Logon K Khubsurat Lafz Zinda Rehtay Hain

Logon K Khubsurat Lafz Zinda Rehtay Hain Tabdeeli

آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ "پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ...
15/09/2026

آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ

"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "

ابنِ خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک اور عجیب بات بھی کہی کہ

"اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیئے ہیں.
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.!

14/09/2026

جب آپ مشکلات کو اکیلے گزار لیتے ہیں، تو آپ دوسروں سے دور ہو جاتے ہیں اور کسی سے کچھ توقع کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
آپ سیکھیں گے کہ ہمیشہ مضبوط ہونا ہے۔
اور چاہے آپ کو کسی کے کندھے پر سر رکھ کر سہارا لینے کی کتنی بھی ضرورت ہو، آپ خود کو ایسا محسوس کریں گے کہ آپ کسی پر انحصار کیے بغیر کھڑے ہیں۔
آپ دو چیزیں سیکھیں گے۔
"طاقت"، جو آپ کو کمزوری، تنہائی اور درد کے لمحوں سے ملے گی۔
اور آپ "صبر" سیکھیں گے، جو زندگی کے سخت اسباق اور غیر متوقع حادثات سے آتا ہے۔

12/09/2026

*🌱مُختَصر پُر اَثَر🌱*

*‏وقتاً فوقتاً معاملات کو تھوڑا بکھرنے دیجیے، تاکہ دھوئیں کے پردے ہٹیں اور آپ پہ آشکار ہو کہ آپ کے گرد موجود لوگ روشنی کے چراغ ہیں یا محض سایوں کے بھیس میں چلتے تماشائی۔*

10/09/2026

رات کی تاریکی میں گرنے والا آپ کا ہر آنسو اور ہر سجدہ رب کے ہاں گنا جاتا ہے۔
تہجد کا یہ درد کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا، بس یقین رکھیے، آپ کی مراد پوری ہونے والی ہے۔ ❤️

*ہم چیزیں یاد رکھنا کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ جب موبائل ہماری یادداشت کا دوسرا دماغ بن جائے*کیا ہم اپنی یادداشت استعمال کر رہے ...
10/09/2026

*ہم چیزیں یاد رکھنا کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ جب موبائل ہماری یادداشت کا دوسرا دماغ بن جائے*
کیا ہم اپنی یادداشت استعمال کر رہے ہیں یا آہستہ آہستہ اسے موبائل کے حوالے کر رہے ہیں؟

✍️ تحریر: عثمان بشیر | آئیڈیل لائف کونسلنگ

ذرا ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔
اپنا موبائل ایک طرف رکھیں اور اپنے گھر کے پانچ قریبی لوگوں کے فون نمبر یاد کرنے کی کوشش کریں۔
کتنے یاد ہیں؟
شاید ایک…
شاید دو…
اور ممکن ہے اپنا دوسرا نمبر بھی مکمل یاد نہ آئے۔

اب ذرا بیس پچیس سال پیچھے چلے جائیں۔
اس وقت بہت سے لوگوں کو رشتہ داروں کے فون نمبر یاد ہوتے تھے۔
گھر کا لینڈ لائن نمبر، دفتر کا نمبر، دوست کا نمبر، ماموں کے گھر کا نمبر…
راستے بھی یاد رکھے جاتے تھے۔
کس گلی سے مڑنا ہے، کس چوک کے بعد کون سی سڑک آئے گی، کس دکان کے سامنے سے راستہ نکلتا ہے۔

آج؟
فون نمبر موبائل میں ہے۔
راستہ گوگل میپس (Google Maps) میں ہے۔
سالگرہ فیس بک یاد دلا دے گا۔
میٹنگ کیلنڈر میں ہے۔
دوائی کا وقت الارم بتائے گا۔
ضروری کام ریمائنڈر (Reminder) میں ہے۔

کوئی اچھی بات نظر آئے تو یاد کرنے کی ضرورت نہیں…
اسکرین شاٹ لے لو۔

کوئی مفید ویڈیو؟
سیو کر لو۔

کوئی مضمون؟
بعد میں پڑھنے کے لیے رکھ لو۔
اور اب اے آئی (AI) آنے کے بعد تو معلومات یاد رکھنے کی ضرورت بھی کم محسوس ہونے لگی ہے۔

