Saqi Mobiles

Saqi Mobiles you can visit us for repairing and contact for details and prices

21/03/2024
27/01/2024

ووٹ اب سوچ سمجھ کے ڈالنا پھر نہ کہنا پیٹرول مہنگا ہو گیا 💁🏻‍♂️
کہاں ہیں لبّیک والے 🤦🏻‍♂️

.  . . ۱۹۷۴ کی وہ  تاریخی رات جس میں نبازعصر مفسر قرآن حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ العزی  کا مینار پاکستان   میں   ختم نب...
08/09/2023

. . . ۱۹۷۴ کی وہ تاریخی رات جس میں نبازعصر مفسر قرآن حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ العزی کا مینار پاکستان میں ختم نبوت کانفرنس پر تا ریخی خطاب

12/07/2023

_ختم نبوت ہی اسلام کے تمام امتیازی اوصاف کا سرچشمہ ہے_

اسلام یعنی دین محمدی کے کئی ایک ایسے اوصاف ہیں جو اسلام کو سابقہ تمام ادیان سے ممتاز کرتے ہیں۔ اسلام کے ان تمام امتیازی اوصاف کا واحد سرچشمہ ختم نبوت ہے۔ ختم نبوت اسلام کا خاصہ ہے۔ خاصہ کا لفظ یہاں منطقی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ خاصہ وہ عارض ہوتا ہے جو شے کے غیر میں نہ پایا جائے۔ وصف خاتمیت اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذھب میں نہیں پایا گیا، لہذا یہ اسلام کا خاصہ ہے۔ ایک دفعہ ایک صاحب سے ختم نبوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ وہ صاحب بہت پڑھے لکھے تھے اور تقابل ادیان کے میدان میں خاصا درک رکھتے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ دوسرے مذاھب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ہمارے پاس ختم نبوت کے اثبات کی کیا دلیل ہے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ دیگر مذاھب کے پیروکار قرآن و سنت کی دلیل کو تو قبول نہیں کریں گے۔ کیوں کہ وہ اسلام پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس لیے ہم ان کے سامنے قرآن و حدیث کے نصوص پیش نہیں کریں گے۔قرآن و سنت کے علاوہ ہمارے پاس کون سی عقلی دلیل ہے جو ہم ان کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ میں نے ان کے سوال کے جواب میں گزارش کی کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب نے خاتمیت کا دعوی ہی نہیں کیا۔ اسلام کے ساتھ اس دعوی میں کوئی مذھب بھی شریک نہیں ہے۔اس وقت جو مذاھب موجود ہیں مثلا یہودیت، عیسائیت، بدھ مت اور ہندومت وغیرہ ان کی کتابوں میں سرے سے ایسا کوئی دعوی موجود ہی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خاتمیت کے دعوے میں اسلام لاشریک ہے۔ یہ درست ہے کہ دعوے میں کسی اور کی عدم شراکت سے دعوی ثابت نہیں ہوجاتا۔ دعوے کے ثبوت کے لیے بہرحال دلائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس سے اسلام کے دعوی خاتمیت میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان صاحب نے میری یہ گزارشات سنیں تو بہت خوش ہوئے اور تقابل ادیان کے ایک غیر ملکی پروفیسر کا حوالہ دے کر فرمانے لگے کہ یہ نکتہ میں ان کے سامنے رکھوں گا اور ان کا جواب معلوم کروں گا۔ یہ تو اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ ان صاحب نے اسلام کے دعوی خاتمیت میں لاشریک ہونے کا ذکر اس غیر ملکی پروفیسر کے سامنے کیا یا نہیں اور اگر انہوں نے ذکر کیا تو اس کا جواب کیا رہا۔ میں یہاں اسلام کے دعوی خاتمیت پر ان اثباتی دلائل کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو کسی بھی دوسرے مذھب کے پیروکار کے لیے اطمینان کا باعث بن سکیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا مطلب ہے کہ اسلام آخری دین ہے۔ دین وحی کے بغیر متصور نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب وحی کا سلسلہ اختتام پذیر ہوگیا تو اب اسلام ہی حتمی اور آخری مدار نجات ہے۔ بعثت نبوی کے بعد تمام ادیان منسوخ ہوچکے ہیں۔ اب دین صرف دین اسلام ہے۔ جس کسی کو بھی اسلام کی دعوت پہنچی اور وہ اس کی حقانیت جاننے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا تو وہ گویاباطل پر مصر ہے۔ آخری دین ہونے کی وجہ سے اسلام کی ترکیب اور تقدیر تمام سابقہ ادیان سے مختلف ہے۔ اگر اسلام آخری دین نہ ہوتا تو اس کی ترکیب و تقدیر بھی لازما ادیان سابقہ کی طرح ہوتی۔ اس کا انکار کرنا ناممکن ہے کہ اسلام بطور دین دوسرے مذاھب کے مقابلے میں ایسے اوصاف کا حامل ہے جو صرف اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ یہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ خاتمیت ہی اسلام کے امتیازی اوصاف کا واحد سبب ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام آخری دین نہ ہوتا تو اس میں یہ امتیازی اوصاف بھی نہ پائے جاتے۔ گویا ختم نبوت کی وجہ سے اسلام سابقہ ادیان سے جوہری طور پر مختلف ہے۔

