Adil Umar

Adil Umar Mr. Adil is Information Technology, E-Commerce, Export and Manufacturing Consultant. Web: https://adilumar.com
Email: [email protected] Thanks for your time!

Let's build your small scale business into big and medium sized business into large scale as a team. Hello, My name is Adil and I am an Information Technology, E-commerce, Export, and Manufacturing field consultant. I have a Master’s degree from a Public Sector University. I have several certifications and training in my favorite fields. I live in Pakistan and work remotely with several corporatio

ns in Germany and Austria as a consultant. I offer services at a business-to-business (B2B) and business-to-consumer (B2C) level. I am looking for new friends from abroad to learn about new cultures, languages, customs, and traditions. I hope we will exchange culture and new great ideas. You can hire me as a freelancer for information technology and graphic design projects. I work a few hours a day as an IT geek and graphic designer. Trade (Manufacturer and exporter) is my family business. We manufacture hosiery, leather & textile, and garments products as per the required order of the buyer. We make, export, and ship the goods (products) to the required home destination or Port of the buyer. Following are our services and skills for your highlights.
1) Information Technology Services:
• Logo, Magazine, Book, Brochure, Pamphlet, Calendar, Wedding or Visiting Card and Website, etc. designing and development using Adobe Photoshop, Adobe Illustrator, Adobe Experience Design and Adobe InDesign, etc.
• Web Application development. From PSD Design to Theme development in HTML5, CSS3, JavaScript, Bootstrap, etc.
• Theme Customization.
• Plugin Development.
• Web Development using PHP, and MySQL.
• WordPress, Shopify, Magento, Big Commerce, WooCommerce, Prestashop E-Commerce shop Development and integration with your inventory.
• Web app development.
• Search Engine Optimization for your Application and E-Commerce Store.
• Content Management.

2) E-Commerce Services:
Following Professional assistance that I will provide:

• WordPress, Shopify, Magento, Big Commerce, WooCommerce, Prestashop E-Commerce shop Development and integration with your inventory.
• Search Engine Optimization for your Application and E-Commerce Store.
• Account Management
• Product Research
• Sourcing and Logistics
• Listing Variations
• Keyword Research
• Listing Creation & Optimization
• PPC
• Ranking with Different Techniques
• Reimbursement from AMAZ0N
• Fix Suppressed/Standard Inventory
• Customer Support
• Amz A to Z Services
As Amazon FBA Account Manager/Assistant following Professional assistance is provided:
• Product Research using paid tools
• Product sourcing & logistic
• Keyword Research & Ranking
• Listings creation
• Listing Copywriting (Expert)
• PPC Ads Campaign setup & optimization
• Competitor Analysis
I will use these tools to work as your expert Amazon FBA assistant
• Helium
• Jungle Scout
• Merchant Words
• Viral Launch

3) E-Bay Services:
Some of the tasks we can perform include:
• eBay Listing Creation and Optimization
• eBay Description Writing for Products
• Order Processing
• eBay Price Research
• eBay Inventory Management
• Adding Tracking For eBay Orders
• Customer Service
• Basic Photo Editing & Re-sizing
• eBay Competitor Analysis and Market Research
• Other Marketplace & E-commerce Tasks

4) Warehouse Management:

We provide warehouse management solutions for your E-commerce business in Germany and Pakistan. Our staff is highly qualified in those Services. We charge per Square foot as per your inventory. We give you access to real-time inventory to track your orders and watch your sales report daily.

5) Manufacturing and Export Services:

Export and manufacturing have been my family business from the last two decades. It’s in our blood to examine the real-time product wear and tear before. We know much better how to deal with local language management with very competitive quotations and quality control. Just ask me for more skills. Kindly contact me first before placing the Order. I mostly like to communicate through Email, WhatsApp, and Telegram. Regards
Adil Umar
Master of Information Technology. Send LinkedIn request@ [email protected]
Facebook Request@ www.facebook.com/itgeekadil
Skype@ adilumar888
Twitter@ adilumar888
Instagram@ adilumar888

