13/07/2025
غافل نہ ہو خودی سے، کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تُو بھی ہے آستانہ
شرح:
اس شعر میں علامہ اقبال نے انسان کو خودی کی حفاظت کا پیغام دیا ہے۔اقبال کے نزدیک خودی وہ باطنی قوت ہے جو انسان کو عظمت، بلند ہمتی اور خدائی رازوں تک رسائی دیتی ہے۔ اگر انسان اپنی خودی کو پہچان لے تو وہ خاک سے اُٹھ کر آسمانوں تک پہنچ سکتا ہے۔’’غافل نہ ہو خودی سے‘‘یعنی اپنی حقیقت، اپنی طاقت اور اپنے مقام سے غفلت نہ برت۔ یہ مت بھول کہ تُو کس قدر قیمتی ہے۔ اگر تُو اپنی خودی سے غافل ہو گیا تو پھر تیرے اندر کی روشنی بجھ جائے گی اور تُو دوسروں کا محتاج بن جائے گا۔’’کر اپنی پاسبانی‘‘اقبال یہاں نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی خودی کی حفاظت خود کر۔ اس کو ضائع نہ ہونے دے، اس پر دنیاوی لالچ یا کمزوریوں کو غالب نہ آنے دے۔’’شاید کسی حرم کا تُو بھی ہے آستانہ‘‘یہاں شاعر بہت بلند خیال پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ممکن ہے تیرے وجود میں اتنی عظمت چھپی ہو کہ تُو کسی مقدس مقصد کی بنیاد بن جائے۔ جیسے حرمِ کعبہ کی حرمت ہے، ویسے ہی تُو بھی کسی مقدس مشن کا دروازہ ثابت ہو سکتا ہے۔انسان اگر اپنی خودی کو زندہ رکھے تو وہ دوسروں کے لیے روشنی کا مینار اور پاکیزگی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔یہ شعر ہر فرد کو دعوت دیتا ہے کہ اپنی پہچان کو جانے، اپنی خودی کی حفاظت کرے اور اپنی باطنی قوت کو زائل نہ ہونے دے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی فرد کے ذریعے کوئی بڑی تبدیلی، کوئی عظیم تعمیر یا کوئی مقدس کارنامہ انجام پائے۔
غزل: اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ!
کتاب: بال جبریل