20/07/2026
*بے روزگاری صرف جیب نہیں، پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے*
بے روزگاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ پورے گھر کی خوشیوں، سکون اور عزتِ نفس پر اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار سے محروم رہتا ہے تو اس کے خواب، اس کی خود اعتمادی اور اس کے مستقبل کی امیدیں آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتی ہیں۔
انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے:
*"A dead son is better than an unemployed son.*
یعنی بعض معاشروں میں بے روزگار بیٹے کو اتنی حقارت سے دیکھا جاتا ہے کہ اس کی تکلیف موت سے بھی بدتر محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک سخت اور تلخ کہاوت ہے، لیکن اس کے پیچھے بے روزگاری کی شدت اور معاشرتی دباؤ کی عکاسی موجود ہے۔
*ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:*
*بیٹوں کو روزگار کا دکھ شہر لے گیا،*
*میں ضعیف ہو گئی گاؤں میں بیٹھ کر۔*
یہ شعر اُن ماؤں کے درد کو بیان کرتا ہے جن کے بیٹے روزگار کی تلاش میں گھر، گاؤں اور اپنے والدین کو چھوڑ کر شہروں یا پردیس چلے جاتے ہیں۔ روزی کی تلاش صرف فاصلے نہیں بڑھاتی، بلکہ بہت سے رشتوں میں خاموش اداسی بھی بھر دیتی ہے۔
*ایک اور شاعر نے حقیقت کو یوں بیان کیا:*
*کس ضرورت کو دباؤں، کس کو پورا کر لوں،*
*اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے۔*
یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ لاکھوں محنت کشوں کی روزمرہ زندگی کی تصویر ہے۔ محدود آمدنی میں کرایہ، بجلی، بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انسان اکثر اپنی خواہشات کو قربان کر دیتا ہے تاکہ گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔
اسی لیے معاشرے کو چاہیے کہ وہ کسی انسان کی عزت کا معیار صرف اس کی آمدنی نہ بنائے۔ بے روزگاری جرم نہیں، بلکہ ایک مشکل آزمائش ہے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور مدد کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے🍁💯