سوال یہ ہے کہ اسلام کے وہ امتیازی اوصاف کون سے ہیں جو اس کی خاتمیت کی دلیل ہیں اور اسے ادیان سابقہ سے ممتاز کرتے ہیں۔ گزارش ہے کہ اسلام کا سب سے پہلا امتیازی وصف وہ عظیم تدبیر ہے جو اس کی حفاظت کے لیے اختیار کی گئی ہے۔ قرآن شریف چونکہ دین کا اصل الاصول ہے لہذا قدرت الہیہ کے تحت اس کی حفاظت کا غیر معمولی اور بے مثل بندوبست کیا گیا ہے۔ قرآن شریف کے نزول کے آغاز سے ہی اسے قلم بند کرنے اور حفظ کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ تدوین قرآن کے سلسلے میں ابتداء ہی سے جو کوششیں کی گئیں ہیں تاریخ مذاہب میں ان کی نظیر کا ملنا ناممکن ہے۔ تورات، زبور، انجیل یا غیر سامی مذاہب کی کتابیں اصل حالت میں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کتابوں کی داخلی شہادتیں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ان کی مخاطب اقوام نے انہیں مسخ کردیا ہے۔ مثلا تورات کی پانچویں کتاب میں حضرت موسی علیہ السلام کی وفات اور تکفین و تدفین کا ذکر موجود ہے۔ انجیل ایک نہیں چار ہیں جنھیں ستر اناجیل میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ ویدوں کی اصل ہی نامعلوم ہے۔ یہی حال دیگر تمام مذھبی کتابوں کا ہے۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاھب کی کتابوں کے حفاظ نہیں پائے جاتے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قدرت نے سابقہ تمام کتابیں ایک خاص زمان ومکان میں قائم انسانی جمعیتوں کے لیے نازل کی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کی حفاظت کا مستقل انتظام نہیں فرمایا۔ ان کے برعکس قرآن شریف کی حفاظت کا مستقل انتظام کیا گیا ہے۔ قرآن شریف کے آج بھی لاکھوں حفاظ موجود ہیں۔ حفظ کا یہ اہتمام صرف قرآن شریف کے لیے کیا گیا ہے۔ اگر اسلام آخری دین نہ ہوتا تو قرآن شریف کی حفاظت کا ایسا شاندار بندوبست نہ کیا گیا ہوتا اور اسلام کی تقدیر بھی سابقہ ادیان جیسی ہوتی۔

