام شمسی کے چمکدار اجسام میی سے ہے اس کے سطح پر بے شمار گڑھے ہے ۔
سطحی خصوصیات ۔Surface features
اگست 1981 میی وائجر 2 کے تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی سطح پر ہر طرح کے خدوخال موجود ہے۔چاہے وہ گڑھے ہو میدان ہو یا پھر چوٹیاں ہے۔
اس کی سطح پر موجود چمکدار اور صاف شفاف برف اس کو تمام نظام شمسی میی چمکدار بناتی ہے۔
اس کی سطح مختلف اقسام کے خدوخال سے بھری ہوئی ہے۔کہیں پر صاف میدان پر موجود چھوٹے گڑھے یا پھر قطب جنوبی پر موجود عجیب و غریب خطہ۔
ان خصوصیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ چاند geological active ہے۔
Impact cratersگڑھے۔
دیگر نظام شمسی کے اجسام کی طرح Enceladus کی سطح پر بھی بے شمار گڑھے موجود ہے ۔کسینی کے تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ان میی سے اکثر گڑھے سطح کے نیچے موجود آتش فشاں کے جیولوجیکل عمل کی وجہ سے بنے ہے۔آتش فشانی عمل کی وجہ سے اس کے سطح پر لمبی وادیاں بھی ہے۔جو کہ 200 کلومیٹر لمبے 5 سے 10 کلومیٹر چوڑے اور 1 سے 2 کلومیٹر گہرے ہے۔وائجر 2 کے تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے سطح پر چکر دار نالیاں بھی ہے۔اس کے علاوہ پھٹی ہوئی ساختیں بھی ہے۔اور گنبد کی طرح اونچی ساختیں بھی ہے۔یہ تمام ساختیں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ چاند جیولوجیکلی زندہ ہے۔
میدان۔smooth plains
وائجر 2 اور کسینی کے بھیجے گئے تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے سطح پر ایسے میدان بھی ہے جس پر کوئی گڑھے نہیی ہے۔ایسا ہی ایک میدان جس کا Diyar Planitiaنام ہے۔اس کے جنوب مغربی حصے کی طرف واقع ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ میدان 170 ملین سال سے 3 بلین سال تک پرانے ہے۔
South polar regionقطب جنوبی۔
وائجر 2 کے تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے قطب جنوبی کے قریب ایسا علاقہ ہے جو کہ جیولیوجکلی بلکل نئی ہے اندازا 5 لاکھ سال پرانی ہے۔اس علاقے میی دراڑیں اور چوٹیاں ایک دوسرے کے اوپر تلے موجود ہے۔اس کے علاوہ اس علاقے میی سبز اور نیلے رنگ کے برفیلی ساختیں بھی موجود ہے۔جو کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بلکل نئے ہے تقریبا صرف 1 ہزار سال پرانے۔اس علاقے کے کناروں پر y اور v کی طرح وادیاں اور علاقے موجود ہے۔اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یا تو Enceladus کا مدار اندر کی طرف تبدیل ہوچکا ہوگا جس کے نتیجے میی اس کی رفتار زیادہ ہوچکی ہوگی۔اور نتیجتا یہ علاقے وجود میی آئے ہوگے۔یا پھر اس کے سطح کے نیچے موجود آتش فشاں اس کا سبب ہے۔
South polar plumesابلتے برف کے فوارے۔
کسینی کے فروری 2005 میی گزرنے کے دوران اس نے یہ معلومات بھیجی کہ Enceladus اپنا کرہ ہوائی رکھتا ہے۔اور وہاں پر موجود ionized گیسوں کی موجودگی کی بھی تصدیق کی۔چونکہ کسینی اس دوران اس کے فواروں کے درمیان سے گزرا تھا اس لئے ان کے اندر موجود گیسوں سے پتہ چلا کہ یہ کرہ ہوائی ہے۔تاہم چند مہینے بعد جولائی 2005 میی کسینی یہاں سے دوبارہ گذرا لیکن اس بار کسی کرہ ہوائی کی تصدیق نہ ہوسکی تاہم اس بار اس نے پانی اور برف کے فواروں کی تصدیق کی۔اس کے بعد کسینی کئی بار مزید اس کے فواروں کے درمیان سے گزرا۔نومبر 2005 میی یہ پھر یہاں سے گزرا اس پر مزید واضح تصاویر اور معلومات بھیجی اور پتہ لگایا کہ اس کے ابلتے فوارے 500 کلومیٹر اوپر فضا میی بلند ہورہے ہے۔اس کے بعد اکتوبر 2007 میی پھر گزرا اور مزید معلومات بھیجی۔
