12/08/2022
28 ہزار سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی نیو کلیئر بیٹری!
قدرتی وسائل کے ظالمانہ استعمال کے بعدانسانوں کو یہ خیال آیا کہ ہم نے نیا میں ضرورت سے زیادہ ایجادات کرتے ہوئے احولیات کو تباہ کر دیا ہے۔ آج ہر ملک اسی فکر میں نظر آتا ہے کہ کس طرح دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت کم کیا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے محفوظ رہا جائے۔ ماحول میں کاربن کے اخراج کی وجہ سے کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کیلئے دنیا بھر میں ایندھن کی جگہ بیٹریز کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔لیتھیم آئن بیٹریز کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، دنیا کی بیشتر بین الاقوامی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں ان کا استعمال کر رہی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز، میڈیکل آلات، سمارٹ واچ ،لیپ ٹاپ، سب میں لیتھیم آئن بیٹری کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ اس وقت دنیا کی پاور انڈسٹری پر اس وقت لیتھیم آئن بیٹریز کی حاکمیت قائم ہے۔فروری2022ء میں امریکی محکمہ توانائی نے بائی پارٹیسن انفراسٹرکچر قانون پاس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ میں گرین انرجی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے لیتھیم
آئن بیٹری کیلئے3بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔چائنہ نے پوری دنیا میں لیتھیم آئن بیٹریز بنانے میں اپنا لوہا منوایا ہے اور تاحال وہ لیتھیم آئن بیٹریز بنانے اور فروخت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔دنیا میں سب سے زیادہ لیتھیم کے ذخائر چائنہ،چلی،ارجنٹائن اور آسٹریلیا میں موجود ہیں۔ چائنہ مغرنی آسٹریلیا میں موجود لیتھیم کے ذخائر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں کچھ ایسے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین اس کے استعمال پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں لیتھیم آئن بیٹری میں گرمی کی شدت کی وجہ سے آگ لگنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 16فروری2022 کو جرمنی سے روانہ ہونے والے ایک کارگو جہاز میں اچانک آگ لگ گئی، اس جہاز میں ہزاروں کی تعداد میں مہنگی اور بیش قیمت گاڑیاں موجود تھیں اور گاڑیوں میں لیتھیم آئین بیٹریز۔ جہاز میں آگ کیوں لگی اس کی وجہ تو معلوم نہیں ہو سکی لیکن ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریز نے آگ میں ایندھن کا کام کیا جس کی وجہ سے آگ بے قابو ہوتی گئی۔ سائنسدانوں کے مطابق اب تک لیتھیم آئن بیٹریز سیفٹی کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنا سکیںاور اگر ان بیٹریز کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے اور آگ لگنے جیسے واقعات لوگوں میں گرین انرجی سے متعلق کئی شکوک و شبہات پیدا کر سکتے ہیںاس لئے کسی متبادل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر کیلی فورنیا کی ایک کمپنی نے '' نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز‘‘ کے تصور کو پیش کیا ہے ، اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ بیٹریز لیتھیم آئن بیٹریز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔2016 میںبھی کچھ کمپنیوں نے نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز بنانے کا اعلان کیا تھا، ان کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ یہ بیٹریز گاڑیوں اور موبائل فونز میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی برسٹل کے پروفیسر ٹام سکاٹ نے کئی سال کی تحقیق کے بعد جوہری فضلہ کی مدد سے ایک ڈائمنڈ سیل تیار کیا ہے۔ان کے مطابق ریڈیو ایکٹیو فیلڈ کی موجودگی میںڈائمنڈ سیل توانائی پیدا کر سکتا ہے۔اس طرح کی بیٹریز کو بیٹا وولٹیک بیٹریز بھی کہا جاتا ہے۔ جوہرہ فضلہ سے بننے والا ریڈیو ایکٹیو گریفائٹ، کاربن 14جیسے ایلیمنٹس رکھتا ہے اور یہی ایلیمنٹ ریڈیوایکٹیو فیلڈ کی موجودگی میںنائیٹروجن14، اینٹی نیوٹرینو اور بیٹاپارٹیکل الیکٹرون میںگھل جاتا ہے۔یہی بیٹا الیکٹرون توانائی کی پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ پروفیسر سکا ٹ کے مطابق ڈائمنڈ بیٹریز سے بہت کم مقدار میں توانائی حاصل ہو گی لیکن کاربن 14کی موجودگی کی وجہ سے یہ 10سے 20سال تک کام کر سکتی ہیں۔ان بیٹریز کی مدد سے میڈیکل آلات، سیٹلائٹ اور دیگر کم توانائی لینے والی چھوٹے سینسر چلائے جا سکتے ہیں۔فی الحال ڈائمنڈ بیٹریز کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنا مشکل ہے لیکن یہ مائیکرو بیٹریز کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اسی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے نیوکلیئر بیٹریز متعارف کروائی ہیں۔یہ بیٹریز بنانے والی کمپنی '' نینو ڈائمنڈ بیٹریز‘‘کا وعویٰ ہے کہ یہ بیٹریز 28ہزار سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔کچھ ماہرین کے مطابق کمپنی کی جانب سے ان بیٹریز کی جتنی تشہیر کی گئی ہے ان کی صلاحیت اس سے بہت کم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ NDBکی بنائی گئی بیٹریز لمبے عرصے تک کام کرسکتی ہیں لیکن ان بیڑیز سے حاصل ہونے والی توانائی صرف100مائیکرو واٹ ہے۔جس سے الیکٹرک گاڑی تو دور کی بعد ایک ایل ای ڈی بلب بھی روشن نہیں کیا جا سکتا۔ برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر سکاٹ کے اشتراک سے بننے والی کمپنی آکن لائٹ بھی نیو کلیئر ڈائمنڈ بیٹریز کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔ 2018ء میں پروفیسر اور ان کی ٹیم نے ڈرون کی مدد سے دو سینسر آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر بھیجے جنہیں نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز کی مدد سے چلایا جا رہا تھا تاکہ بیٹریز کو ٹیسٹ کیا جا سکے کہ شدید گرمی، میں یہ کیسے کام کرتی ہیں۔ پروفیسر سکاٹ کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور بیٹریز اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتی رہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق انہیں ''کیمیکل ویپر ڈیپوزیشن‘‘ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اور یہ وہی طریقہ کار ہے جس کی مدد سے مصنوئی ڈائمنڈ تیار کئے جاتے ہیں۔ اس عمل سے تیار کئے گئے ڈائمنڈ کو اگر بیٹا ریڈی ایشن میں رکھا جائے تو نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹری تیار ہوتی ہے جسے بغیر ری چارج کئے ہزاروں برس تک استعمال کیا جاسکتاہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے اوراسے مزید قابل استعمال بنانے کیلئے ابھی اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2022-06-07/25892?fbclid=IwAR05fLk54mCSpTQt0Aqlc6g46MVFvh9nlfI_kpOJPOIz3gKAVua3_mz3l88