Sultan Fateh

Sultan Fateh We provide Islamic Information and History
(1)

29/05/2026
20/05/2026

Taqbeerat e tashriq

20/05/2026

Dua

19/05/2026

عشرہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھانے کا آسان دستور العمل

اگر وقت کی قلت یا گھریلو اور کاروباری زمہ داریوں کی بنا پر زیادہ وقت عبادات کو نہ دے سکیں تب بھی مندرجہ زیل اعمال کے اہتمام سے ان شاءاللہ اس عشرہ کی برکات کسی حد تک حاصل کی جاسکتی ہیں

- پانچ وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں، (خواتین گھر میں اول وقت میں ادا کریں)

- ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام کریں ورنہ محنت کے باوجود عبادات کا نور اور حقیقی نفع حاصل نہیں ہوگا

بالخصوص اپنی نظروں اور زبان کی حفاظت کریں

- ذولحجہ کا چاند دیکھنے سے لیکر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ تراشیں، یہ مستحب عمل ہے

- فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمی (33 سبحان اللہ، 33 الحمدللہ، 34, اللہ اکبر

- کم از کم یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ، ورنہ اس عشرے میں جتنے روزے رکھ سکیں اتنا بہتر

- چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ الله اكبر، الله اكبر، لا اله الا الله والله اكبر، الله اكبر ولله الحمد کا ورد

- چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ تیسرے کلمے کا ورد؛ سبحان الله، والحمدلله، ولا اله الا الله، والله اكبر

- چلتے پھرتے درود شریف کا ورد

--کم از کم 15-10 منٹ روزانہ ترتیب سے تلاوت قرآن کا اہتمام

- نماز مغرب میں 3 فرض، 2 سنت اور 2 نفل کے بعد 2 نفل مزید نماز اوابین کی نیت سے ادا کرلیں

- نماز عشاء میں 4 فرض، 2 سنت کے بعد وتر سے پہلے 2-4 رکعات تہجد کی نیت سے ادا کرلیں، اسکے بعد وتر ادا کرلیں۔ اگر رات میں توفیق ہوجائے تو مزید رکعات تہجد ادا کرلیں... لیکن عشاء کے ساتھ ادا کرنے سے کم از کم تہجد سے محرومی نہیں ہوگی

- حسب استطاعت صدقہ و خیرات

- رات کو سونے سے پہلے تسبیح فاطمی، درود شریف، استغفار، اور دعا۔

- اور سب سے بڑھ کر کوشش کریں کہ اپنی زبان یا کسی عمل سے کسی دوسرے کو ادنیٰ تکلیف بھی نہ پہنچے، اور اگر پہنچ جائے تو معافی مانگنے میں دیر نہ کریں

یاد رکھیں، اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنچاکر اللہ کی رضا کا حصول ناممکن ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

ایام میں سب سے افضل ترین ایام اور تاریخ کا عظیم ترین عشرہسال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں کچھ دن ایسے ہیں جنہیں خالقِ کائنا...
18/05/2026

ایام میں سب سے افضل ترین ایام اور تاریخ کا عظیم ترین عشرہسال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں کچھ دن ایسے ہیں جنہیں خالقِ کائنات اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دنوں پر فضیلت دی ہے۔ یہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جنہیں احادیثِ مبارکہ میں "افضل ایامِ دنیا" (دنیا کے سب سے بہترین دن) قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم کی سورت الفجر میں اللہ رب العزت نے جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے، مفسرین کے مطابق وہ یہی ذوالحجہ کا عشرہ ہے۔
یہ ایام کیوں افضل ہیں؟
بنیادی عبادات کا سنگم: حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دنوں کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں اسلام کے تمام بنیادی ارکانِ عبادات (نماز، روزہ، صدقہ اور حج) ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں، جو سال کے کسی اور حصے میں ممکن نہیں۔
دینِ اسلام کی تکمیل: نو ذوالحجہ (یومِ عرفہ) تاریخِ انسانی کا وہ عظیم ترین دن ہے جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا اور دینِ اسلام کی تکمیل کی آیت نازل ہوئی۔
لازوال تاریخی قربانی: یہ ایام سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی تسلیم و رضا کی اس عظیم تاریخ کی یادگار ہیں، جس کی پیروی آج بھی امتِ مسلمہ قربانی کی صورت میں کرتی ہے۔
اس عشرے کا پیغامِ عمل
تکبیراتِ تشریق کی کثرت: ان دنوں میں کثرت سے اللہ کی بڑائی بیان کیجئے (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد)۔
یومِ عرفہ کا روزہ: نو ذوالحجہ کا روزہ اگلے اور پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوتی ہیں جو رب کی دی ہوئی مہلت اور ان مبارک لمحات کی قدر کرتی ہیں۔
کمنٹ سیکشن میں ایک بار درود پاک لکھ کر اس معلوماتی پیغام کو آگے پھیلائیے اور پیج کو شیئر کیجئے۔

کعبہ کا سایہ اور چار نوجوانوں کی انوکھی خواہشات! 🕋✨یہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے ک...
17/05/2026

