24/04/2026
جس رات بلال نے اپنا ٹیبلٹ کونے میں رکھ دیا
بلال راولپنڈی کا رہنے والا ہے، عمر بتیس سال، اور پچھلے نو سال سے گرافک ڈیزائنر۔ اس کے ہاتھ میں وہ نفاست تھی کہ کلائنٹ فائل کھولتے ہی کہتے، “یار یہ تو بلال کا کام لگتا ہے۔”
پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ ایک پرانا کلائنٹ، جو ہر مہینے اس سے سوشل میڈیا کریئیٹوز بنواتا تھا، اچانک پیغام بھیجنا بند ہو گیا۔
بلال نے واٹس ایپ پر حال پوچھا۔ جواب آیا، “بھائی برا نہ منانا، اب میں نے Nano Banana پر ایک سبسکرپشن لے لی ہے۔ جو پوسٹ آپ تین دن میں بناتے تھے، وہ میں اب دس منٹ میں بنا لیتا ہوں۔ پیسہ بھی بچ گیا، وقت بھی۔”
بلال کچھ بولا نہیں۔ فون رکھا اور بالکونی میں آ گیا۔ نیچے سڑک پر ٹریفک رواں تھی، لیکن اس کے اندر ایک عجیب سی خاموشی اتر گئی تھی۔ نو سال کی محنت، سینکڑوں راتوں کی نیند، اور اب یہ سب دس منٹ میں۔ 😔
اس رات اس نے اپنا ٹیبلٹ کمرے کے کونے میں رکھ دیا۔ صبح تک اٹھانے کا دل نہ ہوا۔
لیکن یہ کہانی صرف بلال کی نہیں۔
گولڈمین ساکس کی ایک تحقیق کے مطابق جنریٹو AI دنیا بھر میں تقریباً تیس کروڑ فل ٹائم نوکریوں کو متاثر کرے گا، اور ان میں سب سے اوپر والی فہرست میں کری ایٹو اور آفس بیسڈ کام ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کی “فیوچر آف جابز رپورٹ 2025” بتاتی ہے کہ گرافک ڈیزائن ان شعبوں میں شامل ہے جو سب سے تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف اڈوبی کی اپنی رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کے اسی فیصد کری ایٹو پروفیشنلز اب کسی نہ کسی AI ٹول کو روزانہ استعمال کر رہے ہیں۔
ذرا سوچیے، آج کا منظر کیا ہے۔ 🎨
ChatGPT
آپ کے لیے پوری برانڈ کی کاپی، ٹیگ لائن، اور کانٹینٹ اسٹریٹجی لکھ دیتا ہے۔ Google کا Gemini ایک سیکنڈ میں تحقیق کر کے آپ کو بتا دیتا ہے کہ فلاں انڈسٹری میں کون سا رنگ، کون سا فونٹ چل رہا ہے۔
Imagine 2
یعنی چیٹ جی پی ٹی کا نیا امیج ماڈل، جس نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیزائنرز کو حیران کر دیا ہے، ایک تصویر میں کسی بھی شخص کا چہرہ، لباس، پوز، بیک گراؤنڈ، سب کچھ صرف ایک جملے سے بدل دیتا ہے۔
Midjourney
ایسی تصویریں بنا رہا ہے جو انٹرنیشنل میگزین کے سرورق پر چھپ سکیں۔ اڈوبی کا Firefly پورے پرانے فوٹوشاپ میں گھس چکا ہے، اور اب بیک گراؤنڈ ہٹانے سے لے کر پوری تصویر بنانے تک ہر کام ایک کلک پر ہے۔
Canva کا Magic Studio
غیر ڈیزائنر کو بھی ڈیزائنر بنا دیتا ہے، اور Runway ویڈیو کے دنیا میں وہی انقلاب لا رہا ہے جو تصویر میں Midjourney لایا۔
تو کیا بلال جیسے لاکھوں لوگوں کا مستقبل ختم ہو گیا؟
میرا خیال ہے، نہیں۔ بلکہ اصل تبدیلی یہ ہے کہ “ڈیزائنر” کی تعریف ہی بدل رہی ہے۔
تحریر: مومنہ خان
پہلے ڈیزائنر وہ کہلاتا تھا جس کا فوٹوشاپ اور الیسٹریٹر پر ہاتھ صاف ہو۔
اب ڈیزائنر وہ کہلائے گا جو سوچ سکے، جسے برانڈنگ کی نفسیات آتی ہو، جو کلائنٹ کے کاروبار کو سمجھے، اور جو ان تمام AI ٹولز کو ایک آرکیسٹرا کی طرح مل کر بجا سکے۔
اب ذرا فرض کیجیے۔ بلال اگلے تین مہینے میں خود کو بدلتا ہے۔ ✨
صبح وہ ChatGPT کو بتاتا ہے کہ کلائنٹ کس فیلڈ سے ہے، اور پانچ منٹ میں اسے پوری اسٹریٹجی، ٹیگ لائن، اور کانٹینٹ آئیڈیاز مل جاتے ہیں۔
پھر وہ Imagine 2 سے کہتا ہے کہ اس فیلڈ کے بہترین برانڈز کو اسٹڈی کرے اور موجودہ ڈیزائن ٹرینڈز بتائے۔