قرآن شریف کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی حفاظت کا اہتمام بھی غیر معمولی ہے۔ سابقہ ادیان میں کسی نبی کے اقوال و افعال کی حفاظت اس طرح نہیں کی گئی۔ احادیث رسول کی جمع و تدوین اور ان سے وابستہ علوم مثلا اسماء الرجال اور اصول حدیث وغیرہ کی تشکیل میں اہل اسلام کی تقریبا پانچ سے چھے نسلوں نے عرق ریزی کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فہم قرآن کا انحصار احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ اگر احادیث کی جمع و تدوین اور ان سے وابستہ علوم کی تشکیل میں اس قدر غیر معمولی اقدامات نہ کیے گئے ہوتے تو قرآن شریف بازیچۂ اطفال بن کر رہ جاتا۔ احادیث کی تشریعی حیثیت بھی اس بات کی متقاضی تھی کہ ان کی حفاظت میں جگر خون کیا جاتا۔ مستشرقین نے احادیث پر جو بے بنیاد اعتراضات وارد کیے ہیں وہ اسلام کے ساتھ ان کے حسد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وہ اسلام سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قرآن، حدیث اور فقہ پر عجیب بے بنیاد اور احمقانہ اعتراضات وارد کیے ہیں۔استشراق کا پورا منصوبہ تعصب اور علمی بددیانتی کا شاہکار ہے۔ آمدم برسر مطلب، اہل اسلام نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی حفاظت کے لیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ نہ صرف قابل رشک ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آخری دین ہے۔ اگر اسلام آخری دین نہ ہوتا تو احادیث رسول کی جمع و تدوین اور ان سے وابستہ علوم کی تشکیل میں اس قدر غیر معمولی اقدامات نہ کیے گئے ہوتے۔

اصول فقہ اور فقہ قانون کے میدان میں مسلمانوں کے دو ایسے کارنامے ہیں کہ ماضی میں تو ان کی مثال کیا ملے گی جدید دنیا کے قانونی تصورات بھی ان کے مقابلے میں نہایت کم تر ہیں۔ معلوم ہے کہ جدید مغرب انیسویں صدی میں اصول قانون سے متعارف ہوا ہے۔مغرب میں Jurisprudence پر ابتدائی نوعیت کی کتابیں انیسویں صدی میں لکھی گئیں۔ اسلامی اصول فقہ کا تنوع حیران کن ہے۔ فقہ کی نوعیت اور دائرہ کار ششدر کردینے والا ہے۔ میں یہاں اس حوالے سے چار باتیں ذکر کروں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ قانون سازی کا مسئلہ یونانیوں کے دور سے زیر بحث چلا آرہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ قانون سازی کا اختیار اگر اہل اقتدار کے پاس ہو تو مفاد عامہ کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ اہل اقتدار اپنے مفادات کو ترجیح دیں گے۔ اسلام کی تاریخ اس حوالے سے بہت شاندار ہے۔ مسلم تاریخ میں قانون سازی کا عمل ہمیشہ آزاد رہا ہے۔ قانون سازی مجتہد کا وظیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قانون سازی کا عمل ادارہ جاتی جبر اور مفاد پرستی سے محفوظ رہاہے۔ اسلام کے علاوہ کوئی بھی دوسرا مذھب یا غیر مذھبی نظریہ قانون سازی کی ایسی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ قانون اور اخلاق کا باہمی تعلق نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ قانون جبر ہے جبکہ اخلاق انتخاب کی آزادی کے بغیر متصور نہیں ہوسکتا۔ اسلامی فقہ نےحیران کن طریقے سے قانون کو اخلاق میں ضم کردیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم قانونی/ فقہی روایت میں اخلاقی مصالح کو قانون پر قربان نہیں ہونے دیا گیا۔ تیسری بات یہ ہے کہ اسلامی قانون عقل کے وحشیانہ تسلط سے آزاد ہے۔ یہاں چوں کہ Meta-jurisprudence کی حیثیت قرآن شریف اور احادیث رسول کو حاصل ہے,لہذا عقل کی نام نہاد آفاقیت پرستی کارگر نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں غیر معمولی تنوع موجود ہے اور قاضی کے لیے صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کی پوری گنجائش ہے۔ اسلامی فقہ Codification وغیرہ کے سرطان سے محفوظ ہے۔چوتھی اور اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ اسلام میں اجتہاد کا ادارہ صدر اول سے موجود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی تعلیم دی ہے۔ کوئی بھی قانونی روایت اس کی نظیر نہیں دکھا سکتی۔ سابقہ تمام ادیان میں اجتہاد کا مطلقا کوئی تصور نہیں تھا۔ اجتہاد بدلتی ہوئی صورت حال میں معاملات کو احکام شرعیہ کے تابع رکھنے کا اصول ہے۔ علامہ محمد اقبال کے بقول اجتہاد مسلم تہذیب کا اصول حرکت ہے۔ خود علامہ محمد اقبال نے اس اصول سے ختم نبوت پر استدلال کیا ہے۔اگر وحی کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا تو پھر نئے نبی آتے نہ کہ اجتہاد کا ادارہ وجود پذیر ہوتا۔ اسلامی فقہ کے یہ امتیازی اوصاف صرف اس وجہ سے ممکن ہوئے ہیں کہ اسلام آخری دین ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ ہوتے تو اسلامی فقہ کی تدوین و تشکیل ان خطوط پر کبھی نہیں ہوسکتی تھی۔