ان فواروں کے کئی اسباب بیان کئے گئے۔جن میی سے ایک یہ ہے کہ اس کے نیچے آتش فشاں موجود ہے۔یا پھر سیارہ زحل کی طاقتور کشش ثقل اس کا سبب ہے۔یا پھر Enceladus کا دوسرے چاندوں کے ساتھ نزدیکی مداری گردش کی وجہ سے tidel heating پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ فوارے ابلتے ہے۔
اندرونی ساخت۔internel structure
وائجر پروگرام کے بھیجے گئے معلومات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ Enceladus تقریبا مکمل طور پر پانی کے برف Watery ice سے بنا ہوا ہے۔اس کی کثافت 1.61g/cm3 ہے۔جو کہ زحل کے باقی درمیانےچاندوں کے بہ نسبت زیادہ ہے۔زحل کے باقی برفیلے چاند جیسے lapetus جو کہ زحل کے بننے کے بعد بہت جلد بن گئے ۔اس وجہ سے اس میی radionuclides جیسے آئرن 60 اور ایلومینیم 26 زیادہ مقدار میں موجود ہوگے اور اس کے اندر بہت زیادہ حرارت پیدا کی گئ ہوگی۔لیکن چونکہ ان عناصر کی ہاف لائف بہت کم ہے اس وجہ سے یہ Enceladus کے کور کو جمنے سے نہیی بچا پائے۔اب چونکہ Enceladus کا مینٹل برف اور کور چٹانوں سے بنا ہے اگر tidel heating کی وجہ سے اس کے کور کا درجہ حرارت بڑھ جاتا تو یہ بہت جیولیوجکلی بہت زیادہ زندہ ہوتا۔
Subsurface water ocean پانی کے سمندر۔
2005 میی Enceladus پر پانی کے موجودگی کے شواہد ملنا شروع ہوگئے۔جب سائنسدانوں نے اس کے سطح سے پانی اور برف کے فواروں کو ابلتے دیکھا تھا۔یہ jets 2189km فی گھنٹہ کی رفتار سے ہر سیکنڈ میی 250 کلوگرام پانی اور برف کو فواروں کے شکل میی فضا میی خارج کررہے تھے۔2006 میی پتہ چلا کہ اس کے فوارے دو طرح کے ذرات پر مشتمل ہے ایک salty particles جو کہ بھاری ہونے کی وجہ سے واپس اس کی سطح پر گرتے تھے۔اور دوسرے صاف پانی کے ذرات جو کہ خلا میی نکل کر E ring میی سے نکل جاتے تھے۔
دسمبر 2010 میی Cassini کے معلومات سے پتہ چلا کہ Enceladus کے سطح کے نیچے پانی کا ایک سمندر ہے تاہم اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ سمندر صرف قطب جنوبی کے نیچے یے۔اور یہ سطح سے 30 سے 40 کلومیٹر نیچے اور تقریبا 10 کلومیٹر گہرا ہے۔
لیکن بعد میی پتہ چلا کہ یہ سارے کرسٹ کے نیچے سمندر ہے جس کی گہرائی 26 سے 30 کلومیٹر کے درمیان ہے جبکہ ہمارے زمین کی سمندر کی اوسط گہرائی صرف 3.6 کلومیٹر ہے۔
Compositionسمندر کے اجزا۔
2019 تک کے معلومات کے مطابق کسینی کے پانی کے بخارات سے گزرنے کے دوران -NA-CLCO3 کے اجزا ملے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے سطح کے نیچے نمکین سمندر موجود ہے۔اس کے علاوہ اس نے چند نامیاتی مرکبات بھی تلاش کئے۔جیسے benzene جوکہ ایک بڑا نامیاتی مرکب ہے۔
2019 میی مزید معلومات سے پتہ چلا ہے۔کہ اس کے اندرونی سمندر میی Amino acid کے مرکبات ہو جو کہ زندگی کے بنیادی مرکبات ہے۔تو آپ کا کیا خیال ہے کہ انسیلیڈس پر زندگی ممکن ہے۔
درجہ حرارت کےممکنہ ذرائعPossibleheat source
اس چھوٹے چاند کے بہت زیادہ جیولوجیکلی ایکٹو ہونے کی بہت سے وجوہات ہے۔جس میی سے کچھ درج ذیل ہے۔
1.Tidel heating.
