21/07/2025
پوری اسٹوری یہ ہے
ڈیگاری، کوئٹہ کے گرد و نواح میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے نہ صرف دو جانیں لے لیں بلکہ پانچ بچوں، دو خاندانوں، اور دو قبائل کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ واقعہ اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، مگر اس کی جڑیں ایک مہینہ پرانی، بہت گہری اور دردناک ہیں۔ایک چالیس سالہ خاتون، پانچ بچوں کی ماں، جن میں سب سے بڑا بیٹا سترہ برس کا ہے، ساتکزئی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی شادی بھی قبیلے کے اندر ہی ہوئی، اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ ڈیگاری میں سکونت پذیر تھی۔ دو سال پہلے ایک شخص، جو سمالانی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے ہی قریب رہتا تھا، اس کے ساتھ ایک تعلق پروان چڑھتا ہے۔ خاتون نہ صرف اپنے شوہر بلکہ اپنے بچوں کو بھی چھوڑ کر اس کے ساتھ چلی جاتی ہے، اور پھر شادی کر لیتی ہے۔یہ ایک ایسا لمحہ تھا جو صرف ایک گھر کے نہیں، بلکہ پورے قبیلے کی غیرت، رسم، اور تاریخ پر ایک داغ کی صورت میں گرا۔ وقت گزرتا گیا، مگر اس کے پیچھے چھوڑی گئی خاموشیاں چیخ چیخ کر بولتی رہیں۔ دو سال بعد، کسی نہ کسی وسیلے سے خاتون کا رابطہ اپنے سابقہ خاندان سے ہوتا ہے۔ اسے واپس آنے پر راضی کیا جاتا ہے۔ قبیلے کے سردار کی سربراہی میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خاتون اگر اپنے شوہر کے ساتھ دوبارہ رہنا چاہے تو اسے معاف کر کے قبول کیا جائے۔ سمالانی مرد پر قبائلی رواج کے مطابق جرمانہ عائد کر کے معاملہ رفع دفع کیا جاتا ہے۔ سب کچھ رازداری سے، صرف چند افراد تک محدود رکھا جاتا ہے۔مگر انسان کا دل، قانون اور فیصلوں کو تسلیم کرنے سے قاصر رہتا ہے، خاص طور پر جب بات محبت یا انا کی ہو۔ سمالانی مرد خاتون کو بھول نہیں سکا۔ وہ بار بار خاتون کے گھر آنے لگا، اسے واپس لے جانے کے لیے اصرار کرنے لگا۔ یہ سب کچھ عیدالاضحیٰ 2025 سے چند دن پہلے شدت اختیار کرتا ہے۔ ورغلانے، چیلنج کرنے اور جذبات کو ابھارنے کا سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ ایک دن خاتون کے رشتہ دار اس مرد کو دبوچ لیتے ہیں۔ خاتون، جو ان دنوں کوئٹہ میں تھی، اسے بھی واپس بلایا جاتا ہے۔ پھر، دونوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ قبائلی فیصلہ ایک بار پھر عمل میں لایا جاتا ہے — سیاہ کاری کی سزا: موت۔اس واقعے کو اب سوشل میڈیا پر دیکھا جا رہا ہے، وائرل ویڈیوز، تجزیے، تبصرے اور نفرت بھرے جملے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس لمحے یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت کہاں تھا میڈیا؟ کہاں تھی ریاست؟ کہاں تھے وہ تمام لوگ جو آج اس واقعے کو پوسٹوں میں بھرا جا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں خاندانوں نے خاموشی سے فیصلہ کر لیا تھا۔ کوئی پولیس کیس نہیں، نہ کوئی قبائلی جھگڑا۔ کیونکہ ایسے کیسز میں اکثر سچائی، عزت، غیرت اور قبائلی روایات سب ایک قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔یہ پہلا کیس نہیں۔ بلوچستان میں ایسے ہزاروں واقعات ہیں جو کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ نہ کوئی عدالت پہنچتا ہے، نہ ہی کوئی مجرم کہلاتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے شادی کرے تو اس کا انجام اکثر موت ہوتا ہے۔ مگر یہ کہانی ہمیشہ ایسی نہیں ہوتی۔ ہم نے کئی شادیاں دیکھی ہیں جن میں عورت نے اپنی پسند سے شادی کی، والدین کو بتایا، بات چیت ہوئی، اور بغیر کسی خونی انجام کے زندگیاں آگے بڑھیں۔مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انا، طاقت، غیرت اور بے قابو جذبات قانون اور انسانیت سے آگے نکل جاتے ہیں۔ ہر بلوچ کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ناانصافی ہے۔ ہر معاشرے میں مثبت و منفی کردار ہوتے ہیں۔ اگر کسی جگہ ظلم ہے تو وہ سب پہ لاگو نہیں ہوتا۔ سچ یہ ہے کہ یہ واقعہ محض ایک عورت یا مرد کا نہیں، بلکہ دو قبیلوں، پانچ بچوں، اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں صحافی بننے کی نہیں، انسان بننے کی ضرورت ہے۔مگر افسوس، ہم نے اپنے سوشل میڈیا کو اتنا مقدس سمجھ لیا ہے کہ کسی کی لاش کے ساتھ اپنی پوسٹ کی زینت بنانا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ بغیر کسی تحقیق کے، بغیر تصدیق کے، بغیر سوچے سمجھے ہم تصویر شائع کر دیتے ہیں۔ ہم خود جج بن جاتے ہیں، خود ہی قاتل اور مقتول کے بیچ فیصلہ سناتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس ایک کلک، ایک پوسٹ، ایک شیئر سے کسی کا دل، خاندان، یا نسلیں تباہ ہو سکتی ہیں۔عدالت صرف اسی مجرم کو سزا دے سکتی ہے جس کے خلاف کوئی مدعی ہو۔ اور یہاں کوئی مدعی نہیں، نہ ہوگا۔ یہ وہ خاموشی ہے جو سب سے بلند چیخ ہے۔ ہمیں اس چیخ کو سننا ہے، اس کی بنیادوں کو سمجھنا ہے۔ ہمیں قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے، ان وجوہات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو ایسے سانحات کو جنم دیتی ہیں۔ نہ کہ اس دکھ کو صرف وائرل کر کے چند لمحاتی جذباتی تسکین حاصل کر لی جائے۔یہ وقت ہے احساس کا، اصلاح کا۔ بصورتِ دیگر، ایسی کہانیاں، ایسی خاموش قبریں، اور ایسے بے نام قتل تاریخ کا حصہ بنتے رہیں گے… اور ہم، صرف تماشائی۔