Classic Mobile mianwali

Classic Mobile mianwali Awais Malik .
(1)

حاجی قمر عباس کو حج مبارک
17/06/2026

حاجی قمر عباس کو حج مبارک

اپیل ۔۔محرم الحرام کے مبارک مہینہ کا آغاز ہونے والا ہے اسلامی سال کا آغاز ہوگا واقعہ کربلا کی وجہ سے یہ مہینہ بہت تکلیف ...
17/06/2026

اپیل ۔۔
محرم الحرام کے مبارک مہینہ کا آغاز ہونے والا ہے اسلامی سال کا آغاز ہوگا واقعہ کربلا کی وجہ سے یہ مہینہ بہت تکلیف دہ ہے تمام دوست جو چاہے کسی بھی مسلک سے ہوں انتہائی قابل احترام ہیں سب سے دست بستہ گزارش ہے کے کسی بھی ایسی پوسٹ پر ٹیگ یا مینشن نہ کریں جس پوسٹ میں کسی مسلک کی دل آزاری کی گیی ہو آپ سب کی مہربانی ہوگی اللّه پاک اپ سب پر راضی ہو اور ہم سب کو اس مبارک مہینہ کے احترام کی توفیق عطاء فرماۓ ۔۔الہی امین جزاک اللّه

14/06/2026

آپ کی زندگی کا سب سے
پہلا موبائل کونسا تھا؟
جھوٹ نہ بولنا

بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘: وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان کے کاشف علی کی کہانیبی...
13/06/2026

بیوی، بچے بضد تھے کہ مری دیکھنا ہے‘: وین حادثے میں پانچ بچوں، اہلیہ اور والدہ کو کھونے والے ملتان کے کاشف علی کی کہانی
بیوی اور بچوں کی ضد تھی کہ ہم نے مری دیکھنا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو منع بھی کیا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے، اتنا خرچہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن بچوں کی خواہشں کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ بھی بضد تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ہم نے آپ کو کبھی باہر لے جانے کا نہیں کہا مگر اب رشتہ دار بھی جا رہے ہیں، تو بچوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ مری کی سیر کر لیں۔‘
یہ کہنا ہے جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے رہائشی سید کاشف علی کا، جن کی والدہ، اہلیہ اور پانچ بچے پنجاب کے معروف سیاحتی مقام مری کے قریب وین میں ہونے والی آتشزدگی کے واقعے میں جل کر ہلاک ہوئے ہیں۔
کاشف علی کے ہلاک ہونے والے پانچ بچوں میں تین سے 15 سال تک کی عمر کے چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
ملتان کے محلہ ’سوتری وٹ‘ کا رہائشی یہ خاندان سیر و تفریح کے لیے ملتان سے تین گاڑیوں میں روانہ ہوا تھا۔ اِن تین گاڑیوں میں سید کاشف علی کے اہلخانہ اور دیگر قریبی رشتہ دار سوار تھے۔
اُن کے مطابق اس قافلے میں شامل دو گاڑیاں اُن کے خاندان کے لوگوں کی تھیں جبکہ ایک ہائی روف گاڑی (جو حادثے کا شکار ہوئی) کرایہ پر حاصل کی گئی تھی۔ اس ہائی روف میں صرف خواتین اور بچوں کو سوار کیا گیا تھا۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق مری ایکسپریس وے پر کھجوٹ کے مقام پر یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا تھا جب ہائی ایس وین ایک موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کے ساتھ نالے میں اُتر گئی اور اُلٹی ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق اس کے فوراً بعد وین میں آگ بھڑک اٹھی۔
اُن کے مطابق گاڑی اس انداز میں الٹی کہ دروازے کھولنا ممکن نہ رہا۔ گاڑی میں لگنے والی آگ پر کافی دیر بعد قابو پایا جا سکا اور حکام کے مطابق دس افراد، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں شامل آٹھ بچوں کی عمریں ڈیڑھ سے 13 سال کے درمیان ہے۔
ملتان میں چوک علمدار کے قریب مارکیٹ میں فروٹ کی دکان چلانے والے سید کاشف علی پانچ بچوں، بیوی اور والدہ کو کھونے کے بعد غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے پیسوں کا مسئلہ نہیں تھا، اصل میں مجھے بچے اتنی دور بھیجنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بچے ناسمجھ ہوتے ہیں اور مری پہاڑی علاقہ ہے، کہیں کوئی چوٹ ہی نہ لگوا بیٹھیں لیکن میری بیوی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں دل چھوٹا کرتے ہیں، ہمارے بچے اب اتنے چھوٹے بھی نہیں۔‘
’میں نے ابتدا میں بچوں اور بیوی کی مسلسل ضد کے باوجود انھیں جانے کی اجازت نہیں دی، جس پر بچوں نے اپنی دادی کو کہا کہ ’آپ ہمارے ساتھ چلیں گی تو ابو ہمیں جانے سے نہیں روکیں گے۔‘ پھر میری والدہ نے مجھے کہا کہ ’تم پریشان نہ ہو، میں بچوں کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔‘ میری والدہ نے کہا کہ بچے زندگی میں پہلی بار سیر کرنے مری جانا چاہتے ہیں تو انھیں مت روکو۔
اشف علی بتاتے ہیں کہ ’جب میری والدہ کا بھی جانے کا پروگرام بن گیا، تو بچوں کی خالہ نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں، یوں خالہ بھی اُن کے ساتھ مری جانے کےلئے تیار ہو گئیں۔‘

