31/05/2026
ایک ڈاکٹر کا عورت کے ساتھ نازیبا خرکت۔
پانچ سال کی MBBS پھر ہاؤس جاب,پھر پانچ سال کی سخت ترین ٹریننگ یعنی FCPS
راتوں کی نیند، عیدیں، خوشیاں، گھر والے، اپنی زندگی سب قربان کرنے کے بعد آخر میں کیا ملا؟
ایک ان پڑھ اور جاہل صحافی کا الزام کہ ڈاکٹر کا عورت کے ساتھ نازیبا خرکت۔
پہلی انکوائری رپورٹ میں ہی الزام جھوٹا ثابت ہوگیا، مگر الزام لگانے والا خود انکوائری میں آنے سے انکاری ہوگیا۔ کبھی بہانے، کبھی نئی شرطیں،آخر میں کہنے لگا کہ انکوائری اسسٹنٹ کمشنر کرے تب جواب دوں گا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں طب کو سمجھنے کے بجائے ہر شخص خود کو ڈاکٹر سمجھتا ہے۔
ایمرجنسی میں ایک بے ہوش مریضہ آتی ہے، ڈاکٹر اس کا GCS چیک کرتا ہے تاکہ معلوم ہوسکے مریض واقعی کس حالت میں ہے اور فوری کیا کرنا ہے۔ اس دوران sternum rub کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں ایک standard medical examination ہے۔
مگر کسی جاہل نے ویڈیو بنا کر یہ تاثر دیا کہ ڈاکٹر نے نازیبا حرکت کی ہے۔ پھر سوشل میڈیا ٹرائل، FIR کے مطالبے، اور انکوائریاں شروع۔
یہ وہ ماحول ہے جہاں ڈاکٹر اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
آج ہر ڈاکٹر ڈیوٹی سے زیادہ اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں کسی جاہل کی موبائل ویڈیو اس کی پوری زندگی برباد نہ کردے۔
اسی لیے آج اکثریت کو اس ملک سے ہجرت ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔ 🤦💔