Expert Institute of I.T. Trainers

Expert Institute of I.T. Trainers We are Experts!

کچھ لوگوں کی گفتگو گلے ملنے کی طرح ہوتی ہے وہ تقریباً ہر چیز کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ہوتے ہیں کچھ لوگ جن کی موجودگی باعثِ س...
01/02/2025

کچھ لوگوں کی گفتگو گلے ملنے کی طرح ہوتی ہے وہ تقریباً ہر چیز کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ہوتے ہیں کچھ لوگ جن کی موجودگی باعثِ سکون ہوتی ہے
جو بجھتے چہروں پر مسکان لے آتے ہیں۔
جن کے قہقوں کی گونج ماحول پر چھائی اداسی ختم کر دیتی ہے، جو مثلِ بہار جیسے ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں یوں داخل ہوتے ہیں جیسے پرسکون ہوا کا جھونکا جو ہمارے دل کے طوفانوں کو تھما دیتا ہے۔ ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بارش کے دن آرام دہ کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوں، جہاں ہر بوند زمین سے مل کر اس میں جذب ہو رہی ہو۔ یہ لوگ نہ جانے کیسے، مگر اپنی گرمجوشی اور سکون کے ساتھ ہمیں اپنی پناہ میں لے لیتے ہیں اور سب کچھ ٹھیک لگتا ہے۔ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ہمارا ایک انجان سا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے اور کہنے کو کوئی امید کوئی وعدہ نہیں ہوتا پر پھر بھی وہ لوگ چپکے سے ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں پرواہ کرتے ہیں۔ دنیا شاید ایسے لوگوں سے ہی قائم ہے جو خدا کی رحمت کی طرح ہم پر اپنا خلوص اور پیار نچھاور کرتے ہیں۔ شاید انہی کے لیے کہا گیا ہے کہ
مثل تعویذ ہوتے ہیں کچھ لوگ
جب بھی ملتے ہیں شفا ہوتی ہے ❤️🌙

*ایک جاپانی کہاوت ھے جب کوئی درخت گرانا ہو تو اس کو کاٹتے نہیں اس کو نظرانداز کر دیتے ہیــــــــں، اس کے سامنے دوسرے درخ...
22/01/2025

*ایک جاپانی کہاوت ھے جب کوئی درخت گرانا ہو تو اس کو کاٹتے نہیں اس کو نظرانداز کر دیتے ہیــــــــں، اس کے سامنے دوسرے درختوں کو پانی دیتے ہیــــــــں دیکھ بھال کرتے ہیــــــــں اور اس درخت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیــــــــں اور وہ درخت اپنے آپ مرجھا جاتا ھے پھر اس کو گھن لگ جات ھے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ختم ہو جاتا ھے ___*

*غور کیجئے یہ رویہ بھی ہمارا ان رشتوں کے ساتھ بھی ھے ،جن کو پہلے ہم توجہ دیتے ہیــــــــں انکی افزائش کرتے ہیــــــــں۔ اور جب ان سے جان چھڑانی ہو ان کو نظر انداز کر دیتے ہیــــــــں اس طرح وہ رشتے بھی دھیرے دھیرے موت کے اس منہ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں زندہ اور مردہ برابر ہوتے ہیں.۔

کسی کو کچھ دینا ہی ہدیہ نہیں ہوتا، بلکہ کسی پر غصّہ آجائے تو اس کا اظہار نہ کرنا اور کسی کے راز معلوم ہوں تو انہیں چھپان...
22/01/2025

کسی کو کچھ دینا ہی ہدیہ نہیں ہوتا،
بلکہ کسی پر غصّہ آجائے تو اس کا اظہار نہ کرنا اور کسی کے راز معلوم ہوں تو انہیں چھپانا، کسی کو معاف کرنا بہت مشکل ہو تو اسے معاف کر دینا،
کسی کی عزت کو تار تار کرنے سے اپنی زبان کو بچانا بھی ہدیہ ہی ہے ....
بلکہ یہ سب سے قیمتی ہدیہ ہے😊 ...!!

