Nuqta e Nazar

Nuqta e Nazar Im Syed Asif Bukhari this is professional about

09/08/2026

اورینج ٹرین کا خوبصورت سفر

09/08/2026

اورینج ٹرین کا خوبصورت سفر

26/06/2026

محفلِ ذِکرِ اہلیبیت علیہ اسلام

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرامؑ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی شامل ہیں...
23/05/2026

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرامؑ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ اللہ نے انہیں نبوت، حکمت، عظیم سلطنت اور ایسی طاقت عطا فرمائی کہ انسان، جنّات، پرندے اور ہوا تک ان کے حکم کی تابع تھی۔

حضرت سلیمانؑ، حضرت داؤدؑ کے بیٹے تھے۔ بچپن ہی سے آپؑ غیر معمولی ذہانت اور دانائی رکھتے تھے۔ جب حضرت داؤدؑ کا انتقال ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت سلیمانؑ کو بادشاہت عطا کی گئی۔ لیکن آپؑ کی شان صرف بادشاہت تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ اللہ کے برگزیدہ نبی بھی تھے۔

جب حضرت سلیمانؑ اپنے لشکر کے ساتھ سفر کرتے تو انسان، جنّات اور پرندے سب ایک ترتیب کے ساتھ چلتے۔ ہر طرف نظم و ضبط اور شان نظر آتی تھی۔

ایک مرتبہ آپؑ ایک وادی سے گزر رہے تھے کہ ایک ننھی سی چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو آواز دی:

"اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمانؑ اور ان کا لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ دے۔"

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو جانوروں کی زبان سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپؑ نے چیونٹی کی بات سن لی۔ یہ سن کر آپؑ مسکرائے اور فوراً اللہ کا شکر ادا کیا۔

یہی انبیاء کی شان ہوتی ہے…
طاقت ملنے پر غرور نہیں بلکہ عاجزی اور شکر۔

حضرت سلیمانؑ کے دربار میں ہُدہُد نامی ایک خاص پرندہ بھی تھا۔ ایک دن وہ موجود نہ تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا:

"اگر وہ بغیر کسی وجہ کے غائب ہوا تو اسے سزا دی جائے گی۔"

کچھ دیر بعد ہُدہُد حاضر ہوا اور اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی:

"میں ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جو سورج کی عبادت کرتی ہے۔ ان کی حکمران ایک عورت ہے جس کا نام بلقیس ہے، اور اس کے پاس ایک عظیم تخت ہے۔"

حضرت سلیمانؑ نے فوراً ملکہ بلقیس کو ایک خط بھیجا۔ خط میں لکھا تھا:

"اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار بن کر آ جاؤ۔"

ملکہ بلقیس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا اور آخرکار حضرت سلیمانؑ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔

اللہ کے حکم سے حضرت سلیمانؑ نے ملکہ کا تخت پلک جھپکتے ہی اپنے دربار میں منگوا لیا۔ جب ملکہ محل میں داخل ہوئی تو اپنا تخت دیکھ کر حیران رہ گئی۔

پھر اسے ایک شیشے کے محل میں لے جایا گیا۔ فرش اتنا صاف اور شفاف تھا کہ نیچے پانی دکھائی دیتا تھا۔ ملکہ نے سمجھا کہ سامنے پانی ہے، اس لیے اس نے اپنے کپڑے سمیٹے۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا:

"یہ شیشے کا فرش ہے۔"

یہ عظیم نشانیاں دیکھ کر ملکہ بلقیس سمجھ گئی کہ حضرت سلیمانؑ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اس نے فوراً اللہ پر ایمان قبول کر لیا۔

حضرت سلیمانؑ بہت انصاف پسند اور شکر گزار نبی تھے۔ اتنی عظیم سلطنت اور طاقت کے باوجود کبھی غرور نہ کیا۔ ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے اور لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتے رہے۔

پھر ایک دن ایسا آیا جب حضرت سلیمانؑ اپنے عصا کے سہارے عبادت میں کھڑے تھے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرما لی۔ جنّات مسلسل کام کرتے رہے کیونکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ آپؑ وفات پا چکے ہیں۔

کافی عرصے بعد ایک دیمک نے عصا کو کھا لیا۔ جیسے ہی عصا ٹوٹا، حضرت سلیمانؑ زمین پر گر پڑے۔ تب سب کو معلوم ہوا کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