اس کے بعد وہ Midjourney سے موڈ بورڈ کی تصویریں بنواتا ہے، Firefly میں جا کر انہیں کلائنٹ کی ضرورت کے مطابق ڈھالتا ہے، اور Nano Banana سے ماڈلز، پروڈکٹس اور مناظر کو کسٹمائز کرتا ہے۔
پہلے جو کام ہفتہ لگاتا تھا، اب ایک دن میں تیار ہے۔
لیکن یہاں اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ باقی بچے ہوئے چار دنوں میں بلال کیا کرتا ہے؟
وہ کلائنٹ کو صرف ڈیزائن نہیں، پوری برانڈ شناخت بیچتا ہے۔ برانڈ اسٹوری، برانڈ وائس، سوشل میڈیا کا پورا مہینے کا کیلنڈر، یوزر ایکسپیرینس ڈیزائن، اور مارکیٹنگ پلان۔
نتیجہ؟ پہلے اس کا ایک کلائنٹ پانچ ہزار روپے دیتا تھا ایک پوسٹ کا۔ اب وہی کلائنٹ پچاس ہزار دے رہا ہے ایک مہینے کا مکمل پیکج۔
کیونکہ Midjourney تصویر تو بنا سکتا ہے، Nano Banana چہرہ بدل سکتا ہے، لیکن برانڈ کی روح کیا ہو، کلائنٹ کا اصل مسئلہ کیا ہے، کون سا پیغام کس وقت دینا ہے، یہ فیصلہ ابھی بھی انسان ہی کر سکتا ہے۔
دنیا کے ممالک کیا کر رہے ہیں؟ 🌍
متحدہ عرب امارات نے “AI فار ایوری سٹیزن” پروگرام کے تحت لاکھوں لوگوں کو مفت AI ٹریننگ دی۔ سنگاپور نے اپنے کری ایٹو پروفیشنلز کے لیے “SkillsFuture” اسکیم کے تحت AI کورسز کے پیسے حکومت دے رہی ہے۔
ایسٹونیا نے اسکولوں کے سلیبس میں پرامپٹ انجینیئرنگ متعارف کرا دی ہے۔
ساؤتھ کوریا کی کئی ایجنسیوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اب وہی ڈیزائنر ہائر ہوں گے جو کم از کم چار AI ٹولز پر عبور رکھتے ہوں، اور ان کی تنخواہیں پچھلے دو سال میں بڑھی ہیں، کم نہیں ہوئیں۔
اور ہم؟ ہماری زیادہ تر یونیورسٹیاں ابھی بھی وہی دس سال پرانا سلیبس پڑھا رہی ہیں۔ لڑکے چار سال لگا کر ڈگری لیتے ہیں، اور جب باہر نکلتے ہیں تو مارکیٹ انہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیتی ہے۔ 💔
سوال یہ نہیں کہ AI ڈیزائنرز کی نوکری لے گا۔
سوال یہ ہے کہ وہ ڈیزائنر جو AI استعمال کرنا سیکھ لے گا، وہ اس ڈیزائنر کی نوکری ضرور لے جائے گا جو انکار کر رہا ہے۔
بلال اٹھ چکا ہے۔ اس نے کمرے کے کونے سے اپنا ٹیبلٹ اٹھا لیا، لیکن ساتھ میں ایک لیپ ٹاپ کھولا اور ChatGPT پر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیا۔
آپ کب اٹھیں گے؟ ⏳
پیارے بھائیو اور بہنو، یہ پوسٹ پاکستان کے ہر اس نوجوان تک پہنچنی چاہیے جو گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، یا کسی بھی کری ایٹو فیلڈ سے جڑا ہے۔ ہمارے لاکھوں بچے اس طوفان سے بے خبر بیٹھے ہیں۔ آپ کا ایک شیئر کسی کا کیریئر بچا سکتا ہے، کسی گھر کا چولہا جلتا رکھ سکتا ہے۔ اسے شیئر کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ 🙏
کمنٹ میں ضرور بتائیں، کیا آپ یا آپ کا کوئی قریبی اس تبدیلی کو محسوس کر رہا ہے؟
اور آپ کی رائے میں پاکستانی نوجوانوں کو AI کے لیے تیار کرنے کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، نصاب بدلنا، مفت ٹریننگ دینا، یا کچھ اور؟
کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ ضرور کیجیے تاکہ یہ آواز پالیسی سازوں تک پہنچے:
Ministry of IT and Telecom Pakistan, HEC Pakistan, PSEB, NAVTTC, Ignite National Technology Fund, Punjab IT Board, Sindh IT Department, KP IT Board
اگر آج ہم نے اپنے نوجوانوں کو تیار نہ کیا، تو کل وہ عالمی مارکیٹ میں نظر بھی نہیں آئیں گے۔