NSS Company

NSS Company InfoTech

For promote Youtube Channel instagram and page join group
02/02/2022

For promote Youtube Channel
instagram and page join group

WhatsApp Group Invite

Har cheez ki ek limit hoti hee. Ye garhi Peshawar se chitral jaa rehe he. Or chitral jate hue rast sb ko pata he. Khudar...
01/02/2021

Har cheez ki ek limit hoti hee. Ye garhi Peshawar se chitral jaa rehe he. Or chitral jate hue rast sb ko pata he. Khudara overloading se gurez kare qimti janu se na khlie.🙏🙏

14/03/2020

1918 کے اوائل میں جب دنیا پہلی جنگ عظیم میں مصروف تھی، سپین کے ملک میں فلو کی وبا پھوٹی جس نے باقی دنیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا۔ البتہ اس سے بہت کم اموات ہوئیں۔ زیادہ تر لوگ نزلہ زکام اور بخار کے بعد صحتیاب ہوگئے۔

پھر اسی سال 1918 میں جب سرما کا آغاز ہوا تو فلُو وائرس نئے سرے سے دنیا پر حملہ آور ہوا اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ متاثر کرنا شروع کیا۔ اس وقت عالم یہ تھا کہ جس شخص کو یہ وائرس لگتا، وہ چند گھنٹوں سے لے کر تین یا پانچ دن کے اندر اندر مر جاتا۔ اس وقت تک نہ تو ٹیسٹ کی سہولیات موجود تھیں، نہ ہی اینٹی وائرس یا انیٹی بیکٹریل ادویات موجود تھیں، چنانچہ دنیا بھر میں دو کروڑ سے لے کر دس کروڑ تک اموات ہوئیں اور یہ معلوم تاریخ کا سب سے خطرناک ترین وبائی مرض بن گیا۔ صرف امریکہ میں پونے سات لاکھ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگلے سال مارچ کے اواخر میں یہ وائرس خودبخود ختم ہوگیا۔

1951 میں جان ہلٹن نامی ایک 25 سالہ سویڈش مائکرو بائیولوجسٹ جو کہ امریکہ میں پی ایچ ڈی کررہا تھا، اس نے 1918 کے اس موذی وائرس پر تحقیق کرنے کا سوچا۔ اس مقصد کیلئے اسے اس وائرس کا سامپل چاہیئے تھا جو 1918 میں مرنے والے شخص کے پھیپھڑوں سے ہی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ ہلٹن نے امریکی ریاست الاسکا جانے کا فیصلہ کیا جو پورا سال برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ الاسکا کے ایک ٹاؤن میں 40 افراد کی ایک اجتماعی تدفین ہوئی تھی جو فلُو وائرس سے ہلاک ہوئے۔ ہلٹن کو امید تھی کہ برف کی وجہ سے ان کی نعشیں محفوظ ہوں گی۔

وہ اس علاقے میں گیا، وہاں کے لوگوں سے قبرکشائی کی اجازت حاصل کرکے اس نے قبر کھودی اور ایک شخص کے پھیپھڑوں کا سامپل لے کر واپسی کا سفر شروع کیا۔

جس فلائیٹ سے اس کی واپسی ہونا تھی، وہ جہاز کئی شہروں میں رک کر فیولنگ کرتا تھا۔ وائرس کا سامپل ٹھنڈا رکھنے کیلئے ہلٹن کو کئی پاپڑ بیلنا پڑے۔ منزل مقصود پر پہنچ کر اس نے لیب میں اس سامپل کا تجزیہ کیا لیکن کچھ حاصل نہ کرپایا۔

اس واقعہ کے ٹھیک 46 سال بعد 1997 میں جب ہلٹن 71 سال کا ہوچکا تھا، اس نے جیفری نامی ایک سائنسدان کا کسی میگزین میں آرٹیکل پڑھا جو اسی وائرس سے متعلق تھا۔ جیفری کے ہاتھ 1918 میں مرنے والے ایک فوجی کے پھیپھڑوں کا سامپل لگا تھا جسے نیویارک کے ہاسپٹل نے سردخانے میں محفوظ کرلیا تھا۔

ہلٹن نے یہ آرٹیکل پڑھ کر جیفری کو خط لکھا اور اس پر مشترکہ کام کرنے کی تجویز دی جسے جیفری نے قبول کرلیا۔

پھر اس 71 سالہ ہلٹن نے اپنی جیب سے سفر کے اخراجات ادا کرکے واپس الاسکا کا سفر کیا۔ ایک مرتبہ پھر ٹاؤن کے معززین سے اجازت طلب کی اور چند مزدوروں کی مدد سے کھدائی کرکے ایک خاتون کے پھیپھڑوں کا سامپل نکالا۔

اب کی بار سٹوریج کی سہولیات موجود تھیں۔ چنانچہ ہلٹن نے ساتھی سائنسدان سے مل کر اس وائرس پر تحقیقات شروع کیں۔ مقصد یہ تھا کہ کسی طرح اس وائرس کا بلیو پرنٹ یعنی خدوخال حاصل کرلئے جائیں۔

قصہ مختصر، 1999 میں ہلٹن اور دوسرے سائنسدان اس خطرناک وائرس کا مکمل ڈھانچہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ چونکہ 1918 سے قبل کے کسی بھی وائرس کی پراپرٹیز ان کے پاس نہ تھیں، اس لئے فلو وائرس کے سورس کے بارے میں ابھی تک اندھیرے میں ہی رہے۔

2000 میں مزید ریسرچ کے بعد معلوم ہوا کہ اس وائرس کے باہر موجود پروٹین کی سطح اسے انسانی خلیات میں سراعت کرنے میں مدد دیتی ہے اور یہ بآسانی سانس کی نالیوں سے ہوتا ہوا پھیپھڑوں میں پہنچ کر انفیکشن کردیتا ہے جو کہ انتہائی تیزی سے پھیل جاتی ہے۔

2005 میں ڈاکٹر ٹمپی نامی سائنسدان نے اس وائرس کو مزید جاننے کیلئے اسے بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کیلئے امریکی حکام سے بڑی مشکل سے اجازت ملی، جس لیب میں کام کرنا تھا، اسے ہر طرح سے سیکیورڈ کیا گیا اور تقریباً وہی سیکیورٹی بنائی گئی جو آپ کو ہالی وڈ کی فلموں میں نظر آتی ہے۔

المختصر یہ کہ شب و روز کی محنت کے بعد ڈاکٹر ٹمپی بالآخر اس موذی وائرس کو لیب میں تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ میڈیکل سائنس کی تاریخ کے چند ایک اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

پھر اس وائرس کو چوہوں پر ٹیسٹ کیا گیا اور نتائج وہی نکلے جو 1918 میں انسانوں پر ہوئے تھے۔ اب کی بار سائنسدانوں کے پاس ایک جیتا جاگتا وائرس موجود تھا جس کی مدد سے اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل ادویات تیار کی جاسکتی تھیں۔

مقصد بتانے کا یہ ہے اللہ نے انسانوں کو صرف عبادت کیلئے پیدا نہیں کیا۔ اس کام کیلئے فرشتے کافی تھے۔ انسانوں کی تخلیق کا مقصد دنیا میں انصاف کے نظام کو رائج کرنا تھا، علم حاصل کرکے کائنات کو تسخیر کرنا تھا تاکہ اللہ پر ایمان اور یقین میں اضافہ ہو۔

1918 کے وائرس سے ساری دنیا میں اموات ہوئیں۔ مسلمان ممالک خاص کر عرب میں تیل اس کے بعد دریافت ہوا۔ مسلمانوں نے اس دولت کو عیاشی اور مزید دولت جمع کرنے میں استعمال کیا۔ دوسری طرف مغرب یعنی کفار نے اس وائرس کا پیچھا جاری رکھا اور تقریباً 90 سال بعد وہ اس وائرس کوفتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

عقل، علم اور تحقیق صرف کفار پر ہی فرض نہیں۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ موجودہ کرونا وائرس کے ایشو پر ایک مرتبہ پھر مسلمان صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور انتظار کریں گے کہ کب کوئی جان ہلٹن، یا پروفیسر ٹمبی اس وائرس کو فتح کرنے میں کامیاب ہو اور کب مسلمان اس سے استفادہ کریں۔

ایسا نہیں کہ اس دوران مسلمان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں۔ ہم اس دوران کرونا وائرس کو کبھی یہودی تو کبھی کفار کی سازش کہیں گے،

کبھی اسے حرام گوشت کھانے کا تنیجہ تو کبھی غیراسلامی طور طریقوں کو موردالزام ٹھہرائیں گے،

کبھی اس کا علاج وضو میں تو کبھی کسی پیر کے تعویذ میں ڈھونڈیں گے۔

اور پھر جب کوئی پروفیسر ہلٹن کرونا وائرس کا توڑ کرلے گا تو ہم شان بے نیازی سے کہہ دیں گے کہ اس تحقیق کا آغاز تو عظیم مسلمان کیمسٹ جابر بن حیان نے آج سے 12 سو سال قبل ہی کردیا تھا۔

ایک طرف مغرب کی تحقیق، دوسری طرف ہماری جہالت۔ یہ فاصلہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جاتا ہے!!!

19/02/2020

Attractive salary will be given

20/02/2019
14/02/2019

صرف منتخب نمبروں سے کال اور میسج کا نوٹیفیکیشن حاصل کریں
اکثر ایسا ہوتا کہ رات کے وقت آپ گہری نیند سو رہے ہوتے کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بج اٹھتی ہے۔ گہری نیند سے بیدار ہونے کے بعد موبائل دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی غیر اہم کال یا پیغام ہوتا ہے۔ یا پھر کوئی غلطی سے آپ کا نمبر ڈائل کر دیتا ہے۔ لیکن آپ کی نیند خراب ہو چکی ہوتی ہے۔