یہ وہ عمل ہے جس میی مداری اور محوری گردش کے دوران کسی فلکی جسم کے اندر توانائی اس کے کرسٹ میی حرارت کے صورت میی منتقل ہوجاتی ہے۔جس کے نتیجے میی tidel waves اس کے کرسٹ پر بنتے ہے۔یہ وہ ویوز ہوتے ہے جب دو فلکی اجسام گردش کے دوران ایک خاص فاصلے پر پہنچتے ہے تو اس کے نتیجے میی کرسٹ کے نیچے ویوز پیدا ہوتی ہے۔اور اس کے نتیجے میی دراڑوں سے توانائی نکلتی ہے۔تو سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ انسیلیڈس پر بھی tidel heating کی وجہ سے یہ پانی کے فوارے ابل رہے ہو۔
2.radio active heating
ماڈلز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کور کے اندر ایلومنیم ،آئرن اور مینگانیز کے تابکار آئسوٹوپس موجود ہے۔ان عناصر کے تابکاری کے دوران بہت زیادہ درجہ حرارت خارج ہوچکی ہوگی۔وقت کے ساتھ یہ درجہ حرارت تو کم ہوچکا ہوگا۔لیکن tidel heating اور زحل کی گریویٹی کے ساتھ ساتھ تابکاری کے عوامل اس کے سطح کے نیچے موجود سمندر کو جمنے سے بچائے رکھا۔
3.chemical factors
2009 میی تحقیق سے پتہ چلا ہے۔کہ کسینی کے اکھٹے کئے گئے معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اس فواروں کے اندر امونیا کے ذرات موجود تھے۔سطح کے نیچے موجود پانی اوپر موجود پانی کے برف کو گرم کررہا ہوگا۔امونیا کی موجودگی کی وجہ سے فوارے آسانی سے ابلتے ہوگے۔
تحقیق و تلاش۔Exploration
سب سے پہلے voyger 1 نومبر 1980 کو اس کے پاس سے گزرا۔اور تصاویر لی۔اس کے بعد 26 اگست 1981 کو voyager 2 بھی اس کے پاس سے گزرا۔اس نے مزید شفاف تصاویر لی۔اور اس کی سطحی معلومات بھی بھیجی۔سب سے زیادہ معلومات Cassini سپیس کرافٹ نے بھیجی۔یہ 2004 کو زحل کے مدار میی بھیجاگیا تھا۔اس نے بہت سے fly by کی یعنی یہ کئی بار enceladus کے پاس سے گزرا۔مارچ 2008 کو یہ enceladus کے سطح سے صرف 48 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا۔28 اکتوبر 2015 کو یہ اس کے پانی کے فوارے کے درمیان سے گزرا اور مالیکولر ہائیڈروجن کی موجودگی کا پتہ لگایا۔اس کےعلاوہ اس نے بہت سے دلچسپ تصاویر بھی کھینچی۔جن میی سے چند نیچے پیش خدمت ہے۔
مستقبل کے مشن۔Future missions
2018 میی ناسا نے enceladus کی طرف ایک کم قیمت والا مشن کا اعلان کیا۔لیکن اس کے بھیجنے کی تاریخ نہیں بتائی۔
تو آپ کو یہ چھوٹا سے اور دلچسپی سے بھر پور چاند کیسا لگا۔اور کیا اس چاند پر آپ کے خیال میی زندگی ہوسکتی ہے ہمیں ضرور بتایئں۔
اگر آپ نے پچھلے اقساط نہیں پڑھے تو ہمارے پیج کو لائک کرے پیج کا نام نیچے موجود ہے۔
تحریر ۔حمیداللہ ماخذ۔وی کی پیڈیا
پیج۔information about science
وٹس ایپ۔information about science
یوٹیوب ۔Science info in Urdu

12/05/2022


قسط نمبر39.ہوائی غلاف اوڑھ کر نصف گھنٹے پانی میں رہنے والی مکڑی
اس انوکھی مکڑی کا نام ’ٹریکیلیا ایکسٹینسا‘ ہے کو میکسکو سے پناما تک کے فطری ماحول میں رہتی ہے۔ یہ اپنے شکار کی تلاش میں پانی کے پاس رہتی ہے لیکن اگر اپنےشکاری کو دیکھتے ہوئے جان بچانے کے لیے پانی میں غوطہ لگالیتی ہے۔ اس دوران اس کے بدن پر ہوا کا ایک غلاف سا بن جاتا ہےجو اسے نصف گھنٹے تک پانی کے اندر چھپے رہنے میں مدد دیتا ہے۔
بنگھمٹن یونیورسٹی کی نائب پروفیسر لِنڈے سوائرک اور ان کے ساتھیوں نے یہ مکڑی دیکھی جو انسانوں کے ڈر سے پہلی مرتبہ پانی کے اندر چھپتے ہوئے دیکھی گئی تھی۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ خاص نظام کے تحت 30 منٹ تک زیرِ آب رہ سکتی ہے۔