کعبہ کا سایہ اور چار نوجوانوں کی انوکھی خواہشات! 🕋✨
یہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان جیسی تڑپ اور نیت رکھتا ہے، اللہ رب العزت اسے ویسا ہی عطا فرما دیتا ہے۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ کعبہ کے سائے میں (حطیم کے پاس) قریش کے چار نامور اور باصلاحیت نوجوان ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ بن زبیر، مصعب بن زبیر، عبدالملک بن مروان اور عروہ بن زبیر شامل تھے۔
دورانِ گفتگو کسی نے مشورہ دیا: "آج ہم سب اللہ کے گھر کے سامنے بیٹھے ہیں، کیوں نہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی سب سے بڑی خواہش اور آرزو کا اظہار کرے؟"
توجہ فرمائیے کہ ان چاروں نے کیا مانگا:
1️⃣ حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا:
"میری خواہش ہے کہ میں حجاز (مکہ و مدینہ) کا مالک بنوں اور مجھے امت کی خلافت حاصل ہو۔"
(تاریخ گواہ ہے کہ آگے چل کر ان کی یہ خواہش پوری ہوئی اور انہوں نے مکہ میں اپنی خلافت قائم کی)۔
2️⃣ مصعب بن زبیر نے کہا:
"میری آرزو ہے کہ میں عراقین (بصرہ اور کوفہ) کی گورنری حاصل کروں اور میرا نکاح قریش کی سب سے معزز اور خوبصورت خواتین، یعنی حضرت حسینؓ کی صاحبزادی سکینہ بنتِ حسین اور مروان کی بیٹی عائشہ بنتِ مروان سے ہو۔"
(اللہ نے ان کی یہ آرزو بھی پوری کی، وہ عراق کے امیر بنے اور ان دونوں سے ان کا نکاح ہوا)۔
3️⃣ عبدالملک بن مروان نے کہا:
"تم سب کی خواہشات اپنی جگہ، لیکن میری آرزو یہ ہے کہ میں روئے زمین کا خلیفہ بنوں اور پوری امتِ مسلمہ کی حکومت میرے ہاتھ میں ہو۔"
(تقدیر نے یاوری کی اور وہ بنو امیہ کا سب سے طاقتور اور مرکزی خلیفہ بنا)۔
4️⃣ عروہ بن زبیر (چوتھے بھائی) نے کہا:
جب تینوں دنیا کی بادشاہت اور جاہ و جلال مانگ چکے، تو عروہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "تم سب نے دنیا مانگی، لیکن میری خواہش ہے کہ میں زہد و تقویٰ اختیار کروں، قرآن و حدیث کا وہ عظیم علم حاصل کروں کہ لوگ مجھ سے دین سیکھیں، اور آخرت میں مجھے اللہ کی رضا اور جنت مل جائے۔"
(تاریخ گواہ ہے کہ جہاں دنیا کی بادشاہتیں ختم ہو گئیں، وہاں عروہ بن زبیر مدینہ کے 'فقہائے سبعہ' (سات بڑے فقہاء) میں شمار ہوئے اور قیامت تک کے لیے ان کا نام علمِ دین کا روشن ستارہ بن گیا)۔
💡 سبق:
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ کے سامنے دل سے نکلی ہوئی باتیں کتنی جلد قبول ہوتی ہیں! لیکن سب سے بڑا رتبہ اس کا ہے جس نے فانی دنیا کے بجائے علمِ دین اور آخرت کی کامیابی کو چنا۔
ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی تڑپ اور دعاؤں کا معیار بلند رکھیں، کیونکہ ہمارا رب دینے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔
#دعا

With Muhammad Zeeshan – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
16/05/2026

With Muhammad Zeeshan – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

مفتی تقی عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے ساتھ اپنے ایک سفر کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"کوئ...
16/05/2026

مفتی تقی عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے ساتھ اپنے ایک سفر کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"کوئٹہ کے سفر میں، میں علامہ بنوریؒ کے ہمراہ تھا جہاں مولانا کو کل 24 گھنٹے ٹھہرنا تھا۔ ان 24 گھنٹوں میں ان کی مصروفیات کا یہ عالم تھا کہ انہیں تین مجالس سے خطاب کرنا تھا، ایک پریس کانفرنس تھی، گورنر بلوچستان سے ملاقات تھی اور عشاء کے بعد جامع مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ عام تھا۔ سارا دن مولانا کو ایک لمحہ بھی آرام کا نہ مل سکا۔"
مفتی تقی عثمانی صاحب آگے فرماتے ہیں کہ عشاء کے جلسے سے واپسی پر رات کے بارہ بج چکے تھے۔ ہم سب شدید تھکن سے چور تھے اور یہی سمجھ رہے تھے کہ حضرت اب بستر پر لیٹتے ہی سو جائیں گے۔ لیکن قربان جائیے ان اللہ والوں کے جذبے پر! علامہ بنوریؒ نے کمرے میں آتے ہی تازہ وضو کیا اور جائے نماز بچھا کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہو گئے۔
دن بھر کی اس ہلاکت خیز تھکن کے باوجود، انہوں نے رات کا ایک بڑا حصہ انتہائی سکون اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز اور رو رو کر دعائیں مانگنے میں گزار دیا۔
سبق:اللہ پاک ہمیں بھی اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلنے اور اپنی راتوں کو عبادت سے آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
آپ کو یہ واقعہ کیسا لگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا اور اس ایمان افروز پیغام کو آگے شیئر کیج. Karen