یقیناً مجھ سمیت کچھ لوگ اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ موبائل کو "خاموش یعنی Silent” موڈ پر لگا کر سو جاتے ہیں۔ اور صبح اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ کسی ضروری نمبر سے کال وغیرہ تو نہیں آئی۔ لیکن اس حل میں قباحت یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کے کسی عزیز یا دوست کی جانب کوئی انتہائی اہم کال ہوتی ہے جسے بروقت موصول کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن موبائل کے خاموش موڈ پر ہونے کی وجہ سے آپ اسے موصول نہیں کر پاتے۔

اس مسئلے کا حل گوگل اینڈروئیڈ پر مبنی اسمارٹ فونز میں پہلے سے موجود ہے۔ لیکن یہ سہولت صرف ان اسمارٹ فونز میں میسر ہے جن میں اینڈروئیڈ کا لالی پاپ 5.0 یا اس سے نیا ورژن نصب ہے۔ اس ورژن میں گوگل کا فوقیت یعنی Priority موڈ شامل کیا گیا ہے۔ جسے استعمال کر کے آپ پرسکون نیند کے مزے بھی لے سکتے ہیں۔ اور کسی انتہائی ضروری یا ہنگامی کال سے بروقت آگاہ بھی ہو سکتے ہیں۔ گوگل کا اس فوقیت موڈ کے بارے میں کہنا ہے کہ۔۔۔

اگر آپ کے اسمارٹ فون میں اینڈروئیڈ کا لالی پاپ یا اس سے نیا ورژن موجود ہے تو درج ذیل ہدایات پر درجہ بدرجہ عمل کیجیے اور گوگل کے "Priority” موڈ کو استعمال کرتے ہوئے پریشانی سے نجات حاصل کیجیے۔

دراصل اس Priority موڈ میں ہوتا یہ ہے کہ آپ موبائل کی آواز کو مکمل طور پر خاموش کرنے کی بجائے اپنے کچھ ضروری رابطہ نمبروں اور دیگر فیچرز کو آن کر دیتے ہیں جن سے آپ بروقت با خبر رہنا چاہتے ہیں۔ گو کہ آپ کے موبائل پر باقی کالز اور پیغامات کی اطلاع بھی موصول ہوتی رہتی ہے۔ لیکن موبائل کی گھنٹی کی آواز اسی وقت آئے گی جب آپ کے مخصوص کردہ نمبروں سے کال یا پیغام آئے گا۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے آپ اپنے موبائل کی سیٹنگز میں جائیں اور وہاں موجود "Do Not Disturb” فنکشن پر کلک کریں۔ اب سامنے اسکرین پر نظر آنے والی آپشنز میں سے "Do not Disturb Mode” یا بعض ورژن میں "Priority only” کو تلاش کریں۔ آپ اس سلسلے میں نیچے دیے گئے اسکرین شاٹس سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔

اب پہلے آپ کو "Priority Only” فنکشن پر کلک کر کے اسے آن کرنا ہو گا تا مزید سیٹنگز کی جا سکیں۔ اگر آپ اس فنکشن کو مخصوص وقت مثلاً میٹنگز وغیرہ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تو اوپر "Enable as scheduled” پر کلک کر کے اس موڈ کے لیے مخصوص وقت بھی طے کر سکتے ہیں۔ بہرحال "Priority only” کو آن کرنے کے بعد اس کے نیچے موجود ایڈوانسڈ یا "More settings” پر کلک کیجیے۔ اور سامنے آنے والی اسکرین پر موجود مختلف تصریحات پر نگاہ ڈالیے۔

اینڈرائڈ میں کچھ تصریحات پہلے سے بھی طے شدہ ہوتی ہیں آپ انہیں استعمال کر سکتے ہیں لیکن آپ اپنی جانب سے تصریحات بھی طے کر سکتے ہیں۔ مثلاً "بصری مداخلت کو بند کیجیے”یا "Block Visual disturbance” کی آپشن کے ذریعے آپ یہ طے کر سکتے ہیں کہ خاموش کی گئی اطلاعات "نوٹیفیکیشن” اسکرین کو آن کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یا پھر اسکرین پر ظاہر ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کی دو طرح کی سیٹنگز ہیں۔

Block when screen is on
خاموش کی گئی اطلاعات کو اسکرین پر ظاہر ہونے سے روکتا ہے۔

Block when screen is off
خاموش کی گئی اطلاعات کو اسکرین آن کرنے سے بھی روکتا ہے۔

اس کے بعد آپ اسکرین پر نگاہ ڈالیں گے تو "Priority only allows”کی آپشن نظر آئے گی۔ بعض جدید ورژنز میں یہ آپشن "Define Priority Interruptions” کے عنوان سے بھی نظر آئے گی۔ جیسا کہ نیچے دیے گئے اسکرین شاٹ میں نظر آ رہا ہے۔ یہی وہ آپشن ہے جس پر کلک کر کے آپ اپنی مرضی کے نمبرز کی سیٹنگز کر سکتے ہیں۔

14/01/2019

PHPMaker is a completely comprehensive software for designing PHP pages from the database. With this software, you can make PHP websites much easier. Features ..

Address

Peshawar
Islamabad

Telephone

+923335965849

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NSS Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NSS Company:

Share