Hussain Ahmad

Hussain Ahmad Web Developer| Graphic & Video Editor | Social Media Management | Social Activist | Co-founder of Raah-e-Taraqqi initiative

I’m Hussain Ahmad, an enthusiastic Information Technology student and passionate Digital Creator from Peshawar, Pakistan. Currently pursuing BS in Information Technology at the Virtual University of Pakistan, I specialize in WordPress Development, Social Media Management, Video Editing, and Graphic Design. With experience working at organizations like CLADO, IBC Urdu, Common Ground Foundation, and

Trans Support Group,
I’ve developed a diverse skill set that connects technology with creativity. My goal is to use digital tools for community development, communication, and storytelling
creating meaningful impact through innovation and design. I believe in continuous learning, teamwork, and the power of technology to inspire positive change.

شوگر ڈیڈی ہمارے معاشرے کے پوشیدہ زخموں کی داستانادب کا طالب علم ہونے کا دعویٰ کرنا شاید میرے لیے بڑی بات ہو اس لیے خود ک...
15/06/2026

شوگر ڈیڈی ہمارے معاشرے کے پوشیدہ زخموں کی داستان
ادب کا طالب علم ہونے کا دعویٰ کرنا شاید میرے لیے بڑی بات ہو اس لیے خود کو ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ادب کے سمندر سے میرا تعارف ابھی محدود ہے لیکن مطالعے اور لکھنے سے محبت نے ہمیشہ مجھے کتاب اور قلم کے قریب رکھا ہے۔ میری کوشش یہ رہتی ہے کہ جو کچھ پڑھوں یا سنوں، اس پر چند سطریں ضرور لکھوں تاکہ اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی مشق بھی ہوتی رہے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کو پہچان کر کچھ نیا سیکھنے کا موقع بھی ملے۔

الحمدللہ اب تک جو بھی کتاب مضمون، نظم یا افسانہ میرے مطالعے میں آیا میں نے اس پر اپنی فہم کے مطابق کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش ضرور کی۔ لکھنا میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فری لانسنگ آئی ٹی اور ڈیجیٹل دنیا کے مصروف ماحول میں رہتے ہوئے بھی کتاب اور قلم سے میرا تعلق آج تک قائم ہے اور میں اسے اپنی خوش قسمتی اور فخر سمجھتا ہوں۔

اس شوق اور عادت کے پیچھے میرے اساتذۂ کرام کی تربیت اور رہنمائی کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے نہ صرف مطالعے کی طرف راغب کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ ایک قاری کا سفر اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ پڑھی ہوئی تحریر پر غور کرے اور اپنے تاثرات کو لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کرے۔

زیرِ نظر افسانوی مجموعہ شوگر ڈیڈی بھی میرے لیے اسی نوعیت کا ایک مطالعہ رہا۔ اس مجموعے کے خالق میرے محترم استاد ہیں، اس لیے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک قاری کے ساتھ ساتھ ایک شاگرد کا تعلق بھی میرے ساتھ رہا۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں ان افسانوں کی تمام جہتوں کو سمجھ سکا ہوں لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے جو کچھ محسوس کیا اسے قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے
افسانہ جب اپنے عہد کے دکھ، الجھن اور سوالات کو اپنے اندر سمو لے تو وہ محض تفریح یا کہانی نہیں رہتا بلکہ معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا افسانوی مجموعہ "شوگر ڈیڈی" اسی نوعیت کا مجموعہ ہے جس میں انسان کی داخلی کشمکش، سماجی جبر، مذہبی رویے، شناخت کا بحران، محبت کی محرومیاں، ہجرت کا کرب، جدید زندگی کی بےحسی اور جنگ کے اثرات مختلف زاویوں سے سامنے آتے ہیں۔

اس مجموعے کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کا اصل موضوع کوئی ایک کردار یا ایک واقعہ نہیں بلکہ خود انسان ہے۔ وہ انسان جو معاشرے کے بنائے ہوئے دائروں میں قید ہے جو اپنی اصل شناخت چھپانے پر مجبور ہے، جو اپنی خواہشوں سے خوفزدہ ہے جو دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہے اور جو مسلسل اپنے وجود کا مطلب تلاش کر رہا ہے۔

