29/07/2026
محکمہ صحت کے سینٹرل پروکیورمنٹ فار پنجاب منصوبہ کے آغاز ہی میں تنازع پر تحریک التوا کار پنجاب اسمبلی میں جمع
*خبریں کی خبر پر تحریک التواء کار پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نرگس فیض ملک نے جمع کرائی*
ایک ہی حکومت کے دو صحت کے محکموں نے ایک ہی طبی سامان کے لیے نہ صرف الگ الگ تکنیکی معیار اپنائے،، متن
ایک ہی مصنوعات کو ایک محکمہ نے نااہل قرار دیا۔۔متن
دوسرے محکمہ نے اسی کمپنی کو اہل قرار دے کر کروڑوں روپے کے ٹھیکے دے دیے۔متن
اس انکشاف نے سرکاری خریداری کے نظام، شفافیت اور ٹیکنیکل ایویلیوایشن کے پورے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔متن
سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے من پسند کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اہل کمپنیوں کو غیر شفاف اور امتیازی بنیادوں پر مقابلے سے باہر کیا۔۔متن
جس کے نتیجے میں متعدد ٹینڈرز میں صرف ایک کمپنی کو تکنیکی طور پر اہل قرار دے کر مسابقتی عمل عملاً ختم کر دیا۔۔متن
درخواست کے مطابق آئی وی کینولا 20G، 22G اور 18G کی خریداری میں ایک کمپنی کو واحد اہل کمپنی قرار دیا گیا۔۔متن
حالانکہ اسی کمپنی کو اس سے قبل محکمہ صحت و آبادی پنجاب اسی نوعیت کی خریداری میں تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر چکا تھا۔۔متن
حیران کن طور پر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے یہی طبی سامان محکمہ صحت و آبادی کی نسبت تقریباً دوگنا قیمت پر خریدا۔۔متن
جس سے صرف آئی وی کینولا کی خریداری میں ہی قومی خزانے کو 30 کروڑ 45 لاکھ 55 ہزار 555 روپے سے زائد کے ممکنہ نقصان کا دعویٰ کیا گیا۔۔متن
درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ پیپر ٹیپ کی خریداری میں بھی غیر معمولی اور سخت تکنیکی شرائط شامل کی گئیں۔متن
تقریباً تمام کمپنیوں کو نااہل بنایا گیا اور صرف ایک کمپنی کو اہل قرار دیا گیا۔۔متن
جس سے اس ایک آئٹم میں بھی 35 کروڑ روپے سے زائد اضافی مالی بوجھ سرکاری خزانے پر ڈالنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔متن
اگر خریداری کا عمل شفاف، یکساں اور کھلے مقابلے کی بنیاد پر کیا جاتا تو صرف ان دو اشیا کی خریداری میں ہی 65 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ممکن تھی۔متن
دو محکموں کی جانب سے ایک ہی مصنوعات کے لیے مختلف معیار اور مختلف نرخ اختیار کرنا نہ صرف پبلک پروکیورمنٹ قوانین بلکہ شفافیت، مساوی مواقع اور "ویلیو فار منی" کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔متن