28/08/2026
سفید چادر کا بھلا ہو جس نے سب کچھ چھپا رکھا ہے۔
ویسے تو پورا ملک کی سفید چادر کی اوٹ میں ہے۔
جس کی بڑے ذمہ دار یہ سرکاری افسران ہے۔
جو چادر کی اوٹ میں سب کچھ ہڑپ کر جاتے اور عوام کو چمکتی دمکتی چادر دیکھائی جا رہی،لیکن راز کھل بھی رہےہیں۔ جس کے بعد معاملہ ٹھیکیداروں اور کلرکوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جس انکوائری پر وزیر اعلی صاحبہ بھی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ ایکشن ہو گیا۔
مگر جس نے مال کھایا ہوتا ہے اس بڑے سے کبھی پوچھ گچھ نہیں ہوتی اور سفید چادر کی اوٹ میں سب دھندہ ہو رہا ہے۔
یہ ایشیاء کے ایک بڑے ہسپتال کا بیڈ ہے۔۔
سالانہ فنڈز اربوں میں اور بیڈز کا حال آپ کے سامنے ہے۔
یہ لاہور کے میو ہسپتال کا بیڈ ہے۔۔
سرکاری ہسپتالوں میں محض دیکھاوا ہو رہا ہے۔
نہ بیڈز ٹھیک ہیں، نہ صفائی کا نظام بہتر ہے، نہ دوائی مل رہی ہے، کینٹنوں پر مضر صحت کھانا بیچا جا رہا ہے، پارکنگ مافیا کی آمجگاہیں بن چکی ہیں۔۔۔
ڈاکٹروں کو اپنی سیاست سے فرصت ہی نہیں ہے۔۔
مگر کم ظرفی یہ ہے کہ سب ذمہ داران خوش ہیں۔
غالب صاحب درست فرما گئے ہیں
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