سوال یہ ہے:
*کیا ٹیکنالوجی ہماری یادداشت خراب کر رہی ہے؟*
جواب اتنا سادہ نہیں۔
نفسیات میں اس پورے عمل کے لیے ایک نہایت دلچسپ اصطلاح موجود ہے:
*کاغنیٹو آف لوڈنگ (Cognitive Offloading)*
یعنی اپنے دماغ کا کچھ ذہنی بوجھ کسی بیرونی چیز کے حوالے کر دینا۔

مثلاً آپ کو شام پانچ بجے کسی کو فون کرنا ہے۔
آپ کے پاس دو راستے ہیں۔
ایک یہ کہ آپ خود یاد رکھیں۔
دوسرا یہ کہ موبائل میں الارم لگا دیں۔
جس لمحے آپ نے الارم لگایا، آپ نے یاد رکھنے کی ذمہ داری کا ایک حصہ اپنے دماغ سے نکال کر موبائل کے حوالے کر دیا۔
یہی کاغنیٹو آف لوڈنگ (Cognitive Offloading) ہے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ موبائل کے ساتھ پیدا نہیں ہوئی بلکہ انسان صدیوں سے ایسا کرتا آیا ہے۔

ہم کاغذ پر فہرست لکھتے ہیں۔
کیلنڈر بناتے ہیں۔
دروازے کے پاس کوئی چیز رکھ دیتے ہیں تاکہ نکلتے وقت یاد رہے۔
ہاتھ پر نشان لگا لیتے ہیں۔
کسی دوسرے انسان سے کہتے ہیں:
"مجھے یاد کرا دینا۔"
یعنی انسان ہمیشہ سے اپنے ماحول کو اپنی یادداشت کے ایک حصے کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ…
موبائل نے اس سہولت کو ہماری زندگی کے تقریباً ہر حصے تک پہنچا دیا ہے۔

*🧠 پھر دماغ کے اندر کیا ہوتا ہے؟*
یہاں کہانی بہت دلچسپ ہو جاتی ہے۔
ایک تحقیق میں لوگوں کو ایسی معلومات دی گئیں جن کے بارے میں انہیں معلوم تھا کہ بعد میں کمپیوٹر سے دوبارہ حاصل کی جا سکیں گی۔

*نتائج نے اشارہ دیا کہ جب انسان کو معلوم ہو کہ معلومات بعد میں دستیاب ہوں گی، تو وہ خود معلومات یاد رکھنے کے بجائے یہ نسبتاً بہتر یاد رکھ سکتا ہے کہ وہ معلومات کہاں ملیں گی۔*

یعنی دماغ شاید کہتا ہے:
"مجھے یہ یاد رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
مجھے بس یہ یاد ہونا چاہیے کہ اسے ڈھونڈنا کہاں ہے۔"
اسے بعض اوقات گوگل ایفیکٹ (Google Effect) کے تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔

ذرا اپنی زندگی دیکھیں۔
ہوسکتا ہے آپ کو وہ خوبصورت قول یاد نہ ہو جو کل پڑھا تھا…

لیکن آپ کو یاد ہے:
"میں نے اسے Facebook پر save کیا تھا۔"
آپ کو پوری معلومات یاد نہیں…
لیکن یاد ہے "Google کر لوں گا۔"

آپ کو وہ طریقہ یاد نہیں…
لیکن یاد ہے "ChatGPT سے پوچھ لوں گا۔"

یعنی ہماری یادداشت ختم نہیں ہوئی۔
ہم نے یاد رکھنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔

*📱 موبائل اب صرف فون نہیں… External Memory بھی ہے*
سوچیں آپ نے اپنے موبائل کو کتنے ذہنی کام دے رکھے ہیں۔
نمبر یاد رکھنا۔
راستے یاد رکھنا۔
ملاقاتیں یاد رکھنا۔
سالگرہیں یاد رکھنا۔
تصاویر محفوظ رکھنا۔
نوٹس رکھنا۔
خریداری کی فہرست رکھنا۔
پاس ورڈ محفوظ رکھنا۔
کام یاد دلانا۔
اور اب…
اے آئی ہماری معلومات تلاش کرنے، ترتیب دینے، خلاصہ بنانے اور بعض اوقات سوچنے کے ابتدائی مراحل میں بھی شریک ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
*اگر دماغ کو بار بار بتایا جائے کہ "تمہیں یاد رکھنے کی ضرورت نہیں"، تو کیا وہ یاد رکھنے کی کوشش بھی کم کر دیتا ہے؟*

حالیہ تحقیق اس سوال کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔
2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بیرونی reminders استعمال کرنے سے متعلق تجربات میں دیکھا گیا کہ reminders نے اس کام کو وقت پر یاد رکھنے میں مدد دی جسے بیرونی طور پر محفوظ کیا گیا تھا لیکن بعد میں جب reminders ہٹا دیے گئے تو پہلے reminder پر منحصر کام کے لیے یادداشت کی کارکردگی ان لوگوں سے کم رہی جنہوں نے ابتدا ہی سے اپنی یادداشت استعمال کی تھی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ "Reminder استعمال کرنا دماغ خراب کر دیتا ہے۔"
ایسا نتیجہ نکالنا غلط ہوگا۔
بلکہ نتیجہ یہ ہے:
بیرونی مدد کام انجام دینے میں بہت مفید ہوسکتی ہے، مگر بعض حالات میں اس سے وہ اندرونی learning کم ہوسکتی ہے جو ہمیں بعد میں بغیر اس مدد کے کام آتی۔

🚗 جیسے کہ ہم Google Maps کی ایک دلچسپ مثال سے سمجھتے ہیں
کبھی کسی نئے شہر میں Google Maps کے ذریعے کسی جگہ جائیں۔
پھر واپسی پر Maps بند کرکے وہی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
اکثر مشکل ہوگی۔
کیوں؟
کیونکہ پہلی مرتبہ آپ راستہ سیکھ نہیں رہے تھے۔
آپ instructions follow کر رہے تھے۔
"300 میٹر بعد دائیں مڑیں۔"
"اگلے چوک سے بائیں۔"
"آپ اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔"
آپ منزل تک پہنچ گئے…
مگر ضروری نہیں کہ راستہ آپ کے ذہن میں نقش بھی ہوا ہو۔

کیوں کہ GPS کے habitual استعمال اور spatial memory پر ہونے والی ایک تحقیق میں زیادہ GPS استعمال اور بغیر GPS خود راستہ تلاش کرنے کی کمزور spatial memory کے درمیان تعلق ملا۔
محققین نے longitudinal follow-up میں بھی اسی سمت کا نتیجہ دیکھا، اگرچہ اس حصے کا sample چھوٹا تھا۔

یہ فرق بہت اہم ہے:
منزل تک پہنچ جانا اور راستہ سیکھ لینا ایک ہی چیز نہیں۔
اور شاید یہی اصول ہماری digital life کے دوسرے حصوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

*😯 مسئلہ موبائل نہیں… اندھا انحصار ہے*
یہاں موبائل کو villain بنانا بھی درست نہیں ہوگا۔
کاغنیٹو آف لوڈنگ بہت فائدہ مند ہوسکتی ہے۔
آپ کے ذہن میں اگر ایک ہی وقت میں:
بچوں کی فیس،
ڈاکٹر کی appointment،
آفس meeting،
دوائی،
گھر کا سامان،
کسی کو payment،
اور دس دوسرے کام چل رہے ہوں…
تو reminder لگانا ذہانت ہے، کمزور یادداشت کی علامت نہیں۔
تحقیق بھی دکھاتی ہے کہ reminders خصوصاً زیادہ memory load کے حالات میں مستقبل کے کام یاد رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یعنی مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
"ہر چیز خود یاد رکھو۔"
اصل skill یہ ہے:
فیصلہ کرنا کہ دماغ سے کیا کام لینا ہے اور ٹیکنالوجی کو کیا کام دینا ہے۔

