SimpleLogomaker

SimpleLogomaker Logo Making company in Multan Fazal publicity

29/09/2026
29/09/2026

تقریباً دو ہزار سال پہلے ایران میں ایک کاریگر نے چاندی کو اس مہارت سے ڈھالا کہ ایک عام برتن فن کے ایسے شاہکار میں بدل گیا جسے آج بھی دیکھ کر اس دور کی صناعی پر حیرت ہوتی ہے۔ سامنے ایک پہاڑی بکرا ہے، بلند اور خم دار سینگ، جسم پر بالوں کی باریک نقش کاری، آگے کو اٹھی ہوئی ٹانگیں اور ان کے پیچھے مڑتا ہوا چاندی کا لمبا برتن۔ یہ محض ایک خوبصورت مجسمہ نہیں بلکہ پارتھی دور کا ایک ریتھون (Rhyton) ہے، یعنی ایسا مخصوص برتن جو پینے یا بعض تقریبات میں مائع انڈیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ شاندار نمونہ ایران میں تقریباً 150 قبل مسیح سے 225 عیسوی کے درمیان بنایا گیا تھا۔ اسے چاندی سے تیار کیا گیا اور بعض حصوں پر سونے کا کام کیا گیا۔ آج یہ امریکا کے لاس اینجلس کاؤنٹی میوزیم آف آرٹ (LACMA) کے مجموعے میں محفوظ ہے اور تقریباً اٹھارہ سو سے دو ہزار سال گزرنے کے باوجود اس کی نفیس کاریگری واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

ریتھون کی ساخت عام پیالے یا جگ سے مختلف ہوتی تھی۔ اس میں مائع اوپر سے ڈالا جاتا اور ایک چھوٹے سوراخ کے ذریعے نچلے حصے سے باہر آتا۔ ایسے برتنوں کے سروں پر اکثر جانوروں کی شکلیں بنائی جاتی تھیں، یوں استعمال کی ایک چیز مجسمہ سازی اور دھات کاری کے فن میں تبدیل ہوجاتی تھی۔ ایران میں ایسے برتنوں کے لیے تکوک (Takuk) کی اصطلاح بھی استعمال ہوئی ہے۔

اس خاص ریتھون میں پہاڑی بکرے کو غیر معمولی مہارت سے بنایا گیا ہے۔ سینگوں کی بناوٹ سے لے کر جسم کے بالوں تک چھوٹی چھوٹی تفصیلات دھات میں ابھاری گئی ہیں۔ اگلی ٹانگوں کو آگے کی طرف اٹھا کر جانور کو جامد رکھنے کے بجائے حرکت کا احساس دیا گیا ہے، جیسے بکرا کسی چٹان سے چھلانگ لگانے کے لمحے میں ہو۔ یہی چیز اسے محض قیمتی دھات سے بنے برتن کے بجائے ایک مکمل مجسماتی فن پارہ بنا دیتی ہے۔

اس روایت کی جڑیں پارتھی سلطنت سے بھی کہیں پرانی ہیں۔ ایران میں جانوروں کی شکلوں والے ریتھون کی روایت دوسری ہزار سالہ قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ ہخامنشی دور میں سونے اور چاندی سے بنائے جانے والے ایسے برتن انتہائی نفیس صورت اختیار کرگئے اور بعد میں پارتھی فنکاروں نے اسی روایت کو اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔ جانوروں کے جسم، سینگ، پٹھوں اور حرکت کو زیادہ قدرتی انداز میں دکھانا پارتھی دور کے کئی فن پاروں کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔

تصویر میں دکھائی دینے والا یہ ریتھون کوئی بہت بڑی چیز بھی نہیں۔ اس کی لمبائی تقریباً 36.8 سینٹی میٹر، اونچائی 15.2 سینٹی میٹر اور چوڑائی تقریباً 9.5 سینٹی میٹر ہے۔ لیکن اس نسبتاً چھوٹے سے فن پارے میں دھات کاری، مجسمہ سازی، نقش و نگار اور عملی استعمال سب کو ایک ساتھ سمو دیا گیا ہے۔

یہی قدیم ایرانی فن کی ایک خوبصورت خصوصیت تھی۔ ضرورت کی چیز کو بھی صرف ضرورت کی چیز رہنے دینا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ایک برتن بھی ایسا بنایا جاسکتا تھا جسے ہاتھ میں لینے والا استعمال بھی کرے اور اس پر بنے فن کو دیکھ کر لطف بھی اٹھائے۔

وہ سلطنت ختم ہوگئی، وہ محفلیں باقی نہیں رہیں جن میں ایسے قیمتی برتن استعمال ہوتے ہوں گے، اور اسے بنانے والے کاریگر کا نام بھی تاریخ محفوظ نہ رکھ سکی۔ لیکن اس کے ہاتھوں کی مہارت چاندی میں محفوظ رہ گئی۔

تقریباً دو ہزار سال بعد بھی وہ پہاڑی بکرا اپنی اگلی ٹانگیں اٹھائے اسی لمحے میں منجمد ہے، اور ایک گمنام ایرانی کاریگر کا فن آج بھی زندہ ہے۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

حوالہ:

Los Angeles County Museum of Art (LACMA), Parthian Rhyton, 150 B.C. to A.D. 225

29/09/2026

پاکستان کے نامور اداکار نعمان اعجاز نے انسٹاگرام پر ایک نئی اور معنی خیز پوسٹ شیئر کی ہے۔انہوں نے لکھا کہ "الفاظ مفت ملتے ہیں، لیکن ان کا استعمال آپ کو مہنگا پڑ سکتا ہے"۔

ان کا یہ پیغام مداحوں کو زندگی میں سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری سے گفتگو کرنے کی تلقین کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر صارفین ان کے اس گہرے فلسفے کو بے حد پسند کر رہے ہیں اور اسے سراہا جا رہا ہے۔

29/09/2026

اگر طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جائے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان بھی ممکن ہے
خبر کی تفصیل پہلے کمنٹ میں پڑھیں۔۔۔۔

Address

Logo. Shop. Mani
Multan
60000

Opening Hours

Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 23:45
Sunday 08:00 - 23:45

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SimpleLogomaker posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share