Shah jamalwelfaresociety".

Shah jamalwelfaresociety". > We are sincerely committed to serving humanity and working for its welfare and betterment.۔۔۔۔۔۔۔۔۔

we are runing our welfare trust in district rajan pur , its registered by goverment .

10/08/2026
08/08/2026

Mola Ali ka farman

06/08/2026

*ٹیلی کلینک*

پاکستان کے ڈاکٹرز کی تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ( PIMA)کا ایک اور خوبصورت انداز .
واٹس ایپ پر اپنا مسئلہ لکھ کر یا آڈیو کے ذریعے بھیجیں۔۔کال مت کریں اٹینڈ نہیں ہوگی۔

حالات کے پیش نظر ڈاکٹرز نے اللّٰہ کی رضا کیلئے واٹس ایپ پر🩺 *ٹیلی-کلینک*🩺 کا آغاز کیا ہے تاکہ علاج یا کسی بھی طبی مشورے کیلئے مریضوں کو گھر سے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے اللّٰہ ہمارے ملک اور پوری ۔ انسانیت کی حفاظت فرمائے ۔

🩺ڈاکٹر ظفر اقبال
ناک کان گلہ
0301-7026914
🩺ڈاکٹر عمران
ماہر امراض گردہ
0321-3093663
🩺ڈاکٹر وقاص قریشی
فیملی فزیشن
0320-0724587
🩺ڈاکٹر عامر عادل
معدہ جگر آنت
0300-8662579
🩺ڈاکٹر محمد عارف
دل بلڈ پریشر
0300-9666875
🩺ڈاکٹر عمیر چوہدری
چائلڈ اسپیشلسٹ
0300-7206935
🩺ڈاکٹر آصف لطیف
ایکسرے الٹرا ساؤنڈ
0300-6671026
🩺ڈاکٹر اعجاز واہلہ
شعبہ انتہائی نگہداشت
0300-6626115
🩺ڈاکٹر نعمان اکرم
نیوروفزیشن
0300-9459434
🩺ڈاکٹر خاور شہزاد
آرتھوپیڈک
0333-6574689
🩺ڈاکٹر اعجاز لک
امراض چشم
0300-9650703
🩺ڈاکٹر ذوالقرنین
فیملی فزیشن
0305-5684628
🩺ڈاکٹر رحمن مقبول
جنرل سرجن
0300-6506144
🩺ڈاکٹر ملک آفتاب اسلام
معدہ جگر
0300-7258400
🩺ڈاکٹر غفران سعید
ماہر امراض جلد
0322-7611321
(واٹسیپ)
🩺ڈاکٹر شاہد اقبال گل
فیملی فزیشن
0322-7611321
🩺ڈاکٹر عنبرین
گائنی
00966-567336011 (واٹس ایپ)

*پاکستان اسلامک میڈیکل ایسو سی ایشن*
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ صدقہ جاریہ سمجھ کرشئیر کیجیے:
معلومات :*
آپ سبکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ایشیا کا بڑا کینسر ہسپتال جسکا نام
Cancer care hospital
کینسر کئیرھاسپیٹل ہے
لاھور کے نزدیک رائیونڈ تبلیغی جماعت کے مرکز کے قریب وسیع رقبہ پر تعمیر کیا گیا ہے
‏اس ہسپتال نےکام شروع کر دیاھے ہسپتال میں دور دراز سے آئےلوگوں
کیلئےقیام گاہ بھی تعمیر کی گئی ہے یہاں پر غریب لوگوں کا علاج قیام وطعام بالکل مفت ھے
صرف صاحب حیثیت لوگوں سےعلاج کےمناسب پیسے لئےجاتےہیں
یہاں پر افغانستان، خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان وغیرہ سے مریض
آ رھےہیں
‏جنکا علاج مفت کیا جا رہاھے
کینسر کے لاعلاج مریضوں کو اکثر ہسپتال گھر بھیج دیتے ہیں
جہاں وہ بہت تکلیف دہ حالت میں موت کا انتظار کرتےہیں
لیکن یہاں پر الحمد للہ 250 بیڈ کا علیحدہ بلاک قائم کیا گیاھے
جہاں پر لاعلاج مریضوں کو ڈیتھ (موت) تک رکھا جاتاہے اور انکی زندگی میں
‏تکلیف کو ہر ممکن کم کیا جاتاھے اور خدمت کیجاتی ہے یہ بہت بڑی سہولت ھے
آپ سب سے گزارش ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس ہسپتال کےمتعلق آگاہ کریں تاکہ کینسر زدہ مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں
یہاں پر پاکستان کے نامور اور انتہائی تجربہ کار ڈاکٹر صاحبان کی ٹیم کام کر رہی ہے
‏ہسپتال میں مریضوں اور انکے لواحقین کیلئےایک عالیشان اور جدید سہولتوں سے آراستہ مسجد بھی تعمیر کی گئی ھے
پاکستان نیک و مخیر حضرات کی وجہ سےقائم ھے اور یہ اللہ تعالی کا خاص کرم ہے
ڈاکٹر شہریار ۔ ماہر کینسر
(ہسپتال کےانچارج ہیں)
نےبتایا کہ کوئی صاحب جنکو وہ بھی نہیں جانتےہیں ‏روزانہ 250 مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے کھانا بھجوا رہے ہیں ۔ *سبحان اللہ ۔*

