From Ancient Greek To Modern World

From Ancient Greek To Modern World Modern science is a body of verifiable empirical knowledge, a global community of scholars, and a set of techniques for investigating the universe.

The history of science traces phenomena and their pre-cursors back in time, all the way in human prehistory

28 ہزار سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی نیو کلیئر بیٹری!قدرتی وسائل کے ظالمانہ استعمال کے بعدانسانوں کو یہ خیال آی...
12/08/2022

28 ہزار سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی نیو کلیئر بیٹری!

قدرتی وسائل کے ظالمانہ استعمال کے بعدانسانوں کو یہ خیال آیا کہ ہم نے نیا میں ضرورت سے زیادہ ایجادات کرتے ہوئے احولیات کو تباہ کر دیا ہے۔ آج ہر ملک اسی فکر میں نظر آتا ہے کہ کس طرح دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت کم کیا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے محفوظ رہا جائے۔ ماحول میں کاربن کے اخراج کی وجہ سے کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کیلئے دنیا بھر میں ایندھن کی جگہ بیٹریز کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔لیتھیم آئن بیٹریز کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، دنیا کی بیشتر بین الاقوامی کمپنیاں اپنی مصنوعات میں ان کا استعمال کر رہی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز، میڈیکل آلات، سمارٹ واچ ،لیپ ٹاپ، سب میں لیتھیم آئن بیٹری کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ اس وقت دنیا کی پاور انڈسٹری پر اس وقت لیتھیم آئن بیٹریز کی حاکمیت قائم ہے۔فروری2022ء میں امریکی محکمہ توانائی نے بائی پارٹیسن انفراسٹرکچر قانون پاس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ میں گرین انرجی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے لیتھیم
آئن بیٹری کیلئے3بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔چائنہ نے پوری دنیا میں لیتھیم آئن بیٹریز بنانے میں اپنا لوہا منوایا ہے اور تاحال وہ لیتھیم آئن بیٹریز بنانے اور فروخت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔دنیا میں سب سے زیادہ لیتھیم کے ذخائر چائنہ،چلی،ارجنٹائن اور آسٹریلیا میں موجود ہیں۔ چائنہ مغرنی آسٹریلیا میں موجود لیتھیم کے ذخائر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں کچھ ایسے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین اس کے استعمال پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں لیتھیم آئن بیٹری میں گرمی کی شدت کی وجہ سے آگ لگنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 16فروری2022 کو جرمنی سے روانہ ہونے والے ایک کارگو جہاز میں اچانک آگ لگ گئی، اس جہاز میں ہزاروں کی تعداد میں مہنگی اور بیش قیمت گاڑیاں موجود تھیں اور گاڑیوں میں لیتھیم آئین بیٹریز۔ جہاز میں آگ کیوں لگی اس کی وجہ تو معلوم نہیں ہو سکی لیکن ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریز نے آگ میں ایندھن کا کام کیا جس کی وجہ سے آگ بے قابو ہوتی گئی۔ سائنسدانوں کے مطابق اب تک لیتھیم آئن بیٹریز سیفٹی کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنا سکیںاور اگر ان بیٹریز کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے اور آگ لگنے جیسے واقعات لوگوں میں گرین انرجی سے متعلق کئی شکوک و شبہات پیدا کر سکتے ہیںاس لئے کسی متبادل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر کیلی فورنیا کی ایک کمپنی نے '' نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز‘‘ کے تصور کو پیش کیا ہے ، اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ بیٹریز لیتھیم آئن بیٹریز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔2016 میںبھی کچھ کمپنیوں نے نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز بنانے کا اعلان کیا تھا، ان کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ یہ بیٹریز گاڑیوں اور موبائل فونز میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی برسٹل کے پروفیسر ٹام سکاٹ نے کئی سال کی تحقیق کے بعد جوہری فضلہ کی مدد سے ایک ڈائمنڈ سیل تیار کیا ہے۔