17/09/2023
12/05/2022

میں 1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ میرے دوستوں میں سے تھے. انہونے ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ کہ
" ﺟﺎﻧﯽ رئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ, کرنا کسطرح ہے" .
رئیس ﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮ ﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ
" ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮ
ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ "
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ ہوگئے.
کراچی شہر کے مشہور علاقے لیاقت آباد المعروف لالو کھیت کی سوپر مارکیٹ پہنچا تاکہ "ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ" ڈھونڈا جاسکے.
ﺑﮍﯼ حیرانگی ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ۔ ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ ﺳﺘﺮ 70 ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ. ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ, ﺳﺮ ﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ ﻭﮨﯿﮟ چارپائی ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ
" ﺁﺝ ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ, اسکو کہہ ﺩﯾﻨﺎ. یہ بتاؤ کہ ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﻭﮔﮯ?"
ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ
"ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ " ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎﺭﮨﮯﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ
" ﻣﯿﺎﮞ! ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ مارکیٹ میں ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔ ﮐﮭﻮﮰ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ
ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ مگر ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﮰﯾﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ
" ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " ۔
ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ مگر ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭﯾﺌﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔
ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ دو تین ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ تھے. ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺑﻮﻟﮯ " ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﻮ! ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ " .
تھال دیا ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ کر ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ سچ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺗﮭﺎ.
ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ مجھے ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ " ۔
ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ " ۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ
" ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﮰ ﮔﺎ۔ ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯﮨﻢ "
ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻﮰ۔ ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ساتھ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ
" ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ "
ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔
"ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟"
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﮔﻠﮯ
ﺩﻥ ﻭﻟﯿﻤﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ چوتھے دن دیگر مصروفیات. ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ یوہ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁﮰ.
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ
"ﻣﯿﺎﮞ! ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ۔ الله ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ ".
ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ والے ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ, ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ الله ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ اسکو ﻣﺎﻭﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ تیس ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ
ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ڈھائی ﻻﮐﮫ روپے ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ہی ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ.
الله رب العزت انہیں قبر میں کشادگی اور عالم
برزخ میں انکی روح کو بہترین درجات عطا فرماۓ. آمین
۔.۔.۔.۔.۔..۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔..
ﺍﺏ آپ ﯾﮧ پگڑی والے کا ﻓﻘﺮﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
موجود ﮨﯿﮟ?
"ﻣﯿﺎﮞ! ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ۔ الله ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "

آپ سب کی نظر سے مشہور الفاظ بار بار گزرے ہونگے مگر آج سمجھ آجائیں گے.

"ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﮔﮯ اﮔﺮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ،
ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ،
ﻧﺎﯾﺎﺏ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ."
منقول

ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ماں باپ تو نہیں چاہتے تھے لیکن بیٹے کی خواہش ت...
12/05/2022

ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ماں باپ تو نہیں چاہتے تھے لیکن بیٹے کی خواہش تھی کہ وہ انہیں کسی مہنگے ہوٹل میں ضرور کھانا کھلائے گا اسی لیے اس نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے کی خوشی میں ماں باپ جیسی عظیم ہستیوں کے ساتھ شہر کے مہنگے ہوٹل میں لنچ کرنے کا پروگرام بنایا.

باپ کو رعشے کی بیماری تھی، اُسکا جسم ہر لمحہ کپکپاہٹ میں رہتا تھا، اور ضعیفہ ماں کو دونوں آنکھوں سے کم دیکھائی دیتا تھا یہ شخص اپنی خستہ حالی اور بوڑہے ماں باپ کے ہمراہ جب ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں موجود امیر لوگوں نے سر سے پیر تک اُن تینوں کو یوں عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جیسے وہ غلطی سے وہاں آ گئے ہوں.