🌿 اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

✨ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
✨ طاقت اور اختیار پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
✨ انصاف ہمیشہ کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔
✨ اللہ کی اطاعت ہی اصل کامیابی ہے۔
✨ عاجزی انسان کو بلند مقام عطا کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت سلیمانؑ کی سیرت سے سیکھنے اور اپنی زندگی کو نیکی سے بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

📖 "یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔"
— سورۃ النمل

ہم‌بستری کے دوران میاں بیوی وہ عام غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے پریگننسی نہیں ہوتیاکثر شادی شدہ جوڑے یہ شکایت کرتے نظر آتے ہ...
21/05/2026

ہم‌بستری کے دوران میاں بیوی وہ عام غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے پریگننسی نہیں ہوتی

اکثر شادی شدہ جوڑے یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ کافی عرصے سے اولاد کے لیے کوشش کر رہے ہیں مگر کامیابی نہیں مل رہی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت سے کیسز میں مسئلہ کسی بڑی بیماری کا نہیں بلکہ چند عام غلطیوں کا ہوتا ہے جن پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر ان غلطیوں کو سمجھ لیا جائے تو قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات کافی بڑھ سکتے ہیں۔

1۔ صحیح وقت کا خیال نہ رکھنا
بہت سے میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی وقت ہم‌بستری سے حمل ہو سکتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کے ماہانہ سائیکل میں چند دن ایسے ہوتے ہیں جن میں حمل کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان دنوں کو “اوویولیشن ڈیز” کہا جاتا ہے۔ اگر ان دنوں میں تعلق قائم نہ ہو تو پریگننسی کے چانس کم ہو جاتے ہیں۔

2۔ ذہنی دباؤ اور ٹینشن
مسلسل ٹینشن، لڑائی جھگڑے، پریشانی یا اولاد نہ ہونے کا خوف بھی جسمانی نظام پر اثر ڈالتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں جس سے حمل میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ سکون، اعتماد اور مثبت ماحول بہت ضروری ہے۔

3۔ بہت زیادہ یا بہت کم ہم‌بستری
کچھ جوڑے روزانہ کئی بار تعلق قائم کرتے ہیں جبکہ کچھ بہت کم۔ دونوں صورتیں نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق مناسب وقفے کے ساتھ تعلق قائم کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ مردانہ سپرم کی کوالٹی متاثر نہ ہو۔

4۔ غیر صحت مند خوراک
فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، سگریٹ، گٹکا، شراب یا نیند کی کمی جسم کو کمزور کرتی ہے۔ مردوں میں سپرم کمزور ہو سکتے ہیں جبکہ خواتین میں ہارمونز کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ متوازن غذا، پھل، سبزیاں اور پانی کا مناسب استعمال بہت اہم ہے۔

5۔ وزن کا حد سے زیادہ بڑھنا یا کم ہونا
موٹاپا اور بہت زیادہ کمزوری دونوں ہی حمل کے امکانات کم کر سکتے ہیں۔ خواتین میں بے قاعدہ پیریڈز اور مردوں میں سپرم کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ صحت مند وزن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

6۔ غلط معلومات پر یقین کرنا
سوشل میڈیا یا لوگوں کی باتوں پر یقین کر کے بہت سے جوڑے غلط طریقے اپناتے ہیں۔ بعض لوگ عجیب نسخے یا غیر سائنسی مشورے دیتے ہیں جو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مستند ڈاکٹر سے مشورہ لینا ہمیشہ بہتر ہے۔

7۔ طبی معائنہ نہ کروانا
بعض اوقات مسئلہ چھوٹا سا انفیکشن، ہارمونز کی خرابی یا مردانہ کمزوری ہو سکتی ہے جس کا علاج ممکن ہوتا ہے۔ لیکن شرم یا خوف کی وجہ سے لوگ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے اور وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

8۔ ہم‌بستری کے فوراً بعد غلط عادتیں
کچھ خواتین فوراً واش روم چلی جاتی ہیں یا سخت جسمانی حرکت کرتی ہیں۔ اگرچہ ہر بات مکمل طور پر سائنسی طور پر ثابت نہیں، لیکن آرام اور سکون کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔

9۔ سگریٹ نوشی اور نشہ
یہ عادتیں مردانہ سپرم کو کمزور کرتی ہیں اور خواتین کی فرٹیلیٹی پر بھی برا اثر ڈالتی ہیں۔ کئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ اور نشہ حمل کے امکانات کم کرتے ہیں۔

10۔ صبر کا نہ ہونا
ہر جوڑے میں پریگننسی کا وقت مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ میں جلدی حمل ٹھہر جاتا ہے جبکہ کچھ میں وقت لگتا ہے۔ مسلسل مایوسی یا ایک دوسرے کو الزام دینا تعلقات میں بھی خرابی پیدا کرتا ہے۔

یاد رکھیں:
اولاد اللہ کی نعمت ہے، لیکن صحت م

🌍✨ دنیا میں سونے کے ذخائر کتنے ہیں؟ ✨🌍کیا آپ جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اب تک تقریباً 2 لاکھ ٹن سے زیادہ سونا نکالا جا چ...
21/05/2026

🌍✨ دنیا میں سونے کے ذخائر کتنے ہیں؟ ✨🌍

کیا آپ جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اب تک تقریباً 2 لاکھ ٹن سے زیادہ سونا نکالا جا چکا ہے؟ 🪙

📌 سب سے زیادہ سونے کے ذخائر رکھنے والے ممالک:
🥇 امریکہ
🥈 جرمنی
🥉 اٹلی
🇫🇷 فرانس
🇷🇺 روس
🇨🇳 چین

💰 ماہرین کے مطابق زمین کے اندر ابھی بھی ہزاروں ٹن سونا موجود ہے، لیکن اسے نکالنا بہت مہنگا اور مشکل کام ہے۔

🌊 حیران کن بات:
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندروں میں بھی بے شمار سونا موجود ہے، مگر موجودہ ٹیکنالوجی سے اسے نکالنا ممکن نہیں۔

📈 سونا صرف زیورات کے لیے نہیں بلکہ:
✔️ بینک ریزرو
✔️ الیکٹرانکس
✔️ میڈیکل آلات
✔️ خلائی ٹیکنالوجی
میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

✨ آپ کے خیال میں مستقبل میں سونے کی قیمت مزید بڑھے گی یا کم ہوگی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں

رات کے اندھیرے میں جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بے شمار ستارے چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان ہی ستاروں کے عظیم سمند...
20/05/2026

رات کے اندھیرے میں جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بے شمار ستارے چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان ہی ستاروں کے عظیم سمندر کو ہم “ملکی وے گلیکسی” کہتے ہیں۔ یہ وہ کہکشاں ہے جس میں ہماری زمین، سورج اور پورا نظامِ شمسی موجود ہے۔ لیکن اس عظیم کہکشاں کے مرکز میں ایک ایسا پراسرار وجود بھی موجود ہے جسے “بلیک ہول” کہا جاتا ہے۔ آج سائنس دان اسی بلیک ہول اور ہماری گلیکسی کے درمیان فاصلے اور تعلق پر تحقیق کر رہے ہیں۔

ملکی وے گلیکسی کو اردو میں “دودھیا کہکشاں” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بار دار Spiral Galaxy ہے جس میں تقریباً 100 ارب سے 400 ارب ستارے موجود ہیں۔ اگر ہم اس کی چوڑائی کی بات کریں تو یہ تقریباً ایک لاکھ نوری سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، اور روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری کہکشاں کتنی وسیع اور حیرت انگیز ہے۔

ہماری زمین اس گلیکسی کے مرکز میں نہیں بلکہ کنارے کے قریب موجود ہے۔ زمین سے ملکی وے کے مرکز کا فاصلہ تقریباً 26 ہزار نوری سال ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو بھی اسے گلیکسی کے مرکز تک پہنچنے میں 26 ہزار سال لگ جائیں گے۔

اسی مرکز میں ایک دیوقامت بلیک ہول موجود ہے جسے سائنس دانوں نے “Sagittarius A*” کا نام دیا ہے۔ یہ بلیک ہول سورج سے تقریباً 40 لاکھ گنا زیادہ وزنی ہے۔ بلیک ہول دراصل خلا میں ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی وہاں سے واپس نہیں آ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک ہول کو براہِ راست دیکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