*🌿 اپنی یادداشت کو دوبارہ استعمال کرنا شروع کریں*
اگلے سات دن ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔
کسی قریبی شخص کا نمبر یاد کریں۔
کسی مانوس جگہ جاتے ہوئے ہر دفعہ Maps نہ کھولیں۔
کوئی اچھی بات پڑھیں تو فوراً screenshot لینے کے بجائے پہلے اسے اپنے الفاظ میں دہرائیں۔
خریداری کی پانچ چیزیں پہلے یاد رکھنے کی کوشش کریں، پھر ضرورت ہو تو list دیکھ لیں۔
کسی اہم concept کو Google کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں:
"مجھے اس کے بارے میں پہلے سے کیا یاد ہے؟"
اور سب سے دلچسپ تجربہ:
کسی مفید مضمون کو save کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں:
"میں اسے محفوظ کرنا چاہتا ہوں… یا سیکھنا چاہتا ہوں؟"
کیونکہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔
ہمارے موبائل میں ہزاروں screenshots، saved posts اور bookmarked videos پڑے رہتے ہیں۔
ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ:
"یہ میرے پاس محفوظ ہے۔"
لیکن محفوظ ہونا…
سیکھا ہوا ہونا نہیں ہے۔

*📌 پیغام*
ٹیکنالوجی دشمن نہیں۔
موبائل دشمن نہیں۔
گوگل دشمن نہیں۔
اے آئی بھی دشمن نہیں۔
انسان نے ہمیشہ اپنے دماغ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اوزار بنائے ہیں۔
لیکن ہر سہولت کے ساتھ ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
"یہ ٹیکنالوجی میری صلاحیت بڑھا رہی ہے یا میں اپنی صلاحیت استعمال کرنا چھوڑ رہا ہوں؟"

اپنے موبائل کو دوسرا دماغ ضرور بنائیں مگر اتنا بھی نہیں کہ پہلا دماغ استعمال کرنا بھول جائیں۔

آج رات ایک تجربہ کیجیے۔
اپنا موبائل ہاتھ میں لیے بغیر اپنے پانچ قریبی لوگوں کے نمبر یاد کرنے کی کوشش کریں۔

اور پھر خود سے پوچھیں:
*"میں نے اپنی زندگی کی کتنی یادداشت خاموشی سے موبائل کے حوالے کر دی ہے؟"*

*🔥 قسط 07 | “فلاں کے بچے کو دیکھو!” Comparison بچے کو Motivate کرتا ہے یا توڑتا ہے؟*“رزلٹ آگیا؟”“جی ابو…”“کتنے آئے؟”“78%...
09/09/2026

*🔥 قسط 07 | “فلاں کے بچے کو دیکھو!” Comparison بچے کو Motivate کرتا ہے یا توڑتا ہے؟*

“رزلٹ آگیا؟”

“جی ابو…”

“کتنے آئے؟”

“78%”

“اور حارث کے؟”

“91%…”

ابو نے Result میز پر رکھا۔

“کبھی اپنے cousin کو بھی دیکھ لیا کرو! تم دونوں ایک ہی عمر کے ہو، وہ کرسکتا ہے تو تم کیوں نہیں؟”

بیٹا خاموش ہوگیا۔

ابو کا مطلب تھا:

“تم بھی محنت کرو۔”

مگر بچے نے شاید سنا:

“حارث تم سے بہتر ہے۔”

اور دل نے اس کا ترجمہ کیا:

“میں کافی نہیں ہوں۔” 💔

ہم Comparison اکثر بری نیت سے نہیں کرتے۔

ہمیں لگتا ہے:

“تھوڑا مقابلہ ہوگا تو آگے بڑھے گا۔”

اور کبھی بچہ واقعی اگلے دن زیادہ پڑھ بھی لیتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے:

وہ محنت کس جذبے سے کررہا ہے؟

🌱 “میں بہتر ہوسکتا ہوں”

یا

💔 “مجھے ثابت کرنا ہے کہ میں اس سے کم نہیں”

دونوں بچے پڑھ رہے ہیں…

مگر دونوں کے اندر ایک جیسی چیز نہیں بن رہی۔

🪞 کیونکہ Comparison صرف Marks میں نہیں ہوتا

“بہن کو دیکھو، کتنی سمجھدار ہے!”

