18/09/2025
نواب دین کا گھر
نواب دین جب اپنی بیوی سکینہ کو لے کر اس چھوٹے سے کچے گھر میں آیا تھا، تو دیواریں ٹوٹ کر گرنے لگی تھیں۔ چھت سے ہر بارش میں پانی ٹپکتا تھا اور کھڑکیوں کے کواڑ سڑ چکے تھے۔ سکینہ نے گھر کی حالت دیکھ کر ایک لمبی سانس لی، مگر کچھ کہا نہیں۔ اس نے صرف اپنا دوپٹہ کمر سے باندھا اور جھاڑو اٹھا کر صفائی شروع کر دی۔
نواب دین دن رات محنت کرتا تھا۔ وہ ایک میستری کے ساتھ مزدور کا کام کرتا، کبھی مٹی اٹھاتا تو کبھی اینٹیں۔ شام کو تھکا ہارا لوٹتا تو اس کے جسم سے پسینہ اور مٹی کی بو آتی تھی۔ سکینہ کبھی شکایت نہیں کرتی تھی۔ وہ اس کے کپڑے دھو کر سکھاتی، گرم پانی سے اس کے پیر دھلاتی اور ہمیشہ پیار سے مسکرا کر کھانا دیتی۔ نواب دین جب بھی پوچھتا، "سکینہ، یہ گھر تمہیں اچھا نہیں لگتا؟" تو وہ کہتی، "یہ گھر ہمارا ہے اور ہمارے پیار سے بنا ہوا ہے، یہ سب سے خوبصورت ہے۔"
کئی سال گزر گئے۔ نواب دین کی محنت رنگ لائی۔ اس نے اپنے چھوٹے سے گھر کے کچے کمرے کو پکا کیا، اس کی چھت کو مضبوط بنایا اور ایک چھوٹا سا برآمدہ بھی بنوا لیا۔ اس نے ایک دن سکینہ سے کہا، "ہم ایک نئے گھر میں منتقل ہو جاتے ہیں، یہ بہت چھوٹا ہے।" سکینہ مسکرا کر بولی، "نیا گھر؟ اس گھر میں تمہارے پسینے کی خوشبو ہے، تمہاری محنت ہے، ہمارے خواب ہیں، اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے؟"
وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ ان کے بچے بڑے ہوئے، انہوں نے تعلیم حاصل کی اور اچھی نوکریاں حاصل کیں۔ ایک دن ان کا سب سے بڑا بیٹا عمار ایک شاندار، عالیشان گھر کی چابیاں لے کر آیا اور اپنے والدین سے کہا، "ابو، امی، یہ آپ کے لیے۔ اب آپ کو کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
نواب دین نے چابیوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پیچھے مڑ کر اپنے پرانے گھر کو دیکھا۔ اس گھر کی دیواروں سے اس کی محنت کی داستانیں جھلک رہی تھیں۔ سکینہ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے بولی، "اس گھر میں رہ کر تمہاری محنت نے ہمیں یہ سب کچھ دیا ہے، اس لیے اس گھر کی قدر ہمیں ہمیشہ رہے گی۔"
آج بھی، جب نواب دین اپنے خوبصورت نئے گھر میں بیٹھا ہوتا ہے، تو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پرانے گھر کی تصویر دیکھتا ہے، اور وہ سکینہ کے صبر اور برداشت کو یاد کر کے کہتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو اس کی محنت بھی بےکار تھی۔ سکینہ کا صبر اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھا۔ ان کا گھر شاید چھوٹا تھا، مگر ان کا رشتہ بہت بڑا تھا، جو ان کی محنت اور صبر کی بنیاد پر کھڑا تھا۔