Alam zaib tauheed yar Official

Alam zaib tauheed yar Official ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ھو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

06/02/2026

ترلائی امام بارگاہ دوران نماز جمعہ بم دھماکہ اسلام آباد

06/02/2026

اسلام آباد کے علاقے ترامڑی میں امام بارگاہ میں زور دار دھماکہ

06/02/2026

اسلام آباد کے علاقے ترامڑی میں امام بارگاہ میں زور دار دھماکہ ہوا۔
اپنے سامنے لاشیں دیکھ کر قیامت سا سما ہے۔ یا اللہ میرے ملک کی حفاظت فرما۔

آج کا دن (4 جنوری) میرے لیے اور ہمارے علاقے میدان (دیر) کے لیے انتہائی مسرت اور فخر کا دن ہے۔ میرے نہایت عزیز دوست اور ع...
04/01/2026

آج کا دن (4 جنوری) میرے لیے اور ہمارے علاقے میدان (دیر) کے لیے انتہائی مسرت اور فخر کا دن ہے۔ میرے نہایت عزیز دوست اور علمی ساتھی مفتی طارق اللہ بن راحت گل کے سر پر آج مرکزِ عظیم دارالقرآن پنج پیر میں تخصص فی الفقہ کی دستار سجائی گئی ہے۔
​میدان (دلگرام) سے شروع ہونے والا یہ سفر کتنا پُر مشقت اور کتنا خوبصورت رہا:
✅ جامعہ روضۃ الاسلام نستہ اور جامعہ خال میں دینی تعلیم کے مراحل۔
✅ یونیورسٹی آف ملاکنڈ سے B.A کی ڈگری کا حصول۔
✅ مسجدِ حرام میں اعتکاف کی سعادت۔
✅ اور بالآخر مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی سراج الدین صاحب کی زیرِ نگرانی تخصص کی تکمیل۔
​میرے دوست طارق اللہ نے ثابت کر دیا کہ محنت اور اساتذہ کی دعائیں مل جائیں تو منزل قدم چومتی ہے۔ "تحفۃ الفقہاء" پر ان کا علمی کام ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
​مفتی صاحب! آپ کو، آپ کے والدین کو اور آپ کے مشفق تایا مفتی ذاکر اللہ قاسمی صاحب کو یہ عظیم اعزاز بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ آپ کو دینِ متین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔
​دعا گو:
عالم زیب سواتی

04/01/2026

ختم بخاری المرکز العظیم جامعة الإمام محمد طاہر رحمہ اللہ دارلقرآن پنج پیر صوابی۔

02/01/2026

اننتہائی افسوسناک حادثہ
مفتی اعظم اشاعت مفتی سراج الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے مکتبہ میں آگ لگ گئی
جس کی وجہ سے مفتی صاحب کا۔پورا مکتبہ خاکستر ھوا ھے ۔
اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو صبر اور نعم البدل عطافرمائے۔

تحریر: عالم زیب سواتی​دینِ اسلام کی بقا اور اشاعت کا کام ہمیشہ ان نفوسِ قدسیہ نے کیا ہے جنہوں نے اپنی جوانی کی رنگینیاں ...
02/01/2026

