02/09/2026
جس فلٹریشن پلانٹ کو توڑنے پر ایبٹ آباد کی عوام اور ایبٹ آباد کے سرکاری ملازم ٹک ٹوکر اسٹنٹ کمشنر کا دفاع کر رہے ہیں وہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہاٸی کورٹ کے زریعہ عام عوام کے لیے بنایا تھا جس کی نگرانی ڈسٹرکٹ جج ایبٹ آباد کر رہے تھے وکلاء کے پاس تو بار روم کے اندر واٹر ڈسپنسر موجود ہیں اگر عوام اپنے دیٸے گٸے ٹیکس کے پیسوں سےبننے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو توڑنے پر خو ش ہیں تو پھر واقعی عوام کے ساتھ اشرافیہ جو سلوک کر رہی ہے وہ واقعی اسی کی مستحق ہے۔