کھانا کھانے کیلئے بیٹا اپنے دونوں ماں باپ کے درمیان بیٹھ گیا وہ ایک نوالہ اپنی ضیعفہ ماں کے منہ میں ڈالتا اور دوسرا نوالہ بوڑھے باپ کے منہ میں۔ کھانے کے دوران کبھی کبھی رعشے کی بیماری کے باعث باپ کا چہرہ ہل جاتا تو روٹی اور سالن کے ذرے باپ کے چہرے اور کپڑوں پر گر جاتے۔ یہی حالت ماں کے ساتھ بھی تھی، وہ جیسے ہی ماں کے چہرے کے پاس نوالہ لے جاتا تو نظر کی کمی کے باعث وہ انجانے میں ادھر اُدھر دیکھتی تو اس کے بھی منہ اور کپڑوں پر کھانے کے داغ پڑ گئے تھے۔

اِردگرد بیٹھے لوگ جو پہلے ہی انہیں حقیر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، وہ اور بھی منہ چڑانے لگے کہ کھانا کھانے کی تمیز نہیں ہے اور اتنے مہنگے ہوٹل میں آ جاتے ہیں بیٹا اپنے ماں باپ کی بیماری اور مجبوری پر آنکھوں میں آنسو چھپائے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔ اِردگر کے ماحول کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک عبادت سمجھتے ہوئے انہیں کھانا کھلاتا رہا
کھانے کے بعد وہ ماں باپ کو بڑی عزت و احترام سے واش بیسن کے پاس لے گیا، وہاں اپنے ہاتھوں سے انکے چہرے صاف کیے کپڑوں پر پڑے داغ دھوئے اور جب وہ انہیں سہارا دیتے ہوئے باہر کی جانب جانے لگا تو پیچھے سے ہوٹل کے مینجر نے آواز دی اور کہا بیٹا تم ہم سب کیلئے ایک قیمتی چیز یہاں چھوڑے جا رہے ہو.

اُس نوجوان نے حیرانگی سے پلٹ کر پوچھا کیا چیز مینجر اپنی عینک اُتار کر آنسو پونچھتے ہوئے بولا نوجوان بچوں کیلئے سبق اور بوڑھے ماں باپ کیلئے امید.

اللہ تبارک تعالیٰ جنکی ماں باپ زندہ ہے ان کو لمبی عمر عطا فرمائے اور جن کی ماں باپ وفات پا گئی ہے ان کو اللہ تبارک و تعالی جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے. آمین ❤

01/05/2021

ایک یہودی نے مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ایک مسلمان کا روپ دھارا اور ایک بستی جا پہنچا، اور سب سے پہلے اسکی ایک چرواہے سے ملاقات ہو گئی۔
یہودی نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمان مسافر ہوں۔ باتوں ہی باتوں میں یہودی کہنے لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہ قرآن تیس سپاروں پر مشتمل ہے۔ لیکن قرآن میں بیشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں۔ بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہے ۔ اگر متشابہات کو نکال دیاجائے تو قرآن اور بھی مختصر ہو جائے گا اور یاد کرنے میں بہت آسانی بھی ہوجائے گی۔
چرواہا اس کی بات غور سے سنتا رہا اور خاموش رہا ۔ جب یہودی کی بات مکمل ہوئی تو چرواہے نے کہا کہ
واہ تمہارا خیال تو بہت اچھا ہے ۔ یہودی دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ یہ چرواہا میرے جال میں آگیا ہے ۔پھر اچانک چرواہے نے کہا کہ میرا ایک سوال ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
یہودی نے کہا : پوچھئے تو سہی ۔۔۔۔۔۔۔؟
تم چاہتے ہوکہ قرآن میں جو متشابہات یا تکرار ہے اس کو نکال دینا چاہئے..؟
ہاں بالکل میرا یہی خیال ہے کہ جو آیت ایک مرتبہ سے زیادہ ہو اس کو قرآن سے خارج کردیا جائے تو قرآن مختصر ہو جائے گا اور یاد کرنے میں آسانی بھی ہوگی۔
چرواہے نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ تمہارے بدن پر بھی بعض اعضاء ایک سے زیادہ ہیں جو تکرار پیدا کررہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے،
کیوں نہ تمہارے دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو کاٹ دیا جائے۔ دو پیروں میں سے ایک پیر ہی رکھا جائے اس لئے کہ یہ تکرار ہے۔ دو دو آنکھوں کی کیا ضرورت ہے کام تو ایک آنکھ سے بھی پورا ہوسکتا ہے کیوں نہ تمہاری ایک آنکھ بھی نکال دی جائے۔ دو کان اور دو گردوں کی کیا ضرورت ہے اس میں بھی تکرار ہے ۔ اگر ان تمام تکرار والے اعضاء کو نکال دیا جائے تو تمہارا بدن بھی ہلکہ ہوجائے گا ۔ اور غذا کی مقدار بھی کم ہوجائے گی اور تمہیں زیادہ جدوجہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، کیا خیال ہے..؟
یہودی اپنا سیاہ منہ لیکر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی راہ لی.

