Hameed mansoori

Hameed mansoori I am political and social worker. central cabinet organizational memeber of
Jamat e islami pakistan (Balochistan) , Ex provincial condidate of BP 20 .

احتسابِ ناصبیت کتاب اختلاف اور دوہرے علمی معیار کا ایک منصفانہ جائزہکیا یہ تصنیف ہے یا تالیف؟ کیا جو کچھ کتاب میں ہے وہ ...
05/10/2026

احتسابِ ناصبیت کتاب اختلاف اور دوہرے علمی معیار کا ایک منصفانہ جائزہ
کیا یہ تصنیف ہے یا تالیف؟
کیا جو کچھ کتاب میں ہے وہ مرتب کا اپنا موقف ہے؟
اور اگر یہی معیار دوسروں کے لیے بھی اختیار کیا جائے تو پھر معاملہ کہاں پہنچتا ہے؟
گزشتہ دنوں مولانا اللہ وسایا صاحب کی بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب احتسابِ ناصبیت دینی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
ایک طرف بعض حلقوں نے اسے اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دفاع اور ناصبیت کے رد میں ایک بڑی علمی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ دوسری طرف بعض اہلِ علم نے اس کے عنوان، انتخابِ مواد، سیاق و سباق اور خصوصاً حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور بعض صحابہ کرامؓ سے متعلق بعض عبارات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
چونکہ اس کتاب کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت کچھ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جذبات سے ہٹ کر یہ دیکھا جائے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔
کتاب تصنیف ہے یا تالیف؟
یہ پہلا اور بنیادی سوال ہے۔
دستیاب تعارف اور حالیہ تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ احتسابِ ناصبیت میں سابقہ مختلف کتابوں اور اہلِ علم کی تحریروں کو جمع کرکے بارہ جلدوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر اسے مرتبہ تالیف شدہ مجموعہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے نہ کہ یہ کہنا کہ بارہ جلدوں کا تمام علمی مواد مولانا اللہ وسایا صاحب نے از خود تصنیف کیا ہے۔ ایک حالیہ تنقیدی مضمون بھی صاف لکھتا ہے کہ متعدد سابقہ کتابوں اور تحریروں کو جمع کرکے یہ مجموعہ بارہ جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔
اس فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
تصنیف میں بنیادی علمی مواد اور استدلال مصنف خود پیش کرتا ہے، جبکہ تالیف/ترتیب میں پہلے سے موجود مواد کو جمع منتخب، مرتب اور ایک خاص عنوان و ترتیب کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے۔
لیکن یہاں دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے
اگر مرتب نے مواد خود نہیں لکھا تو کیا انتخاب، ترتیب، عنوان اور اشاعت کی کوئی ذمہ داری نہیں؟
یہ اعتراض مفتی محمد سلیم معاویہ صاحب نے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’یہ میں نے نہیں لکھا فلاں بزرگ نے لکھا تھا کیونکہ مختلف مواد کو منتخب کرکے ایک خاص عنوان کے تحت بارہ جلدوں میں شائع کرنا بھی ایک علمی انتخاب ہے۔
یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ غور ہے۔
مگر اس کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے
کسی مرتب کی کتاب میں کسی بزرگ کی عبارت موجود ہونا اور اس بزرگ کی عبارت کو مرتب کا اپنا عقیدہ قرار دینا ایک ہی بات نہیں۔
اسی فرق کو نظرانداز کرنے سے پوری بحث الزام تراشی میں بدل سکتی ہے۔
حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں اصل تنازع کیا ہے؟
موجودہ بحث میں بعض الفاظ خاص طور پر گردش کر رہے ہیں:

باغی خاطی جائر ظالم اور طلقاء
دفاع کرنے والے حلقوں کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ یہ الفاظ تاریخی و علمی مصادر میں پہلے سے موجود ہیں اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے انہیں اپنی طرف سے ایجاد نہیں کیا۔ ایک حالیہ دفاعی مضمون میں طلقاء، خاطی اور باغی کے الفاظ کا ذکر کرکے یہی استدلال کیا گیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم علمی اصول ہے
لفظ کو سیاق سے کاٹ کر دیکھنا درست نہیں۔
مثلاً باغی کا لفظ حدیثِ عمارؓ کے ضمن میں آتا ہے۔ لیکن اردو میں آج باغی کا عام مفہوم اور فقہی و حدیثی اصطلاح میں باغی کے استعمال کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔
اسی نکتے پر جامعہ بنوریہ کے ابوالصلاح فاروقی صاحب نے حالیہ مضمون میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حدیث کے الفئۃ الباغیۃ کو موجودہ اردو کے سرکش یا بدکار کے مفہوم میں لینا درست نہیں؛ اہلِ علم نے اس کے مختلف مفاہیم بیان کیے ہیں۔ اسی مضمون میں ملا علی قاریؒ اور علامہ کرمانیؒ کی تشریحات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
اسی مضمون میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض اہلِ علم نے حضرت معاویہؓ کے معاملۂ صفین میں اجتہادی خطا کا ذکر کیا، لیکن مشاجراتِ صحابہ میں زبان کو روکنے کو اہلِ سنت کا منہج قرار دیا۔
یہاں ایک بہت اہم تاریخی مثال بھی سامنے آتی ہے۔
ہدایہ کے مصنف علامہ مرغینانیؒ کی ایک عبارت میں حضرت معاویہؓ کے لیے سلطان جائر کا لفظ منقول ہے۔
اسی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا جمیل احمد سکروڈھویؒ نے اس تعبیر کو مناسب قرار نہیں دیا اور لکھا کہ زیادہ سے زیادہ حضرت معاویہؓ کی حضرت علیؓ سے مخالفت کو اجتہادی خطا کہا جاسکتا ہے، جس پر مجتہد کو اجر بھی ملتا ہے۔
یعنی معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ فلاں لفظ مل گیا، لہٰذا فلاں عالم گستاخِ صحابہ ہوگیا۔
علمی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
خود دارالعلوم دیوبند کا موجودہ طرزِ جواب کیا ہے؟
حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں سوالات پر دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے حالیہ فتووں میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق کے مطالعے کی طرف رہنمائی کی ہے۔
ایک دوسرے سوال میں حضرت معاویہؓ کے بارے میں ’’باغی‘‘ کی تعبیر، قاسم نانوتویؒ کی طرف منسوب ایک قول وغیرہ کے متعلق بھی دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے تفصیلی بحث کے بجائے مولانا محمد معاویہ سعدی کی کتاب ’’حرمت صحابہ، حقائق اور دلائل کی روشنی میں کی طرف رہنمائی کی۔
اس سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خود دیوبندی علمی حلقوں میں بھی حضرت معاویہؓ کے تاریخی واقعات پر گفتگو ایک سنجیدہ علمی موضوع سمجھا جاتا ہے؛ اسے صرف گالی، الزام یا تکفیر کی سطح پر نہیں رکھا جاسکتا۔
ہر معاملہ میں اعتدال ایک اہم دفاعی تحریر
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے پلیٹ فارم سے ابوالصلاح فاروقی صاحب نے ہر معاملے میں اعتدال کی ضرورت ہے کے عنوان سے ایک اہم مضمون لکھا ہے۔
انہوں نے مولانا اللہ وسایا صاحب کے حوالے سے لکھا کہ متنازع عبارت کے بارے میں ان کا کہنا ہے
یہ انہوں نے لکھا ہے، میں نے نہیں لکھا
اور ساتھ یہ بھی کہ کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن اسی مضمون میں مصنف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض اکابر علماء سے حضرت معاویہؓ کے بارے میں ایسی عبارات منقول ہوئی ہیں جو بادی النظر میں بے ادبی محسوس ہوتی ہیں، اور پھر یہ اصول پیش کیا کہ ایسی غلطی کو ادب کے ساتھ رد کیا جاسکتا ہے، اسے بعض اہلِ علم کی اجتہادی یا علمی غلطی سمجھا جاسکتا ہے، مگر اس بہانے خود ان اکابر کی توہین بھی درست نہیں۔
یہ بات دراصل اس پوری بحث کی کلید ہے
قول کی غلطی کو رد کیا جاسکتا ہے، مگر قائل کی پوری شخصیت کو نہیں گرایا جاتا۔
ایک طرف یہ معیار دوسری طرف مولانا مودودیؒ؟
یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی اکابر عالم کی کسی کتاب میں حضرت معاویہؓ کے بارے میں باغی جائر ظالم یا کسی دوسری سخت تاریخی تعبیر کا ذکر موجود ہو اور ہم یہ کہیں
کہ یہ ان کی ایک علمی یا اجتہادی تعبیر تھی، اسے ان کا عقیدہ یا گستاخی قرار نہیں دینا چاہیے
تو یہی علمی اصول مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
مولانا مودودیؒ کی کتاب خلافت و ملوکیت میں تاریخی مصادر سے واقعات نقل کیے گئے اور بعض صحابہؓ کے سیاسی اقدامات پر سخت تاریخی تنقید بھی ہوئی۔
خود مولانا مودودیؒ نے رسائل و مسائل میں وضاحت کی کہ ان کی بحث تاریخی واقعات اور ان کے تجزیے سے متعلق تھی، اور انہوں نے اپنے ماخذ کے طور پر اہلِ سنت کی تاریخی کتابوں کے نام بھی بیان کیے۔
مولانا مودودیؒ کا یہ موقف بھی نقل ہوا ہے کہ
صحابہ پر طعن کرنا اور ان کی مذمت کرنا جائز نہیں
اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخی واقعات کو علمی بحث میں بیان کرنا اہلِ سنت کے علماء کے ہاں ممنوع نہیں رہا بشرطیکہ اسے طعن و مذمت کا رنگ نہ دیا جائے۔
اس کے باوجود خلافت و ملوکیت پر شدید تنقید ہوئی اور متعدد ردّی کتابیں لکھی گئیں۔ ایک طرف مولانا عامر عثمانیؒ نے اس کتاب کے مصنف کے علم و دیانت کی تعریف کی، جبکہ دوسری طرف دیگر علماء نے بعض تعبیرات پر شدید اعتراض کیا۔
لہٰذا اصول واضح ہونا چاہیے
جو معیار مولانا مودودیؒ کے لیے ہے، وہی معیار دوسرے علماء کے لیے بھی ہو۔
اصل سوال کیا احتسابِ ناصبیت میں لکھی ہر عبارت مولانا اللہ وسایا صاحب کی اپنی ہے؟
دستیاب مواد کی بنیاد پر ایسا کہنا درست نہیں۔
کتاب کی نوعیت مرتبہ مجموعے کی ہے، اور خود مولانا اللہ وسایا صاحب کے حوالے سے دفاعی تحریروں میں یہ مؤقف نقل کیا گیا ہے کہ کتاب میں ان کا اپنا ایک لفظ بھی نہیں بلکہ سابقہ اکابر کی عبارات جمع کی گئی ہیں۔
البتہ ناقدین کا جواب یہ ہے کہ
آپ نے انتخاب کیا، ترتیب دی، عنوان قائم کیا اور شائع کیا؛ اس لیے انتخاب کی ذمہ داری تو بہرحال آپ پر آتی ہے۔
یہ اعتراض بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مفتی محمد سلیم معاویہ صاحب نے اسی نکتے کو اپنی تنقید کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔
پس منصفانہ نتیجہ یہ ہے:
کتاب کے کسی اقتباس کو صرف اس لیے مولانا اللہ وسایا صاحب کا ذاتی عقیدہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ان کی مرتب کردہ کتاب میں موجود ہے؛ لیکن اسی طرح مرتب کو کتاب کے انتخاب ترتیب اور اشاعت کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ دونوں باتیں بیک وقت درست ہوسکتی ہیں۔
ناقدین کی بنیادی باتیں کیا ہیں؟