کاشف کہتے ہیں کہ ’میں نے ساری زندگی اپنی ماں کا حکم نہیں ٹالا، اب جب انھوں نے کہا کہ تم بچوں کی فکر نہ کرو، تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گیا۔‘

اس سب کے باوجود ’میرے دل میں انجانا سا خوف موجود رہا۔ گھر سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے بچوں کو تاکید کی کہ پہاڑی علاقے میں چڑھنے سے احتیاط کریں، کوئی اکیلا نہ گھومے بلکہ سب مل کر اکٹھے ہی سیر کرنا۔ اپنی بیوی کو بھی کہا کہ بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھے اور موبائل فون پر مجھے آگاہ کرتی رہے تاکہ تسلی رہے۔‘

کاشف کہتے ہیں کہ ’ہم نے ڈرائیور کو کہا تھا کہ مری جانے کے لیے دن کے وقت ملتان سے نکلے لیکن ڈرائیور کا کہنا تھا کہ لمبا سفر ہے، اس لیے رات کو نکلنا ہی بہتر ہے کیونکہ دن کے وقت شدید گرمی ہوتی ہے تو لمبا سفر بہتر نہیں۔ ڈرائیو نے کہا کہ صبح جب دن نکلے گا اور سورج کی تپش بڑھے گی تو ہم پہاڑی علاقے میں پہنچ چکے ہوں گے۔‘
بدھ کے روز اُن کے ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ ’کاشی بھائی ایک بُری خبر ہے، جو گاڑی مری جا رہی تھی، اس کو حادثہ پیش آ گیا۔‘
اگرچہ تین گاڑیاں گئی تھیں مگر یہ سنتے ہی ’مجھے یوں لگا جیسے میرا دل بند ہو گیا ہو، میرے دل میں پہلے ہی وسوسے چل رہے تھے۔‘
’میں نے اپنے رشتہ دار سے پوچھا کہ ’تمھیں کس نے بتایا؟‘ تو اس نے جواب دیا غلام عباس بھائی نے۔‘
غلام عباس اس قافلے کے ساتھ تھے اور اُس گاڑی میں موجود تھے جس میں مرد تھے۔
’میرے تو الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں۔ میری کُل کائنات میری ماں، میری بیوی اور پھول جیسے بچے سب ختم ہو گئے ہیں۔ میرے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں۔



