Fz mobile awan town

Fz mobile awan town Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fz mobile awan town, Mobile Phone Shop, Shop # 9, 10 Rizwan market Awan Town, Lahore.

06/09/2023

BEYOND S*X

S*x is not just s*x, s*x is more of soul ties. When you sleep with different guys or ladies, you tie your soul with theirs, their souls may come in different forms of darkness. Some of this souls could possibly destroy you or delay your Blessings.

Sometimes we act so strange, so weird because the body is full of different darkness of souls.
As you go chasing for girls lusting after girls, sleeping with different girls lusting after guys, keep this on your mind, s*x is not just s*x, but a soul ties.

Having s*x with different bodies means your body has different Shadows consist of different souls, you are not you, but different people in you.

No wonder many are suffering from marital delay; sometime in their life they slept with somebody who has an ancestral curse in their lineage. The demon is now in charge of your body. Marry 💍💏 you of in the spirit realm.

Now think of this, your partner is faithful to you, but you go sleeping around and come back sleep with your partner( him/ her), that means you transferring all shadows to your faithful partner. Don't you think you are heartless? , careless or selfish by doing that?

Let's think before we do things. No amount of condom can protect your soul . just pick one partner and make him/ her your King 👑🏰 / Queen 👑💍👸💅✊, have self control and do what is right for you. you won't go early to grave.

I feel like going deeper, but well how true it is?
Only mature people will understand what am saying.
1 Corinthians 6: 16 - 19. How has illicit s*x market been all these years ? Any profits?

God Bless 🙏 you all!

Anonymous.

خدانخواستہ اگر گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟ بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:- اگر آپ خود ...
06/09/2023

خدانخواستہ اگر گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟

بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:-
اگر آپ خود کو گاڑی میں پانی کے اندر پاتے ہیں تو گھبرائیں نہیں۔
1۔ دروازے کو دھکیلنے کی کوشش میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔
2۔ کھڑکی مت کھولیں، گاڑی میں داخل ہونے والا پانی آپ کو باہر نہیں نکلنے دے گا۔ اور اگر اندر داخل ہو گیا تو گاڑی مکمل پانی میں ڈوب جائے گی۔ شیشے اور دروازے بند رہنے دیں۔
3۔ سر کے پیچھے والے ہیڈ ریسٹ کو کھینچ کر اوپر کی سمت نکالیں۔
4۔ اس کی اسٹیل کی تیز نوک کا استعمال کریں اور پچھلی کھڑکی کے شیشے کو توڑ دیں جو ڈگی کے اوپر لگا ہوتا ہے۔
▶️ انجنیئرنگ اور ڈیزائن کے لحاظ سے کار پانی میں تیرتی ہے اور پچھلی کھڑکی ہمیشہ باہر نکلنے کی سمت ہو گی۔ جیسا کہ تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہ آپ کی جان بچا سکتا ہے۔
انجن بھاری ہوتا ہے اس لئے وہ حصہ پانی میں ڈوب جائے گا مگر ٹائروں کی ہوا کے باعث تیہہ تک نہیں جائے گا۔ پچھلے ٹائروں کی وجہ سے پچھلا حصہ تیرتا رہے گا اور پانی سے باہر رہے گا۔ گاڑی ڈوبے گی تب جب پانی اس کے اندر جا کر اسے بھاری کر دے گا۔
اپنے حواس ٹھیک رکھیں۔ پینک مت ہوں۔ دماغ اور سائنس کا استعمال کریں۔ تیرنا نہیں آتا تو بھی کوئی بات نہیں۔ پچھلی سیٹ میں سالڈ فوم ہوتا ہے وہ فلوٹ کر سکتی ہے۔ اسے آرام سے نکالیں اور پچھلے شیشے سے باہر نکال کر کچھ سواریوں کو اسے پکڑ کر پانی پر تیرنے دیں اس کے اوپر نہ چڑھیں بلکہ سائیڈوں پکڑ کر تیریں۔ کوئی چھوٹا بچہ البتہ بٹھا دیں اور اسے پکڑ کر رکھیں۔ کشتی کی طرح ہاتھوں سے پانی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کنارے کی سمت بڑھیں۔ دوسرا سپیئر وہیل یا سٹپنی نکال کر اس کی مدد سے بھی تیرا جا سکتا ہے۔ پچھلی سیٹ کی بیک بھی آرام سے اتر سکتی ہے اسے بھی تیرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
زندگی بچانے کے لئے اعصاب اور ڈر پر قابو پانے سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ اپنی گاڑی میں لگی اور پڑی ہر چیز پر ریسرچ کیا کریں۔ یہ ریسرچ آپ کی جان بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
انجن کی جانب سے اگر پانی اندر آنا شروع ہو تو فوری طور پر نکلنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں گاڑی بنانے والے نے ہر سوراخ سیل کیا ہوتا ہے۔ ہمارے مکینک ان کو کھول دیتے ہیں لاپرواہی سے۔ جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔ احتیاط کریں۔ چیک کرتے رہا کریں اپنی گاڑی کو۔
اللہ پاک آپ اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں۔