“تمہارا بھائی تمہاری عمر میں قرآن مکمل کرچکا تھا۔”

“فلاں کی بیٹی گھر کے سارے کام کرتی ہے۔”

“تمہارے cousin کو دیکھو، کتنا Confident ہے!”

بار بار ایسا ہونے پر دوسرا بچہ صرف مثال نہیں رہتا۔

وہ Measuring Scale بن جاتا ہے۔

اور پھر بہن بھائیوں میں حسد، احساسِ کمتری اور resentment پیدا ہوسکتا ہے۔

ہم پوچھتے ہیں:

“یہ اپنے بھائی سے جلتا کیوں ہے؟”

کبھی جواب ہمارے اپنے جملوں میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ 🪞

🧠 بچے کو بہتر ضرور بنائیں مگر کسی اور کی Copy نہیں

ہر بچے کی رفتار، مزاج اور صلاحیت ایک جیسی نہیں۔

صحابۂ کرامؓ کو ہی دیکھیے۔

حضرت خالد بن ولیدؓ کی قوت ایک میدان میں نمایاں تھی، حضرت زید بن ثابتؓ کی دوسرے میں۔

ایک ہی نبی ﷺ کی تربیت…

مگر ایک ہی Personality Template نہیں۔

قرآن بھی یاد دلاتا ہے:
“اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ذریعے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔”
📖 سورۃ النساء 4:32

اللہ نے انسانوں میں فرق رکھا ہے۔

ہماری ذمہ داری بچے کو کسی دوسرے جیسا بنانا نہیں…

بلکہ جو صلاحیت اللہ نے اسے دی ہے، اسے بہترین سمت دینا ہے۔ 🌱
❌ اس لیے Comparison کے بجائے یہ کیجیے

❌ “تمہارے cousin کے 90% آئے ہیں!”

✅ “پچھلی بار تمہارے 68 تھے، اس بار 74 ہیں۔ اگلی بار کیا بہتر کرسکتے ہیں؟”

❌ “اپنی بہن سے کچھ سیکھو!”

✅ “پچھلی بار تمہیں تین reminders چاہیے تھے، آج ایک میں کام کرلیا۔ یہ progress ہے۔”

یعنی:

بچے کا مقابلہ دوسرے بچے سے نہیں، اس کے کل سے کروائیں۔

❤️ آج صرف ایک Experiment کیجیے۔

جب زبان پر آئے:

“فلاں کو دیکھو…”

وہیں رک جائیں۔

اور خود سے پوچھیں:

“کیا میں اپنے بچے کو بہتر راستہ دکھا سکتا ہوں… بغیر اسے کسی دوسرے سے کمتر محسوس کرائے؟”

بچے کو Challenge ضرور کریں۔

محنت بھی کروائیں۔

غلطی بھی بتائیں۔

لیکن اس کے دل میں یہ سوال مت چھوڑیں:

“امی ابو کو میرے جیسا بچہ چاہیے تھا… یا فلاں جیسا؟”

آپ کا بچہ کسی دوسرے بچے کا کمزور Version نہیں۔

وہ اپنی الگ صلاحیتوں کے ساتھ ایک الگ انسان ہے۔ ❤️

اسے کسی اور جیسا بنانے کے بجائے…

اسے اپنے بہترین Version تک پہنچنے میں مدد دیجیے۔ 🌱

کیا ایران سوچے گا ۔۔۔؟؟؟اس مشکل گھڑی میں کون اس کے کام آیا؟وہی سعودیہ۔۔۔ ؟ جس کیلئے ایران نے اسرائیل جتنی ہی تیاری کر رک...
16/06/2025