08/06/2026

پیرومرشد بابا جی سرکار حافظ محمد مظہر قیوم صاحب ر۔ع
آستانہ عالیہ پہلاں شریف

ہال روڈ لاہور پہ واقع قدیمی بلڈنگ جہاں کسی دور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا ہاسٹل ہوا کرتا تھا
07/06/2026

ہال روڈ لاہور پہ واقع قدیمی بلڈنگ جہاں کسی دور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا ہاسٹل ہوا کرتا تھا

07/06/2026

دوسری شادی کی دھمکی

انتہائی افسوسناک خبرانا للہ وانا الیہ راجعوںمعروف کمنٹیٹر عمران بلوچ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے
06/06/2026

انتہائی افسوسناک خبر
انا للہ وانا الیہ راجعوں
معروف کمنٹیٹر عمران بلوچ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے

آج ایک گاہک نے مجھے ایسا جملہ کہا کہ میں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا...وہ دکان پر آیا، چند چیزیں خریدیں اور جاتے جاتے ...
06/06/2026

آج ایک گاہک نے مجھے ایسا جملہ کہا کہ میں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا...
وہ دکان پر آیا، چند چیزیں خریدیں اور جاتے جاتے بولا:
"یار، تم لوگ دکاندار بڑے مزے میں ہوتے ہو۔ اپنی دکان، اپنی مرضی، اپنا وقت!"
میں مسکرا دیا...
لیکن دل میں سوچا، کاش اسے پتہ ہوتا کہ اس شٹر کے پیچھے کتنی کہانیاں دفن ہیں۔
کاش اسے پتہ ہوتا کہ کبھی کبھی پورا دن گزر جاتا ہے اور اتنی سیل نہیں ہوتی کہ گھر کا خرچہ آرام سے نکل سکے۔
کاش اسے پتہ ہوتا کہ دکاندار صرف سامان نہیں بیچتا، اپنی جوانی، اپنا سکون اور اپنے خواب بھی آہستہ آہستہ خرچ کرتا ہے۔
جب لوگ عید مناتے ہیں، دکاندار دکان پر ہوتا ہے۔
جب لوگ بارش کا مزہ لیتے ہیں، دکاندار فکر کر رہا ہوتا ہے کہ آج سیل ہوگی یا نہیں۔
جب لوگ رات کو جلدی سو جاتے ہیں، دکاندار اگلے دن کے حساب کتاب میں لگا ہوتا ہے۔
مگر اس سب کے باوجود...
اگلی صبح وہ پھر شٹر اٹھاتا ہے۔
کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے بچوں کی مسکراہٹ، اس کے والدین کی دعائیں اور اس کے گھر کا چولہا اسی شٹر سے جڑا ہوا ہے۔
زندگی نے مجھے ایک بات سکھائی ہے:
نوکری کرنے والا مہینے کے آخر کا انتظار کرتا ہے، لیکن دکاندار ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ دن شروع کرتا ہے۔
اور شاید یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی دکاندار، مزدور، ریڑھی والا یا چھوٹا کاروباری ہے تو آج اسے ایک بار ضرور کہیں:
"ہم آپ کی محنت کی قدر کرتے ہیں۔"
❤️ یہ پوسٹ ہر اس شخص تک پہنچنی چاہیے جو خاموشی سے اپنے خاندان کے لیے حلال رزق کما رہا ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں دکاندار کی سب سے بڑی قربانی کیا ہوتی ہے؟
منقول ۔۔😰😰

کم ظرف قوم بھول گئی ایک وزیراعظم ایسا گزرا ھے جس نے بحران کے باوجود بجلی کے زیرو روپے بل بھیجے تھے 😭بہت پرانی بات نہیں ھ...
06/06/2026

کم ظرف قوم بھول گئی
ایک وزیراعظم ایسا گزرا ھے جس نے
بحران کے باوجود بجلی کے زیرو روپے بل بھیجے تھے 😭
بہت پرانی بات نہیں ھے

Address

Mianwali
42200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Classic Mobile mianwali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Classic Mobile mianwali:

Share