16/08/2023
21/04/2023

.


06/07/2022

ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ
کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ شخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو،
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔

ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔

خدا ہم سب کو ہدایت دے۔۔ آمین..🤲

05/06/2022
18/05/2022

Everyone's character is in his own hands to mould into the right direction or the wrong. Our activities determine whole of our future life.
Activities, if assist us to be good, are " Right " , and if leads us astray are " wrong ".

✨ George Eliot ✨

01/05/2022

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پولیٹیکل پولرائیزیشن اب عدم برداشت کی صورت ہم سب کے گھروں میں اور نجی تعلقات میں آ گھسی ہے۔ سیاسی تفریق اب دلوں میں تفریق لانے لگی ہے۔ جب کہ سیاست بنیادی طور پر انسانوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے اور انہیں قریب لانے کا نام ہے۔
ایسی سیاست جو نفرتیں پیدا کرے، دوریاں لے آئے، وہ کچھ بھی ہو، سیاست نہیں۔
آپس میں گفتگو کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ باہمی احترام نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ ایسے ایسے سنجیدہ احباب کی زباں بگڑتے دیکھائی پڑتی ہے کہ حیرت اور رنج کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
درجنوں دوست و احباب ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر انفرینڈ کر چکے ھیں، گھریلو تعلقات بھی باہمی تفریق اور بے ادبی کی صورتحال سے دو چار ھیں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم ایک ایسی صورت حال کی وجہ سے آپس میں بدظن ہوں جس میں براہِ راست ہمارا کوئی ہاتھ بھی نہیں۔

ہمیں اپنے جیسے عام انسانوں کی زندگیوں کو سہل بنانا اور انکو ہنستا بستا دیکھنا چاہئیے،
دین کے بتائے راستے کو اپنائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ لیڈروں کیوجہ سے دین اور ایمان کو ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔ حق اور باطل میں فرق سمجھیں، کسی پر اپنی بات نا تھوپیں اور سنی سنائی باتوں کو پھیلانے سے پرھیز کریں پہلے تحقیق کریں۔

افواھیں پھیلانے والے عناصر کا حصہ نا بنیں، یہ مفاد پرست جھوٹ پر مبنی تصاویر ویڈیوز پوسٹیں ہماری اندھی تقلید کا سہارہ لیتے ہوئے ہمارے ھی ذریعے سے معاشرے میں پھیلا رہے ہیں، جسکی وجہ سے عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔

پیارو محبت کو پروان چڑھائیں اچھے معاشرے کے مہذب شہری بنے۔
آئیے عہد کریں کہ حالات کی آندھی کو اپنے اوپر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے۔

ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہیں گے۔ایک قوم بنے رھیں گے، باہمی احترام کے ساتھ مکالمہ کرتے رہیں گے، آگے بڑھتے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ھدایت عطا فرمائے،
آمین