جب انسان کی خواہشات اس کی قابلیت اور استطاعت سے بڑھ جائیں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی...
28/04/2026

جب انسان کی خواہشات اس کی قابلیت اور استطاعت سے بڑھ جائیں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔ بالخصوص متوسط طبقے کے لیے یہ حقیقت زیادہ اہم ہے کہ وقتی طور پر غیر ضروری یا غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کو ترک کیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایک بڑی تعداد—تقریباً تیس سے پچاس فیصد افراد—غیر شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں (امریکہ، چین، برطانیہ، آسٹریلیا ،یورپ وغیرہ) میں اس رجحان کی معاشی اور سماجی وجوہات کسی حد تک قابلِ فہم ہیں، لیکن پاکستان میں صورتِ حال ایک مختلف تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔
یہاں گھروں میں اسلام اور شریعت کا ذکر تو کیا جاتا ہے، مگر عملی سطح پر حکومتی پالیسیاں اور معاشی نظام اکثر ایسے اصولوں پر قائم نظر آتے ہیں جو ان تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں، جیسے سودی لین دین اور بین الاقوامی قرضوں پر انحصار۔ اس پس منظر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں بہتر معیارِ زندگی، جیسے گھر، گاڑی یا دیگر سہولیات، مشترکہ جدوجہد اور معاشی استحکام سے حاصل ہوتے ہیں۔
لہٰذا یہ زیادہ مناسب ہے کہ تعلیم یافتہ افراد—خواہ مرد ہوں یا خواتین—اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیں، تاکہ نہ صرف ذاتی بلکہ خاندانی اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک مستحکم اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
تحریر : عادل عمر

عنوان: ہنر سے زیادہ ضروری ہے، اخلاق اقدار اور کردار. آج کل فری لانسنگ اور آن لائن کمائی کے نام پر سب سے زیادہ توجہ کورسز...
01/04/2026

عنوان: ہنر سے زیادہ ضروری ہے، اخلاق اقدار اور کردار.
آج کل فری لانسنگ اور آن لائن کمائی کے نام پر سب سے زیادہ توجہ کورسز—چاہے فری ہوں یا پیڈ—پر دی جا رہی ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہاں نہیں ہے۔ اصل مسئلہ احساسِ ذمہ داری، اخلاقی اقدار، اور عملی امتحان کا ہے۔
ہم ایک ایسے ماحول میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سیکھنا آسان ہو گیا ہے، مگر اس سیکھے گئے علم کو دیانتداری کے ساتھ استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ کورسز مکمل کر لیتے ہیں، مگر جب عملی میدان میں نتائج نہیں ملتے تو مایوسی پھیلتی ہے۔ اس مایوسی سے نکلنے کے لیے بعض افراد شارٹ کٹس اپناتے ہیں—جیسے پیسے دے کر آرڈرز حاصل کرنا—اور اسے بزنس کا نام دے دیتے ہیں۔
یہ رجحان نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ پورے سسٹم کو کمزور کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی صرف سکلز سے نہیں آتی، بلکہ اعتماد، مستقل مزاجی، اور اخلاقی اصولوں سے آتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف کورس بیچنے یا خریدنے سے آگے بڑھیں، اور ایک ایسی کمیونٹی بنائیں جو حقیقی رہنمائی، سپورٹ، اور اخلاقی بنیادوں پر ترقی کو فروغ دے۔ کیونکہ آخرکار، ہنر انسان کو موقع دیتا ہے، مگر کردار اسے کامیابی دلاتا ہے۔
تحریر:عادل عمر
Website: www.adilumar.com
Email: [email protected]

ERP (Enterprise Resource Planning), CRM (Customer Relationship Management), & PM (Project Management) systems implementation, deployment, and customization of such business apps through our partner agency and trainers.

Which EU 🇪🇺 country has the highest waste recycling rate? ♻️👉 Germany 🇩🇪 is leading the way In the EU 🇪🇺, the average pe...
31/03/2026

Which EU 🇪🇺 country has the highest waste recycling rate? ♻️
👉 Germany 🇩🇪 is leading the way

In the EU 🇪🇺, the average person generates around 5 tonnes of waste every year. On average, almost half of this is recycled, helping to turn waste into valuable resources.