بلیک ہول کوئی خلا میں سوراخ نہیں بلکہ انتہائی زیادہ کثافت والا جسم ہوتا ہے۔ جب کوئی بہت بڑا ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر دھماکے سے پھٹتا ہے تو بعض اوقات اس کا مرکز سکڑ کر بلیک ہول بن جاتا ہے۔ اس کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آس پاس کی ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

سائنس دانوں نے جدید دوربینوں اور ریڈیو سگنلز کی مدد سے اس بلیک ہول کی تصویر بھی حاصل کی۔ سن 2022 میں دنیا نے پہلی بار ہماری گلیکسی کے بلیک ہول کی اصل تصویر دیکھی۔ یہ سائنسی دنیا کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس تصویر میں ایک روشن دائرہ اور درمیان میں سیاہ سایہ دکھائی دیا، جو دراصل بلیک ہول تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلیک ہول زمین کے لیے خطرہ ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ کیونکہ اگرچہ Sagittarius A* بہت طاقتور ہے لیکن وہ ہم سے تقریباً 26 ہزار نوری سال دور ہے۔ اتنے عظیم فاصلے کی وجہ سے اس کا ہماری زمین پر کوئی براہِ راست اثر نہیں پڑتا۔ ہمارا نظامِ شمسی محفوظ انداز میں گلیکسی کے گرد گردش کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری پوری ملکی وے گلیکسی بھی مسلسل حرکت میں ہے۔ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت گلیکسی کے مرکز کے گرد تقریباً 8 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ لیکن اتنی بڑی گردش مکمل کرنے میں سورج کو تقریباً 23 کروڑ سال لگتے ہیں۔ اسے “Galactic Year” کہا جاتا ہے۔

کائنات میں صرف ہماری ملکی وے ہی نہیں بلکہ اربوں کہکشائیں موجود ہیں۔ بعض کہکشائیں ہم سے کروڑوں نوری سال دور ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ تقریباً ہر بڑی گلیکسی کے مرکز میں ایک سپر ماسِو بلیک ہول موجود ہوتا ہے۔ یعنی بلیک ہول دراصل کائنات کے نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔

کچھ لوگ بلیک ہول کا نام سن کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ کائنات کی سب سے دلچسپ چیزوں میں سے ایک ہیں۔ انہی کی مدد سے سائنس دان کششِ ثقل، وقت اور خلا کے راز سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشہور سائنس دان نے اپنے نظریۂ اضافیت میں بلیک ہول کے وجود کی پیش گوئی کی تھی، جسے بعد میں سائنس نے درست ثابت کر دیا۔

آج انسان مریخ تک پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے اور مستقبل میں ممکن ہے کہ ہم اپنی گلیکسی کے مزید راز بھی جان سکیں۔ لیکن جتنا ہم کائنات کو سمجھتے جا رہے ہیں اتنا ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا کتنی وسیع، پراسرار اور حیرت انگیز ہے۔

رات کے آسمان میں چمکتے ستارے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ایک عظیم کائناتی داستان ہیں۔ ملکی وے گلیکسی اور اس کے مرکز میں موجود بلیک ہول ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ انسان ابھی علم کے سفر کے آغاز میں ہے، اور کائنات کے راز ابھی بے شمار باقی ہیں۔

برمودا ٹرائینگل… کیا یہ دجال کی سرزمین ہے؟ اسلام کیا کہتا ہے؟دنیا میں کچھ راز ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود آج تک راز ...
19/05/2026

برمودا ٹرائینگل… کیا یہ دجال کی سرزمین ہے؟ اسلام کیا کہتا ہے؟

دنیا میں کچھ راز ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود آج تک راز ہی ہیں۔ انہی میں ایک خوفناک نام “برمودا ٹرائینگل” کا بھی شامل ہے۔ ایک ایسا سمندری علاقہ جہاں داخل ہونے والے کئی جہاز، کشتیاں اور طیارے پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ نہ کوئی ملبہ ملا، نہ واضح وجہ۔

یہ جگہ بحرِ اوقیانوس میں امریکہ کے شہر میامی، برمودا جزائر اور پورٹو ریکو کے درمیان واقع ہے۔ بظاہر یہ صرف سمندر کا ایک حصہ ہے، مگر اس کے گرد گھومنے والی کہانیاں اسے دنیا کے سب سے پراسرار مقامات میں شامل کر چکی ہیں۔

کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں “غیبی طاقتیں” موجود ہیں۔
کچھ اسے جنات کا علاقہ کہتے ہیں۔
اور کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شاید دجال اسی علاقے میں قید ہے۔

لیکن سوال یہ ہے…
کیا اسلام واقعی برمودا ٹرائینگل کے بارے میں کچھ کہتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید یا کسی مستند حدیث میں “برمودا ٹرائینگل” کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ یہ کہنا کہ یہ دجال کا ٹھکانہ ہے یا یہاں شیطانی قوتیں رہتی ہیں، محض قیاس آرائیاں ہیں جن کی کوئی مضبوط اسلامی دلیل نہیں۔

اسلام ہمیں اندھی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے تحقیق کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

“اور اُس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔”
(سورۃ الإسراء: 36)

افسوس کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ہر پراسرار کہانی کو مذہب کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تاکہ لوگ زیادہ حیران ہوں، زیادہ شیئر کریں اور زیادہ ڈریں۔ یوٹیوب ویڈیوز اور فیس بک پوسٹس میں برمودا ٹرائینگل کو کبھی جنات کی دنیا بنایا جاتا ہے، کبھی شیطان کا دروازہ، اور کبھی دجال کی جیل۔

حالانکہ سائنسدانوں کے مطابق اس علاقے میں حادثات کی کئی ممکنہ وجوہات موجود ہیں:
شدید سمندری طوفان،
مقناطیسی تبدیلیاں،
موسمی دباؤ،
اور انسانی غلطیاں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے دوسرے سمندروں میں بھی ایسے حادثات ہوتے ہیں، مگر برمودا ٹرائینگل کو میڈیا نے ایک خوفناک علامت بنا دیا۔

اسلام جنات کے وجود کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ہر پراسرار چیز کو جنات سے جوڑنا درست نہیں۔ مسلمان کا ایمان خوفناک کہانیوں پر نہیں بلکہ اللہ پر ہونا چاہیے۔

آج انسان چاند تک پہنچ چکا ہے، سمندر کی گہرائیوں کو ناپ چکا ہے، مگر پھر بھی کچھ راز باقی ہیں۔ اور شاید یہی راز انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لیکن ایک مومن کے لیے سب سے اہم چیز یہ نہیں کہ برمودا ٹرائینگل میں کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اپنے دل میں اللہ کا کتنا خوف اور ایمان ہے۔

یاد رکھیں…
ہر انوکھی چیز معجزہ نہیں ہوتی،
ہر پراسرار واقعہ شیطانی نہیں ہوتا،
اور ہر وائرل کہانی سچ نہیں ہوتی۔

اسلام عقل، تحقیق اور اعتدال کا دین ہے۔

اب آپ بتائیں…
کیا برمودا ٹرائینگل واقعی ایک پراسرار راز ہے؟
یا پھر انسان کے خوف اور میڈیا کی کہانی؟

اپنی رائے ضرور دیں

انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اُس کے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہا ہے:"مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟"یہ سوال صرف فلسفیوں،...
18/05/2026

انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اُس کے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہا ہے:
"مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟"
یہ سوال صرف فلسفیوں، علماء یا دانشوروں کا نہیں بلکہ ہر اُس انسان کا ہے جو کبھی نہ کبھی کسی اپنے کی جدائی پر خاموش بیٹھ کر آسمان کو دیکھتا ہے۔

جب کسی گھر سے جنازہ نکلتا ہے تو صرف ایک جسم دفن نہیں ہوتا، بلکہ بہت سے سوال زندہ ہو جاتے ہیں۔
وہ شخص جو کل تک ہنس رہا تھا، باتیں کر رہا تھا، خواب دیکھ رہا تھا، اچانک خاموش کیوں ہو گیا؟
اُس کی روح کہاں گئی؟
کیا وہ ہمیں دیکھتی ہے؟
کیا موت سب کچھ ختم کر دیتی ہے؟

اسلام اس سوال کا جواب نہایت خوبصورتی اور حقیقت کے ساتھ دیتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:
"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
موت اختتام نہیں، بلکہ ایک سفر کا دوسرا مرحلہ ہے۔
جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے دنیا میں آتا ہے، ویسے ہی انسان دنیا سے نکل کر ایک نئی دنیا میں داخل ہوتا ہے، جسے "عالمِ برزخ" کہا جاتا ہے۔