29/04/2022

ہم کہاں بھٹک گئے!!-

علی ہلال

۔۔میں نے جیسے ہی ان تصاویر کو دیکھا مجھے بہت بڑا دھچکا لگا ۔ میرے دل کی دھڑکنیں ایک لمحے کو رک گئیں ۔ میں ان تصاویر کو دیکھتا رہ گیا ۔ میں سوچتا چلا گیا ۔ مجھے عربوں کے عقال (سرپرباندھنے والی رسی) غطرہ (رومال) اور البشت (جبہ) سے بچپن سے محبت ہے ۔ میرے لئے اس لباس میں ہمیشہ سے ایک سرور پنہاں رہا ہے ۔ ایک راز ۔ ایک معمہ ۔ ایک نہ حل ہونے والی گھتی ۔ ایک دلچسپی پوشیدہ رہی ہے۔
مجھے عرب شاہوں اور شہزادوں کی زندگی سے متعلق تصاویر دیکھنے اور ان کی آپ بیتیاں ان کی زبان میں پڑھنے کا جنون ہے ۔ مجھے شاہی محلات کے بارے جاننے کا شوق ہے ۔ مجھے ان کی دعوتوں ،ان کے کھانوں اوران کے مزاج اور کھیلوں کے بارے جاننے کی خواہش رہتی ہے ۔ میں عراق سے مراکش تک کے شاہی خاندانوں کے رشتوں اور پسند وناپسند کے بارے کھوج لگاتا ہوں ۔ مجھے ان تصاویر سے فرحت میسر آتی ہے ۔ میرا مائنڈ فریش ہوجاتا ہے ۔

مگر اس مرتبہ کی ان تصاویر نے مجھے رلاد یا ۔ مجھے صدمہ دیا ۔ یہ تصاویر کل یعنی 28 اپریل کی ہیں ۔ کل ترک صدر رجب طیب اردوغان سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جدہ پہنچے ۔جہاں ان کے استقبال کے لئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خود کھڑے تھے ۔ ان کے ساتھ گورنر ،وزیرداخلہ اور متعدد اہم سرکاری ذمہ داران موجود تھے ۔ دنیا کے طاقتور ترین ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر کو ریسیو کیا اور انہیں جدہ کے قصرالسلام لے گئے ۔جہاں دروازے پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ان کے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔
ترک صدر ایک بھاری وفد کے ساتھ سعودی عرب کے دوروزہ دورے پر ہیں ۔ ان کے ساتھ وزیرداخلہ ،وزیرقانون ،وزیردفاع، وزیرمالیات، وزیرسیاحت،وزیرتجارت، وزیرصحت، انٹیلی جنس چیف اور متعدد مشیر وپارلیمانی ارکان ہیں ۔
مشرق وسطی کے امیر ممالک میں سربراہ مملکت کی حیثیت کا اندازہ ان کے وفد کے ارکان کی تعداد سے لگایا جاتا ہے ۔ سعودی فرماں 2017 میں روس کے سرکاری دورے پر گئے تو اپنے ساتھ 1500 رکنی وفد لے گئے ۔ ماسکو کے تمام ہوٹل ان کے لئے بک کردئے گئے ۔
2015 میں چھٹیاں منانے فرانس گئے تو اپنے ساتھ ایک ہزار رکنی وفد لے گئے ۔
یہ چیزیں سفارتی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں ۔ یہ پروٹوکول ہے ۔ یہ تمھاری اوقات ظاہر کرتی ہیں ۔ مگر ایک ہم ہیں کہ سیاسی مخالف کے ساتھ ہمارا رویہ معاندانہ ہی ہوتا ہے ۔ وزیراعظم کے جانے سے قبل ہمارے میڈیا پر اس دورے کے نتائج پر بحث کے بجائے وفد کے ارکان کی تعداد کا معاملہ سب سے اہم ترین ایشو کے طورپر زیربحث رہا ۔
اور وفد کے پہنچنے سے قبل ہی ہمارے اورسیز محسن لندن سے سعودی عرب پہنچ کر احتجاج کرنے اور غل غپاڑہ کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے ۔