ان کے مطابق ریڈیو ایکٹیو فیلڈ کی موجودگی میںڈائمنڈ سیل توانائی پیدا کر سکتا ہے۔اس طرح کی بیٹریز کو بیٹا وولٹیک بیٹریز بھی کہا جاتا ہے۔ جوہرہ فضلہ سے بننے والا ریڈیو ایکٹیو گریفائٹ، کاربن 14جیسے ایلیمنٹس رکھتا ہے اور یہی ایلیمنٹ ریڈیوایکٹیو فیلڈ کی موجودگی میںنائیٹروجن14، اینٹی نیوٹرینو اور بیٹاپارٹیکل الیکٹرون میںگھل جاتا ہے۔یہی بیٹا الیکٹرون توانائی کی پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ پروفیسر سکا ٹ کے مطابق ڈائمنڈ بیٹریز سے بہت کم مقدار میں توانائی حاصل ہو گی لیکن کاربن 14کی موجودگی کی وجہ سے یہ 10سے 20سال تک کام کر سکتی ہیں۔ان بیٹریز کی مدد سے میڈیکل آلات، سیٹلائٹ اور دیگر کم توانائی لینے والی چھوٹے سینسر چلائے جا سکتے ہیں۔فی الحال ڈائمنڈ بیٹریز کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنا مشکل ہے لیکن یہ مائیکرو بیٹریز کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اسی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے نیوکلیئر بیٹریز متعارف کروائی ہیں۔یہ بیٹریز بنانے والی کمپنی '' نینو ڈائمنڈ بیٹریز‘‘کا وعویٰ ہے کہ یہ بیٹریز 28ہزار سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔کچھ ماہرین کے مطابق کمپنی کی جانب سے ان بیٹریز کی جتنی تشہیر کی گئی ہے ان کی صلاحیت اس سے بہت کم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ NDBکی بنائی گئی بیٹریز لمبے عرصے تک کام کرسکتی ہیں لیکن ان بیڑیز سے حاصل ہونے والی توانائی صرف100مائیکرو واٹ ہے۔جس سے الیکٹرک گاڑی تو دور کی بعد ایک ایل ای ڈی بلب بھی روشن نہیں کیا جا سکتا۔ برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر سکاٹ کے اشتراک سے بننے والی کمپنی آکن لائٹ بھی نیو کلیئر ڈائمنڈ بیٹریز کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔ 2018ء میں پروفیسر اور ان کی ٹیم نے ڈرون کی مدد سے دو سینسر آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر بھیجے جنہیں نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹریز کی مدد سے چلایا جا رہا تھا تاکہ بیٹریز کو ٹیسٹ کیا جا سکے کہ شدید گرمی، میں یہ کیسے کام کرتی ہیں۔ پروفیسر سکاٹ کا یہ تجربہ کامیاب رہا اور بیٹریز اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتی رہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق انہیں ''کیمیکل ویپر ڈیپوزیشن‘‘ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اور یہ وہی طریقہ کار ہے جس کی مدد سے مصنوئی ڈائمنڈ تیار کئے جاتے ہیں۔ اس عمل سے تیار کئے گئے ڈائمنڈ کو اگر بیٹا ریڈی ایشن میں رکھا جائے تو نیوکلیئر ڈائمنڈ بیٹری تیار ہوتی ہے جسے بغیر ری چارج کئے ہزاروں برس تک استعمال کیا جاسکتاہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے اوراسے مزید قابل استعمال بنانے کیلئے ابھی اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2022-06-07/25892?fbclid=IwAR05fLk54mCSpTQt0Aqlc6g46MVFvh9nlfI_kpOJPOIz3gKAVua3_mz3l88

دس لاکھ (One million), ایک ارب (One billion) اور 10 کھرب ( One trillion) کتنے بڑے نمبر ھے؟ مثالوں سے وضاحت.همیں سائنس می...
11/11/2018

دس لاکھ (One million), ایک ارب (One billion) اور 10 کھرب ( One trillion) کتنے بڑے نمبر ھے؟ مثالوں سے وضاحت.