سلطان فاتح: حق گوئی اور توکل کی داستانعنوان: حجاج بن یوسف کا قید خانہ اور توکل کی انتہا!"یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں ...
13/05/2026

سلطان فاتح: حق گوئی اور توکل کی داستان
عنوان: حجاج بن یوسف کا قید خانہ اور توکل کی انتہا!
"یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند... بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الّا اللہ"
تاریخ کے صفحات میں حضرت عبدالرحمن بن ابی نعم بجلیؒ کا نام ایک ایسے جلیل القدر تابعی کے طور پر چمکتا ہے جن کی عبادت اور زہد و تقویٰ کی مثال نہیں ملتی۔ آپؒ کی خدا خوفی کا یہ عالم تھا کہ لوگ کہتے: "اگر موت کا فرشتہ بھی آ جائے تو ان کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آئے گا"۔
حق کی پکار اور حجاج کا ظلم
ایک دن آپؒ وعظ و نصیحت کی غرض سے وقت کے ظالم حکمران حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے اور اسے ظلم کے انجام سے ڈرایا۔ حجاج نے نصیحت سننے کے بجائے آپؒ کو ایک ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا جہاں نہ روشنی تھی، نہ ہوا، اور نہ ہی پندرہ دن تک کھانے پینے کا کوئی سامان!
کرامتِ ایمانی
15 دن گزرنے کے بعد جب حجاج نے یہ سوچ کر دروازہ کھلوایا کہ اب تک تو لاش گل سڑ گئی ہوگی، تو منظر دیکھ کر سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں! آپؒ موت کی آغوش میں نہیں، بلکہ اپنے رب کے حضور نماز میں مشغول تھے۔
سبحان اللہ! جس رب نے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بنایا، اسی رب نے اپنے اس بندے کو قید خانے میں زندگی اور سکون عطا فرمایا۔ حجاج جیسا ظالم بھی یہ کرامت دیکھ کر لرز اٹھا اور آپؒ کو فوری آزاد کرنے کا حکم دے دیاسبحان اللہ لکھ کر اس ایمان افروز واقعے کو شیئر کریں تاکہ دوسروں کا ایمان بھی تازہ ہو"۔

گھر کے رشتے: انا کی دیوار یا محبت کا پل؟گھر وہ جگہ ہے جہاں سکون ہونا چاہیے، لیکن اکثر یہی جگہ ہماری خاموش جنگ کا میدان ب...
12/05/2026

گھر کے رشتے: انا کی دیوار یا محبت کا پل؟
گھر وہ جگہ ہے جہاں سکون ہونا چاہیے، لیکن اکثر یہی جگہ ہماری خاموش جنگ کا میدان بن جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گھروں میں تلخی کی اصل وجہ کیا ہے؟
اکثر ہم سب صرف اپنی بات کو "سچ" اور "حتمی" ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
🔹 بڑے سمجھتے ہیں کہ ان کا تجربہ ہی آخری فیصلہ ہے۔
🔹 چھوٹے محسوس کرتے ہیں کہ ان کی صحیح بات کو بھی اہمیت نہیں دی جا رہی۔
لیکن یاد رکھیے:
💡 مشکلات کا حل "اپنی بات منوانے" میں نہیں، بلکہ "دوسروں کی بات سمجھنے" میں چھپا ہے۔
جب ہم ضد اور انا (Ego) کو رشتوں سے اوپر رکھتے ہیں، تو ہم جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔ اگر ہم کھلے دل اور کھلے دماغ کے ساتھ ایک دوسرے کا موقف سنیں، تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔
آج کا سبق:
✅ ہر وقت خود کو درست ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
✅ دوسرے کی بات سننا اور سمجھنا آپ کی شخصیت کو بڑا بناتا ہے۔
✅ انا کو ایک طرف رکھ کر مل بیٹھنے سے گھر جنت بن جاتا ہے۔
آئیں، آج سے اپنے گھر میں "میں" کی جگہ "ہم" کو دیں۔ اپنے بڑوں کا ادب کریں اور اپنوں کی رائے کو بھی اہمیت دیں۔
💬 آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کے خیال میں بھی "انا" رشتوں کو خراب کرتی ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
📌 اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اسے شیئر کر کے دوسروں تک پہنچائیں اور ایسی مزید اصلاحی تحریروں کے لیے "سلطان فاتح بزمِ حوا" کو فالو کریں! 🔔
#

Address

Main City
Kahror Pakka
59340

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Fateh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share