دوسری جانب ترک صدر سکون سے سعودی عرب پہنچ گئے ۔ سعودی فرمان روا نے ترک صدر کو شاندار شاہانہ عشائیہ دیا اوردونوں سربراہان مملکت نے انتہائی برادرانہ ماحول میں عربی قہوہ نوش کیا اور بات چیت کی ۔
شاہی محل کی خوبصورت راہداری میں چلتے ہوئے 67 سالہ ترک صدر نے 87 سالہ سعودی بادشاہ کو سہارا دینے کی بھی کوشش کی جسے دواسلامی ممالک کے سربراہوں کے درمیان محبت والفت کی ایک یادگار مثال کے طورپر پیش کیا گیا ۔

سعودی میڈیا اس وقت مکمل طورپر ترک صدر کے دورے کی خبروں اورتصاویر سے بھرا ہوا ہے ۔چینلز ترک صدر کے شاہ سلمان کے ساتھ تصاویر اورکلپس دکھا رہے ہیں ۔اخبارات کے درمیان اچھی تصاویر کا مقابلہ ہے ۔
دوسری جانب ہمارے وزیراعظم بھی کل اسی تاریخ پر سعودی عرب پہنچ گئے ۔کل مسجد نبوی میں اپنے پاکستانی شاہینوں نے جس انداز سے اپنے حکومتی وفد اوراپنے وزیراعظم کا استقبال کیا ہے اس بابت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

میں پٹواری اور یوتھی کی بات نہیں کررہا مگر بحیثیت ایک پاکستانی ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں ۔؟ ہم نے گرین پاسپورٹ کو عزت دینے کی بات کی تھی ۔آج کتنی عزت ہے پاسپورٹ کی؟ ہم کیا کرنے جارہے تھے ۔ہمیں کیا خواب دکھا ئے گئے تھے اور یہ ہم کہاں آکر بھٹک گئے ۔

کل جس وقت سعودی عرب کی شاہی فورسز کے چاق وچوبند ارکان ترک صدر کے استقبال کے لئے اپنے سینوں کے تمغے درست کررہے تھے ۔ عین اسی وقت مسجد نبوی کے صحن میں سعودی پولیس ہمارے پاکستانیوں کو انسان بنانے کے لئے دوڑرہی تھیں ۔
وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان شہریوں کو روضہ رسول کی بے حرمتی سے روک رہے تھے ۔ امام مسجد نبوی نے نماز میں ہماری وجہ سے وہی مخصوص آیات تلاوت کیں جن میں آواز نیچے رکھنے کی تاکید ہے ۔جس وقت یہ تلاوت ہورہی تھی لاکھوں نمازی سمجھ رہے تھے کہ اس تلاوت کی وجہ کیا بنی ۔ کس ملک کے باشندے مخاطب ہیں ۔ امام نے اس عمل کی مذمت بھی کی ۔ ہمیں دوستوں نے بھی دیکھ لیا اور دشمنوں نے بھی سن لیا ۔

یہی وجہ تھی کہ سعودی میڈیا نے پاکستانی وزیراعظم کے دورے کو کوئی کوریج نہیں دیا ۔ افسوس یہ ہے کہ سعودی عرب میں ہمارے دو ملین مزدور کام کرکے گھر والوں کا پیٹ بھر رہے ہیں ۔ یہ لوگ وہاں کی سوسائٹی کے سب سے کم تر لوگ ہیں ۔