همیں سائنس میں اور اپنی روز مره زندگی میں ملین ،بلین اور ٹریلین کے اصلاحات اکثرسننے کو ملتے ھیں. جیسا که،
مریخ سیارے(Planet Mars) کی سورج سے اوسطأ دوری 228 ملین کلو میٹر اور یورینس سیارے (Planet Uranus) کی دوری 2.87 بلین (2.87 ارب) کلو میٹر هے.
سائنسدانوں کے مطا بق زمین کی عمر 4.54 ارب (4.54 بلین) سال هے اور کائنات کی عمر کا اندازه 13.7 ارب سال (13.7 بلین) لگایا گیا یے.

ناسا (NASA) کی خلائی گاڑی جس کا نام کیوراسٹی ( Curiosity Rover) هے، 6 اگست 2012 کو بھت ھی شاندار طریقے سے کامیابی کے ساتھ مریخ کی سطح پر اتری تهی، اس پر 2.5 بلین امریکی ڈالر لاگت ائی تھی.
اولمپکس 2020 جو جاپان میں منعقد ھو نے جا رھا هے، اس کے لیئے ٹوکیو شھر میں ایک سٹیڈیم تعمیر ھونا تھا. جاپان کے وزیر اعظم کے سامنے سٹیڈیم کا ایک نھا یت خوبصورت نقشه پیش کیا گیا. سٹیڈیم ایک خلائی جهاز (Space ship) کی طرح دکھتا تھا اور اس کی تعمیر پر 2.1 بلین (2.1 ارب) امریکی ڈالر لاگت آ رھی تھی. جاپانی وزیر اعظم نے یه کهه کر وه نقشه مسترد کر دیا که اس کی تعمیری لاگت (2.1 بلین ) بهت ذیا ده ھے، اسی لیئے کوئی اور سستا نقشه بناؤ.
امریکه نے افغا نستان کی جنگ پر 2017 تک 2 ٹریلین ڈالر اور عراق، افغا نستان اور پاکستان تینوں ملکوں کے جنگوں پر مجموعی طور پر کل 5 ٹریلین ڈالر خرچ کیے.

ملین، بلین اور ٹریلن کتنے بڑے عدد ھیں یه مثالوں سے جاننے کی کو شش کر تے ھیں.

1 ملین = 1000,000
1 ملین = دس لاکھ

1 بلین = 1000,000,000
1 بلین = 1 ارب

1 ٹرلین = 1000,000,000,000
1 ٹرلین = دس کھرب

مثال نمبر 1
فرض کریں که آپ نے کسی جگه پر 3 بندوں(Person) کے آنے کا انتظار کر نا هے جس میں سے پهلا بنده1 ملین سیکنڈ بعد، دوسرا بنده 1 بلین سیکنڈ بعد اور تیسره بنده 1 ٹرلین سیکنڈ بعد آئے گا. تو اس حساب سےآپ کو پهلے بندے کے آنے کے لیئے 11.5 دن کا انتظار کرنا ھوگا، کیونکه 1 ملین سیکنڈ کو اگر دنوں میں تبدیل کیے جائیں تو اس سے تقریبأ ساڑھے گیاره دن بنتے ھیں. اسی طرح آپ کو دوسرے بندے کے آنے کےلیئے 31.68 سال انتظار کرنا ھوگا، کیونکه ایک بلین سیکنڈ کو اگر سالوں میں تبدیل کیا جاۓ تو اس سے 31.68 سال بنتے هیں. آخر میں تیسرا بنده آۓ گا اور اس کے لیے آپ کو 31688 سال انتظار کرنا ھوگا، کیونکه 1 ٹرلین سیکنڈ کو اگر سالوں میں تبدیل کیا جاۓ تو اس سے 31688 سال بنتے هیں.