زندگی بھر یہی سوچتا رہا کہ جب مسلمانوں کے چرواہے کی یہ فکر ہے تو ان کے علماء کے افکار کیسے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔

وطن کی مٹی گواہ رہنا۔ میرے شہیدوں کا لہُو میرے اولیاءاللہ کی خوشبو اور دعائیں رچی ہیں اس مٹی میں۔پاکستانی مٹی کی انفرادی...
19/03/2021

وطن کی مٹی گواہ رہنا۔ میرے شہیدوں کا لہُو میرے اولیاءاللہ کی خوشبو اور دعائیں رچی ہیں اس مٹی میں۔

پاکستانی مٹی کی انفرادیت بارے چشم کشا واقعہ:

ارض پاک پاکستان کی مٹّی کی وہ خاصیّت جو مجھ سمیت ھم سب سے پوشیدہ تھی
امریکہ میں کلے ہانڈی ریسٹورنٹ کھولنے کا اشارہ مجھے ایک رات بحالت خواب ملا تھا کہ میرے ریسٹورینٹ میں مٹی کی ہانڈیوں میں کھانا پک بھی رہا ہے اور لوگ مٹّی کے برتنوں میں کھانا کھا بھی رہے ہیں
اورپھر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیۓ مسلسل ایک سال کی پلاننگ ، کنسلٹنٹس کے ساتھ اس کے بزنس پلانز، ریسٹورنٹ کی اس کے نام کی مطابقت کے ساتھ تزئین، اور پاکستان بنفس نفیس جا کر وہاں 20 دن مسلسل سفر، چھوٹے چھوٹے قصبوں میں دستکاروں کے گھروں میں جا کر ان سے برتنوں اور لکڑی کی مصنوعات کی ڈیزائننگ جیسے مراحل سے گزرنے کے بعد پاکستان بھر سےساری مصنوعات کی ایک وئیر ہاؤس میں ان کو یکجا کرنا ، ان کی نازکی کے لحاظ سے مخصوص پیکنگ ، پاکستان کسٹم کلیئرنس اور کنٹینر کی روانگی ، نیو یارک امریکن کسٹم سے کنٹینرکی کلیرنس کا مرحلہ ، پھر کسٹم ایجنٹ کی کال آی کہ مٹی کے برتنوں اور پاکستانن سے امپورٹ کے سبب امیرکن ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ USDA سے انسپکشن کروانی ضروری ہے نہیں تو کنٹینر ریلیز نہیں ہو سکتا - پھر کنٹینر نیویارک ان کے وئیرہاؤس گیا ، انہوں نے اپنی فیس لے کرکنٹینر کلیئر توکر دیا لیکن ساتھ ہی FDA ( Department of Food and Drug Administration)
کو بھی اطلاع کر دی کہ پاکستان سے مٹّی کے برتنوں سے بھرا ہوا کنٹینر امریکہ میں امپورٹ ہوا ہے اور امپورٹڈ مٹی میں شامل سیسے کی زیادتی اور مضر صحت اجزاء کی افرات کے سبب امپورٹڈ مٹی کے برتنوں کی کمرشل استعمال پر مکمل پابندی ہے
اور اسی اثناء میں جب کنٹینر بفیلو میں میرے ویئر ہاؤس اتارا جا چکا تھا مجھے FDA والوں سے باقاعدہ نوٹس موصول ہو گیا کہ آپ کنٹینر نیویارک لے کر آئیں اور سارے سامان کو FDA کی انسپکشن کرائیں۔ میں نے انہیں فون کیا کہ کنٹینر تو ان لوڈ ہو چکا ہے اور سارا سامان وئیرہاؤس میں پڑا ہے تو وہ اور زیادہ مشکوک ہو گۓ ۔ خیر معاملہ یہاں طے ہوا کہ ان کی انسپکشن ٹیم ویئرہاؤس آ کر مٹّی کے برتنوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرے گی اور ریجکشن کی صورت میں تمام سامان واپس چکوال .............. جب میں نے FDA کی ویب سائٹ چیک کی تو مٹی کے برتنوں کے مینو فیکچر کرنے والے ممالک جن میں میکسیکو ، ترکی ، انڈیا ، چائینہ ، مراکش اور دیگر یورپیئن ممالک شامل ہیں ، ان ممالک کی مٹّی میں انتہائ مضر صحت دھاتیں شامل ہیں اور امریکہ میں ان کی درآمد اور استعمال ممنوع ہے ۔