یہ وہاں کی عالیشان طرز زندگی افورڈ نہیں کرسکتے ۔ یہ پیناڈول بھی پاکستان سے منگواتے ہیں ۔ یہ لوگ جاتے وقت اپنے ساتھ سوئی دھاگہ اورسرمہ تک پاکستان سے خرید کر لیجاتے ہیں ۔ یہ وہاں کے کسی ڈھنگ کے مقھی اورکیفے میں قہوہ پینے کی بھی اوقات نہیں رکھتے ۔ایسے میں اگر یہ وہاں سیاسی فریق بن کر نعرے بازی کرتے پھرے اور حرم وروضہ رسول کے تقدس کو پامال کریں گے تو ان پر پابندی لگے گی ۔ انہیں نکال دیا جائے گا ۔
پھر ان کے پاس یہاں پاکستان میں درختوں سے لٹک کر اورگاڑیوں کے نیچے لیٹ کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے کے سوا کرنے کو کچھ بھی نہیں رہے گا ۔ یہ ہم سب کا نقصان ہے ۔قومی المیہ ہے ۔ اجتماعی خسارہ ہے ۔

آپ اختلاف کریں مگر انسانیت سے باہر نہ ہو ۔2013 کے بعد پاکستان میں سیاسی سطح پر اختلاف کا جو ماحول بنا ہے اس نے پاکستان اورپاکستانیوں کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔یہ ایسا اخلاق باختہ عمل ہے کہ ہمارا وزیراعظم عمران خان ہو۔ شہباز شریف ہو۔ نواز شریف ہو۔ زرداری ہو یا کوئی اور۔
ہمارے پرائم منسٹرز کو اب وہی سیکورٹی دی جائے گی جو ایک خودکش بمبار کی انٹیلی جنس اطلاع کے بعد دی جاتی ہے ۔ ہم دنیا بھر کے لئے خطرناک قوم بن گئے ہیں ۔ ہم خودکش بمبار ہیں ۔ اخلاقیات کے بمبار ۔ انسانیت کے بمبار ۔ اس بمباری والے مزاج نے ہماری عزت کو بھسم کردیا ہے ۔ہم دو ٹکے کے بھی نہیں رہے ہیں ۔

یہ وہ لائنسس ہے جو ہر ٹیلیویژن رکھنے والا گھر سنبھال کر پلاسٹک کوٹنگ میں رکھتا تھا۔اس لائنسس کی سالانہ فیس غالباً 200 رو...
24/04/2022

یہ وہ لائنسس ہے جو ہر ٹیلیویژن رکھنے والا گھر سنبھال کر پلاسٹک کوٹنگ میں رکھتا تھا۔
اس لائنسس کی سالانہ فیس غالباً 200 روپے ہوتی تھی۔
سرکاری نمائندے ہر ماہ باقاعدگی سے یہ لائنسس چیک کرنے آتے تھے۔
لائنسس کی تاریخ ایکسپائیر ہوجائے تو دوسرا بنوانا پڑتا تھا۔
بالفرض اگر آپ نے دوسرا لائنسس نہ بنوایا ہوتا تو چیکنگ والے دن آپ کو چھت پر چڑھ کر اینٹینا اتار کر چھپانا پڑتا تھا اور ٹی وی کو اسٹور میں بند کرنا پڑتا تھا
تاکہ نمائندوں کو کہہ سکیں کہ ہمارے گھر ٹی وی نہیں ہے۔
بعد میں پی ٹی وی والے بھی سمجھدار ہوگئے، اس لائنسس کی فیس بجلی کے بلوں میں لگا کر بھیجتے ہیں۔
Via: Pakistan Old Memories.

نیند کے دوران مفلوج ہونا: جنات کا سایہ یا پھر ایک بیماری؟صبح دوران نیند کچھ لوگ محسوس کرتے ہے کہ انکے سینے پر کوئی بھاری...
22/04/2022