حالیہ تنقیدی تحریروں کو جمع کیا جائے تو ان کے مرکزی نکات تقریباً یہ ہیں
1۔ سیاق و سباق
متنازع تاریخی عبارات کو مکمل سیاق کے ساتھ پیش کیا جائے، صرف ایک جملہ عوامی سطح پر گردش نہ کرے۔
2۔ انتخاب کی ذمہ داری
مختلف کتابوں سے مواد منتخب کرکے بارہ جلدوں میں جمع کرنا محض غیر ارادی نقل نہیں بلکہ ایک علمی انتخاب ہے۔
3۔ ادبِ صحابہؓ
حضرت امیر معاویہؓ سمیت تمام صحابہؓ کے بارے میں الفاظ کے انتخاب میں انتہائی احتیاط ہونی چاہیے۔
4۔ تاریخی روایت اور عقیدہ
کسی تاریخی کتاب میں کسی روایت کا موجود ہونا اسے لازماً صحیح یا عقیدے کی قطعی دلیل نہیں بناتا۔
5۔ اہلِ علم کا ادب
تنقید کی جائے، لیکن کسی بزرگ عالم کو گالی، طعن بدزبانی
یا تکفیر کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
کتاب کے حامیوں کی بنیادی باتیں کیا ہیں؟
دفاعی تحریروں میں بنیادی طور پر یہ باتیں سامنے آئی ہیں:
1۔ یہ سابقہ علمی مواد کا مجموعہ ہے
کتاب میں اکابر اور سابقہ علماء کی عبارات جمع کی گئی ہیں، لہٰذا ہر عبارت کو مرتب کی اپنی عبارت قرار دینا درست نہیں۔
2۔ تاریخی اصطلاحات کو گالی نہ سمجھا جائے
باغی خاطی اور طلقاء جیسے الفاظ کے تاریخی اور علمی استعمال کو دیکھا جائے، صرف موجودہ عام فہم معنی سے فیصلہ نہ کیا جائے۔
3۔ اختلاف کو گستاخی نہ بنایا جائے
علمی اختلاف اور گستاخی میں فرق رکھا جائے۔ ایک حالیہ دفاعی مضمون نے اسی بات کو نمایاں کیا ہے۔
سب سے اہم سوال
کیا اکابرینِ دیوبند کی بعض کتابوں میں بھی سخت تعبیرات موجود ہیں؟
ہاں اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔
مثلاً ہدایہ میں حضرت معاویہؓ کے لیے سلطان جائر کی تعبیر منقول ہے جس پر دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا جمیل احمد سکروڈھویؒ نے خود تنقید کی اور اسے مناسب قرار نہیں دیا۔ انہوں نے اس کے بجائے حضرت معاویہؓ کی حضرت علیؓ سے مخالفت کو اجتہادی خطا قرار دینے کو زیادہ مناسب بتایا۔
اسی طرح بعض اہلِ علم نے باغی کی تعبیر کو حدیثِ عمارؓ کے ظاہری مفہوم یا فقہی اصطلاح کے اعتبار سے استعمال کیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ وضاحت کی کہ اس سے صحابیِ رسولؓ کی تحقیر یا فسق و فجور لازم نہیں آتا۔
یہاں ایک اور اہم مثال سامنے آتی ہے: خود موجودہ دیوبندی علمی حلقوں میں حضرت معاویہؓ کے بعض تاریخی اقدامات کو اجتہادی خطا کہنے کی گنجائش بیان کی گئی ہے، جبکہ ان کی صحابیت، فضیلت اور مقام کا بھی دفاع کیا گیا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ
اکابر کی بعض تحریروں میں سخت یا اختلافی تاریخی تعبیرات کا وجود ثابت ہے؛ لیکن ان عبارات کی موجودگی سے خود بخود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اکابر صحابہ کرامؓ کے گستاخ، فاسق یا کافر قرار دیے گئے تھے۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
پھر مولانا مودودیؒ کے معاملے میں اتنی شدت کیوں؟
یہی وہ سوال ہے جس پر آج سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔
مولانا مودودیؒ کی خلافت و ملوکیت کے بارے میں بعض علماء نے شدید اعتراضات کیے، بعض نے انہیں گمراہ، خطاکار یا جادۂ حق سے ہٹا ہوا قرار دیا، اور بعض حلقوں میں اس سے بھی آگے کے سخت فتوے گردش کرتے رہے۔
