23/05/2026
اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرامؑ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ اللہ نے انہیں نبوت، حکمت، عظیم سلطنت اور ایسی طاقت عطا فرمائی کہ انسان، جنّات، پرندے اور ہوا تک ان کے حکم کی تابع تھی۔
حضرت سلیمانؑ، حضرت داؤدؑ کے بیٹے تھے۔ بچپن ہی سے آپؑ غیر معمولی ذہانت اور دانائی رکھتے تھے۔ جب حضرت داؤدؑ کا انتقال ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت سلیمانؑ کو بادشاہت عطا کی گئی۔ لیکن آپؑ کی شان صرف بادشاہت تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ اللہ کے برگزیدہ نبی بھی تھے۔
جب حضرت سلیمانؑ اپنے لشکر کے ساتھ سفر کرتے تو انسان، جنّات اور پرندے سب ایک ترتیب کے ساتھ چلتے۔ ہر طرف نظم و ضبط اور شان نظر آتی تھی۔
ایک مرتبہ آپؑ ایک وادی سے گزر رہے تھے کہ ایک ننھی سی چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو آواز دی:
"اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمانؑ اور ان کا لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ دے۔"
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو جانوروں کی زبان سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپؑ نے چیونٹی کی بات سن لی۔ یہ سن کر آپؑ مسکرائے اور فوراً اللہ کا شکر ادا کیا۔
یہی انبیاء کی شان ہوتی ہے…
طاقت ملنے پر غرور نہیں بلکہ عاجزی اور شکر۔
حضرت سلیمانؑ کے دربار میں ہُدہُد نامی ایک خاص پرندہ بھی تھا۔ ایک دن وہ موجود نہ تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا:
"اگر وہ بغیر کسی وجہ کے غائب ہوا تو اسے سزا دی جائے گی۔"
کچھ دیر بعد ہُدہُد حاضر ہوا اور اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی:
"میں ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جو سورج کی عبادت کرتی ہے۔ ان کی حکمران ایک عورت ہے جس کا نام بلقیس ہے، اور اس کے پاس ایک عظیم تخت ہے۔"
حضرت سلیمانؑ نے فوراً ملکہ بلقیس کو ایک خط بھیجا۔ خط میں لکھا تھا:
"اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار بن کر آ جاؤ۔"
ملکہ بلقیس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا اور آخرکار حضرت سلیمانؑ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔
اللہ کے حکم سے حضرت سلیمانؑ نے ملکہ کا تخت پلک جھپکتے ہی اپنے دربار میں منگوا لیا۔ جب ملکہ محل میں داخل ہوئی تو اپنا تخت دیکھ کر حیران رہ گئی۔
پھر اسے ایک شیشے کے محل میں لے جایا گیا۔ فرش اتنا صاف اور شفاف تھا کہ نیچے پانی دکھائی دیتا تھا۔ ملکہ نے سمجھا کہ سامنے پانی ہے، اس لیے اس نے اپنے کپڑے سمیٹے۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا:
"یہ شیشے کا فرش ہے۔"
یہ عظیم نشانیاں دیکھ کر ملکہ بلقیس سمجھ گئی کہ حضرت سلیمانؑ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اس نے فوراً اللہ پر ایمان قبول کر لیا۔
حضرت سلیمانؑ بہت انصاف پسند اور شکر گزار نبی تھے۔ اتنی عظیم سلطنت اور طاقت کے باوجود کبھی غرور نہ کیا۔ ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے اور لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتے رہے۔
پھر ایک دن ایسا آیا جب حضرت سلیمانؑ اپنے عصا کے سہارے عبادت میں کھڑے تھے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرما لی۔ جنّات مسلسل کام کرتے رہے کیونکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ آپؑ وفات پا چکے ہیں۔
کافی عرصے بعد ایک دیمک نے عصا کو کھا لیا۔ جیسے ہی عصا ٹوٹا، حضرت سلیمانؑ زمین پر گر پڑے۔ تب سب کو معلوم ہوا کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
🌿 اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
✨ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
✨ طاقت اور اختیار پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
✨ انصاف ہمیشہ کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔
✨ اللہ کی اطاعت ہی اصل کامیابی ہے۔
✨ عاجزی انسان کو بلند مقام عطا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت سلیمانؑ کی سیرت سے سیکھنے اور اپنی زندگی کو نیکی سے بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
📖 "یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔"
— سورۃ النمل