نیند کے دوران مفلوج ہونا: جنات کا سایہ یا پھر ایک بیماری؟

صبح دوران نیند کچھ لوگ محسوس کرتے ہے کہ انکے سینے پر کوئی بھاری مخلوق چڑھ کردبوچ رہی ہے، وہ گلہ دبا کے
مارنا چاہتی ہے، اس مخلوق سے خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اور پھر کچھ مزاحمت کے بعد بالآخر میں کامیاب ہوجاتاہے، اور وہ مخلوق ہوا میں کہیں اڑ کر غائب ہوجاتی ہے، جب انسان اپنی آنکھیں کھولتا ہے۔اس وقت اسے جسم مفلوج محسوس ہوتا ہے۔ پھر انسان سوچتا ہےکہ جس سے میں نے مزاحمت کی کیا وہ بھوت کا سایہ تھا؟ یا محض ڈراؤنا خواب یا پھر کچھ اور؟
گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا بہت کم لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ صبح اٹھنے سے پہلے دوران نیند کچھ ایسی ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں بھی اپنا جسم مکمل مفلوج محسوس ہوتا ہے، اوراس کیفیت کے دوران ان کے جسم کے تمام مسلز حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مفلوج ہوجاتے ہیں،اس کے علاوہ اکثر لوگوں کو دوران نیند اپنے سینے پر بہت بھاری پن محسوس ہونے لگتا ہے، اور اپنے بستر سے اٹھنے کی ہمت تک نہیں ہوتی۔

یہ عمل دراصل انگریزی میں ’سلیپ پیرالیسز‘ (Sleep Paralysis) کہلاتا ہے، یہ دوران نیند ایک انتہائی خوفناک قسم کا تجربہ ہوتا ہے، جو ایک عام کیفیت یا عمل ہے، اس عمل کے دوران انسان خود کو ہوش میں تو محسوس کرتا ہے، مگر حرکت نہیں کرپاتا۔

اس عمل کو عام لوگ متاثرہ شخص پر جنات کا اثر سمجھتے ہیں، لیکن در حقیقت یہ ایک بیماری ہے۔

سلیپ پیرالیسز اکثر یا تو نیند میں ہوتا ہے، یا پھر جب آدمی نیند سے بیدار ہونے والا ہوتا ہے اس وقت ہوتا ہے،اس کیفیت کے دوران آدمی اپنے جسم پر ایک شدید قسم کا دباؤ محسوس کرتا ہے، اسے لگتا ہے جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو، یا پھر ایک بہت خوفناک شکل کی مخلوق اس کے جسم پر چڑھ بیٹھی ہے، جو اس پر مختلف طریقوں سے حملے کر رہی ہے، لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک ہی ہوتا، جب تک اس شخص کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، جیسے ہی وہ آنکھیں کھولتا ہے، سب کچھ بدل جاتا ہے، یہ کیفیت چند سیکنڈز سے لیکر چند منٹ تک رہ سکتی ہے، بعض مرتبہ کچھ طویل بھی ہوجاتی ہے.
سلیپ پیرالیسز کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے کوئی صدمہ، اضطرابی کیفیت، اور ذہنی دباؤ، اکثر ان وجوہات کی بناء پر سلیپ پیرالیسز کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق دوران نیند انسانی جسم مختلف مراحل سے گزرتا ہے، نیند کے ان مراحل میں ایک مرحلہ ’آر آئی ایم‘ کہلاتا ہے، جس میں تقریبا ڈیڑھ سے 2 گھنٹے کے بعد خواب آنا شروع ہوجاتے ہیں، اس عمل کے دوران آدمی بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے اور اپنے دماغ میں ہونے والے واقعات کو دیکھ رہا ہوتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کے اس عمل کے دوران قدرتی طور پر ہمارا جسم مفلوج ہوجاتا ہے، تاکہ دوران خواب ہم اپنے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں، جسم کا مفلوج ہونا قدرتی ہے، جو ہمارے لیے ایک تحفہ بھی ہے۔

مگر جب آدمی (آر ای ایم: ریپڈ آئی موومنٹ) نیند کے دوران خواب بینی کے مرحلے کے ختم ہونے سے پہلے بیدار ہوجاتا ہے تو اس وقت سلیپ پیرالیسز ہوتا ہے.