خطوں میں لپٹی کہانی میں مصنف شناخت کے بحران کو موضوع بناتا ہے۔ ایک ایسا کردار جو خود کو مختلف ناموں اور حوالوں میں تلاش کرتا ہے، دراصل اس انسان کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی اصل پہچان سے دور ہو چکا ہے۔ یہ افسانہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی وہی ہیں جو دنیا ہمیں سمجھتی ہے یا ہمارے اندر کوئی اور شخصیت بھی زندہ ہوتی ہے جسے ہم خود بھی تسلیم نہیں کر پاتے؟

وجود کی قبر انسانی خواہشات اور سماجی پابندیوں کے تصادم کی کہانی ہے۔ مصنف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض جذبات اور خواہشات کو اتنا دبا دیا جاتا ہے کہ وہ ایک نفسیاتی عذاب کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس افسانے میں فرد کے اندر چلنے والی خاموش جنگ کو بڑی شدت سے پیش کیا گیا ہے۔

شوگر ڈیڈی معاشرے کے ایک ایسے موضوع کو چھیڑتا ہے جس پر عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ افسانہ محبت، جنس، شناخت اور قبولیت کے سوالات اٹھاتا ہے۔ مصنف کسی کردار کو مجرم یا ہیرو بنانے کے بجائے اس کے اندر کے انسان کو سامنے لاتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہر مختلف انسان واقعی سماج کے طے کردہ پیمانوں سے ناپا جا سکتا ہے؟

بےحسی کے غبار میں سانس لیتی زندگی مذہبی طبقے کے گرد بنائی گئی رومانوی تصویروں اور عملی زندگی کی تلخ حقیقتوں کے درمیان موجود فاصلے کو بےنقاب کرتا ہے۔ قاری خیر البشر کی زندگی کے ذریعے مصنف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی مذہبی لوگوں کی خدمت اور قربانیوں کی قدر کرتے ہیں یا صرف ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ جب آزمائش آتی ہے تو ہمارا رویہ ہمدردی کا ہوتا ہے یا تماشائی کا؟

زندہ موہنجوڈارو ہجرت، شناخت اور جڑوں سے کٹ جانے کے مسئلے پر ایک اہم افسانہ ہے۔ بیرونِ ملک جا کر معاشی کامیابی حاصل کرنے والا انسان بھی اپنی تہذیبی اور جذباتی جڑوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔ مصنف یہ دکھاتا ہے کہ بعض اوقات انسان ترقی کی دوڑ میں اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔

گمشدہ جدید دور کی سب سے بڑی سماجی بیماری یعنی تنہائی اور خاندانی بکھراؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔ موبائل، اسکرینیں اور مصروفیات نے مکالمے، تعلق اور قربت کی جگہ لے لی ہے۔ یہ افسانہ جدید زندگی کی اس خاموش تباہی کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے اکثر ترقی کا نام دیا جاتا ہے۔

"معنی بےمعنی" فکری اور تہذیبی انتشار کا افسانہ ہے۔ اس میں مذہب، سیاست، جنگ، نظریات اور جدید دنیا کے بحرانوں کے درمیان انسان کی بےبسی نمایاں ہوتی ہے۔ مصنف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ہر طرف شور ہو اور ہر شخص اپنے سچ کا دعوے دار ہو تو اصل سچ کہاں تلاش کیا جائے؟

"لذت ناتمام" قبائلی دشمنیوں، انتقام اور وراثت میں ملنے والی نفرتوں پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ افسانہ یہ بتاتا ہے کہ بعض معاشروں میں انسان زندہ کم اور اپنے آباؤ اجداد کی دشمنیوں کا بوجھ زیادہ اٹھاتا ہے۔

سید زبیر شاہ کا اپنا تخلیقی سفر اردو زبان میں جاری ہے تاہم وہ وقتاً فوقتاً مختلف زبانوں سے تراجم بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کتاب میں پشتو زبان سے ترجمہ کیے گئے دو افسانے بھی شامل ہیں۔ ایک افسانہ قبر کے عنوان سے ہے جو ڈاکٹر سید یاسر علی شاہ کی تخلیق ہے جبکہ دوسرا افسانہ پینٹم پین کے عنوان سے ڈاکٹر ہمدرد یوسفزئی کا ہے سید زبیر شاہ نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