1 ملین سیکنڈ = 11.5 دن
1 بلین سیکنڈ = 31.68 سال
1 ٹرلین سیکنڈ = 31688 سال

مثال نمبر 2
سننے میں آیا هے که جنو بی ایشیاء کے کسی ملک میں 2 بندوں پر الزام ھے که ایک نے 460 ارب (460 بلین) روپے جبکه دوسرے بندے نے 1800 ارب یعنی 18 کھرب (1.8 ٹریلین ) روپے کی کرپشن کی ھے. آئیں اب یه جاننے کی کو شش کرتے ھیں که یه کتنا پیسه ھے اور اتنا پیسه کمانے میں کتنا عرصه لگے گا.
فرض کریں که آپ کی ماهوار تنخواه 300000 (3لاکھ) روپے هے، مطلب آپ کو ھر دن دس ھزار (10،000) روپے ملتے ھیں. تو اس حساب سے آپ کو 1 لاکھ 26 هزار ستائس (126027) سال لگیں گے 460 ارب روپے کمانے میں اور 4 لاکھ 93 ھزار 1 سو 50 (493150) سال لگیں گے 1800 ارب (1.8 ٹریلین) روپے کمانے میں. اگر دوسری طرف دیکھا جاۓ تو نظریه ارتقاء کے مطا بق، انسانوں کی موجو ده سپیشیز جسے ھومو سیپنز (Homo sapiens) کها جا تا هے یه تقریبأ 2 لاکھ (200000) سال پرانی ھے. مطلب انسانوں کی جو موجوده شکل هے یه تقریبأ 2 لاکھ سال پرانی ھے. اب انسان جب سے انسان بنا ھے (2 لاکھ سال پهلے )، اگر کوئی اکیلا بنده اسی وقت سے ھر دن 25 ھزار (25000) روپے یا پهر ھر مھینے 7 لاکھ 50 ھزار (750000) روپے کماتا، تو وه آج تک 1.8 ٹریلین کما لیتا.
تحریر : امجد خان

سطح سمندر سے کسی مقام کی اونچائی کیسے ناپی جا تی هے؟آج کل سپیس ٹکنالوجی(Space Technology) کا دور هے. کسی پهاڑ کی انچائی ...
09/11/2018

سطح سمندر سے کسی مقام کی اونچائی کیسے ناپی جا تی هے؟
آج کل سپیس ٹکنالوجی(Space Technology) کا دور هے. کسی پهاڑ کی انچائی ناپنی هو یا پهر سطح سمندر سےزمین کے کسی بھی مقام کی اونچائی معلوم کر نی ھو، ھم یه کام سپیس ٹکنالوجی کی بدولت سٹلائٹ کی مدد سے باآسان کر سکتے هیں. 1957 میں روس نے خلا میں پهلا سٹلائٹ کامیابی سےبھیجا اور سپیس ٹکنا لوجی کا دور شروع ھو گیا. لیکن سپیس ٹکنالوجی سے پهلے بھی یه اونچائیاں اور طریقوں سے ناپی جاتی تھی اور آج بھی ناپی جاتی ھے. ان طریقوں میں سے ایک طریقه ھوا کے دباؤ میں فرق معلوم کر کے اونچائی ناپنا هے. (سطح سمندر پر ھوا کا دباؤ ذیاده ھوگا اور اونچائی پر کم ھو گا).
اس طریقے سے اونچائی ناپنے کے لیئے جو آله استعمال ھوتا هے اسے الٹیمیٹر (Altimeter) کهتے هیں. الٹیمیٹر کی تصویر اس پوسٹ کے ساتھ منسلک ھے. کوه پیما بھی یه آله استعمال کرتے ھیں، اس کے علاوه هوائی جهاز میں بهی پرواز کی اونچائی ناپنے کے لیے الٹیمیٹر استعمال ھوتا ھے.

الٹیمیٹر (Altimeter) کا کام کرنے کا اصول (Working principle):
سطح سمندر پر ھوا ذیاده کثیف ھوتی هے اور وهاں 15 ڈگری سنٹی گریڈ پرهوا کا دباؤ 1013.25 ملی بار یا 760 ملی میٹر آف مرکری(760mmHg) ھوتا هے. سطح سمندر سے اونچائی پر جانے سے ھوا کے دباؤ میں کمی اتی هے. ھوا کے دباؤ کا انحصار ٹمپریچر (T), ثقلی اسراع ( gravity)، ھوا میں نمی کی مقدار اور ھوا کی بناوٹ پر ھوتا ھے. ان تمام مقداروں کو مد نظر رکھتے ھوئے الٹیمیٹر (Altimeter) یه مسا وات استعمال کرتا هے،

z = (RT/gM).log(po/p)
اس مساوات میں،
z = سطح سمندر سے اونچائی
T= اس اونچائی پر ٹمپریچر
Po = سطح سمندر پر ھوا کا دباؤ
P = اونچائی پر ھوا کا دباؤ
g = اونچائی پر گریوٹی کی مقدار
M = هوا کی مولر کمیت
R = گیس کانسٹنٹ
ذیاده تر الٹیمیٹرز (Altimeters) میں هوا کے دباؤ کے علاوه باقی ساری مقداریں (M, g, T) کانسٹنٹ رکھی جاتی ھے جس کی وجه سے پیمائش میں میں غلطی اجاتی ھے اورصحیح اونچائی معلوم نھیں ھو تی.
تحریر: امجد خان

زیر زمین پانی کیسے معلوم کیا جاتا هے؟ جیو فزکس (Geophysics) علم طبعیات (Physics) کی وه شاخ ھے جس میں زمین کی  سطح پر رهت...
08/11/2018

زیر زمین پانی کیسے معلوم کیا جاتا هے؟
جیو فزکس (Geophysics) علم طبعیات (Physics) کی وه شاخ ھے جس میں زمین کی سطح پر رهتے هوئے زمیں کے اندرونی خدو حال(Features) کے بارے میں جانچا جا تا هے. فزکس کے اس شاخ میں سب سے پهلے اشیاء (material) کی خصوصیات (Physical properties)کا مطالعه کیا جاتا ھے اور پهر ان خصوصیات کو مد نظر رکھتے هوئے زمین کے اندرونی خدوخال کے بارے میں جانا جاتا هے.

زیرزمیں پانی کیسے معلوم کیا جا تا ھے؟
زیرزمیں پانی کا پته لگانا بھی جیو فزکس کی بدولت ھی ممکن هے. زیر زمین پانی معلوم کرنے کے لیے زمین کی سطح کی برقی مزاحمت ( Electrical Resistivity) معلوم کی جا تی هے. خشک مٹی کی مزا حمت (Resistivity) زیاده ھو گی اور اس میں کر نٹ (Current) آسانی سے نهیں گزرے گا. دوسری جانب گیلی مٹی میں خشک مٹی کی نسبت کرنٹ آسانی سے گزرے گا اور اس کی مزاحمت (Resistivity) خشک مٹی کی نسبت کم ھوگی.
طرقه کار:
زمین کے سطح پر 4 برقیرے (Electrodes) اس طرح لگا دے جاتے هیں جیسا تصویر میں دیکھا یا گیا هے.
اس کے بعد A اور B الیکٹروڈ کو کرنٹ کے پاور سورس (Battery) سے منسلک کر دیا جاتا ھے اور M، N الیکٹروڈ پر وولٹ میٹر کی مدد سے وولٹیج ناپه جا تا هے. پهر اس وولٹیج سے اوھم کے قانون ( Ohm's law)کی مدد سے مزاحمت (Resistance) معلوم کی جاتی ھے اور اس سےزیر زمین پانی کی گهرائی کا اندازه لگا لیا جاتا هے.
الیکٹروڈ کا درمیانی فاصله کم یا ذیاده کر کے، کم گهرائی اور ذیاده گهرائی تک یه سروے کی جا سکتی ھے.
تحریر: امجد خان

Address

Islamabad

Telephone

+923348428761

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when From Ancient Greek To Modern World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share