Urdu Adab اردو ادب

Urdu Adab اردو ادب Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Adab اردو ادب, Dera Ghazi Khan.

We encourage people's to flourish their Professional's Skill in the field of "Computer Operator/Data Entry Operator, Computer Technician and Composer / Professional's Photographer.

💔 ہوٹل والے نے صرف چار گھنٹے کے کمرے کا بل پینتیس ہزار بنا دیا تھا… مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سامنے بیٹھی سفید بالوں و...
25/05/2026

💔 ہوٹل والے نے صرف چار گھنٹے کے کمرے کا بل پینتیس ہزار بنا دیا تھا… مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سامنے بیٹھی سفید بالوں والی خاتون زندگی کے سارے حساب اُس سے بہتر جانتی ہے۔ 😄

ایک عمر رسیدہ میاں بیوی گاڑی میں کیلیفورنیا سے نیویارک جا رہے تھے۔

گیارہ گھنٹے مسلسل سفر کے بعد دونوں اتنے تھک چکے تھے کہ مزید گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے راستے کے ایک بڑے ہوٹل میں صرف چند گھنٹے آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

“چار گھنٹے سو کر نکل جائیں گے…” بزرگ آدمی نے استقبالیہ پر کہا۔

رات گزری۔

صبح دونوں نیند پوری کر کے نیچے آئے تو کاؤنٹر پر موجود کلرک نے بل اُن کے سامنے رکھ دیا۔

350 ڈالر۔

بزرگ آدمی کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“چار گھنٹے کے؟”

کلرک نہایت سکون سے بولا:

“سر، یہ ہمارے ہوٹل کا standard rate ہے۔”

بزرگ شخص غصے میں آ گیا۔

“بھئی، ہم نے نہ تمہارا سوئمنگ پول استعمال کیا، نہ conference hall، نہ کوئی شو دیکھا، نہ کوئی سہولت!”

اتنے میں مینیجر بھی آ گیا۔

اس نے بڑی شائستگی سے کہا:

“سر، لیکن یہ سب سہولتیں یہاں موجود تھیں… آپ چاہیں تو استعمال کر سکتے تھے۔”

بزرگ آدمی ہر بار یہی کہتا رہا:

“مگر ہم نے استعمال تو نہیں کیا!”

اور مینیجر ہر بار مسکرا کر یہی جواب دیتا:

“لیکن سہولت موجود تھی۔”

آخرکار تھک ہار کر بزرگ نے کہا:

“ٹھیک ہے، بل دے دیتے ہیں۔”

پھر اُس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔

“چیک لکھ دو۔”

بزرگ خاتون نے پرس کھولا، نہایت سکون سے چیک لکھا اور مینیجر کے ہاتھ میں دے دیا۔

مینیجر نے چیک دیکھا تو چونک گیا۔

صرف 50 ڈالر۔

“میڈم، یہ تو صرف پچاس ڈالر ہیں!”

بزرگ خاتون نے عینک درست کی، ہلکا سا مسکرائیں اور بولیں:

“جی، باقی تین سو ڈالر میں نے آپ پر charge کیے ہیں… میرے ساتھ رات گزارنے کے۔”

مینیجر کا منہ کھل گیا۔

“لیکن… میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا!”

خاتون نے فوراً جواب دیا:

“مگر موقع تو موجود تھا نا… آپ کر سکتے تھے۔”

