09/06/2026
سورۃ فاطر (35)، آیت نمبر 28 کا ایک حصہ ہے۔
عربی متن:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
اردو ترجمہ:
"اللہ کے بندوں میں سے وہی اُس سے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں"
اس کا مطلب کیا ہے؟
اس آیت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ **حقیقی خشیتِ الٰہی علم سے آتی ہے**۔ جو لوگ اللہ کی کائنات، اس کی قدرت، اس کی نشانیوں اور اس کے احکامات کو جتنا زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں، اتنا ہی ان کے دل میں اللہ کا خوف، اس کی عظمت کا احساس اور ادب پیدا ہوتا ہے۔
یہاں "علماء" سے مراد صرف دینی علوم کے ماہرین ہی نہیں، بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ جب انسان زمین و آسمان کی تخلیق، زندگی اور موت کے نظام، اور کائنات کی باریکیوں پر غور کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک عظیم خالق کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ معرفت انسان کے دل میں اللہ کا ڈر اور محبت دونوں پیدا کرتی ہے۔
گویا لاعلمی غفلت پیدا کرتی ہے، جبکہ علم عاجزی اور تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔
تصویر میں قلم، دوات اور کتاب کا خوبصورت امتزاج بھی اسی "علم" کی اہمیت