05/04/2023
🙏😭ایک بار ضرور دیکھیں اور پڑھیئے انشاللہ بہت فائدے مند اور سبق آموز ہے 💖
کچھ ماہ پہلے کسی کا سوال آیا ہمیں اللہ پاک ایسے لوگوں سے کیوں ملواتے ہیں جو نصیب میں نہیں ہوتے، ایسے لوگ کیوں ہماری زندگی میں آتے ہیں جنہیں ہمارا بننا نہیں ہوتا۔ آخر کیوں نمازوں میں مانگنے کے باوجود کوئی ہمارا محرم نہیں بنتا۔ اور ہمیں اذیت میں چیختا چلاتا چھوڑ کے چلا جاتا ہے۔۔!!!
جواب:
میں نے اس کا جواب دیا کہ اللہ نے انسان کے دل کو اپنا گھر سے تشبیہ دی اور انسان کے دل پر اللہ کے نور کی تجلیات پڑتی رہتی ہیں اور اللہ نے کہا اگر میری تجلیات کسی پہاڑ پر پڑتی تو پہاڑ ریزہ، ریزہ ہو جاتے لیکن میں نے انسان کے دل کو چُنا اور پھر اس میں اپنا قرآن اتارا اور انسان نے اس دل میں مجھے چھوڑ کر دوسروں کو بسا لیا.اس لئے اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ
جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
(سورۃ انفال، 24)
پھر اللہ نے ایک سوال بھی پوچھا کہ اے انسان کیا تو واقعی اپنے آپ کو اس لائق سمجھتا ہے کہ تو جو بھی چاہتا ہے میں سب تجھے عطا کر دو؟
اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى●
کیا انسان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جس چیز کی بھی تمنا کرے اسے مل جائے؟
(سورۃ النجم، 24)
اور اللہ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ انسان اسے چھوڑ کر غیر سے محبت کا اظہار کرے۔ کیونکہ اللہ نے انسان سے محبت کا دعویٰ کیا اور کہا اے آدم کی اولاد میں تم سے پیار کرتا ہوں۔
ابن آدم ! أنا لک محب؛
آدم کی اولاد میں تم سے پیار کرتا ہوں
اللہ نے 18000 مخلوقات پیدا کی لیکن انسان کو کہا مجھے میری عزت کی قسم میں تم سے پیار کرتا ہوں. وہ فرشتے جنہوں نے اربوں کھربوں سال سے سجدے میں سر رکھا ہوا ہے ان سے نہیں کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ اے جبرائیل میں تم سے پیار کرتا ہوں، اے اسرافیل میں تم سے پیار کرتا ہوں۔شرابی سے کہا میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ عزت بیچنے والی سے کہا میں تم سے پیار کرتا ہوں۔
اس سے اگلی بات اور بھی مارنے دینے والی ہے کہ تجھے میری عزت کی قسم تو بھی تو مجھ سے پیار کر۔ بادشاہوں کو کیا پرواہ ہوتی ہے رعایا کی۔ وہ ذات جسے کائنات کے کسی ذرے کے پروا نہیں، وہ بے نیاز ذات۔۔۔۔ وہ کہے رہا میں تجھ سے پیار کرتا ہوں اور تجھے میری عزت کی قسم تو بھی مجھ سے پیار کر
فبحقی علیک کن لی محباً
تجھے میرے حق کی قسم تو بھی مجھ سے پیار کر
Reference:
(حدیث قدسی بحوالہ امام غزالی احیاء علوم الدین مع الاتحاف ۹/۵۵۰)
اب قرآن میں آؤ
وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُۙ●
وہ (اللہ) تو بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے۔
(سورہ البروج، 14)
تو جن لوگوں کے لئے آپ قربانیاں دیتے ہیں وہ آپکی کیا قدر کریں گے؟ اور ایک انسان زیادہ سے زیادہ آپ کی کیا قدر کر سکتا ہے؟ آپ کسی پر احسان کریں گے تو وہ بدلے میں آپ کو شکریہ بول دے گا یا بدلے میں کوئی چیز دے آپ کو، ساتھ نبھانے کے لارے لگائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا آپ کے لیے؟
آپ کو پتہ ہے اللہ کی قدردانی کیا ہے؟ جب آپ اللہ کی محبت میں اپنے جذبے قربان کرتے ہیں تو پتہ ہے اللہ کیا قیمت لگاتا ہے آپ کی ؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا ہوا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 سال اور بیوی حضرت ہاجرہ کی عمر 22 سال۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اللہ نے کہا اپنی بیوی اور اپنے بچے کو جاکر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں میں چھوڑ دو۔ آج تو وہاں پر چلو دنیا آباد ہے لیکن تصور کرو آج سے ہزاروں سال پہلے وہ صرف ایک خوفناک منظر ہوگا اور کچھ نہیں۔ آپ نے جا کر اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ دیا۔ اب نبی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے انکی بیوی تو نبی نہیں تھی وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی کہ اتنی خوفناک جگہ پر مجھے اکیلے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو۔ جہاں نہ بندہ، نہ آبادی، نہ کھانا، نہ پانی، نہ سبزہ بس صرف اور صرف تپتی ریت اور دل دہلا دینے والے پہاڑ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیوی اور بچے کو چھوڑ کے واپس آ گئے۔ ایک دو دن تو بھوک پیاس میں گزرے لیکن کب تک گزر سکتی تھی۔