ماہرین کے مطابق ’آر ای ایم: ریپڈ آئی موومنٹ‘ نیند کی اس اسٹیج کو کہتے ہیں جب آدمی کا دماغ ایکٹو ہوتا ہے، اور خواب آنے لگتے ہیں، ریپڈ آئی موومنٹ کے دوران ہمارے جسم کے مسلز کی حرکت بند ہو جاتی ہے، اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ دوران خواب آدمی خود کو نقصان نہ پہنچائے، جب آدمی کا دماغ اس ریپڈ آئی موومنٹ فیز سے پہلے ہی نکل آتا ہے تو سلیپ پیرالیسز ہوجاتا ہے، لیکن اس وقت تک جسم حرکت نہیں کرپاتا، بہت سارے افراد دوران سلیپ پیرالیسز فریب خیال (ہلوسنشن) محسوس کرتے ہیں، اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آدمی کا دماغ ابھی تک خواب کی حالت میں ہوتا ہے۔
آدمی دوران سلیپ پیرالیسز عجیب و غریب شکلیں وغیرہ دیکھتا ہے، دوران سلیپ پیرالیسز فریب خیال کی کئی اقسام ہوتی ہیں، جن میں سے ایک انٹرووڈر فنومینن (مخل مظہر ) کہلاتا ہے، جس میں سلیپ پیرالیسز، محسوس کرنے والا آدمی کچھ عجیب و غریب مخلوق کو اپنے گرد اپنے کمرے میں محسوس کرتا ہے، دوسری طرح فریب خیال کو انکیوبس (بھیانک سپنا) کہتے ہیں، جس میں آدمی اپنے جسم پہ کوئی عجیب مخلوق بیٹھی ہوئی محسوس کرتا ہے، اسے لگتا ہے کہ وہ مخلوق اس کا گلہ دبا رہی ہوتی ہے، یا اس کے جسم کو زور سے جکڑ رہی ہے، اسی وجہ کئی منٹ تک آدمی اٹھ نہیں پاتا۔

یہ کیفیت زیادہ تر 10 سے 25 سال تک کی عمر کے افراد میں ہوتی ہے، ڈاکٹر کے نزدیک سلیپ پیرالیسز کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے، لیکن اس کیفیت کی شدت کی صورت میں مریض کو ڈاکٹر اینٹی ڈپریشن کی میڈیسن دی جاتی ہے، تاہم مختلف ماہرین صحت اس کا علاج اپنے حساب سے مختلف طریقوں سے کرتے ہیں، اس کے لیے cognitive تھراپی ٹیکنیکس بھی استعمال کی جاتی ہیں، جن سے آدمی اپنی نیند میں اپنی سلیپ پیرالیسز پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
میری دعا ہے اللّٰہ پاک سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔اور بیماریوں سے محفوظ رکھے آمین۔

کڈ کے ویکھاو😜یونیورسٹی میں پنجابی زبان کی کلاس ہو رہی تھی پروفیسر صاحب طلبا اور طلبات کو بتا رہے تھے کہ پنجابی زبان کے ہ...
15/04/2022

کڈ کے ویکھاو😜

یونیورسٹی میں پنجابی زبان کی کلاس ہو رہی تھی پروفیسر صاحب طلبا اور طلبات کو بتا رہے تھے کہ پنجابی زبان کے ہر لفظ کے دو معنی نکالے جا سکتے ہیں اس بات پر ایک لڑکی کھڑی ہوگی اور پروفیسر صاحب سے بولی "سر کڈ کے ویکھاو " پروفیسر صاحب ہنس کر بولے "ایدے وی دو مطلب نیں"
ڈی جی آئی ایس پی آر کی کل کی میڈیا بریفنگ کے بعد سارے اینکرز صحافی اور پاکستانی سوشل میڈیا لفظ مداخلت اور سازش کا فرق ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے 😜😜😜😜
عزیزخان ایڈوکیٹ

Address

Shop# 9, 10 Rizwan Market Awan Town
Lahore
0423

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fz mobile awan town posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share