قرآن شریف، احادیث رسول اور فقہ کے بارے میں انتہائی اختصار کے ساتھ ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ اسلام کے وہ اوصاف ہیں جو اسلام کو سابقہ تمام ادیان سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کی یہ نوعیت ہرگز نہ ہوتی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور اسلام آخری مذھب نہ ہوتا۔یہ اسلام کے دعوی خاتمیت کے ناقابل تردید دلائل ہیں۔کسی بھی مذھب کا پیروکار اپنے مذھب کے منابع کو قرآن شریف، احادیث رسول اور فقہ کے ساتھ موازنہ کرکے دیکھے گا تو اس پر حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہوجائے گی۔ وہ پورے اطمینان کے ساتھ یہ جان لے گا کہ اسلام کا دعوی خاتمیت مبنی بر حق ہے اور اب اسلام ہی واحد مدار نجات ہے۔یہاں تک تو ہم نے اسلام کے بنیادی ماخذ کی حفاظت اور فقہ اسلامی کی روایت پر خاتمیت کے تناظر میں بات کی ہے۔ گزارش ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد جامعیت اور کاملیت کے اعتبار سے بے مثل ہیں۔ صرف توحید پر بات کی جائے تو بلا ریب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں توحید ذات و صفات اور تنزیہہ و تشبیہہ کے حوالے سے کمال کی حد کو پہنچی ہوئی ہے۔ اسی طرح عقیدہ رسالت اور آخرت پوری تفصیلات اور شفافیت کے ساتھ اسلام میں موجود ہے۔ رسول اللہ کی سیرت کا جز جز محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں جس عرصہ تاریخ میں اسلام کا ظہور ہوا ہے وہ بھی اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ معلوم ہے کہ اسلام سے قبل انسانیت عقلی اور فکری بلوغ کو پہنچ چکی تھی۔ یونان و روم اور ایران و ہند اور چین وغیرہ کی فکری پیش رفت اور تہذیبی عروج کو سامنے رکھا جائے تو اس بات کو آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ امر بھی نہایت دلچسپ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ہی بین الاقوامی روابط اور مختلف براعظموں کے درمیان تہذیبی اخذ و تاخذ میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا تھا۔ اس تمام تر پیش رفت کی معنویت یہ ہے کہ گویا نبی آخرالزماں کی بعثت کی خاطر ایک بین الاقوامی انسانی منظر نامہ تخلیق کیا جارہا تھا۔ اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ اسلام کے اسی وصف خاتمیت کی بدولت مسلم تہذیب میں اصولی تنوع، جامعیت اور توازن پیدا ہوا ہے۔اسلام چونکہ آخری مذھب ہے لہذا یہ تمام انسانوں کے لیے ہے۔ مسلم تہذیب کا تنوع اس پر دلیل ہے کہ اسلام جائز اور ضروری انسانی مفادات کا کفیل ہے۔ سابقہ تمام ادیان تدبیر الہیہ کے تحت ان نتائج کے حصول کو یقینی نہیں بناسکتے تھے۔ یہ تاریخ ہے کہ سابقہ ادیان کا کردار ہمارے بیان کردہ اوصاف سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ارادۂ الٰہیہ ان مذاھب کو مدار نجات کی حیثیت سے باقی رکھنے کا نہیں تھا۔ تاریخی طور پر بعض سابقہ مذاھب کا باقی رہنا عقل کے لیے آزمائش کے ماحول کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام چونکہ آخری دین ہے اس لیے اس کی ترکیب، نوعیت اور کردار سابقہ تمام ادیان سے قطعی ممتاز ہے۔پس ختم نبوت ہی اسلام کے تمام امتیازی اوصاف کا واحد سرچشمہ ہے۔

ھذاماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
*ابرار حسین*

Address

Madni Market Miani Adda
Kallar Kahar

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00
Sunday 09:00 - 18:00

Telephone

+923318892986

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saqi Mobiles posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saqi Mobiles:

Share