تحریر: عالم زیب سواتی
​دینِ اسلام کی بقا اور اشاعت کا کام ہمیشہ ان نفوسِ قدسیہ نے کیا ہے جنہوں نے اپنی جوانی کی رنگینیاں اللہ کے دین کے لیے قربان کر دیں۔ آج میں اپنے ایک ایسے ہی مخلص اور باہمت دوست مفتی طارق اللہ بن راحت گل کا تذکرہ کر رہا ہوں، جن کا علمی سفر ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
​مفتی طارق اللہ صاحب کا تعلق ضلع دیر کے خوبصورت علاقے میدان (دلکرام) سے ہے۔ آپ نے علم کی پہلی کرن اپنے آبائی گاؤں دلکرام سے حاصل کی، جہاں ابتدائی اسباق پڑھے۔ اس کے بعد میٹرک تک کی تعلیم (نہم اور دہم) چکدرہ اور اوچ کے تعلیمی اداروں میں مکمل کی۔
​دینی علوم کا آغاز اور تایا جان کی سرپرستی
​میٹرک کے بعد آپ کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب آپ کے مشفق تایا حضرت مولانا مفتی ذاکر اللہ قاسمی صاحب آپ کا ہاتھ پکڑ کر علمِ دین کے گلشن جامعہ روضۃ الاسلام (نستہ، چارسدہ) لے گئے۔ یہاں آپ نے درجہ اولیٰ، ثانیہ اور ثالثہ تک کے کٹھن تعلیمی مراحل طے کیے۔
​دین و دنیا کا حسین امتزاج
​طارق اللہ صاحب کی سب سے بڑی خوبی ان کی ہمت ہے۔ جہاں وہ مدرسے کی چٹائی پر بیٹھ کر قال اللہ وقال الرسول ﷺ پڑھتے رہے، وہیں عصری تعلیم سے بھی ناتا نہ توڑا۔ آپ نے پرائیویٹ طور پر ملاکنڈ بورڈ سے F.A کا امتحان پاس کیا۔
اس کے بعد آپ جامعہ تعلیم القرآن (خال، ضلع دیر) تشریف لائے اور درجہ رابعہ، خامسہ اور سادسہ مکمل کیے۔ اسی دوران اپنی علمی پیاس بجھاتے ہوئے یونیورسٹی آف ملاکنڈ سے B.A کی ڈگری بھی حاصل کی۔
​حرمین کی حاضری اور تخصص کا سفر
​موقوف علیہ (چھوٹی دورہ) کے لیے آپ دوبارہ اپنے مرکزِ علم نستہ (چارسدہ) پہنچے اور مفتیِ اعظم مفتی مسلم صاحب سے فیض پایا۔ فراغت کے بعد اللہ نے انہیں وہ اعزاز بخشا جس کی تمنا ہر مسلمان کرتا ہے۔ آپ نے سعودیہ عرب کا سفر کیا، مقدس مقامات کی زیارت کی اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) میں اعتکاف کی صورت میں گزارا۔
​وطن واپسی پر جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن (خال) سے دورۂ حدیث مکمل کر کے "عالمِ دین" بنے۔ لیکن تحقیق کا شوق آپ کو مرکزِ عظیم انٹرنیشنل یونیورسٹی (جامعہ الامام محمد طاہرؒ، دارالقران پنج پیر، صوابی) لے گیا، جہاں آپ نے تخصص فی الفقہ الاسلامی میں داخلہ لیا۔
​دارالقرآن پنج پیر میں مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی سراج الدین صاحب جیسے عظیم اساتذہ کی نگرانی میں آپ کی تربیت ہوئی۔ تخصص کے دوران آپ نے اپنے استاد مفتی اکمل سعید ادینوی صاحب کی رہنمائی میں فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب "تحفۃ الفقہاء" (علامہ علاؤ الدین سمرقندیؒ) پر تخریج کا عظیم کام مکمل کیا، جو آپ کی علمی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
​تعلیم کے ساتھ ساتھ طارق اللہ صاحب نے عملی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ آپ گزشتہ دو سالوں سے "طلبہ التوحید والسنہ، میدان" کے امیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور تاحال اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔
​4 جنوری کا دن ان کی زندگی کا وہ تاریخی دن ہے جب ان کے اس طویل علمی سفر کی تکمیل ہو رہی ہے۔ میں عالم زیب سواتی، مفتی صاحب کے والدین، اساتذہ اور تمام متعلقین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
​دعا: اللہ پاک مفتی طارق اللہ صاحب کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، انہیں امتِ مسلمہ کا سرمایہ بنائے اور ان کی اس جدوجہد کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین۔

03/12/2025

🚨 والدین متوجہ ہوں! آج کا سب سے بڑا فتنہ: ہمارے بچوں کا ایمان! 🚨

​میرے عزیز والدین! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اسکول، کالج، کیریئر، اور شادی کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں؟ ہم ان کے بہترین مستقبل کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
​لیکن کیا ہم ان کے ایمان کے لیے اتنی ہی فکر کرتے ہیں؟
​آج ہمارا بچہ صرف گلی محلے کے بری اثر سے نہیں، بلکہ ہاتھ میں پکڑے ایک چھوٹے سے سکرین کے ذریعے سارے عالم کے فتنوں سے نبردآزما ہے۔
​💔 تکلیف دہ حقیقت:
​بہت سے نوجوان آج کل الحاد (خدا کے انکار) اور مادیت پرستی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ یہ صرف "فیشن" نہیں، یہ ہمارے بچوں کی روحوں پر سرد حملہ ہے۔
​وہ سوال پوچھ رہے ہیں: کیا مذہب پرانی بات ہے؟
​وہ دیکھ رہے ہیں: دنیا میں سب کچھ بغیر خدا کے چل رہا ہے۔
​انہیں سکھایا جا رہا ہے: اصل کامیابی پیسہ اور دنیاوی شہرت ہے۔
​🛡️ ہمارا پہلا قدم کیا ہو؟
​والدین! ہمیں صرف ڈانٹنے یا سختی کرنے کے بجائے، ان کا دوست اور راہنما بننا ہو گا۔
​1. بات چیت شروع کریں: ان کے سوالوں کو حقارت سے نہ ٹھکرائیں۔ بیٹھیں، سنیں، اور محبت سے حکمت بھرے جوابات دیں۔ انہیں بتائیں کہ اسلام عقل کے خلاف نہیں، بلکہ فطرت کے عین مطابق ہے۔
​2. دین کی مٹھاس چکھائیں: انہیں صرف خوف نہ دیں، انہیں اللہ کی محبت، رحمت اور حکمت بتائیں۔ انہیں سکھائیں کہ سچی خوشی اور دل کا سکون صرف نماز اور سجدے میں ہے۔
​3. مضبوط ماحول دیں: اپنے گھر کو ایسا محفوظ قلعہ بنائیں جہاں قرآن کی آواز ہو، جہاں نبی اکرم ﷺ کی سنت کی بات ہو۔ بچے گھر میں جو دیکھتے ہیں، وہی بنتے ہیں۔
​اے ہمارے رب! ہمیں اپنے بچوں کے لیے دین اور دنیا میں بہترین رہنما بنا دے۔ ہمارے اور ہماری نسلوں کے ایمان کی خود حفاظت فرما! آمین!
​آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ اپنے بچوں کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں!