بچے کو پیاس لگی پانی تھا نہیں تو حضرت ہاجرہ ان پہاڑوں پر بھاگی کہ شاید کہیں سے پانی کی ایک بوند مل جائے اور میں اپنے بچے کو پلا دوں۔ کبھی وہ صفا کے پہاڑوں پر بھاگتی کبھی وہ مروا کے پہاڑوں پر بھاگتی۔ بچے نے جب زمین پر ایڑیاں رگڑیں تو پانی نکل پڑا جسے آج ہم آپ زم زم کہتے ہیں۔
اور پتہ ہے اللہ نے حضرت ہاجرہ کے جذبے کی کیا قیمت لگائی؟
جو بھی حج کرنے جاتا ہے اگر وہ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان نہیں بھاگتا تو اللہ اس کا حج قبول نہیں کرتا
یہاں تک کہ اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اے میرے حبیب اگر آپ بھی صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان نہیں بھاگیں گے تو میں آپ کا حج بھی قبول نہیں کروں گا کیونکہ میری ایک بندی بھاگی تھی وہاں پر.
Reference:
اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِۚ
صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں
(القرآن، سورة البقرة، 158)
یہ ہے اللہ کی قدردانی کہ اللہ نے قرآن میں واجب کر دیا۔ تو جب انسان اپنے جذبات اللہ کے لیے قربان کرتا ہے تو پھر اللہ اس انسان کے لیے ایسے قیمت لگاتا ہے۔ ایک انسان کیا قیمت لگائے گا آپ کے جذبات کی؟
انسان اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے تو پھر اسے اس سے فرق ہی نہیں پڑتا کہ کوئی چھوڑ کے چلا گیا یا نہیں اور وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکا دیتا ہے اور اللہ کی فرمانبرداری میں جو لذت وہ کبھی محسوس کر کے تو دیکھیں۔ یہ لذت اتنی نایاب ہے کہ اللہ نے اسے صرف دنیا میں رکھا۔ جنت میں اربوں کھربوں سال کی زندگی پاؤ گے لیکن عبادت کی لذت نہیں پاؤ گے۔ آپ ایک لمحے کے لئے سوچو کہ باہر شدید ٹھنڈ ہے، ٹمپریچر 10 ڈگری ہے اور آپ وضو کر کے جائے نماز پر اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔ دنیا سو رہی ہے اور آپ اللہ کو منا رہے ہیں کیا کیفیت ہوگی وہ میرے پاس الفاظ نہیں اس کیفیت کو بیان کر سکوں۔ اور پھر انسان کہے یا اللہ رات آگئ، دن چلا گیا، ستارے چھٹکنے لگے، دنیا کے سارے بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں ایک تیرا در کھلا ہے میں تجھ سے مانگتا ہوں، تجھے منا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس محبت کو بھی تو کبھی محسوس کرکے دیکھیں نہ۔
اور پتا ہے یہ one way communication نہیں ہے۔اللہ نے اسے answer کیا ہے باقاعدہ اور کہا
تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا
"اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے اللہ کو خوف اور اُمید سے پکارتے"
(سورہ السجدہ، 16)
لفظ "تَتَجَافٰى" کا مطلب ہے جفا کرنا یعنی بے وفائی کرنا اور اللہ کہہ رہا یہ میرے وہ بندے ہیں جو اپنے بستروں سے بے وفائی کرتے ہیں اور مجھ سے وفا کرتے ہیں۔ جسم ٹوٹتا ہے، نیند اکھڑتی ہے لیکن وہ اپنے بستر سے جفا کرتے ہیں اور مجھ سے وفا کرتے ہیں اور میرے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں؛ یہی تو میرے وفادار بندے ہیں 💗💗
اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے میں نے جنت کے اندر ایسے ایسے surprises رکھے ہیں جنکو آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کی سوچ وہاں تک پہنچ سکی ہے بشمول میرے انبیاء اور فرشتوں کے۔ سوچو وہ کیا کیا اللہ کے سرپرائز ہوں گے جنکو دیکھنا تو دور کی بات ہے آج تک نہ انبیاء سوچ سکے ہیں نہ فرشتے
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍۚ
کوئی متنفس (انسان اور جِن) نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔
(القرآن)
اب یہ choice آپکی ہے کہ انسان کی محبت کے پیچھے بھاگنا ہے یا اللہ کی محبت کو پانا ہے