13/05/2026
ہفتہ 2 مئی 2026 کی شام بزمِ شعر و سخن کے زیرِ اہتمام آٹھواں سالانہ فیملی مشاعرہ ایک یادگار ادبی محفل کی صورت میں منعقد ہوا، جہاں لفظوں کی خوشبو اور جذبوں کی روشنی دیر تک فضا میں بکھری رہی۔ شہر کے نامور اور ممتاز شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کے دلوں کو چھوا اور محفل کو ایک زندہ، دھڑکتی ہوئی داستان بنا دیا۔
شام ساڑھے سات بجے سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر آنے والا اپنے ساتھ ذوق، شوق اور محبت کا ایک چراغ لیے چلا آ رہا ہو۔ آٹھ بجے تک ہال میں خاصی رونق ہو چکی تھی۔ سوا آٹھ بجے پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا، اور بزم کی روایت کے مطابق مختصر وقفے کے بعد محفل دوبارہ اپنے سلیقے اور ترتیب کے ساتھ سج گئی—اگرچہ چند لمحوں کی تاخیر ہوئی، مگر “ذرا سی دیر ہی سہی، محفل تو سج گئی”۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے محفل کا آغاز ہوا تو فضا میں ایک روحانی سکون اتر آیا، اور پھر یوں لگا جیسے لفظ بھی وضو کر کے لبوں پر آ بیٹھے ہوں۔
بزمِ شعر و سخن کی ایک خوبصورت روایت کے مطابق اس بار بھی اسکول کے بچوں نے اُن شعرا کی تمثیل پیش کی جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں۔ اس سلسلے میں ادا جعفری اور مظفر وارثی کی شخصیات کو جس خلوص، سلیقے اور فنی مہارت سے پیش کیا گیا، وہ محض ایک پرفارمنس نہیں بلکہ ایک زندہ یاد بن گئی۔ بچوں نے اُن کے انداز، لہجے اور طرزِ ادائیگی کو اس خوبی سے اپنایا کہ محفل میں ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ خود ہمارے درمیان موجود ہوں۔ واقعی
"لوگ جاتے ہیں مگر نقش چھوڑ جاتے ہیں"
اور اس شب یہ نقش پھر سے روشن ہو اٹھے۔
محمد ابراہیم جویو آڈیٹوریم کی خوشگوار فضا، ٹھنڈک بھرا ماحول اور آرام دہ نشستیں—سب کچھ اس طرح ہم آہنگ تھا کہ سامعین پوری دلجمعی کے ساتھ محفل میں ڈوبتے چلے گئے۔ ہال کی تمام نشستیں بھر جانے کے بعد بھی شائقین کا جوش کم نہ ہوا؛ کئی لوگ سیڑھیوں پر بیٹھ کر اس ادبی جشن کا حصہ بنے رہے۔ گویا
"یہی ہے ذوقِ طلب، کہ جہاں جگہ نہ ملے
وہیں پہ بیٹھ کے محفل کا لطف لیا جائے"
مشاعرے کے دوران داد و تحسین کی گونج بارہا فضا میں بلند ہوئی۔ کہیں واہ واہ کی صدائیں، کہیں مسکراہٹیں، کہیں خاموشی میں ڈوبے تاثرات—ہر رنگ اس محفل کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا رہا۔ بزمِ شعر و سخن کی پہچان، یعنی نظم و ضبط اور وقت کی پابندی، اس بار بھی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر رہی۔
رات تقریباً 12 بجے جب یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی تو یوں لگا جیسے ایک خوبصورت خواب آہستہ آہستہ آنکھوں سے اتر رہا ہو۔ سامعین اپنے ساتھ صرف یادیں نہیں، بلکہ ایک احساس، ایک لطیف سی روشنی لے کر رخصت ہوئے—کہ لفظ اگر سچے ہوں تو دلوں میں دیر تک رہتے ہیں۔