"قبر" والدین سے محبت یاد اور جذباتی وابستگی کا افسانہ ہے لیکن اس کے اندر یہ پیغام بھی موجود ہے کہ جدید زندگی کی دوڑ میں انسان اپنے اصل رشتوں کی اہمیت کو فراموش کرتا جا رہا ہے۔

"فینٹم پین" جنگ اور تشدد کے اثرات پر لکھا گیا نہایت مؤثر افسانہ ہے۔ یہاں ایک معصوم بچی کی کٹی ہوئی ٹانگ دراصل پورے معاشرے کے زخم کی علامت بن جاتی ہے۔ مصنف یہ دکھاتا ہے کہ جنگ صرف جسموں کو زخمی نہیں کرتی بلکہ روحوں کو بھی معذور کر دیتی ہے بعض درد ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔

مجموعی طور پر "شوگر ڈیڈی" ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جو بظاہر زندہ ہے مگر اندر سے مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہے کہیں شناخت کا مسئلہ ہے کہیں محبت کی محرومی ہے کہیں مذہبی اور سماجی منافقت ہے کہیں ہجرت کا کرب ہے کہیں جدید زندگی کی تنہائی ہے اور کہیں جنگ کے زخم ہیں۔

ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا کمال یہ ہے کہ وہ ان مسائل کو براہِ راست نعرے یا وعظ کی صورت میں پیش نہیں کرتے بلکہ کرداروں کی زندگیوں، ان کی خاموشیوں، ان کے دکھوں اور ان کے سوالوں کے ذریعے قاری کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانے محض پڑھے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں

"شوگر ڈیڈی" دراصل ان تمام انسانوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے اندر کوئی نہ کوئی زخم لیے پھر رہے ہیں، اور شاید یہی اس مجموعے کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ انسان کو سمجھنے سے پہلے اس کے دکھ کو سمجھنا ضروری ہے۔

پہلی ملاقات میں اس نے کہامیرا نام نمود حجاب چنگیزی ہےہم نے نام سنا پھر ایک دوسرے کو دیکھا پھر دوبارہ نام سناYLC میں بہت ...
14/06/2026

پہلی ملاقات میں اس نے کہا
میرا نام نمود حجاب چنگیزی ہے
ہم نے نام سنا پھر ایک دوسرے کو دیکھا پھر دوبارہ نام سنا
YLC میں بہت لوگ ملے مگر اتنا یادگار تعارف شاید ہی کسی نے کروایا ہو

ہم تینوں کے چہرے ایسے ہیں جیسے ملک کے اہم معاملات پر غور کر رہے ہوں
14/06/2026

ہم تینوں کے چہرے ایسے ہیں جیسے ملک کے اہم معاملات پر غور کر رہے ہوں

زندگی کے البم میں یہ صفحہ خاص رہے گا
13/06/2026

زندگی کے البم میں یہ صفحہ خاص رہے گا

میں نے کہا یا اللہ کامیابی دے درختوں نے کہا آمین
13/06/2026

میں نے کہا یا اللہ کامیابی دے درختوں نے کہا آمین

یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ دو منٹ بیٹھو تو دو گھنٹے گزر جاتے ہیں
12/06/2026

یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ دو منٹ بیٹھو تو دو گھنٹے گزر جاتے ہیں

اتنی کتابوں کے درمیان کھڑے ہو کر بھیمیرا دھیان کیمرے پر ہی ہے
12/06/2026

اتنی کتابوں کے درمیان کھڑے ہو کر بھی
میرا دھیان کیمرے پر ہی ہے

بعض محفلیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ یادوں خیالوں اور احساسات کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے آباد ہو جاتی ہیں۔ پش...
12/06/2026

بعض محفلیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ یادوں خیالوں اور احساسات کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے آباد ہو جاتی ہیں۔ پشاور لٹریری فیسٹیول سیزن سوم بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یادگار بزم ثابت ہوا جس کی بازگشت ابھی تک دل و دماغ میں سنائی دیتی ہے