اس پوسٹ کو بطور صدقہ جاریہ مذید فارورڈ کرتے جائیں
شکریہ و جزاک اللہ

Hospital Site :
1.5 km off Pajian chowk Ijtama road Bypass (Rohi Nala) Raiwind Lahore, Pakistan.
‏PHONE No.
0092 423 52 18 956-60
0092 423 53 97 605

محمد منصور معیز صاحب۔

دشت کی یہ ھوا معصوم بڑی تھی                             تنہائی سے گھبرا کر شہر کوچلی تھی                              اس...
06/08/2026

دشت کی یہ ھوا معصوم بڑی تھی تنہائی سے گھبرا کر شہر کوچلی تھی اس بے خبر کو یہ خبر بعد میں پڑی تھی شہر کے اطراف تو نفس پرستی کی فصیل کھڑی تھی ا

ادھوری پرواز(ایک اصلاحی سماجی کہانی)رات کافی گزر چکی تھی۔کچے صحن میں بچھی پرانی چارپائی پر بیٹھی سویرا اپنی کتاب کے آخری...
02/08/2026

ادھوری پرواز

(ایک اصلاحی سماجی کہانی)

رات کافی گزر چکی تھی۔

کچے صحن میں بچھی پرانی چارپائی پر بیٹھی سویرا اپنی کتاب کے آخری صفحے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں اس کی آنکھوں میں خواب جھلملاتے تھے۔ ۔

وہ اکثر خود سے کہتی تھی

"میں پڑھوں گی... ضرور پڑھوں گی۔ ایک دن اپنے مرحوم ابو کا نام روشن کروں گی۔ ۔۔

اسی لمحے اس کی والدہ زینب اندر آئیں۔ ان کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں تھیں۔ ۔

سویرا

"جی اماں

"کتابیں بند کر دو... تمہارے رشتے کی بات پکی ہو گئی ہے۔ اگلے مہینے نکاح ہے۔

سویرا کے ہاتھ سے کتاب زمین پر گر گئی۔

"اماں... میری پڑھائی؟ ابھی تو میں نے امتحان بھی نہیں دیا۔

زینب نے نظریں چرا لیں۔

بیٹی، تیرا باپ نہیں رہا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ میں اپنا فرض جلد ادا کرنا چاہتی ہوں۔

سویرا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"اماں! مجھے صرف دو سال اور دے دیں۔ میں پڑھ لوں، کوئی ہنر سیکھ لوں، پھر جہاں کہیں آپ کہیں گی، چلی جاؤں گی۔

زینب نے آہ بھری۔

"غربت خواب نہیں دیکھتی بیٹی... وہ صرف فیصلے کرتی ہے۔

یہ جملہ سویرا کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا

چند ہفتوں بعد..

ڈھولک بج رہی تھی، عورتیں خوشی کے گیت گا رہی تھیں، مگر دلہن کے کمرے میں خاموشی تھی۔

سرخ جوڑے میں بیٹھی سویرا اپنی کتابوں کو آخری بار دیکھ رہی تھی۔

اس نے ایک کتاب کو سینے سے لگا کر دھیرے سے کہا

شاید میری قسمت میں تمہیں مکمل پڑھنا نہیں لکھا تھا...

رخصتی کے وقت اس نے اپنی ماں کو گلے لگایا۔

اماں... اگر کبھی میری یاد آئے تو میری کتابوں کو سنبھال کر رکھنا۔

ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، مگر وقت گزر چکا تھا۔
سسرال پہنچنے کے چند دن بعد ہی حقیقت سامنے آنے لگی
ساس شمیم نے صبح اذان سے پہلے ہی دروازہ زور سے کھٹکھٹایا۔

"ابھی تک سو رہی ہو؟ ہمارے گھر کی بہو سورج نکلنے کے بعد نہیں اٹھتی۔
سویرا فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔

پہلے برتن، پھر جھاڑو، پھر کپڑے، پھر ناشتہ...