یہ پڑھنے کی دیر تھی کہ قاضی صاحب کے تمام خواب یکدم چکنا چور۔ ۔ ۔ ۔
اب مجھے اپنے آپ پہ افسوس ہو رہا تھا ایک خواب دیکھ کر اتنا بڑا قدم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اپنی فقیری اورقلندری بھی مشکوک نظر آنے لگی ، پیسوں ، وقت اور محنت کے ضیاع سے زیادہ دکھ اس بات پہ ہو رہا تھا کہ اللہ پاک نے پاکستان کی تشہیر اور اس کا نام روشن کرنے کا مجھے موقع عطا نہیں فرمایا چاہتے ۔
خیر قصّہ مختصر آج FDA کی انسپکشن ٹیم بمعہ اپنے ٹیسٹنگ آلات سمیت میرے ویئر ہاؤس میں آۓ ، ایک ایک برتن کو کھرچ کے اس مٹی کو اپنی موبائیل لیب میں چیک کیا ، میرے اوسان تب بحال ہوۓ جب انسپکشن ٹیم کی سربراہ مجھے کہنے لگی کہ پاکستان میں واقعی بہت جد ید لیبارٹریز اور مٹّی کےبرتنوں کے Modern مینوفیکچرنگ پلانٹس ھیں جنہوں نے ان برتنوں کی مٹّی کو تمام آلائشوں اور مضر صحت دھاتوں سے پاک کیا ہے ؟ ؟ ؟
ابھی اس کی ای میل آئ ہے کہ مجھے ان مینوفیکچرنگ کمپنیز کی لسٹ فراہم کرو کہ جنہوں نے یہ برتن بناۓ ہیں تاکہ میں انہیں اپنے سسٹم ڈال دوں اور انہیں FDA کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ایشو کو دوں کہ ان کمپنیوں کے تیار کردہ برتن FDA سے انسپیکشن سے مبرّاء ھیں اور آزادانہ طور پر ان کی امریکہ امپورٹ کی اجازت ہے
اب میں اسے کیسے جواب دوں کہ میرے سارے وطن کی مٹّی اور اس مٹّی سے جنم لینے والے لوگ ہر قسم کی کثافت سے پاک ہیں ؟ یہ مٹّی بھی اور لوگ بھی اصلی ہیں یا پھرپاکستان کے ان چھوٹے چھوٹے گاؤں میں " دنیا کے جدید ترین پلانٹس " پہ ان برتنوں کی تخلیق کرنے والے ان دستکاروں کے نام ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ کیسے جواب دوں ??????
Anwar ul Haq awan بشکریہ

12/03/2021

#اردو لکھنے میں کی جانے والی 12 غلطیاں
...............................

انتخاب و تحریر: ڈاکٹر معین الدین عقیل

* پہلی* ..............
اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہئیں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ ( اسپیس ) چھوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ خود بخود الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔
مندرجہ ذیل میں ان الفاظ کی 12 اقسام یا ’ طرز ‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات/ آواز کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔
* جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ
* کے لیے، اس لیے، اس کو، آپ کو، آپ کی، ان کو، ان کی
* طاقت وَر، دانش وَر، نام وَر
* کام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یاب
* گم نام، گم شدہ
* خوش گوار، خوش شکل
* الم ناک، وحشت ناک، خوف ناک، دہشت ناک، کرب ناک
* صحت مند، عقل مند، دانش مند،
* شان دار، جان دار، کاٹ دار،
* اَن مول، اَن جانا، اَن مٹ، اَن دیکھا، اَن چُھوا
* بے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل، بے شرم، بے نام،
* امرت سر، کتاب چہ
* خوب صورت، خوب سیرت وغیرہ