چند لمحے پورا لابی خاموش رہی…

پھر اُن کے شوہر اتنا زور سے ہنسے کہ ہاتھ سے چھڑی گر گئی۔ 😄

30/04/2026

جب خوارجی فتنے نے کوفہ میں سر اٹھایا تو انہوں نے حضرت امام ابو حنیفہ نعمانؒ کو پکڑ لیا اور کہا:
“اے شیخ! کفر سے توبہ کرو!”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“میں اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کے کفر سے توبہ کرتا ہوں۔”
چنانچہ انہوں نے آپؒ کو چھوڑ دیا۔
جب آپؒ وہاں سے چلے گئے تو کسی نے خوارج سے کہا:
“انہوں نے تو اُس کفر سے توبہ کی ہے جس پر تم لوگ ہو!”
یہ سن کر وہ دوبارہ امام ابو حنیفہؒ کو واپس لے آئے اور ان کے سردار نے کہا:
“اے شیخ! آپ نے کفر سے توبہ کی، اور اس سے مراد ہمارا عقیدہ لیا؟!”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“تم یہ بات علم کی بنیاد پر کہہ رہے ہو یا صرف گمان سے؟”
اس نے کہا:
“بلکہ گمان سے۔”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
اور تمہارا یہ گمان خود ایک گناہ ہے، اور تمہارے نزدیک ہر گناہ کفر ہے، لہٰذا پہلے تم خود اپنے کفر سے توبہ کرو!”
یہ سن کر خارجی بولا:
“آپ نے سچ فرمایا اے شیخ! میں اپنے کفر سے توبہ کرتا ہوں!”
پھر ایک اور مرتبہ خوارج امام ابو حنیفہؒ کے پاس مناظرہ کرنے آئے، کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ آپ اہلِ قبلہ میں سے کسی کو گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا:
“مسجد کے دروازے پر دو جنازے پڑے ہیں:
ایک اُس شخص کا جس نے شراب پی یہاں تک کہ اسی میں ڈوب کر مر گیا،
اور دوسرا ایک عورت کا جس نے زنا کیا، پھر جب حاملہ ہوئی تو خودکشی کر لی۔
اب ہمیں بتائیے: کیا یہ دونوں جنتی ہیں یا جہنمی؟”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“یہ کس مذہب سے تعلق رکھتے تھے؟ کیا یہ یہودی تھے؟”
انہوں نے کہا: “نہیں۔”
آپؒ نے فرمایا:
“کیا یہ نصرانی تھے؟”
انہوں نے کہا: “نہیں۔”
آپؒ نے فرمایا:
“کیا یہ مجوسی تھے؟”
انہوں نے کہا: “نہیں۔”
آپؒ نے فرمایا:
“پھر یہ کس ملت سے تھے؟”
انہوں نے کہا:
“اُس ملت سے جو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“مجھے بتاؤ، یہ کلمۂ شہادت ایمان کا کتنا حصہ ہے؟ ایک تہائی؟ چوتھائی؟ پانچواں حصہ؟”
انہوں نے کہا:
“ایمان تو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوتا!”
آپؒ نے فرمایا:
“تو پھر کتنا ہے؟”
انہوں نے کہا:
“یہ پورا ایمان ہے۔”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“پھر تم ان لوگوں کے بارے میں سوال کیوں کر رہے ہو جن کے مؤمن ہونے کا تم خود اقرار کر چکے ہو؟!”
انہوں نے کہا:
“یہ سب چھوڑیں! ہمیں بتائیے، وہ جنتی ہیں یا جہنمی؟”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
“جب تم اصرار ہی کرتے ہو تو میں ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نبی ابراہیمؑ نے فرمایا تھا:
پس جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اور میں ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نبی عیسیٰؑ نے فرمایا تھا:

"اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے"
اور میں ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نبی نوحؑ نے فرمایا تھا:

اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا عمل کرتے تھے، ان کا حساب تو صرف میرے رب کے ذمے ہے، کاش تم سمجھتے۔
اور میں تمہاری جماعت کی طرح نہیں کہوں گا، بلکہ وہی کہوں گا جو نوحؑ نے فرمایا تھا:
" اور میں اُن لوگوں کے بارے میں جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں، یہ نہیں کہتا کہ اللہ انہیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، اگر میں ایسا کہوں تو میں یقیناً ظالموں میں سے ہو جاؤں گا"
یہ سن کر خوارج نے اپنے ہتھیار ڈال دیے اور کہا:
“ہم اپنے پہلے دین سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں، اور اب آپ کے دین پر اللہ کی عبادت کریں گے؛ کیونکہ اللہ نے آپ کو فضل، حکمت اور علم عطا فرمایا ہے۔”
اللہ تعالیٰ امام ابو حنیفہ نعمانؒ پر رحم فرمائے، بے شک وہ عقل، فقہ اور بیان کے عظیم امام تھے۔

