RS-Link

RS-Link Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from RS-Link, Telecommunication Company, Dijkot.

07/02/2024

نَصْرٌ مِّن اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ

24/02/2017

New box pack POE 12VDC battery to 24VDC Switchable Power injector for UBNT, Mikrotik, D-LINK, TP-link, Bay Net, Netis, TOTOLINk Out door and Indoor CPEs, Routers and all others availability: Coming... - Computers & Accessories - Faisalabad

GHULAM-MUSTAFA'
10/01/2014

GHULAM-MUSTAFA'

Rs-Link
31/08/2013

Rs-Link

07/08/2013
12/07/2013

ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ

04/06/2013

♥♥♥♥عشق ♥♥♥♥
نبئ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایک عربی سے گھوڑا خریدا، اور اس کے جلدی چلنے کو کہا، تا کہ گھر پہنچ کر اس کی قیمت ادا کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم تیز تیز چلتے ہوے آگے بڑھ گئے جب کہ بدّو پیچھے رہ گیا۔ راستے میں لوگبدّو کے پاس آتے اور اس کے گھوڑے کی قیمت لگاتےجاتے، ان لوگوں کو بھی معلوم نہین تھا، کہ پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم وہ گھورا خود خرید چکے ہیں،۔ سو چلتے چلتے ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ لگا دی، چناچے وہ "عربی" زور زور سے چلا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بلانے لگا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم واپس ہوۓ تو کہنے لگا اگر آپ کو یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لیں، ورنہ میں اسے دوسرے کے ہاتھ پر فروخت کرنے والا ہوں۔۔ لیکن پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا، کہ کیا میں نے تجھ سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟؟؟؟
وہ عربی بدّو کہنے لگا: نہیں نہیں ابھی خرید و فروخت مکمل نہیں ہوئی، (یعنی آپ نے ابھی قیمت ادا نہیں کی)۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔۔۔ دو جہانوں کے تاجدار ہے، اور وہ بدبخت کہتا ہے ابھی خرید و فروخت مکمل نہیں ہوئی، معاملہ کافی پیچیدہ ہو چکا ہے، رقم گھر پڑی ہے، اور گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو پسند آ چکاہے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ اس کا اتفاق بھی ہو چکا ہے، یعنی بس رقم حوالے کرنا باقی ہے، اتفاق اپنے انجام کو پہنچ چکاہے، بظاہر وہ گھوڑا بیچ چکا ہے، لیکن کچھ پیسوں کی لالچ میں وہ اب اپنا بیان بدل رہا ہے۔
پھر اچانک ہی دیکھتے دیکھتے پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ وہ عربی بدّو بحث کرنے لگا، یہ دیکھ کر لوگ ان کے پاس اکٹھے ہونے لگے، اور پھر وہاں پر جو بھی صحابی رضی اللہ عنہ آتے وہ دیکھتے اس طرح اس عربی بدّو کو بات کرتے، تو اسے کہتے: تیرا ناس ہو، تیری بد بختی تیرے گلے پڑی ہوئی ہے، جو تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ ایسے ضد کر رہا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بھی حق کے خلاف کوئی بات کر سکتے ہیں؟؟؟ آخر کار پھر اس بدّو نے کہا: کہ آپ کوئی گواہ پیش کرو، کہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اپنا گھوڑا فروخت کر دیا ہے، ابھی اس وقت تو وہاں پر کوئی نفس موجودنہیں تھا، جس کے سامنے یہ سودا طے ہوا تھا،
اتنے میں دوسری طرف سے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہاں آن پہنچے، جہاں وہ بدّو بار بارایک ہی بات کی رٹ لگاۓ بیٹھا تھا، کہ اگر کوئی گواہ ہے تو پیش کرو، ورنہ مجھے گھوڑا نہیں بیچنا۔ جب حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے بدّو کی یہ بات سنی، تو زور سے چیخ کر مجمع میں کہنے لگے، ہاں میں گواہی دیتا ہوں، کہ یقینا تو نے اپنا گھوڑا پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ہاتھوں پر فروخت کر دیا ہے، یہ سننا تھا، کہ پورا کے پورا مجمع ہی حیرت زدہ ہو گیا، کہ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ تو ہمارے بھی بعد آ رہا ہے، تو پھر یہ کیسے گواہی دے رہا ہے، اوردوسری طرف آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے خود دریافت فرمایا: اے خزیمہ تو گواہی کس بنیاد پر دے رہا ہے؟؟؟ (یعنی تو تو وہاں موجود ہی نہیںتھا)
تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے عاجزی اختیار کرتے ہوۓ انتہائی ادب سے فرمایا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم جب آپ ہمیں آسمان کی خبریں سناتے ہیں، (یعنی عرش اور فرش، جبرائیل، میکائیل علیہ السلام، جنت جھنم، دنیا و آخرت، اور پھر ماضی کے واقعات، اور مستقبل کی پیشن گوئیاں) تو میں ان کی تصدیق کرتا ہوں، (کہ سچ کہا ہے آپ نے) تو پھر کیا میں آپ کے اس قول کی تصدیق نہیں کروں گا؟ (جو کہ ہے بھی اک دنیاوی معاملہ) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم میں نے آپ کی تصدیق پر گواہی دی ہے، (یعنی آپ نے فرمایا خرید وفروخت ہو گئ، سو میرے دل نے یقین کر لیا کہ ہاں آپ سچے ہیں، اور خرید و فروخت ہو چکی ہے)۔
چناچہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے پیارے صحابی رضی اللہ عنہ کا یہ جواب سنتے ہی فرمایا،"اے خزیمہ تیری گواہی آج سے دو گواہوں کے برابر ہے۔
ابو داؤد شریف، کتاب الآقضیہ، حدیث 3607
مسند امام احمد بن حنبل: جلد 5: حدیث 215۔

Address

Dijkot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RS-Link posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share