مثلاً دارالعلوم دیوبند کے ایک فتویٰ میں خلافت و ملوکیت کے بعض مندرجات کو نازیبا الفاظ قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ مولانا مودودیؒ کا یہ طرزِ بیان جادۂ حق سے ہٹنے کے ضمن میں آتا ہے۔
لیکن دوسری طرف موجودہ اہلِ علم میں ایسے علماء بھی ہیں جنہوں نے مولانا مودودیؒ کے بارے میں واضح کیا کہ ان کی بعض آراء سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر ان اختلافی آراء کی بنیاد پر انہیں کافر، فاسق، خارجی یا گمراہ قرار دینا درست نہیں۔
یہی علمی توازن احتسابِ ناصبیت کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔
دو پیمانے نہیں ایک ہی میزان
اگر کسی اکابر دیوبند کی عبارت کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں
یہ ایک علمی یا اجتہادی خطا ہے، اس سے ان کی پوری شخصیت پر حکم نہیں لگایا جاسکتا
تو پھر مولانا مودودیؒ کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔
اور اگر مولانا مودودیؒ کی کسی عبارت پر یہ کہا جائے کہ
یہ تعبیر درست نہیں، اسے اہلِ سنت کے منہج کے خلاف سمجھا جاتا ہے
تو یہی حق دوسرے علماء کے بارے میں بھی محفوظ رہنا چاہیے۔
اپنے بزرگ کے لیے اجتہادی خطا اور دوسرے کے لیے گستاخی کا معیار علمی انصاف نہیں۔
البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مولانا مودودیؒ یا کسی دوسرے عالم کی ہر عبارت کو محض اس لیے درست قرار دے دیا جائے کہ وہ کسی تاریخی ماخذ سے نقل کی گئی تھی۔ یہی اصول ناقدینِ احتسابِ ناصبیت نے بھی درست طور پر اٹھایا ہے: محض نقل کرنا صحت کی ضمانت نہیں۔
اھم بات
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے ایمان، محبت اور عقیدت کا حصہ ہیں۔ اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہمارے دلوں کا سرمایہ ہیں۔ ایک طرف اہلِ بیت کی محبت کے نام پر صحابہؓ کے مقام کو مجروح کرنا درست نہیں، اور دوسری طرف صحابہؓ کے دفاع کے نام پر اہلِ بیت کی فضیلت کو کم کرنا بھی درست نہیں۔
حضرت علیؓ سے محبت اور حضرت معاویہؓ کا ادب ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
ہمیں نہ ناصبیت چاہیے، نہ رفض
ہمیں اہلِ سنت کا اعتدال چاہیے۔
اور احتسابِ ناصبیت پر موجودہ بحث کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے
اکابر کا احترام ضرور ہو، مگر دلیل کا دروازہ بند نہ ہو۔
صحابہؓ کا ادب ضرور ہو، مگر تاریخی تحقیق بھی ختم نہ ہو۔
تنقید ضرور ہو، مگر تہمت نہ ہو۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے اور غیر کے لیے دو الگ میزان نہ ہوں۔
اگر کسی اکابر عالم سے حضرت معاویہؓ یا کسی دوسرے صحابی کے بارے میں کوئی ایسی تعبیر منقول ہے جو ادبِ صحابہؓ کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو اسے ادب کے ساتھ غلط کہنا علمی دیانت ہے؛ لیکن اس کی بنیاد پر پورے اکابر کو گستاخِ صحابہ‘‘ کہنا بھی درست نہیں۔
اور اگر مولانا مودودیؒ کی کسی عبارت پر علمی اعتراض ہے تو اس اعتراض کا جواب دلیل سے دیا جائے، لیکن انہیں وہ القاب دینا جو دوسروں کے لیے ناقابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں، علمی انصاف کے اصول سے ہم آہنگ نہیں۔
آج اصل ضرورت کسی شخصیت کی فتح یا شکست نہیں
بلکہ ایک میزان کی ہے۔
وہ میزان جو مولانا اللہ وسایا کے لیے بھی ایک ہو،
اکابرینِ دیوبند کے لیے بھی ایک ہو،
مولانا مودودیؒ کے لیے بھی ایک ہو،
اور ہر عالم و مصنف کے لیے بھی ایک ہو۔
حق شخصیت سے بڑا ہے اور علمی دیانت تعلقات سے بڑی۔

مولانا عبدالحمید منصوری
نائب امیر جماعت اسلامی کوئٹہ

پښتون په پت باندې پښتون دید پت نښان به تل اوچت په جهان وینهپشتون تہذیب و ثقافت: ماضی سے حال تک۔پشتون قوم کی شناخت صرف زب...
23/09/2026

پښتون په پت باندې پښتون دی
د پت نښان به تل اوچت په جهان وینه

پشتون تہذیب و ثقافت: ماضی سے حال تک۔
پشتون قوم کی شناخت صرف زبان، لباس یا علاقے سے نہیں رہی، بلکہ دین داری، سادگی، غیرت، جرأت، مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری اور روایات کی پاسداری اس کی نمایاں خصوصیات رہی ہیں۔ ماضی کا پشتون سادہ زندگی گزارتا تھا، مگر اس کی شخصیت میں وقار تھا۔ مہمان نوازی اس کی پہچان، وعدہ نبھانا اس کی شان اور غیرت و جرأت اس کا سرمایہ تھی۔ پگڑی، شملہ، پرتوگ اور شلوار جیسے روایتی لباس بھی اس کی ثقافتی شناخت کا حصہ تھے۔
مگر آج سوال یہ ہے کہ ہم اپنی اس شناخت سے کہاں تک جڑے ہوئے ہیں؟
جدید دور کے تقاضوں کو قبول کرنا ضروری ہے، لیکن ترقی کے نام پر اپنی اچھی روایات سے دور ہونا ترقی نہیں۔ سادگی کی جگہ نمود و نمائش، قناعت کی جگہ لالچ، مہمان نوازی کی جگہ خود غرضی اور اجتماعی ذمہ داری کی جگہ انفرادی مفاد کا بڑھنا لمحۂ فکریہ ہے۔ نئی نسل اپنی زبان، لباس، روایات اور معاشرتی اقدار سے بھی بتدریج دور ہوتی جا رہی ہے۔
ثقافت جامد نہیں ہوتی؛ وقت کے ساتھ بدلتی ہے، لیکن تبدیلی کا مطلب اپنی شناخت اور اچھی اقدار سے دست برداری نہیں۔ ہمیں جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کو اپنانا ہے، مگر دین، اخلاق، زبان اور اپنی مثبت تہذیبی روایات کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
ثقافت صرف ایک دن نہیں، پورا طرزِ زندگی ہے
دنیا بھر میں ثقافتی دن منائے جاتے ہیں۔ پشتون کلچر ڈے بھی اپنی تہذیب کو اجاگر کرنے کا ایک موقع ہے، لیکن ثقافت کو صرف ایک دن کے لباس، موسیقی، کھانوں اور تقریبات تک محدود کرنا اس کی اصل روح کو محدود کر دیتا ہے۔
اصل پشتون ثقافت صرف پگڑی، شملہ اور پرتوگ نہیں؛ بلکہ مہمان نوازی، بڑوں کا احترام، سادگی، دیانت، سخاوت، غیرت، جرأت، وعدے کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا خیال بھی اس کا حصہ ہیں۔ اگر یہ اقدار ہماری روزمرہ زندگی میں موجود نہیں تو ایک دن کی نمائشی تقریب ہماری ثقافت کو زندہ نہیں رکھ سکتی۔
ہمیں ماضی کی ہر چیز واپس نہیں لانی، بلکہ ماضی کی اچھی اقدار کو جدید دور کی ضرورتوں کے ساتھ جوڑنا ہے۔ ثقافت کو عجائب گھر کی چیز بنانے کے بجائے زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے
کیا ہم ترقی کے نام پر اپنی شناخت کھو رہے ہیں، یا اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
پشتون قوم کو نہ ماضی میں واپس جانا ہے اور نہ جدید دنیا سے کٹنا ہے۔ ہمیں دین، تہذیب، زبان اور اچھی روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے علم، تعلیم، ٹیکنالوجی اور جدید ترقی کو اپنانا ہے۔
کلچر ڈے ایک دن ہو سکتا ہے، لیکن ثقافت ہر دن ہماری زندگی میں نظر آنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید منصوری
نائب امیر جماعت اسلامی کوئٹہ

23/09/2026
تحریکِ انصاف کے  دوستوں کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔جب جماعتِ اسلامی لانگ مارچ کی طرف بڑھ رہی تھی تو کہا گیا کہ یہ مارچ صر...
23/09/2026