24/04/2026

ایک دن ایک پٹھان خان صاحب بس میں ایسے بیٹھے تھے جیسے بس نہیں، اپنی ذاتی جائیداد ہو 😄
ایک ہاتھ سیٹ پر، دوسرا کھڑکی پر، اور چہرے پر ایسا سکون جیسے دنیا کے سارے مسئلے انہوں نے ہی حل کیے ہوں!
اچانک بس رکی اور ایک تیز مزاج عورت اندر آئی۔ ادھر ادھر دیکھا اور سیدھا آ کر خان صاحب کے پاس بیٹھ گئی۔
خان صاحب نے ہلکا سا سر گھما کر دیکھا اور آہستہ سے بڑبڑائے: "یا اللہ! آج سفر ہے یا امتحان؟" 😆
اتنے میں بس نے زور کا جھٹکا دیا اور خان صاحب کا بازو ہلکا سا عورت سے ٹکرا گیا۔
عورت فوراً بولی: "ذرا سنبھل کے بیٹھیں! یہ کوئی حجرہ نہیں ہے!"
خان صاحب نے داڑھی سہلاتے ہوئے سکون سے کہا: "بی بی، اگر حجرہ ہوتا تو تم اندر آنے سے پہلے اجازت مانگتی!" 😄
بس میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی 😂
عورت بھی کم نہ تھی، فوراً بولی: "آپ جیسے لوگوں کو تہذیب نہیں ہوتی!"
خان صاحب نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے جواب دیا: "اور تم جیسے لوگوں کو صبر نہیں ہوتا!"
عورت غصے میں: "آپ مرد ہمیشہ خود کو عقل مند سمجھتے ہیں!"
خان صاحب مسکرا کر بولے: "نہیں بی بی، ہم خود کو عقل مند نہیں سمجھتے… ہم ہوتے ہیں!"
اب تو پوری بس قہقہوں سے گونج اٹھی 😂
عورت نے ہار نہ مانی، بولی: "اگر آپ اتنے ہی عقل مند ہیں تو بتائیں، عورت اور مرد میں فرق کیا ہے؟"
خان صاحب نے تھوڑی دیر سوچنے کا ڈرامہ کیا، پھر بولے: "فرق بہت سادہ ہے بی بی…"
سب لوگ خاموش ہو گئے، جواب سننے کے لیے۔
خان صاحب بولے: "مرد مسئلہ پیدا کرتا ہے… اور عورت اسے تین گنا بڑھا دیتی ہے!"
اب تو ڈرائیور بھی ہنسنے لگا 😄
عورت نے آخری حملہ کیا: "آپ جیسے مردوں کی وجہ سے ہی دنیا آگے نہیں بڑھتی!"
خان صاحب فوراً بولے: "اور تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی مرد گھر سے باہر رہتے ہیں!"
یہ سن کر بس میں زور دار قہقہہ پڑا 😂
اتنے میں کنڈکٹر آیا اور بولا: "ٹکٹ دکھائیں!"
خان صاحب نے ٹکٹ دکھایا، پھر عورت کی طرف دیکھ کر بولے: "بی بی، تمہارا ٹکٹ کہاں ہے؟"
عورت تھوڑی پریشان ہوئی، بولی: "میرے پاس نہیں ہے…"
کنڈکٹر نے سخت لہجے میں کہا: "بی بی، بغیر ٹکٹ کے جرمانہ دینا پڑے گا!"
عورت تھوڑی گھبرا گئی، پھر فوراً بولی: "میں نے تو سوچا تھا کوئی شریف آدمی میرا ٹکٹ لے دے گا!"
خان صاحب فوراً سیدھے ہو کر بولے: "بی بی، شریف آدمی تو میں ہوں… لیکن اتنا بھی شریف نہیں کہ بحث بھی ہاروں اور ٹکٹ بھی خریدوں!" 😄
بس میں زور دار قہقہہ گونج اٹھا 😂
عورت نے غصے سے کہا: "آپ تو بہت چالاک نکلے!"
خان صاحب مسکرا کر بولے: "نہیں بی بی، چالاک نہیں… صرف شادی شدہ ہوں، اس لیے بحث سے بچنا سیکھ گیا ہوں!" 😆
یہ سن کر تو ڈرائیور نے بھی بس ایک طرف لگا کر ہنسنا شروع کر دیا!
خان صاحب نے جاتے جاتے کہا:
"بی بی، اگلی بار ٹکٹ پہلے لے لینا… ورنہ کوئی اور خان صاحب مل گیا تو وہ بحث بھی جیتے گا اور جرمانہ بھی تم سے لے گا!" 😂

24/04/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"
عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔
شخص نے پھر وہی جواب دیا۔
عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"
تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟
تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
تیرا سر کون دھوتا ہے؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے
مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں
اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے
تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:
"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:
"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:
"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:
"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:
"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:
"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔
یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:
"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:
"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:
"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔
اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔
ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:
"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:
"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:
"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"
(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔
اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:
"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔
وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:
"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔
یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔
اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار
نہیں۔

اصل جنگ کیا ہے؟بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔مسلمانوں کا قبلہ دوئمعیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادتیہودیوں کے لئے...
12/04/2026

اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری

ہے؟
Copy

🌟 تصوف میں سالک اور مجذوب — آسان اور متوازن سمجھ~~~~~~~~~~~~~☀️تصوف میں سالک اور مجزوب دو اہم روحانی حالتوں/مراتب کو ظاہ...
08/04/2026

🌟 تصوف میں سالک اور مجذوب
— آسان اور متوازن سمجھ
~~~~~~~~~~~~~☀️
تصوف میں سالک اور مجزوب دو اہم روحانی حالتوں/مراتب کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کی درست سمجھ
راہِ سلوک کو واضح کرتی ہے۔
--------------------

🌿 سالک کیا ہوتا ہے؟

سالک وہ شخص ہے جو شعوری طور پر اللہ کی طرف سفر (سلوک) کرتا ہے۔

خصوصیات:

شریعت کی مکمل پابندی کرتا ہے

ذکر، عبادت، مجاہدہ اور ریاضت کے ذریعے ترقی کرتا ہے

مرشد کی ہدایات کے مطابق قدم بہ قدم آگے بڑھتا ہے

اس کا سفر تدریجی (step by step) ہوتا ہے

👉 یعنی سالک “چلنے والا” ہے جو راستہ طے کرتا ہے۔
----------------------

🌸 مجذوب کیا ہوتا ہے؟

مجذوب وہ ہے جسے اللّہ کی محبت اور کشش (جذب) اپنی طرف کھینچ لے۔

خصوصیات:

اس پر اللہ کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے

بعض اوقات بےخودی یا وارفتگی کی کیفیت ہوتی ہے

اس کی حالت عام لوگوں کو فوراً سمجھ نہیں آتی

اس کی کیفیت بظاہر اچانک محسوس ہو سکتی ہے

👉 یعنی مجذوب “کھینچا ہوا” ہے، جو اللہ کی خاص عطا سے اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

⚠️ اہم وضاحت:
حقیقی مجذوب بھی شریعت سے باہر نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص شریعت کے خلاف جائے تو وہ قابلِ تقلید نہیں۔
----------------------

⚖️ سالک اور مجذوب — آسان فرق

سالک = محنت، مجاہدہ، آہستہ آہستہ اللہ کی طرف بڑھنے والا

مجزوب = اللہ کی محبت سے اپنی طرف کھینچا جانے والا
🌱⭐🌱
سالک = شعور اور ترتیب کے ساتھ چلنے والا
مجزوب = کبھی بےخودی کی کیفیت میں رہنے والا
🥀🌷🥀
سالک = ہر حال میں شریعت کا پابند
مجزوب = سچا ہو تو وہ بھی شریعت کا پابند ہوتا ہے
✨🌻✨
سالک = عام لوگوں کے لیے قابلِ اتباع
مجزوب = خاص حالت، ہر ایک کے لیے نمونہ نہیں
------------------

🧭 راہِ تصوف میں کردار

سالک: عام لوگوں کے لیے نمونہ، کیونکہ اس کا طریقہ قابلِ اتباع ہوتا ہے

مجزوب: اللہ کی قدرت اور محبت کی مثال، مگر ہر ایک کے لیے راستہ نہیں

👉 اکثر صوفیاء کے نزدیک سالک کا راستہ زیادہ محفوظ اور قابلِ پیروی ہے۔

---------------

📖 اسلام کیا کہتا ہے؟

اسلام میں اصل معیار:

قرآن و سنت کی پابندی

شریعت سے انحراف کی اجازت نہیں

اگر کوئی شخص (خواہ سالک ہو یا مجذوب): 👉 شریعت کے خلاف جائے تو وہ قابلِ تقلید نہیں

✔️ حقیقی اولیاء ہمیشہ شریعت کے پابند ہوتے ہیں

👉 اس لیے:
حقیقی تصوف = شریعت + طریقت + حقیقت

--------------------

🧑‍🏫 مرشد کا کردار

ایک سچا مرشد دونوں کی رہنمائی مختلف انداز سے کرتا ہے:

سالک کے لیے:🙋🏻

ذکر، وظائف اور مجاہدہ بتاتا ہے

نفس کی اصلاح کرواتا ہے

قدم بہ قدم تربیت کرتا ہے

مجذوب کے لیے:🙍🏻

اس کی کیفیت کو متوازن کرتا ہے

اسے شریعت کی طرف مضبوطی سے لاتا ہے

اس کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ گمراہی سے بچے

------------------------

📖 قرآنِ کریم سے دلیل

1. سالک کا طریق (محنت اور سلوک)

"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا"
(سورۃ العنکبوت 29:69)

👉 ترجمہ: جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں

✔️ مجاہدہ → ہدایت → قربِ الٰہی
------------------------

2. مجذوب کی طرف اشارہ (اللہ کی خاص عطا)

"اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ"
(سورۃ الشوریٰ 42:13)

👉 ترجمہ: اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے

✔️ یہ جذب کی طرف اشارہ ہے (اللہ کی خاص عنایت)

------------------------

🕌 سنتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی

دین میں اعتدال اور توازن

عبادت میں میانہ روی

شریعت کے مطابق زندگی ہی اصل کامیابی ہے

---------------------

⭐ صحابہؓ کی مثالیں — کامل توازن

صحابہ کرامؓ میں ہمیں سلوک اور جذب کا حسین امتزاج ملتا ہے:
---------------------

🌿 ابو بکر صدیق

مکمل شریعت کے پابند

عاجزی، ذکر اور خدمت

👉 کامل سالک کی مثال
---------------------

⚔️ عمر فاروق

نفس پر سختی

عدل، تقویٰ اور نظم

👉 مضبوط سالک

---------------------

💖 بلال حبشی

اللہ کی محبت میں گہرائی

اذان میں خشوع اور کیفیت

👉 محبت (جذب) کی جھلک
✔️ مگر مکمل شریعت کے پابند

---------------------

📌 اہم نکتہ:
صحابہؓ میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو شریعت سے ہٹ جائے
👉 یہی اصل معیار ہے

-----------------------

🧑‍🏫 مرشد کی رہنمائی (قرآن کی روشنی میں)

"فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"
(16:43)

👉 اگر تمہیں کسی شے کا علم نہیں تو اہلِ علم (مرشد) سے رہنمائی لو

---------------------

🌟 بزرگانِ دین کی مثالیں

جنید بغدادی → شریعت + سلوک

بایزید بسطامی → جذب کی کیفیت (عام لوگوں کے لیے نمونہ نہیں)

داتا گنج بخش → توازن کی تعلیم

شمس تبریز → عشقِ الٰہی

جلال الدین رومی → علم + عشق = کمال

---

🌿 تصوف کی بنیادیں

شریعت = عمل
طریقت = راستہ
معرفت = پہچان
حقیقت = کمال

⚠️ سب کچھ شریعت کے اندر ہے
❗ شریعت کے بغیر کچھ معتبر نہیں

---

✨ آخری خلاصہ

سالک = محنت سے اللہ تک پہنچنے والا
مجزوب = اللہ کی محبت میں کھینچا ہوا

👉 بہترین اور محفوظ راستہ:
سالک کا طریق (شریعت کے ساتھ)

🌺 کمال کی حالت:
سلوک + جذب (محبتِ الٰہی)

☀️“سالک بنو…
مگر دل میں اللہ کی محبت ضرور رکھو”

شاہ معظم! مجھے آپکے اٹھائیس ارب روپے -سعودی شہریت اور درجہ سفارت قبول نہیں مسلم دنیا کی سب سے معتبر اور دنیا کی سب سے دو...
27/03/2026

شاہ معظم! مجھے آپکے اٹھائیس ارب روپے -سعودی شہریت اور درجہ سفارت قبول نہیں
مسلم دنیا کی سب سے معتبر اور دنیا کی سب سے دولتمند شخصیت۔ خادم حرمین شریفین شاہ خالد بن عبدالعزیز بن سعود یہ سن کر سکتے میں آگئے۔ کافی دیر بعد شاہی محل کےنقرئی دبیز صوفے میں فروکش شاہ خالد۔ نے خاموشی توڑی اور محمد علی سے اتنی عظیم الشان شاہی پیشکش رد کرنے کا سبب دریافت کیا۔۔
یہ سال 1978 کا ذکر ہے۔۔ محمد علی قبول اسلام کے بعد متعدد بار حجاز مقدس آچکے تھے۔ شاہ فیصل کے شاہی مہمان کی حیثیت سے انہیں 1972 میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ آج وہ دوبارہ شاہی مہمان بنے۔اس ملاقات کے لئے سعودی عرب کا واشنگٹن میں سفارت خانے کافی دیر سے منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔
باکسنگ اور کھیلوں کے بلا شرکت غیرے سرتاج۔ محمد علی۔ 36 برس کے تھے۔ اسی برس انہوں نے تیسری مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کا اعزاز انسابقہ ورلڈ چیمپئن لیون سپینکس کو ہرا کر حاصل کیا تھا۔۔ بلاشبہ اس وقت محمد علی دنیائے سپورٹس کا سب سے بڑا نام تھے۔ مگر انکے مالی حالاتت مثالی نہ تھے۔ آج کے ناقابل یقین معاوضوں کے مقابلے میں تب سٹار کھلاڑیوں کو کافی کم معاوضہ ملتا تھا۔ محمد علی نے کبھی مال و زر سے دل نہ لگایا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے بڑے خاندان کی فلاح اور خیراتی کاموں میں تعاون کی صورت صرف کرتے۔
شاہ خالد محمد علی کو بحیثیت باکسنگ چیمپئن قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر ان کا اصل مقام قبول اسلام کے نتیجے اور ویت نام کی جنگ میں شرکت سے انکار کی پاداش میں باکسنگ چیمپئن شپ کے ٹائیٹل اور مراعات کے چھن جانے پر صبر۔ استقامت اور جرات مندی سے اسلام کا دفاع کرنا تھا۔ انکے کردار کے اس دلکش پہلو۔۔ نے انہیں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا بنا دیا تھا۔ یہ انکے کیریئر کے عروج کے آخری ایام تھے۔
ہیرے ۔ جواہرات اور سونے سے جڑے اس خوبصورت اور مرصع محل کے اس پرسکون گوشے میں مترجم اور شاہ کے خواص ہی موجود تھے۔ شاہ نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ آپ کی ویت نام کی جنگ کے دوران جرات مندی۔ اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت اور پاسداری کو۔ عالم اسلام محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آپ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا ہیں۔ محمد علی نے تشکر بھرے لہجے میں اسے محض اللہ پاک کی کرم نوازی گردانا۔ شاہ نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا اور بولے۔ کہ میں آپ اور آپکی آئندہ نسلوں کے مالی تحفظ کیلئے ایک آفر آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔شاہ کا ایک نائب آگے بڑھے اور ایک بڑا بیگ میز پہ رکھ دیا اور ایک بریفنگ کیس کھول کر شاہ خالد کے سامنے رکھ دیا ۔ شاہ نے محمد علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ۔ میں آپ کو ایک سو ملین ڈالرز (آج کے اٹھائیس ارب روپے ) آپکی اسلام کیلئے بیش بہا خدمت پر ہدیہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمارے سفیر ہوں گے اور آپ کو سالانہ دس لاکھ ڈالرز(28 کروڑ روپے ) معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ایک پرائیویٹ جیٹ آپکی ملکیت ہوگا۔ اور ریاض میں ایک عالی شان محل آپکی تصرف میں ہوگا۔ اسکے عوض آپ مغربی ممالک اور بقیہ دنیا میں مسلمانوں اور سعودی عرب کے نمائندے کے طور پر سفر کریں گے اور تقریبات میں سعودی عرب اور اسلام کی نمائندگی کرینگے۔ وہ چھ ماہ سعودی عرب میں قیام رکھیں گے۔ انہیں سعودی شہریت عطا کی جائے گی۔ مگر انہیں امریکی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اتنی شاندار آفر محمد علی۔ انکی اہلیہ ویرونیکا اور وفد کیلئے ناقابل یقین تھی۔ اتنی دولت تو محمد علی اور اتنی سات پشتون کی پرتعیش زندگی کیلئے کافی تھی۔ محمد علی دم بخود تھے۔ کچھ توقف کے بعد بولے ۔۔ شاہ معظم۔۔ مجھے سوچنے کا موقع دیجئے۔
شام کو انکی اہلیہ اور فنانشل ایڈوائزر انہیں بتا رہے تھے کہ باکسنگ کے کیرئیر سے انہوں نے چند لاکھ ڈالر ہی پس انداز کئے۔ اپنی دولت کا بڑا حصہ انہوں نے اپنے خاندان کی مالی امداد اور خیراتی مد میں خرچ ڈالا تھا۔ اور اب انکا کیرئیر ختم ہونے کے قریب ہے۔ مشیر نے کہا کہ وہ سو مرتبہ بھی چیمپئن بن جائیں تو اسکا عشر عشیر نہیں پاسکتے۔ انکی اور آئندہ نسلوں کے لیے مالی آسودگی کا اس سے دلکش پیکج ناقابل تصور ہوگا
۔محمد علی عالم اضطراب میں شاہی مہمان خانہ کے آراستہ کمرے کے چکر لگا رہے تھے۔ انکی اہلیہ نے انکی یہ حالت پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ انہوں نے علی کا ہاتھ تھام لیا اور بولی۔۔ میں آپ کی آزمائش اور راحت۔ دونوں کی ساتھی ہوں۔مجھے یاد ہے کہ ویت نام کی جنگ میں جبری شرکت سے انکار پر آپ کو جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ مگر تب آپ بہت پرسکون تھے۔ آپ کے لئے شاید آج فیصلہ کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ مگر خدارا صرف وہ کیجئے۔ جو آپ کے دل اور ضمیر کی آواز ہے۔
اگلے دوز دن کی روشنی میں شاہ خالد کا شاہی کمرہ سورج کی روپہلی کرنوں میں اور بھی پرشکوہ لگ رہا تھا۔ شاہ خالد۔ محمد علی اور انکے وفد کے استقبال کے لئے چشم براہ تھے۔ شاہ نے محمد علی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں نے آپ کے انعام میں بیس لاکھ ڈالرز کا مزید اضافہ کردیا ہے اور ایک خوبصورت اور پرشکوہ مسجد آپ کی پسند کے ملک اور شہر میں آپ کے نام پر تعمیر کی جائے گی۔۔ شاہ دل میں سوچ رہے تھے کہ کون اتنی عالیشان اور فیاضانہ پیشکش کو مسترد کر سکتا ہے۔ شاہ خالد نے استفسار کیا کہ انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔
محمد علی پراعتماد اور پرسکون لہجے میں بولے۔۔ شاہ معظم! میں آپ کی عنایات اور انتہا درجے کی فیاضی اور محبت کے احسان تلے دبا ہوں۔ آپ کی جانب سے مجھ ناچیز کو کی گئی پیشکش غیر معمولی اور ناقابل یقین حد سے بھی بڑھ کر ہے۔ بادشاہ غور سے سن رہے تھے۔ محمد علی نے کچھ توقف اختیار کیا اور ادب سے بولے۔۔ حضور میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ میں آپ کی پیش کش قبول نہیں کرسکتا۔۔ کمرے میں موجود سب لوگوں کو گویا سانپ سونگھ گیا ۔ ترجمان نے علی سے پوچھا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
محمد علی بولے ۔ شاہ معظم میں نے اسلام اسکی عالمی حقانیت اور اللہ پاک کا پسندیدہ دین سمجھ کر اختیار کیا ۔ گزشتہ برسوں میں میں نے قرآن پاک کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔۔ میں نے شعوری طور پر اسلام قبول کیا ہے نہ کہ اس سے کوئی مالی منفعت کی طلب گاری رکھوں۔ اگر آج میں آپ کی یہ پیشکش قبول کر لوں تو لوگ سوال کریں گے کہ میں نے انعام واکرام اور جاہ وجلال کیلئے اپنا مذہب ترک کیا ۔ میں دنیا میں اسلام کا سفیر بحیثیت کنٹکی۔ امریکہ کے محمد علی کلے کرنا چاہوں گا۔ میں انہیں بتانا چاہوں گا کہ میں ایک امریکی ہوتے ہوئے ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہوں۔ میں انہیں یہ باور کراونگا کہ اسلام امریکہ میں اجنبی نہیں بلکہ امریکہ کا حصہ ہے۔
بادشاہ کیلئے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ انکے نزدیک اربوں روپے اور اتنی دلکش مراعات کو کون ٹھکرا سکتا ہے۔
میری زبان سے اسلام کی حقانیت اور عالمگیر سچائی عام لوگوں میں اور نکھر جائے گی اور میری بات میں وزن ہوگا۔ محمد علی نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔ ۔۔ اگر آپ مجھ سے سوال کریں کہ اسلام نے مجھے کیا دیا ہے۔ اس میں سب سے بڑھ کر میرا امریکی ہونے کے ناطے اسلامی تشخص اور شناخت۔۔ جسکی قیمت میری دانست میں اربوں روپے سے زیادہ ہے۔ آپ کا دیا گیا محل بلاشبہ بہت خوبصورت ہوگا۔ مگر کنٹکی میں میرا درمیانہ درجے کا گھر ایک مضبوط امریکی مسلمان کا قلعہ ہے۔ میں امریکی لوگوں سے پیسے لیکر سعودی شہریت اختیار کر نے کے بعد کیسے بات کرسکوں گا۔ میں امریکہ میں انصاف اور برابری کی بات ایک امریکی کی حیثیت میں بہتر انداز میں کرسکتا۔ میں مغرب اور اسلام کے درمیان ایک پل کی طرح رہنا چاہتا ہوں۔ جسکی جڑیں دونوں اطراف میں ہوں۔ دیرپا اور مضبوط۔ شاہ کے مصاحبین سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص بادشاہ کی اتنی بڑی پیشکش کو اصولوں کی بنیاد پر ٹھکرا سکتا ہے۔ شاہ خالد محمد علی کی جامع اور مدلل گفتگو سنکر گہری سوچ میں پڑ گئے۔
انہوں نے جذبات بھرے لہجے میں
کہا۔ میں نے زندگی میں ہیلی مرتبہ کسی شخص کو اتنی عالیشان آفر واپس کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ کے عمل نے یہ ثابت کیا کہ آپ کا عقیدہ اور اللہ پاک کی ذات میں یقین ہم پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ آپ نے میری پیشکش ٹھکرا کر میری نظر میں اپنی قدرومنزلت اور بھی بڑھا لی ہے۔ میں اپنی پیشکش واپس لیتا ہوں۔ مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترویج کے لیے آپ جو خواہش کریں گے اس کو پورا کرنا میرے لئے فرض عین ہوگا۔ آپ کی صورت اللہ رب العزت نے مجھے ایک بھائی عطا فرمایا ہے اور آپ سے عقیدت اور محبت کا تعلق میری زندگی کا سرمایہ ہوگا۔ شاہ خالد نے اپنے الفاظ کا پاس رکھا اور اپنی زندگی میں محمد علی کو سعودی عرب میں شاہی خواص کا درجہ دئے رکھا۔
محمد علی نے اپنی پاسداری کی لاج رکھی اور اپنی بقیہ زندگی میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے سفیر اور نمائندہ کے طور پر سفر کیا اور ایک دنیا کو اسلام کی دعوت سے روشناس کرایا۔ امریکہ میں افریقی امریکی آبادی میں قبول اسلام کا اہم کلیدی حصہ محمد علی کی ذات کے گہرے نقوش کا ہے۔ محمد علی 80 کی دھائی میں باکسنگ کی دنیا سے دستبردار ہو گئے۔۔ اگلے برس میں انکے مالی اثاثے سکڑنے لگے۔ چند برس بعد انہیں رعشہ Parkinsonism کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ انکے علاج معالجہ پر بہت خرچہ اٹھا۔ مگر محمد علی نے اپنی مبلغ اسلام کی سرگرمیوں میں کمی نہ آنے۔ سال 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس کی شمع انکے ہاتھ سے روشن کروائی گئی اور اس حقیقت کا برملا اظہار ہوا کہ وہ اس صدی کے سب سے معزز نمایاں اور کامیاب اتھلیٹ ہیں۔ سعودی حکومت نے سب سے پہلے اس کامیابی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ امریکہ میں انہیں انسانی حقوق۔ برابری اور انصاف اور استحصال مخالف تحریک کا سرخیل قرار دیا۔ تاریخ نے اربوں روپے کی رقم ٹھکراتے کے اس درویشانہ فیصلے کی تائید کی۔محمد علی کلے نے امریکی تاریخ میں ایک مسلمان حق گو اور راست باز رہنما کے طور اتنا بڑا نام بنایا جسے آج تک کوئی سر نہیں کرپایا۔۔ واقعی محمد علی نے اپنے نام کی لاج رکھی ۔ روز قیامت۔ نبی کریم اور علی حیدر کرار کے مقربین میں شامل ہوگا۔
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
زنداں میں بھی خیال بیابان نورد تھا
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

Address

Dera Ghazi Khan
32200

Opening Hours

Monday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Tuesday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Wednesday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Thursday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Friday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Saturday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00
Sunday 06:00 - 08:00
14:00 - 22:00

Telephone

923336462574

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Adab اردو ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Adab اردو ادب:

Share