* دوسری* .....................
اردو لکھتے ہوئے ہمیں یکساں آواز مگر مختلف املا کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے کہ ’کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں وغیرہ

* تیسری* ....................
اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے، جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املا کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ’ی‘ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیراعلیٰ، رحمٰن اور اسحٰق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں ’ل‘ ساکت ہوتا ہے جیسے ’السلام علیکم‘ اسے ’ل‘ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔

* چوتھی* ....................
زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِ من (نہ کہ جانے من) جانِ جاں (نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی (نہ کہ شانے کراچی) فخرِ پنجاب (نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ ( نہ کہ اہلے محلہ) وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔

* پانچویں* ..................
اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ’کر دینا ہے‘ نہیں بلکہ ’کردیں گے‘ لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کر دو گے (نہ کہ کردینا ہے) اب ٹیچر آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کر دو گے (نہ کہ کردینی ہے) لکھنا چاہیے۔

* چھٹی* ................
اردو کے ’مہمل الفاظ‘ میں’ش‘ کا نہیں بلکہ ’و‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس، اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب، کلاس شلاس لکھنا غلط کہلاتا ہے۔

* ساتویں* ..................
اردو میں دو زبر یعنی‘ تنوین‘ والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر ’ن‘ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔

* آٹھویں* ...............
کسی بھی لفظ کے املا میں ’ن‘ اور ’ب‘ جہاں ملتے ہیں وہاں ’م‘ کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہے ’ن‘ اور ’ب‘ ہی لکھا جائے ’م‘ نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ، استنبول، انبیا، سنبھل، سنبھال، اچنبھا، عنبرین، سنبل وغیرہ

* نویں* ..............
اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو "الف" کی آواز دیتے ہیں، لیکن کسی کے آخر میں ’ہ‘ ہے اور کسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے، تو اس کے معانی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے گِلہ اور گلا، پیسہ اور پِیسا، زن اور ظن، دانہْ اور دانا وغیرہ وغیرہ۔

* دسویں* .................
الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ’ہ‘ پر ختم ہوں یا ’الف‘ پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت ’جمع‘ کے طور پر لکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ’ایک‘ ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:_
_میرے پاس ایک ’بکرا‘ تھا، اس ’بکرے‘ کا رنگ کالا تھا۔
_میرے پاس ایک ’چوزا‘ تھا، ’چوزے‘ کے پر بہت خوب صورت تھے۔
_ہمارا ’نظریہ‘ امن ہے اور اس ’نظریے‘ کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔
_جلسے میں ایک پرجوش ’نعرہ‘ لگایا گیا اور اس ’نعرے‘ کے بعد لوگوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔
_ایک ’کوا‘ پیاسا تھا، اس ’کوے‘ نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔

* گیارہویں* ....................
انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہو چکی ہیں، یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ’ایس‘ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں ’الف‘ کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طورپر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن، اسمال، اسٹائل، اسٹوری، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ’ایس‘ سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن، سورس، سینڈیکیٹ، سیمسٹر، سائن اوپسس وغیرہ۔

* بارہویں* ....................
ہندوستانی فلموں نے اردو پر جو بھدا اثر ڈالا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں لفظ ’اپنا‘ کی جگہ میرا بولا جاتا ہے۔ ہمیں اردو لکھتے ہوئے اسے ٹھیک کرنا چاہیے، اس لیے ’میں میرے نہیں‘ بلکہ ’میں اپنے لکھا جائے‘ جیسا کہ میں میرے گھر میں میرے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہوگا، درست جملہ یوں ہوگا کہ میں اپنے گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔

14/02/2021

مجھ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو جاندار نہیں ہے لیکن سانس لیتی ہے؟
میں عجیب اچھنبے میں پڑ گیا کہ بھلا وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو جاندار نہ ہو لیکن سانس لیتی ہو؟
کافی دیر کے بعد اچانک قران کی یہ آیۃ ذہن میں کوندی:
"والصبح اذا تنفس" (تکویر آیۃ 18)
قسم ہے صبح کی جب وہ گہری سانس لے۔
میں نے جواب دیا کہ وہ صبح ہے جو جاندار تو نہیں لیکن سانس لیتی ہے۔
سائل نے تعریف کی لیکن میں الجھ گیا کہ صبح بھلا کیسے سانس لے سکتی ہے؟
تفاسیر وغیرہ کھول کر دیکھیں تو مفسرین نے تنفس کا ترجمہ زندہ ہوجانے سے کیا تھا کہ جیسے سانس لے کر انسان زندہ ہوتا ہے اسی طرح صبح بھی ہر دن زندہ ہوتی ہے کچھ نے صبح کو سانس لینا اور رات کو سانس چھوڑنا تعبیر کیا۔ بعض نے کہا کہ لیل سے مراد اسلام سے پہلے کی تاریکی تھی اور یہاں صبح سے مراد حضور ﷺ کی بعثت کا اجالا ہے۔
کل ایک تفسیر پڑھی تو حیران رہ گیا:
آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو اپنے اندر آکسیجن سمیٹ لیتے ہیں اور جب چھوڑتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں۔
اللہ نے قران میں صبح کی قسم کھائی اور فرمایا کہ جب وہ "گہری" سانس لے۔
عجیب معاملہ ہہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی سائنس نے "فوٹوسینتھیسس" کا عمل ایجاد کیا ہے جس میں درخت ایک غیر حسی طریقے سے ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر سمو کر آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں۔ اور یہ عمل صبح کے وقت سب سے زیادہ عروج پر ہوتا ہے یعنی دنیا میں سب سے زیادہ آکسیجن کی مقدار صبح کے وقت پائی جاتی ہے اور یہی دنیا کی گہری سانس ہوتی ہے۔ یہ عمل بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، دوپہر میں ہلکا ہوتا ہے، شام میں ختم ہوتا ہے اور رات میں الٹا ہوجاتا ہے کہ درخت آکسیجن کی بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرنے لگتے ہیں لیکن پھر اگلی صبح وہی عمل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔
میں شدید حیران ہوا کہ قران کی ایک چھوٹی سی آیت نے سائنس کا اتنا بڑا معمہ سینکڑوں سال پہلے کیسے بتا دیا تھا!
Copied

22/06/2020

ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اس کا اچھا بھلا کاروبار کچھ عرصے سے انتہائی مندے کا شکار ہو گیا ہے؛ تنگدستی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلئے اُدھار کی نوبت آگئی …
پسینے میں شرابور عبدالغفور نے پرانا عمارتی سامان بیچنے والی دکان پر سائیکل کو بریک لگائے؛ اس کی اکھڑی ہوئی سانس سے اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وہ طویل مسافت طے کر کے آیا ہے؛ سائیکل سے اُترتے ہی اس نے دکاندار کو تیس روپے دیتے ہوئے دس پرانی اینٹیں طلب کیں؛ دکاندار اپنے ملازم سے اینٹیں دینے کا کہہ کر خود اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔
عبدالغفور نے اینٹیں احتیاط سے کیرئیر کے ساتھ باندھیں اور سائیکل کو گھسیٹتا ہوا پیدل ہی روانہ ہوگیا۔
دکاندار اچانک کسی خیال سے چونکا اور اخبار ایک طرف رکھ کر عبدالغفور کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ شخص جو ایک عرصہ سے ہر دوسرے تیسرے دن دس اینٹیں خرید کر لے جاتا ہے ان کا کیا کرتا ہوگا؟
اتفاق سے اگلے ہی دن عبدالغفور اس کی دکان پر دس اینٹیں خریدنے کیلئے آ گیا؛ دکاندار کے تجسس نے اس سے سوال کرنے پر مجبور کر دیا؛ اس نے عبدالغفور کو بیٹھنے کیلئے اور ملازم لڑکے کو چائے لانے کیلئے کہا؛ عبدالغفور اس عزت افزائی پر حیران ہوتے ہوئے قریب ہی پڑے موہڑے پر بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے دکاندار کو دیکھنے لگا؛ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دکان دار نے گفتگو کا آغاز کیا:
”اگر برا نہ مانو تو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو تم ہر دوسرے تیسرے دن دس اینٹیں لے جاتے ہو ان کا کیا کرتے ہو؟“
عبدالغفور نے ذرا سے توقف کے بعد جھجکتے ہوئے جواب دیا:
”مجھے دراصل پندرہ سو اینٹوں کی ضرورت ہے جو میں اکٹھی خریدنے کے قابل نہیں ہوں؛ دیہاڑی دار مزدور ہوں، کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں، جس دن کام مل جاتا ہے اس دن میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کچھ اینٹیں خرید کر جمع کر لوں۔