But there is still more to do.

The International Day of Zero Waste is a reminder that waste is a resource we cannot afford not to use.

Less waste. More value. A more upcycled Europe 🇪🇺.

"جب مٹر کم پڑ جائیں "تحریر: عادل عمرہمارے معاشرے کی عجیب روایت ہے کہ ہوٹلوں میں الو مٹر گاجر کھاتے ہوئے ایک بات فوراً مح...
18/11/2025

"جب مٹر کم پڑ جائیں "

تحریر: عادل عمر

ہمارے معاشرے کی عجیب روایت ہے کہ ہوٹلوں میں الو مٹر گاجر کھاتے ہوئے ایک بات فوراً محسوس ہوتی ہے—سبزی میں سب سے مہنگی چیز مٹر ہمیشہ سب سے کم ڈالی جاتی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک ڈش کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا عکاس ہے جو ہمارے پورے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ ہم بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم سسٹم بدل دیں گے، معاشرہ درست کر دیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تندور کا مالک ہو، دودھ دہی والا ہو یا ہوٹل دار—سب اپنے اپنے دائرے میں چھوٹی چھوٹی بددیانتیاں کر کے بڑے بڑے مسائل کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ انہی ہوٹلوں کے نام مکہ، مدینہ، رحمان، اللہ والے جیسے مقدس عنوانات سے مزین ہوتے ہیں۔
اسی طرح مسجدوں کے نام بھی انتہائی پاکیزہ رکھے جاتے ہیں، لیکن انہی مسجد کمیٹیوں کے سربراہ اکثر سنگین مالی بے ضابطگیوں میں ملوث نظر آتے ہیں۔
ذرا غور کیجیے: بڑی مساجد میں پانچ وقت نماز پڑھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ اور ان ہی مساجد کے اندر غیر ضروری تزئین و آرائش پر آنے والے اخراجات کتنے ہیں؟
اس کے بعد آپ اپنے ملک کے حکمرانوں اور اُن کے طویل پروٹوکول دیکھ لیں—آپ کو دونوں جگہ ایک ہی رویہ نظر آئے گا
نمائش زیادہ، کردار کم۔

چند ہی روز قبل معروف ماہرِ معاشیات شبر زیدی نے بھی اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ کچھ درخت صرف سایہ دیتے ہیں، لیکن کبھی پھل نہیں دیتے۔ کچھ زمینیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں موسمی کاشت ہو بھی جائے تو وہ ثمر نہیں دے سکتیں۔ یہ مثال بالکل ہمارے معاشرے پر صادق آتی ہے، جہاں کردار اور نیت کی کمزوری نے اجتماعی بگاڑ کو جنم دیا ہے۔

نظامِ قدرت ہمیشہ خالص اصولوں پر قائم ہے۔ جب بھی کسی قوم نے ان اصولوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے، قدرت نے اسے انجام کے ساتھ سمجھایا ہے—اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

آخرکار ہر مسئلے کا آغاز اور ہر حل کی بنیاد روحانیت، ایمان، اخلاق اور عدل سے ہی جڑی ہوتی ہے۔
انسان چاہے کسی بھی مذہب، رنگ، نسل یا شکل سے تعلق رکھتا ہو—اصول ہمیشہ وہی رہتے ہیں:
سچائی، دیانت، انصاف اور خود احتسابی۔

جب تک ہماری پلیٹ میں “مٹر کم” پڑتے رہیں گے، ہمیں بڑے نظام بنانے کے دعوے کرتے ہوئے ایک بار ضرور رُک کر اپنے کردار کو دیکھنا ہوگا۔

04/11/2025

چھبیسویں آہین ترمیم کے بعد ستائیسویں آہین ترمیم کی باز گشت شروع ہو چکی ہے مگر کیا عوام کے حقوق کا تحفظ رکھا جائے گا یا ہمیشہ کی طرح ایک مخصوص ٹولے کو تحفظ فراہم کیا جائے گا؟

What's your opinion?
23/10/2025

What's your opinion?

