Uzair Mobile & Repairing Center

Uzair Mobile & Repairing Center deals in mobile hardware & software all kind of mobile & laptop repairing accessories

06/08/2026
03/06/2026

السلام علیکم دوستو!

عید الاضحیٰ سے قبل ایک صاحب میرے پاس موبائل ریپئر کروانے آئے۔ کام سے مطمئن ہوئے تو کہنے لگے کہ میرے بیٹے نے حال ہی میں موبائل ریپئرنگ کا کورس کیا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اسے چیک کر لیں، شاید اس کے لیے کوئی موقع بن جائے۔

عید کے بعد وہ نوجوان میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کیا سیکھا ہے؟ اس نے بتایا کہ اس نے دو ماہ کا کورس کیا ہے۔ یہاں میں کسی ادارے کا نام نہیں لوں گا کیونکہ میں کسی کے رزق کا دشمن نہیں ہوں، لیکن ایک حقیقت ضرور بیان کرنا چاہتا ہوں کہ دو ماہ کا کورس ڈپلومہ نہیں ہوتا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض ادارے مختصر کورسز کو "ڈپلومہ" کا نام دے کر والدین کو بڑی بڑی امیدیں دلا دیتے ہیں۔

میں نے اس نوجوان سے چند بنیادی سوالات پوچھے۔ چارجنگ سرکٹ کے بنیادی وولٹیجز کے بارے میں پوچھا تو جواب نہ دے سکا۔ فون کے ری سٹارٹ ہونے کی مختلف وجوہات پوچھی گئیں تو ہر مسئلے کا حل صرف آئی سی ریبالنگ بتایا۔ حالانکہ موبائل ریپئرنگ صرف آئی سی کے گرد نہیں گھومتی، پورے سرکٹ، پاور لائنز، فلٹرز، ریزسٹنس، کپیسٹرز اور دیگر بے شمار پرزے بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔

میں نے اسے ایک سادہ سا چارجنگ جیک تبدیل کرنے کا کام دیا، وہ بھی نہ کر سکا۔ پھر آئی سی اتارنے کو کہا تو وہ بھی نہ اتار سکا۔ سوال یہ ہے کہ جس نوجوان سے بنیادی کام نہیں ہو رہے، وہ مارکیٹ میں مدربورڈ لیول پر کام کیسے کرے گا؟

سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوا جب میں نے اس کے والد کی آنکھوں میں مایوسی دیکھی۔ انہوں نے اپنے بچے کے مستقبل کی امید میں ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے خرچ کیے تھے، لیکن بدلے میں صرف ایک سرٹیفکیٹ ملا، مہارت نہیں۔

میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ کسی بھی ادارے میں فیس جمع کروانے سے پہلے وہاں کے سابق طلبہ سے ضرور معلوم کریں کہ مارکیٹ میں ان کی کارکردگی اور قدر کیا ہے۔ صرف خوبصورت اشتہارات اور بڑے دعووں پر فیصلہ نہ کریں۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بچوں کی بنیادی تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ کم از کم میٹرک تک تعلیم ہونی چاہیے تاکہ انہیں اخلاق، گفتگو، ذمہ داری اور کسٹمر ڈیلنگ کا شعور حاصل ہو۔ ساتھ ہی نوجوانوں کو محنت اور مشقت کی اہمیت کا بھی احساس ہونا چاہیے تاکہ وہ والدین کی کمائی کی قدر جان سکیں۔

موبائل ریپئرنگ ایک ہنر ہے، اور ہنر صرف سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ مسلسل مشق، وقت، محنت اور عملی تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔

میری تمام ٹریننگ انسٹیٹیوٹس سے بھی گزارش ہے کہ خدارا عوام پر رحم کریں۔ اگر فیس پوری لیتے ہیں تو تربیت بھی پوری دیں۔ نوجوانوں کو خواب نہیں، مہارت دیں۔ کیونکہ جب ایک بچہ ناکام ہوتا ہے تو صرف اس کا وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ اس کے والدین کی محنت کی کمائی اور امیدیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دیانت داری کے ساتھ علم اور ہنر منتقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔























بیٹا! موبائل ریپیئرنگ کوئی کھیل نہیں، میری زندگی کی کہانی سن لوالسلام علیکم دوستواکثر نوجوان بھائی فون کرتے ہیں یا میسج ...
01/06/2026

بیٹا! موبائل ریپیئرنگ کوئی کھیل نہیں، میری زندگی کی کہانی سن لو

السلام علیکم دوستو

اکثر نوجوان بھائی فون کرتے ہیں یا میسج کرتے ہیں:

"استاد جی، ہمیں موبائل ریپیئرنگ سکھا دیں۔"

میں ان سب سے ایک بات کہتا ہوں کہ پہلے میری کہانی سن لو، پھر فیصلہ کرنا کہ یہ فیلڈ کتنی آسان یا مشکل ہے۔

میرا نام عبدالودود ہے۔ آج لوگ مجھے "استاد جی" کہتے ہیں تو اس کے پیچھے برسوں کی محنت، استادوں کی دعائیں اور والدین کی تربیت شامل ہے۔

بچپن میں ہمارے سکول میں "چوب کاری" کا پیریڈ ہوتا تھا۔ اس وقت شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ معمولی سا مضمون مستقبل میں کتنی اہمیت رکھے گا۔ ہم لکڑی کے اوزاروں کی ڈرائنگ بناتے تھے، پیمائش کرتے تھے، زاویے نکالتے تھے اور ہاتھ سے کام کرنے کی عادت سیکھتے تھے۔ وہیں سے دماغ میں تکنیکی سوچ پیدا ہونا شروع ہوئی۔

وقت گزرا تو حالات کے مطابق محنت مزدوری بھی کی۔ میں نے سریے کا کام کیا، بجلی کے کام کرنے والوں کے ساتھ مزدوری کی، سڑک کے کنارے بیٹھ کر سریہ سیدھا کیا، اڑیاں چلا چلا کر دن گزارے۔ دھوپ، گرمی اور جسمانی مشقت میری زندگی کا حصہ تھی۔

ایک دن میرے والد صاحب نے میری حالت دیکھی۔ سارا دن کی محنت کے بعد جسم تھک جاتا تھا، کپڑے پسینے سے بھر جاتے تھے اور صحت بھی متاثر ہونے لگی تھی۔

انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور بڑی محبت سے کہا:

"بیٹا، سارا دن دھوپ میں محنت کرتے کرتے تھک جاتے ہو۔ کوئی ہنر سیکھ لو۔ ہنر انسان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ عزت کی روٹی بھی ملتی ہے اور مستقبل بھی بنتا ہے۔"

والد صاحب کی یہ نصیحت میری زندگی کا رخ بدلنے والی بات ثابت ہوئی۔

سن 2000 میں میں ٹیلی فون ریپیئرنگ سیکھنے کے لیے استاد سعید صاحب کے پاس گیا۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید آج سے کام شروع ہو جائے گا، لیکن انہوں نے مجھے ایک ایسی نصیحت کی جو آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔

انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"بیٹا! اگر ساری زندگی شاگرد بن کر رہنا ہے تو کرسی کے پیچھے کھڑے رہو، لیکن اگر ایک دن اس کرسی پر بیٹھنا ہے اور استاد بننا ہے تو پہلے تعلیم حاصل کرو۔"

پھر انہوں نے مجھے ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

میں نے TEVTA کے زیرِ انتظام ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ گلبرگ میں داخلہ لیا اور دو سالہ تکنیکی تربیت حاصل کی۔ ابتدا میں فٹنگ اور بنیادی ورکشاپ ٹریننگ ہوئی۔ فائل، ہتھوڑا، برمہ اور دیگر اوزاروں کے ساتھ کام کیا۔ وہاں صرف ہاتھ کا ہنر نہیں بلکہ نظم و ضبط، برداشت اور درستگی بھی سیکھی۔

مجھے ایسے اساتذہ ملے جن کا احسان میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔

شفیق صاحب، عبدالخالق صاحب، سید حسن زیدی صاحب اور مرزا یوسف صاحب جیسے اساتذہ نے نہ صرف کتابی علم دیا بلکہ عملی زندگی کے اصول بھی سکھائے۔

دن کے وقت محنت اور رات کو پریکٹس کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر ٹی وی ریپیئرنگ سیکھی، ٹیلی فون پر کام کیا اور آہستہ آہستہ موبائل فون کی دنیا میں قدم رکھا۔

اس وقت کمپیوٹر چلانا بھی نہیں آتا تھا۔ ہر چیز شروع سے سیکھی۔ سافٹ ویئر، فلیشنگ، ونڈوز، ڈائیگنوس اور پھر مائیکرو لیول ریپیئرنگ تک کا سفر طے کیا۔

آج جب کوئی موبائل میرے سامنے آتا ہے تو اصل کام پرزہ بدلنا نہیں ہوتا بلکہ فالٹ کو سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ جاننا ہوتا ہے کہ خرابی پاور سیکشن میں ہے، سافٹ ویئر میں ہے، آئی سی میں ہے یا کسی اور حصے میں۔

یہ علم دو مہینے کے کورس یا چند ویڈیوز دیکھنے سے حاصل نہیں ہوتا۔

اسی لیے میں نوجوانوں اور والدین دونوں سے درخواست کرتا ہوں کہ موبائل ریپیئرنگ کو معمولی کام نہ سمجھیں۔

پہلے تعلیم حاصل کریں، سائنس کو سمجھیں، الیکٹرانکس کی بنیاد مضبوط کریں، پھر کسی اچھے استاد کی نگرانی میں عملی تربیت لیں۔

یاد رکھیں، مضبوط عمارت ہمیشہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔

اگر میری زندگی کی جدوجہد کا کوئی خلاصہ ہے تو وہ یہی ہے کہ ہنر ضرور سیکھو، لیکن صحیح بنیاد اور صحیح رہنمائی کے ساتھ۔

اللہ تعالیٰ تمام محنت کرنے والوں کو عزت والی روزی اور کامیابی عطا فرمائے۔

دعاگو

عبدالودود
موبائل ریپیئرنگ ٹیکنیشن

"ہنر بیس کے بغیر، محل ریت پر"

30/05/2026

*حکومت پنجاب کا تاریخ ساز اعلان 😄*
حکومت پنجاب نے ایک اور زبردست وعدہ پورا کر دیا!
اب پورے پنجاب میں 600 یونٹ تک بجلی بالکل فری ⚡
جی ہاں! اب پنکھا چلے گا، اے سی چلے گا، موٹر چلے گی، اور وہ بھی بالکل فری 😅
گھریلو صارفین کو اب 600 یونٹ تک کوئی بل ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
⚠️ نوٹ: یہ خوشخبری صرف انڈین پنجاب کے رہائشیوں کے لیے ہے۔ پاکستان والے بھائی اپنے بل پر موجود QR کوڈ اسکین کریں۔😂

میرا مقصد صرف موبائل ریپیئرنگ سکھانا نہیں، بلکہ ذمہ دار اور باکردار نوجوان تیار کرنا ہے۔ہم ایسے نوجوانوں کو موقع دینا چا...
26/05/2026

میرا مقصد صرف موبائل ریپیئرنگ سکھانا نہیں، بلکہ ذمہ دار اور باکردار نوجوان تیار کرنا ہے۔

ہم ایسے نوجوانوں کو موقع دینا چاہتے ہیں جو ماں باپ کا احترام کریں، گھر والوں سے جڑے رہیں، محنت سے کام سیکھیں اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں۔

ہمارا ہدف صرف ہنر مند کاریگر نہیں بلکہ ایسے قابلِ اعتماد ٹیکنیشن تیار کرنا ہے جن کی کسٹمر کمپلین ریٹ تقریباً صفر ہو اور جن پر لوگ اعتماد کر سکیں۔




















#روزگار
#ہنر


#کامیابی

"جو ننگے سر سوشل میڈیا پر جانوروں کی نمائش کر رہی ہیں، اور جو زنا جیسے گناہوں پر فخر کر کے لاکھوں کا جانور خرید رہے ہیں،...
26/05/2026

"جو ننگے سر سوشل میڈیا پر جانوروں کی نمائش کر رہی ہیں، اور جو زنا جیسے گناہوں پر فخر کر کے لاکھوں کا جانور خرید رہے ہیں، وہ یاد رکھیں: اللہ بازارِ حسن کا خریدار نہیں، وہ دلوں کے تقویٰ کا طلبگار ہے۔"

"اگر زندگی زنا، جھوٹ، اور لوگوں کے دل دکھانے میں گزری ہو، تو عید پر لاکھوں کا جانور بھی صرف 'گوشت کا ٹکرا' ہے، قربانی نہیں۔ پہلے سچی توبہ کیجیے، پھر قربانی کا ارادہ کیجیے۔"
#قربانی #تقویٰ #قرآن #حیا

*👈 بالغ ویب سائٹس پر پاکستانی مواد کی بھرمار کیوں ۔۔؟؟؟😭*نوٹ: یہ پوسٹ صرف بالغوں کے لئے ہے۔ خواتین اپنے رسک پر پڑھ سکتی ...
25/05/2026

*👈 بالغ ویب سائٹس پر پاکستانی مواد کی بھرمار کیوں ۔۔؟؟؟😭*

نوٹ: یہ پوسٹ صرف بالغوں کے لئے ہے۔ خواتین اپنے رسک پر پڑھ سکتی ہیں۔ شرمیلے اور کٹر لوگ اس پوسٹ سے صرفِ نظر کر دیں۔ نوجوان بچوں کے والدین لازمی پڑھیں۔
____
ہمارے ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ میرے ایک دوست کی نئے اور پرانے موبائل کی خرید وفروخت کی دکان ہے۔ ایک دن اس دوست کے پاس اس کی دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک ماڈرن سی خوش شکل لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل لینے آئی۔ ایک پرائس رینج بتا کر پوچھا کہ اس میں اچھا موبائل کونسا ہے جس کا کیمرہ ، میموری اور سپیڈ اچھی ہو۔ میرے دوست نے پوچھا کہ پہلے آپ کونسا موبائل استعمال کر رہی تھیں اور تبدیل کرنے کی وجہ؟ مزید یہ کہ آپ کا استعمال کیا ہے تاکہ اس لحاظ سے آپ کو بہتر موبائل بتا سکوں۔ اس نے پرانا موبائل دکھایا ہوئے کہا کہ پہلے سیمسنگ کا یہ موبائل ہے اور ہیلڈ ہوجاتا ہے اس لیے کوئی نیا لینا ہے۔ مزید کہا کہ آنلائن ایگزام ہو رہے یونیورسٹی کہ تو اچھی سپیڈ والا چاہیے۔
میرے دوست نے سیمسنگ اور چائنیز کمپنی کے دو تین موبائل دکھائے جس میں اسے سیمسنگ کا ہی ایک موبائل پسند آگیا۔ پیسے دینے لگی تو دوست نے پوچھا کہ پرانا بیچنا ہے؟
اس نے کہا کہ نہیں ابھی تو نہیں بیچنا۔
میرے دوست نے کہا کہ اگر بیچنا ہے تو میں اٹھارہ ہزار دیتا ہوں اس کا۔
اٹھارہ ہزار کا سن کر وہ لڑکی، اس کی ماں اور میں بھی حیران ہو گیا کیونکہ وہ موبائل دس ہزار کا بھی نہیں تھا۔
سب کو حیران ہوتے دیکھ کر دوست کہنے لگا کہ میں نے آٹھ کہنا تھا لیکن غلطی سے اٹھارہ کہہ دیا ہے۔ لیکن میں اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ابھی بیچنا ہے تو اٹھارہ مائنس کر کے باقی پیسے دے دیں۔
لڑکی کی اماں فوراً سے راضی ہو کر کہنے لگی کہ دے دو کیونکہ اتنے تو کسی نے نہیں دینے۔
وہ لڑکی کہنے لگی، نہیں اس میں میرا سارا ڈیٹا ہے۔ ابھی پہلے نیو موبائل میں کرونگی پھر بیچوں گی۔
میرے دوست نے کہا کہ ابھی دو منٹ لگنے ، دونوں سیمسنگ کے ہیں، ابھی بیک اپ کر کے اس نئے میں کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ اس پرانے کو ری سیٹ فیکٹری سیٹنگ کر دینا تو سب کچھ اڑ جائے گا۔ ابھی اٹھارہ دے رہا ہوں۔ بعد میں آٹھ ہی دونگا۔
تھوڑے سے پس و پیش کے بعد ماں کی طرف سے اصرار کی وجہ سے لڑکی مان گئی۔
دوست نے اسی وقت بیک اپ کر کے نئے موبائل میں کر دیا۔ ان کے جانے کے بعد میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا کیا تو نے؟ اتنا مہنگا لے لیا۔ اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا تو نے؟
وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا، تو ابھی بچہ ہے۔ تجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔ اس میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ سوچ ہے تیری۔ تو چائے پی ابھی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔
تب تک دوست اس موبائل کو ڈیٹا ریکوری پر لگا چکا تھا۔
کہنے لگا کہ ہم تو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔ پھر اچھے کیمرے اور اچھی سپیڈ والے موبائل کی ڈیمانڈ، پرانا موبائل بیچنے پر اس کا اتنا ہچکچانا۔ پھر ہمیں پتہ ہے کہ یہ موبائل غلط چیزیں کھولنے پر ہی ہیلڈ ہو سکتا ہے۔ ان ساری چیزوں کی وجہ سے میں نے ایک جوا کھیلا ہے۔ لگ گیا تو لاکھوں آئیں گے، نہ لگا تو پانچ دس ہزار کا نقصان بس۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو چائے پینے لگا۔ اس سے گپ شپ کے دوران وہ مسلسل اس کے ڈیٹا ریکوری میں لگا رہا۔ جب میں نے جانے کے لیے اجازت چاہی تو کہتا چلے جانا بس دیکھتے جاؤ کہ میں نے اتنے پیسے کس لیے بھرے ہیں۔ پھر اس نے اس لڑکی کی ایسی ایسی ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں کہ میں حیران ہو گیا۔ اسے کہا کہ یار اس کی عزت نہ اچھالو۔ وہ کہتا جس نے اپنی عزت کا خود خیال نہ کیا ہو اس کی عزت کا پاس میں کیوں کروں۔

ایک اور دوست سے بات ہوئی جو استعمال شدہ موبائل فون کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کام میں اتنی بچت کیسے ہے جبکہ ایک دن میں دو چار موبائل سے زیادہ کی تو خرید وفروخت نہیں ہو پاتی ہے۔ تھوڑی بہت رد وکد کے بعد اس نے بتایا کہ جب بھی کوئی موبائل ہمارے پاس بکنے یا ٹھیک ہونے کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ موبائل کس کے زیر استعمال رہا ہے۔ اس پر خاص نظر یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر موبائل کالج یا یونیورسٹی کے کسی شاطر اور ہینڈسم لڑکے یا خوبصورت لڑکی کے زیر استعمال رہا ہو تو کسی بھی صورت میں اسے خرید لیا جاتا ہے (اس کے الفاظ کو مہذب الفاظ میں لکھا ہے) یا ٹھیک ہونے کے لیے آیا ہو تو کل کا وقت دیا جاتا ہے۔ پھر ایسے موبائل کو سب سے پہلے ڈیٹا ریکوری پر لگایا جاتا ہے۔ اب کوئی بھی موبائل ایسا نہیں ہوتا جس میں قابل اعتراض تصاویر نہ ہوں۔ دوسری تصاویر کے تقابل سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز اس کی اپنی ہیں یا انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ اپنی ہوں تو ویڈیوز اور تصاویر کی تعداد، کوالٹی وغیرہ کے لحاظ سے بیچا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ مختلف بالغ ویب سائٹس کو فروخت ہوتی ہیں۔

مزید اس نے بتایا کہ جب بھی آپ موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو چاہے چھوٹا سا بھی مسئلہ ہو یہی کہا جاتا کہ کل ٹھیک ہو گا۔ وجہ یہ ہوتی کہ جب کوئی موبائل بیچنے آتا تو اکثر سب کو اڑا کر اور ریسیٹ کر کے لاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیٹا ریکوری تھوڑی مشکل ہوتی مگر جو ٹھیک کروانے لائے تو اس کا تو فوراً سے سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موبائل کس کے زیر استعمال ہے۔ وہاں سے یہ اکثر ہاتھ لگتا ہے۔
اس دوست کے بقول شاید ہی کوئی موبائل والا ہو جو یہ نہ کرتا ہو ورنہ سب نے ہی مہنگے مہنگے ڈیٹا ریکوری سافٹ وئیر خرید رکھے ہوتے ہیں۔

اس سب کا حل کیا ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ جب بھی کوئی موبائل لیں تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں اور پھر اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں اور کبھی نہ بیچیں۔ بیچنا ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم چار پانچ مرتبہ اس کو مختلف غیرضروری فائلز سے بھریں اور ری سیٹ کرکے سب کچھ اڑائیں۔ پانچ دفعہ ایسے کرنے سے بہت کم ایسا چانس ہوگا کہ کچھ ملے اور اگر کچھ ریکور ہو بھی گیا تو دوسری فائلز اتنی زیادہ ہونگی کہ ان میں سے اصل کو ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوگا۔
کبھی موبائل ٹھیک کروانا پڑے تو پاس کھڑے ہو کر کروائیں اور جو کہے کہ کل لے جانا اسے ہرگز نہ دیں۔ کہے کہ کوئی پرزہ منگوانا پڑے گا تو اسے کچھ ایڈوانس رقم دے کر کہیں کہ منگوا لے میں کل آ جاؤں گا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ایسا کچھ بنائیں ہی نہ اور موبائل کو پاک صاف رکھیں (اگرچہ یہ آج کل کے دور میں بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اس پر عمل پیرا ہو)۔
اور آخری اور سب سے اہم گزارش نوجوانوں کے والدین سے ہے۔ آپ کی اولاد چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتی ہے۔ اور ہر انسان جوان ہوتے ہی جنسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا بیٹا یا میری بیٹی تو بہت شریف ہے تو یہ غلط استدلال ہے۔ کیونکہ جب ایک ضرورت ہے تو اسے جائز طریقے سے پورا کرنے کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ غلط طریقے سے ہی پورا ہو گا۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تعلق بہت عام ہے اب اور اس تعلق میں موبائل کے ذریعے ویڈیوز اور تصاویر کا تبادلہ بھی کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔
اپنے بچوں کی بالغ ہوتے ہی شادی کر دیں اور وہاں جہاں وہ چاہیں۔ ذات برادری کے بکھیڑوں سے اب نکل آئیں۔ ورنہ آپ کی یہ فضول ضد آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتی ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے رخصتی ممکن نہیں ہے تو پھر بھی نکاح لازمی کر دیں اور وہ بھی خود ان کی پسند سے۔
پوسٹ کو شیئر ضرور کریں تاکہ بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو جائے۔



#پرائیویسی












#پاکستان







Address

Shalimar Link Road Mughalpura Chowk Opp. MCB BANK
Lahore
54900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Uzair Mobile & Repairing Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share