عالمِ برزخ کیا ہے؟

برزخ دراصل دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے۔
انسان جب مر جاتا ہے تو اُس کی روح جسم سے الگ ہو جاتی ہے اور برزخ میں چلی جاتی ہے۔
وہاں انسان اپنے اعمال کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔
اگر اُس نے نیکیاں کی ہوں، لوگوں کے دل نہ توڑے ہوں، ظلم نہ کیا ہو، نماز اور سچائی کے راستے پر چلا ہو تو اُس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہے۔
اور اگر زندگی گناہوں، تکبر، دھوکے اور ظلم میں گزری ہو تو قبر تنگ ہو جاتی ہے۔

یہ دنیا عجیب ہے۔
یہاں ہم جسموں کو دیکھتے ہیں، روحوں کو نہیں۔
حالانکہ اصل حقیقت روح ہی ہے۔
جسم تو صرف ایک لباس ہے، جو ایک دن مٹی میں مل جانا ہے۔

کبھی غور کیا ہے؟
جب انسان زندہ ہوتا ہے تو اُس کے چہرے پر چمک ہوتی ہے، آنکھوں میں احساس ہوتا ہے، آواز میں تاثیر ہوتی ہے۔
لیکن جیسے ہی روح نکلتی ہے، وہی جسم چند لمحوں میں بے جان لگنے لگتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل طاقت روح تھی، جسم نہیں۔

بعض لوگ پوچھتے ہیں:
"کیا مرنے والوں کی روحیں اپنے گھر والوں سے ملتی ہیں؟"

اس بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، لیکن کئی اسلامی روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ نیک روحیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور بعض اوقات اپنے پیاروں کے حالات سے باخبر بھی ہوتی ہیں۔
مگر یہ سب اللہ کے حکم کے تابع ہے۔
ہمیں اُن چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ غیب کا مکمل علم صرف اللہ کے پاس ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ روح کہاں جاتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہماری روح کس حال میں جائے گی؟

ہم ساری زندگی گھر، گاڑی، پیسہ، شہرت اور لوگوں کی تعریف کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
لیکن موت آتے ہی سب کچھ یہی رہ جاتا ہے۔
صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔

قبر میں نہ دولت کام آتی ہے، نہ عہدہ، نہ خوبصورتی۔
وہاں صرف سچ، کردار، نیت اور انسانیت کام آتی ہے۔

آج سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی بھول گئے ہیں۔
ہم تصویریں سنوار رہے ہیں، مگر کردار نہیں۔
ہم جسم کی خوبصورتی پر وقت لگا رہے ہیں، مگر روح کی صفائی بھول گئے ہیں۔

ذرا سوچیں…
اگر آج رات ہماری آخری رات ہو تو کیا ہم مطمئن ہیں؟
کیا ہمارے والدین ہم سے خوش ہیں؟
کیا کسی مظلوم کی بددعا ہمارے پیچھے نہیں؟
کیا ہم نے کسی ٹوٹے دل کو جوڑا ہے؟

موت بہت بڑی حقیقت ہے، مگر ہم اُسے بھول کر ایسے جیتے ہیں جیسے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

قبرستان جا کر دیکھیں۔
وہاں ہر عمر کے لوگ سو رہے ہیں۔
کچھ کل دنیا کے بادشاہ تھے، کچھ عام مزدور۔
مگر آج سب ایک ہی مٹی میں ہیں۔

روح کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی غرور میں نہیں بلکہ عاجزی میں گزارنی چاہیے۔
لوگوں سے محبت کریں، معاف کرنا سیکھیں، دل نہ توڑیں، کیونکہ آخرکار ہمیں بھی اسی سفر پر جانا ہے۔

اسلام موت سے ڈرانے کے بجائے اُس کی تیاری سکھاتا ہے۔
یہ دنیا امتحان ہے، اور روح اصل مسافر۔

ایک دن ہم سب نے جانا ہے۔
کوئی جلدی، کوئی دیر سے۔
لیکن جانا سب نے ہے۔

لہٰذا کوشش کریں کہ جب ہماری روح جسم چھوڑے تو فرشتے کہیں:
"اے پاکیزہ روح! اپنے رب کی رحمت کی طرف چل۔"

اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اللہ ہمیں اچھی زندگی اور ایمان والی موت عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nuqta e Nazar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share