11/08/2025

پاکستان میں جتنی مساجد تعمیر کی گئی ہیں، کاش اتنی ہی تعداد میں ایسے کمیونٹی سینٹر بمعہ مسجد یا مدرسہ بھی قائم کیے جاتے جو لوگوں کو مزہب کے ساتھ ساتھ ہنر سکھاتے، روزگار فراہم کرتے اور نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا بھر پور موقع دیتے۔ آج شاید نہ ہمارے ملک میں بے روزگاری اس قدر عام ہوتی اور نہ مذہبی فرقہ پرستی کی آگ اتنی بھڑکتی۔
مگر المیہ یہ ہے کہ چند مخصوص مکتبِ فکر کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر عوام کو سچّا اور بامقصد علم میسر آ گیا، تو پھر ان کی غلامی کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ پھر نہ کوئی ان کا محتاج ہوگا، نہ چندے اور زکوٰۃ کا محتاج نظام ان کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔

تحریر:عادل عمر

28/10/2024

I have a question in mind for spiritual and religious mentors. In the BPO sector, employees often adopt different identities—like introducing themselves as "Smith from Texas" when their real name is Adil. This is presented as a strategy to build customer rapport, especially when working with U.S.-based campaigns. While the companies you represent—whether insurance, solar, or other services—are legitimate physical businesses, many Pakistani, Indian, Bangladeshi, or Filipino BPO firms provide scripted sales pitches that involve misleading or false introductory/summary claims. This raises an important question: Is it legal, ethical, or Halal to deceive customers this way, even if it serves business goals?

پاکستان میں موجودہ حالات نے شہریوں کی زندگی کو بے حد متاثر کیا ہے، اور بے یقینی کی فضا ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ وی پی این ک...
22/10/2024

پاکستان میں موجودہ حالات نے شہریوں کی زندگی کو بے حد متاثر کیا ہے، اور بے یقینی کی فضا ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ وی پی این کے بغیر متعدد ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں، جبکہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش نے فری لانسرز اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی غیر متوقع بندش نے نہ صرف گھریلو زندگی بلکہ صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے معاشی ترقی رک گئی ہے۔ سڑکوں کی ناقص حالت اور مہنگی گاڑیاں عوام کے لیے سفری مشکلات بڑھا رہی ہیں۔

بینکوں کے سخت قرضہ جات، جو 20 فیصد شرح سود پر دیے جا رہے ہیں، کاروبار کو فروغ دینے کے بجائے مزید بحران میں دھکیل رہے ہیں۔ اس کے برعکس، ترقی یافتہ ممالک جیسے اسرائیل، جرمنی اور امریکہ میں ایک سے تین فیصد کی شرح پر آسان شرائط پر قرض دستیاب ہیں، جو معیشت کی بحالی اور ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بدعنوان سیاستدانوں، بیوروکریسی، اور اسٹیبلشمنٹ کا احتساب نہ ہونے سے عوام میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ رشوت خوری اور اختیارات کا ناجائز استعمال معمول بن چکا ہے، جس نے شفافیت اور احتساب کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے پیشہ ور افراد اور فری لانسرز کے لیے حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد دبئی اور دیگر ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ وہاں انہیں بہتر مواقع اور آسان ویزہ سہولیات میسر ہیں، جو عالمی منڈیوں میں رسائی اور بہتر مستقبل کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ ہنر مند افراد کی یہ ہجرت نہ صرف ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے بلکہ "برین ڈرین" کا باعث بھی بن رہی ہے، جو معیشت اور ترقی کے عمل کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے۔ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور ترقی کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
تحریر : عادل عمر
Website: https://adilumar.com/
Email: [email protected]

06/10/2024

What is modern slavery?

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 22:00 - 01:00
Saturday 14:00 - 01:00
Sunday 14:00 - 01:00

Telephone

+923345284187

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adil Umar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Adil Umar:

Share