22/11/2025

پہ دیر کی نزلہ زکام تبہ او دہ سینہ بیماری ڈیرہ زیاتہ شوی خاص کر پہ ماشومانو کی نو ڈاکٹرانو تہ درخواست دے چی مھربانی اوکی فیس لگ کم اخلی او دہ خپل کمیشن د پارہ ورتہ پنڈ دوائی مہ لیکئی 500روپے والا دیہاڑی دار مزدور بہ سہ کوی؟

یہ تصویر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی "بے حسی" کا ایک ایسا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کی روح کو کانپنے پر م...
22/11/2025

یہ تصویر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی "بے حسی" کا ایک ایسا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
​سوچئے! ایک گھر میں قیامت ٹوٹی ہے، کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔ موت کی خاموشی ہے، آنسو ہیں، سسکیاں ہیں اور یتیمی کا احساس ہے۔ اور ٹھیک اسی لمحے، دیوار کے دوسری طرف یا پڑوس کے کسی گھر میں شادیانے بج رہے ہیں، موسیقی کا شور ہے اور قہقہے لگ رہے ہیں۔
​کیا ہماری انسانیت اتنی مر چکی ہے؟
​اس متاثرہ شخص نے لکھا ہے کہ "دس سال گزر گئے، لیکن وہ رات اور وہ گھر مجھے نہیں بھولتا۔"
یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ انسان اپنا دکھ بھول سکتا ہے، وقت کے ساتھ زخم بھر سکتے ہیں، لیکن "رویے" کبھی نہیں بھولتے۔ جب آپ کسی کے غم کا احترام نہیں کرتے، تو آپ اس کے دل پر ایسا زخم لگاتے ہیں جو عمر بھر رستا رہتا ہے۔
​ہم ایسے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں:
​ہماری خوشی کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ ہمیں دوسرے کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔
​ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دیواریں سانجھی ہوتی ہیں۔ آج اگر جنازہ پڑوس سے اٹھا ہے، تو کل باری ہماری بھی ہو سکتی ہے۔
​شادی بیاہ میں ہم "گزراہ" کرتے ہیں، یعنی رسم و رواج نبھاتے ہیں، لیکن اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔
​خدارا! احساس کیجئے۔
اگر آپ کے محلے میں، گلی میں یا قریبی رشتہ داروں میں کوئی فوتگی ہو جائے، تو اپنی خوشیوں کو کچھ دیر کے لیے دھیما کر لیں۔ موسیقی بند کر دینے سے، یا جشن کو سادگی میں بدل دینے سے آپ کی خوشی کم نہیں ہوگی، لیکن آپ کا یہ عمل دوسرے کے دکھ پر مرہم ضرور رکھ دے گا۔
​یاد رکھیں، خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں، لیکن کسی کے غم کا مذاق اڑا کر یا اسے نظر انداز کر کے منائی گئی خوشی، دراصل خوشی نہیں، بے ضمیری ہے۔
​آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی نسلوں کو یہ سکھائیں گے کہ "پڑوسی کے گھر سے اٹھنے والے جنازے کا احترام، ہمارے گھر میں ہونے والی شادی سے زیادہ اہم ہے۔"

17/11/2025

تیمرگرہ دیرلوئر پولیس کی بڑی کامیابی ____!!!
اغوا کی گئی بچی دعا رحمان صحیح سلامت بازیاب ۔۔۔!!!!
پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری جاری ہے______!!!!

Address

Dir Madain
Peshawar
ALAM

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alam zaib tauheed yar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Alam zaib tauheed yar Official:

Share