کیا ایران سوچے گا ۔۔۔؟؟؟
اس مشکل گھڑی میں کون اس کے کام آیا؟
وہی سعودیہ۔۔۔ ؟
جس کیلئے ایران نے اسرائیل جتنی ہی تیاری کر رکھی ہے؟
وہی پاکستان ۔۔۔؟
جس پر اس نے میزائل تک فائر کیے، کلبھوشن بھیجے اور پراکیسز چلائیں۔۔؟
وہی احمد الشرع۔۔۔۔؟
جس نے دکھ سے لکھا۔۔ایران شامی عوام کو تم نے تکلیفیں تو بہت دیں ۔۔ بھلا کون سی تکلیفیں؟ وہ جیلیں یاد ہیں نا؟ جن سے وہ لوگ نکلے ، جو جیلوں میں گئے تو بچے تھے مگر جب سورج میں آئے تو لوگوں نے دیکھا ان کے بال سفید ہو چکے تھے۔۔
احمد الشرع نے کہا ۔۔
ان تکلیفوں کے باوجود ہم تمھارے ساتھ ہیں؟
وہ ترکی۔۔۔؟
جس کے خلاف تمھاری پراکسیز کے زخم ان کے وجود پر رات کی تاریکی میں بھی لو دیتے ہیں؟
وہ اہل سنت۔۔۔؟
مشرق وسطی میں اور ہر جگہ جن کی چمڑی ادھیڑنے کیلئے تم اپنی پراکسیز کے صرف ایک نمائندے کو دو ارب ڈالر سالانہ دیتے تھے۔۔؟ اہل سنت تو چلئے رہے ایک طرف آذر بائیجان کے شعیوں تک سے تمھارے تعلقات زخم زخم ۔۔ تمھی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

انڈیا نے کیا کیا؟
وہ انڈیا جس کے ساتھ تمھارے دفاعی معاہدے تھے، وہ جس کے جاسوس اور دہشت گرد تمھارے ہاں سے پاکستان کاٹنے آتے تھے، ہمارے گوشت کے لوتھڑے سڑکوں پر بکھیرنے آتے تھے ۔۔۔
اس انڈیا نے تمھارا ساتھ دیا یا اسرائیل کا ساتھ دیا؟
اقوام متحدہ میں بھی اور ۔۔۔
اور ایران میں رہ کر اسرائیل کے لیے جاسوسی کر کے بھی دیا۔۔۔
ایران دیکھ رہے ہو نا اب کون کیا کہہ رہا ہے؟
شاہ سلمان کی طرف سے ایرانی حجاج کو شاہی مہمان قرار دیا جانا،سب بھلا کے سعودیہ کا تمھارے لئے اسرائیل کی مذمت کرنا،محمد بن سلمان کا دو دفعہ تمھیں فون کرنا۔۔ کیا یہ تمھارے رویے کا جواب ہے؟ یا کچھ اور۔۔؟
خواجہ آصف نے پاکستان کی اسمبلی میں کھل کے جو کہا،پاکستان کے ہر طرح سے ساتھ دینے کی ہی بات نہ کی، بلکہ سارے عرب ممالک تک کے اسرائیل سے تعلق توڑ لینے کی بات بھی کر ڈالی۔۔
یہ تمھارے رویے کا بدلہ تھا یا کچھ اور۔۔؟
پھر اہل سنت ۔۔۔
جن کے سینے تمھارے دئیے زخم گننے سے قاصر ہیں۔۔ یہ اہل سنت کیا کہہ رہے ہیں؟ پاکستانی صحافت کیا کہہ رہی ہے؟ یہاں کے دیوبندی اور اہل حدیث کیا کہہ رہے ہیں؟
جنگ تمام ہو جائے گی، ان شاءاللہ امن کا سورج طلوع ہوگا۔۔۔ لیکن کیا ایران سوچے گا؟
پراکسیز والی پالیسی بدلے گا؟
امت کے جسد کو متحد ہونے کی راہ دے گا؟

دو بھائیوں کا بٹوارہ ہو بھی جائے، تو دیوار کے اس پار بھائی کا دکھ برداشت نہیں ہو پاتا۔۔۔!!!گلستان سبھی کے آباد رہیں یہاں...
15/06/2025

دو بھائیوں کا بٹوارہ ہو بھی جائے، تو دیوار کے اس پار بھائی کا دکھ برداشت نہیں ہو پاتا۔۔۔!!!

گلستان سبھی کے آباد رہیں یہاں بھی وہاں بھی
سرحد کے اِس پار، سرحد کے اُس پار سب کی خیر ہو۔۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Logon K Khubsurat Lafz Zinda Rehtay Hain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share