وہ سانس لینے کو رکتی تو نئی آواز آتی۔

"سویرا! جانوروں کو چارہ ڈال دو۔

"سویرا! بھینس کا باڑا صاف کرو۔

"سویرا! کھیت سے چارہ کاٹ کر لاؤ۔

چند ہی دنوں میں اس کے نرم ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے۔

ایک دن وہ بھاری چارے کا گٹھا اٹھائے گر پڑی۔

اس کی ہتھیلی زخمی ہو گئی اور خون بہنے لگا۔

اس نے ہمت کر کے کہا:

"اماں جی... ہاتھ میں بہت درد ہے۔

شمیم نے بے رخی سے جواب دیا۔

"یہاں درد نہیں دیکھا جاتا، کام دیکھا جاتا ہے۔

سویرا خاموشی سے آنسو پونچھ کر پھر کام میں لگ گئی۔
رات کو جب اس کا شوہر ندیم آیا تو سویرا نے امید بھری نگاہوں سے کہا

آج میرے ہاتھ زخمی ہو گئے ہیں... ذرا دیکھیں ۔ ۔

ندیم نے ایک نظر ہاتھ پر ڈالی، پھر بے پروائی سے بولا

"امی کہتی ہیں تم کام میں سستی کرتی ہو۔

یہ الفاظ سن کر سویرا کا دل ٹوٹ گیا۔

اسے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض اوقات انسان گھر میں رہتے ہوئے بھی بے گھر ہو جاتا ہے۔
سال گزرتے گئے۔

دو بچوں کی پیدائش بھی اس گھر کے رویے کو نہ بدل سکی۔

ایک طرف بچوں کی پرورش، دوسری طرف گھر اور مویشیوں کی ذمہ داریاں...

وہ ہر رات تھکن سے نڈھال ہو کر سوتی، مگر صبح پھر وہی مشقت اس کا انتظار کر رہی ہوتی۔

ایک دن معمولی سی بات پر ساس نے چیخ کر کہا:

"ہمیں ایسی بہو نہیں چاہیے۔

ندیم نے بھی بغیر کچھ سوچے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

اپنے بچوں کو لے جاؤ... آج کے بعد اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔

سویرا نے کانپتی آواز میں کہا ۔

آٹھ سال... میں نے اس گھر کے لیے اپنی جوانی دے دی۔ کیا میری اتنی بھی قدر نہیں؟

کسی نے جواب نہ دیا۔

اس نے ایک ہاتھ سے اپنے چھوٹے بیٹے کا ہاتھ پکڑا، دوسرے بازو میں بیٹی کو اٹھایا اور خاموشی سے دروازے سے باہر نکل گئی۔

بارش برس رہی تھی۔

سویرا کے آنسو بارش میں گم ہو گئے، مگر اس کے دل کا درد آسمان تک پہنچ رہا تھا۔

جب وہ اپنی ماں کے گھر پہنچی تو دروازہ کھلا۔

زینب نے بیٹی کو دیکھا تو بے اختیار چیخ اٹھیں۔

سویرا...

بیٹی ماں کے گلے لگ کر صرف اتنا کہہ سکی

اماں... آپ نے کہا تھا شادی کے بعد میرا گھر آباد ہو جائے گا... مگر میرا تو گھر ہی نہ بن سکا۔

اس دن زینب پہلی بار اپنی جلد بازی پر ٹوٹ کر روئیں۔

وہ بار بار خود کو ملامت کرتی رہیں۔

کاش... میں نے تجھے پہلے پڑھا دیا ہوتا... کوئی ہنر سکھا دیا ہوتا... آج تو کسی کی محتاج نہ ہوتی۔

سویرا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:

اماں، میری زندگی تو گزر گئی... مگر وعدہ کریں، اس محلے کی کسی بیٹی کو میری طرح ادھوری تعلیم اور بے بسی کے ساتھ رخصت نہیں ہونے دیں گی۔

زینب نے بیٹی کا ماتھا چوما اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
یہ وعدہ صرف تم سے نہیں... ہر اس بیٹی سے ہے جس کی پرواز کو لوگ وقت سے پہلے قید کر دیتے ہیں۔ادھوری پرواز

(دوسرا حصہ)