اس کے جسم پر خاص طرح کے بال ہیں جو پانی کو دھکیلتے ہیں یعنی ہائیڈروفوبک خواص رکھتے ہیں۔ اس طرح مکڑی کے پورے بدن پر ہوا کی پتلی مزاحمتی پرت بن جاتی ہے اور پانی دباؤ کے باوجود اس کے اندر نہیں جاتا اور نہ ہی منہ میں داخل ہوتا ہے۔
اب یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ آیا وہ اس ہوا سے سانس بھی لیتی ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس سے وہ مکمل ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے اور کچھ وقت آبی گہرائی میں گزارتی ہے۔ لیکن خیال ہے کہ ہوا کی چادر سے اس کے سانس لینے کے مقامات کھلے رہتے ہیں۔ دوسری جانب وہ پانی کے اندر اپنی جسمانی حرارت بھی برقرار رکھتی ہے۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

 #کیاآپ_جانتےہیںقسط نمبر44.کہ لمبی اڑان کا اصل چیمپیئن آرکٹک ٹرن ہے، جو ہر سال قطبِ شمالی سے قطب جنوبی تک 35 ہزار کلومی...
08/05/2022

#کیاآپ_جانتےہیں
قسط نمبر44.کہ لمبی اڑان کا اصل چیمپیئن آرکٹک ٹرن ہے، جو ہر سال قطبِ شمالی سے قطب جنوبی تک 35 ہزار کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ جانور اپنی اور اپنی نسل کی بقا کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہجرت سے انہیں خوراک اور ساتھی تلاش کرنے یا شکاریوں سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
اگرچہ ہم صرف پرندوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک نقل مکانی کو ہجرت کے طور پر لیتے ہیں لیکن اصل میں بہت سے جانور بھی ایسے ہیں جو نقل مکانی کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر افریقہ کا جانور ولڈربیسٹ ایک دائرے میں نقل مکانی کرتا ہے اور خشک موسم کے دوران تازہ گھاس کی تلاش میں بڑی تعداد میں افریقی میدانوں میں نقلِ مکانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمپ بیک وہیل اپنی افزائش نسل کے لیے گرم پانیوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔
تاہم جب بات سفر کی طوالت کی بات آتی ہے تو یہ ریکارڈ پرندوں ہی کے پاس ہے۔ اس ضمن میں بنا رکے سب سے لمبے سفر کا ریکارڈ مرغ باراں نامی پرندے کے پاس ہے۔ اس نسل کا ایک پرندہ الاسکا سے نیوزی لینڈ تک بغیر کسی وقفے کے تقریباً دس دن تک مسلسل اڑتا رہا اور اس دوران 12 ہزار دو سو کلومیٹر کا سفر طے کیا۔
لیکن لمبی اڑان کا اصل چیمپیئن آرکٹک ٹرن ہے، جو ہر سال قطبِ شمالی سے قطب جنوبی تک 35 ہزار کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرتا ہے۔ اس بہت طویل نقل مکانی کا مطلب یہ ہے کہ یہ پرندہ مسلسل موسم گرما میں رہتا ہے۔ یہ اپنے عالمی سفر کے دوران موریطانیہ، گھانا اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک میں رکتا ہے۔
مزید معلوماتی پوسٹس کیلیے ہمارے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا وزٹ ضرور کریے گا۔
فیس بک پیج۔information about science
وٹس ایپ گروپ۔information about science
یوٹیوب چینل۔science info in Urdu
انسٹاگرام اکاونٹ۔information about science3

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Information about science posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Information about science:

Share