”پندرہ سو اینٹیں کس مقصد کیلئے اکٹھی کر رہے ہو؟“
”گھر کے صحن کی دیواریں اونچی کر کے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے۔“
”وہ مبارک نصیحت کیا ہے؟“
”ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اس کا اچھا بھلا کاروبار کچھ عرصے سے انتہائی مندے کا شکار ہو گیا ہے؛ تنگدستی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلئے اُدھار کی نوبت آگئی ہے؛ نبی پاک نے اس شخص کی باتیں ہمدردی کے ساتھ سننے کے بعد مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھر کے صحن کی دیواریں اونچی کر لے، سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاء اللہ؛ وہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کوئی سوال کیے بغیر رخصت ہو گیا؛ کچھ ہی دن بعد اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انتہائی مسرت بھرے لہجے میں بتایا کہ اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے اور الحمدللہ قرض بھی اُتارنے کے قابل ہو گیا ہے؛ لیکن اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ صحن کی دیواروں کا رزق میں تنگی سے کیا تعلق تھا؛ نبی اکرم نے مسکراتے ہوئے اُسے سمجھایا کہ اُس کی گلی سے ایک یہودی گھوڑے پر سوار ہو کر گزرتا تھا؛ دیواریں چھوٹی ہونے کی وجہ سے صحن میں کام کاج کرتی اس کی بیوی پر یہودی کی نظریں پڑتی تھیں؛ اسی بے پردگی کی وجہ سے رزق میں تنگی آ رہی تھی؛ دیواریں اونچی ہونے سے بے پردگی ختم ہوگئی اور رزق میں برکت آ گئی۔

سبحان اللہ!!! دکاندار کے منہ سے بے ساختہ نکلا
”قصبے کے آخر میں برگد والی گلی میں میری ایک چھوٹی سی کھولی ہے۔ عبدالغفور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا؛ جہاں میں اپنی آٹھ اور سات سالہ دو بیٹیوں کے ساتھ رہتا ہوں؛ صحن کی دیواریں نہ ہونے کے برابر ہیں؛ میری کوشش ہے کہ اس سے پہلے کہ بیٹیاں بڑی ہوں صحن کی دیواریں مکمل کر کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کر لوں تاکہ بے پردگی کی نحوست سے بچا رہوں بہت نیک جزبہ ہے؛ کتنی اینٹیں حمع کر چکے ہو اب تک؟
عبدالغفور نے اُنگلیوں پر حساب لگا کر بتایاکہ تین سو سے کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں۔
چائے آ گئی تھی؛ دکاندار نے چائے پیالی میں انڈیلتے ہوئے سرگوشی کی: ”تم فکر نہ کرو؛ تمہارے صحن کی دیواریں مَیں مکمل کروا دوں گا۔“
”جی آپ؟“
”مجھے امید ہے کہ تم مجھے اس نیک کام سے نہیں روکو گے؛ اور میری یہ بھی خواہش ہے کہ تم میری دکان پر مستقل ملازم کی حیثیت سے کام کرو۔“ عبدالغفور کی آنکھوں میں نمی تیر گئی؛ وہ غیر ارادی طور پر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ..
رب تعالیٰ کتنا کریم ہے کہ نیک کام کے ارادے پر ہی اپنے بندے پر عنایات کے دروازے کھول دیتا ہے۔...

Address

GT Road, Near Ranezai CNG, Dargai Malakand
Malakand
2500000

Telephone

03429149103

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Expert Institute of I.T. Trainers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Expert Institute of I.T. Trainers:

Share