گھر سے نکالے جانے کے بعد سویرا کئی دن تک خاموش رہی۔ وہ ایک ہی کمرے کے کونے میں بیٹھی رہتی۔ سامنے اس کے دونوں بچے کھیلنے کی کوشش کرتے، مگر ماں کی خاموش آنکھیں دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے۔

ایک رات اس کی بیٹی نے معصومیت سے پوچھا:

"امی... کیا ہمارا گھر وہی تھا جہاں سے ہمیں نکال دیا گیا؟

سویرا کے لب کانپنے لگے۔ اس نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔

نہیں میری جان... گھر وہ ہوتا ہے جہاں عزت ہو، محبت ہو، سکون ہو۔ صرف دیواروں کو گھر نہیں کہتے۔ ۔

یہ بات دروازے کے پیچھے کھڑی زینب نے بھی سن لی۔ ان کا دل ندامت سے بھر گیا۔ وہ رات بھر سجدے میں بیٹھی اللہ سے معافی مانگتی رہیں۔

یا اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر دی۔ میں نے اسے رخصت تو کر دیا، مگر زندگی کے لیے تیار نہ کر سکی۔
چند ہفتوں بعد ایک دن محلے میں سلائی کڑھائی کا ایک تربیتی مرکز کھلا۔ ۔

زینب نے جھجکتے ہوئے کہا

بیٹی... اگر تم چاہو تو یہاں جا سکتی ہو۔۔

سویرا نے پہلی بار مسکرا کر جواب دیا۔

"اماں! زندگی نے مجھے بہت رُلایا ہے، لیکن میں اپنے بچوں کے لیے ہار نہیں مانوں گی۔۔ ۔

اسی دن اس نے اپنی نئی زندگی کا پہلا قدم اٹھایا۔

صبح بچوں کو ساتھ لے کر جاتی، چند گھنٹے سلائی، کڑھائی اور کمپیوٹر کا بنیادی کورس سیکھتی، پھر گھر آ کر لوگوں کے کپڑے سینا شروع کر دیتی۔

شروع میں صرف دو سو، تین سو روپے ملتے تھے، مگر وہ انہیں خزانے کی طرح سنبھال کر رکھتی۔

اس نے اپنی پہلی کمائی سے بچوں کے لیے کتابیں خریدیں۔

بیٹا حیران ہو کر بولا

"امی! آپ نے اپنے لیے کچھ کیوں نہیں لیا۔

سویرا نے مسکرا کر کہا۔۔

"بیٹا! ماں کی سب سے بڑی خوشی اپنے بچوں کو آگے بڑھتے دیکھنا ہوتی ہے۔۔۔

وقت گزرتا گیا۔۔۔

اس کی سلائی کی تعریف پورے علاقے میں ہونے لگی۔ لوگوں نے کپڑے دینا شروع کر دیے۔ پھر اس نے آن لائن کام سیکھا، خواتین کو ہنر سکھانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اپنی ایک چھوٹی سی تربیتی اکیڈمی قائم کر لی۔

وہی سویرا، جسے کبھی کہا جاتا تھا کہ "تم کچھ نہیں کر سکتیں"، اب دوسروں کا سہارا بن چکی تھی۔۔
ایک دن اس کے سابق شوہر ندیم اور اس کی ماں شمیم اسی بازار سے گزر رہے تھے۔۔۔

انہوں نے ایک بڑے بورڈ پر لکھا دیکھا ۔۔

"سویرا ویمن اسکل سینٹر۔۔ ۔

اندر درجنوں لڑکیاں سلائی، کمپیوٹر اور دستکاری سیکھ رہی تھیں۔

ندیم کی نظریں جھک گئیں۔۔

شمیم نے آہستہ سے کہا۔

"ہم نے ایک ہیرے کی قدر نہ کی۔

مگر وقت گزر چکا تھا۔

جو عزت ایک دن ٹھکرا دی گئی تھی، وہ اب واپس نہیں آ سکتی تھی۔
شام کو سویرا نے اپنی شاگردوں سے کہا:

"میں تمہیں صرف سلائی نہیں سکھا رہی، میں تمہیں خود اعتمادی سکھا رہی ہوں۔ یاد رکھنا، تعلیم اور ہنر کبھی کسی کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ اگر زندگی میں کوئی مشکل آئے تو تم کسی کے ظلم کو اپنی تقدیر نہ سمجھنا۔ اپنے قدموں پر کھڑے ہونا اور عزت کے ساتھ جینا۔

پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔
مصنف کا پیغام

بیٹیوں کی شادی ضرور کریں، کیونکہ شادی ایک خوبصورت اور باوقار رشتہ ہے، لیکن اس سے پہلے انہیں تعلیم، شعور، ہنر اور خود اعتمادی ضرور دیں۔

ایسی بیٹی جو تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہو، وہ صرف اپنا نہیں بلکہ پورے خاندان کا سہارا بن سکتی ہے۔

اسی طرح سسرال والوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بہو کوئی خریدی ہوئی ملازمہ نہیں، بلکہ کسی کی بیٹی، آپ کے بیٹے کی شریکِ حیات اور آپ کے خاندان کا ایک باعزت فرد ہے۔ محبت اور انصاف سے بسایا گیا گھر نسلوں تک خوشیاں دیتا ہے، جبکہ ظلم سے آباد ہونے والے گھر آخرکار ویران ہو جاتے ہیں۔

سبق یہی ہے کہ بیٹیوں کو صرف رخصت نہ کریں، بلکہ اس قابل بھی بنائیں کہ اگر کبھی حالات بدل جائیں تو وہ اپنی عزت، اپنے بچوں اور اپنی زندگی کو سنبھال سکیں۔ یہی والدین کا اصل فرض ہے، اور یہی ایک روشن معاشرے کی بنیاد ہے۔

زندگی بھی کیا عجب شے ہےسوچتے ہیں کہ زندگی بھی کیا عجب شے ہے،کبھی دھوپ کی تمازت، کبھی چھاؤں کی پناہ ہے۔کبھی ہنسی کے چراغ ...
27/07/2026

زندگی بھی کیا عجب شے ہے

سوچتے ہیں کہ زندگی بھی کیا عجب شے ہے،
کبھی دھوپ کی تمازت، کبھی چھاؤں کی پناہ ہے۔
کبھی ہنسی کے چراغ روشن، کبھی آنکھ نم رہتی ہے،
ہر لمحہ اک نئی کہانی، ہر سانس اک نئی راہ ہے۔

پھول کھلتے ہیں بکھرنے کے لیے،
مگر بکھر کر بھی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔
وہ اپنے مختصر وجود سے
موسموں کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر جاتے ہیں۔

پتے خزاں میں ضرور جھڑتے ہیں،
مگر بہار پھر بھی لوٹ آتی ہے۔
فطرت ہر زوال کے بعد
امید کی نئی شمع جلاتی ہے۔

ہم کہتے ہیں تقدیر لکھی ہے بگڑنے کے لیے،
مگر شاید یہ بھی ادھوری بات ہے۔
تقدیر کبھی آزمائش بن کر آتی ہے،
تو کبھی دعا کی قبولیت کی رات ہے۔

اگر ہر خواب حقیقت بن جاتا،
تو دعا کا مفہوم کہاں رہتا؟
اگر ہر خواہش آسانی سے مل جاتی،
تو صبر کا چراغ کہاں جلتا؟

زندگی ہمیں ہر روز سکھاتی ہے
کہ ٹوٹ جانا اختتام نہیں ہوتا۔
کئی بار بکھرنے والا انسان ہی
سب سے مضبوط وجود بن جاتا ہے۔

اس لیے اے دل! مایوس نہ ہو،
یہ اندھیرے ہمیشہ رہنے والے نہیں۔
ہر رات کی پیشانی پر
نئی سحر کے چراغ بھی لکھے ہوتے ہیں۔

سوچتے ہیں کہ زندگی بھی کیا عجب شے ہے،
پھول کھلتے ہیں بکھرنے کے لیے،
مگر خوشبو بن کر امر ہونے کے لیے۔
اور تقدیر اگر کبھی بگڑتی ہے،
تو رب کی حکمت سے پھر سنورنے کے لیے۔

بس یہی زندگی کا حسن ہے؛
یہ ہر زخم میں ایک سبق رکھتی ہے،
ہر جدائی میں ایک دعا،
ہر آنسو میں ایک امید،
اور ہر اختتام کے دامن میں
ایک نئی ابتدا چھپا کر رکھتی ہے۔اگر آپ اسے علامہ اقبال یا احمد فراز کے انداز سے متاثر، زیادہ فلسفیانہ اور ادبی رنگ میں چاہتے ہیں تو میں اس انداز میں بھی لکھ سکتا ہوں۔

Address

South Panjab
Panjab
92

Telephone

+923077672378

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shah jamalwelfaresociety". posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shah jamalwelfaresociety".:

Shortcuts

Share