تحریکِ انصاف کے دوستوں کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
جب جماعتِ اسلامی لانگ مارچ کی طرف بڑھ رہی تھی تو کہا گیا کہ یہ مارچ صرف تحریکِ انصاف کو ایکسپوز کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اب جماعتِ اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کیا ہے
تو کہا جا رہا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟
اگر دونوں جماعتوں کے لانگ مارچ ایک ساتھ ہوتے تو حکومت پر دباؤ بڑھتا۔
ہر صورت میں اعتراض، ہر فیصلے میں شکایت
یہ منطق واقعی سمجھ سے بالاتر ہے۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر سیاسی فیصلوں کو ہر حال میں منفی معنی پہنانے کے بجائے زمینی حقائق اور جماعت کے اپنے فیصلے کو بھی سمجھنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

22/09/2026

پٹرولیم لیوی ٹیکس ناجائز اور ظالمانہ ہے۔
اس کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہونا چاہیے،
ورنہ اسلام آباد مارچ ہو کر رہے گا!

21/09/2026

جماعتِ اسلامی بمقابلہ تحریکِ انصاف
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہوتا ہے؟
جماعتِ اسلامی کا احتجاج پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ منواتا ہے
یا تحریکِ انصاف کا احتجاج عمران خان کی رہائی کا راستہ ہموار کرتا ہے

جزوی مطالبات سے نظام کی تبدیلی تککچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب جماعتِ اسلامی اتنی بڑی تحریک چلا رہی ہے، دھرنے دے رہی ہے اور...
19/09/2026

جزوی مطالبات سے نظام کی تبدیلی تک
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب جماعتِ اسلامی اتنی بڑی تحریک چلا رہی ہے، دھرنے دے رہی ہے اور اسلام آباد کا گھیراؤ کر رہی ہے تو چارٹر آف ڈیمانڈ بھی بہت طویل ہونا چاہیے۔
اصل بات یہ ہے کہ مطالبات محدود نہیں، بلکہ شعور کی تعمیر مرحلہ وار ہو رہی ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی واضح کر چکے ہیں کہ پٹرولیم لیوی ہمارا پورا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک بڑے چارٹر کا صرف ایک حصہ ہے۔ قوم کو ایک ہی وقت میں تمام مسائل کی تفصیل میں الجھانے کے بجائے، ایک ایک کرکے نظام کی خرابیوں اور عوام پر پڑنے والے بوجھ کو سمجھانا زیادہ مؤثر ہے۔
پہلے انتخابی نظام کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی حقیقت سامنے آئی، پھر آئی پی پیز کے معاملے نے بجلی کے شعبے کی خرابیوں کو نمایاں کیا، اور اب پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام کو ایک اور بڑے معاشی بوجھ کا ادراک ہو رہا ہے۔
یہ مطالبات کی کمی نہیں، شعور کی توسیع ہے۔
آج بات پٹرولیم لیوی سے شروع ہوئی ہے، کل بجلی، گیس، ٹیکس، انتخابی نظام، اشرافیائی مراعات اور دیگر ناانصافیوں تک جائے گی۔
کیونکہ منزل صرف ایک لیوی کا خاتمہ نہیں؛ منزل ایسا نظام ہے جہاں عوام کے حقوق محفوظ ہوں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور ظلم و ناانصافی کی گنجائش نہ ہو۔
جزوی مطالبات، بڑے شعور کی بنیاد بنتے ہیں؛ اور یہی شعور بالآخر نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کو مضبوط کرتا ہے۔
مولانا عبدالحمید منصوری
نائب امیر جماعتِ اسلامی کوئٹہ

18/09/2026

بھتہ لیوی کا خاتمہ لازم ہے!
سپر لانگ مارچ سے پہلے پشاور اور مردان میں
زبردست جلسۂ عام، عوام کا بھرپور جوش و جذبہ

17/09/2026

امیرجماعت اسلامی پاکستان
حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے۔
پلان A کا اعلان کردیا
پورے پاکستان سے لوگ نکلیں گے سپر لانگ مارچ ہوگا

Adresse

Alfalah House Algalani Road Quetta
Berlin
87500

Website

Benachrichtigungen

Erfahren Sie als Erste/r von Neuigkeiten und Aktionen: Wir schicken Ihnen eine E-Mail, wenn Hameed mansoori etwas veröffentlicht. Ihre E-Mail-Adresse wird für keinen anderen Zweck verwendet, und Sie können sich jederzeit abmelden.

Verknüpfungen

Teilen