دو روز تک نشتَر ہال محض ایک عمارت نہ تھا بلکہ افکار و اذہان کا ایک جہاں آباد تھا۔ یہاں لفظ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھے خیال اپنے نئے معانی تلاش کر رہے تھے اور نوجوان نسل اپنے مستقبل کے امکانات سے ہم کلام تھی۔ اس بزم میں ادب بھی تھا، کسب بھی اور جوانی کی وہ تازہ امنگ بھی جو قوموں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کہیں اہلِ دانش نوجوانوں کے مستقبل پر گفتگو کر رہے تھے کہیں مطالعہ، ادب اور فکری ارتقاء کے موضوعات زیرِ بحث تھے۔ کہیں قانون، سیاست اور سماج کے باہمی رشتوں پر مکالمہ جاری تھا تو کہیں ہنر فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوٹوگرافی اور تخلیقی معیشت کے نئے دریچے وا ہو رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ روایت اور جدت، قلم اور ہنر، فکر اور عمل ایک ہی محفل میں ہم نشین ہیں

اور پھر شام ڈھلتے ہی مشاعروں کی دل آویز صدائیں موسیقی کی مترنم لہریں، ثقافتی رنگا رنگی، فنونِ لطیفہ کی جلوہ سامانیاں اور اہلِ ذوق کی پرجوش موجودگی اس محفل کو ایک ایسا تہذیبی جشن بنا دیتی تھی جس میں پشاور کی روح بولتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

اس اجتماع نے ایک بار پھر یہ احساس تازہ کیا کہ ادب محض الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں، بلکہ شعور کی آبیاری، تہذیب کی حفاظت اور انسان کے باطن کو منور کرنے کا وسیلہ ہے کتابیں صرف اوراق نہیں ہوتیں وہ نسلوں کے تجربات خوابوں اور حکمتوں کی امین ہوتی ہیں۔

پشاور، جو صدیوں سے علم، تہذیب اور روایت کا مرکز رہا ہے، ان دو دنوں میں گویا اپنے اصل چہرے کے ساتھ نمودار ہوا۔ اہلِ قلم شعرا دانش وروں، فنکاروں، اساتذہ، وکلا سماجی شخصیات اور نوجوانوں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس امر کی دلیل تھا کہ مکالمہ، علم اور ثقافت آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کی اہم ضرورت ہیں

اس بزمِ فکر و فن کے پسِ پردہ کارفرما تمام نفوس لائقِ صد تحسین ہیں بالخصوص عبدالرحمن اور شہاب الدین جن کی بصیرت محنت اور قیادت نے اس خواب کو حقیقت کا روپ عطا کیا۔ اسی طرح تمام رضاکاران، منتظمین اور معاون اداروں نے جس خلوص، نظم اور وابستگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔

خصوصی خراجِ تحسین Directorate of Youth Affairs Khyber Pakhtunkhwa، Khyber Pakhtunkhwa Culture & Tourism Authority اور Culture, Literature, Arts and Development Organization (CLADO) کو، جن کی سرپرستی اور تعاون نے اس عظیم ادبی و ثقافتی اجتماع کو ممکن بنایا۔
محفل برخاست ہوچکی ہے سٹیج خاموش ہے، نشستیں خالی ہیں اور چراغ بجھ چکے ہیں؛ مگر کچھ آوازیں اب بھی سماعت میں گونجتی ہیں کچھ چہرے اب بھی نگاہوں میں بستے ہیں، کچھ گفتگوئیں اب بھی ذہن میں جاری ہیں اور کچھ خواب اب بھی دل میں روشن ہیں

پشاور لٹریری فیسٹیول اختتام پذیر ہوا ہے، مگر اس کی خوشبو ابھی تک فضا میں رچی ہوئی ہے، اور شاید مدتوں رہے گی۔

ادب، کسب، جوان

Young minds. Big dreams. Endless possibilities
11/06/2026

Young minds. Big dreams. Endless possibilities

کل تک سب اجنبی تھےآج الوداع کہنا مشکل لگ رہا تھا
11/06/2026

کل تک سب اجنبی تھے
آج الوداع کہنا مشکل لگ رہا تھا

Address

Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussain Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category