Pakistani Memers Community's

اعتماداگر وہ اس وقت وانیہ پر سختی نہ کرتے تو اس کے اندر اعتماد نہ پیدا ہوتاوانیہ ایک بہت اچھی بچی تھی۔وہ ماں باپ کی فرما...
29/10/2024

اعتماد

اگر وہ اس وقت وانیہ پر سختی نہ کرتے تو اس کے اندر اعتماد نہ پیدا ہوتا

وانیہ ایک بہت اچھی بچی تھی۔وہ ماں باپ کی فرمانبردار تھی۔ہر ایک کا کہا مانتی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک مسئلہ تھا۔اس کے اندر ذرا سا بھی اعتماد نہیں تھا۔وہ بھرے مجمع کے سامنے جانے سے گھبراتی تھی۔اس کے اساتذہ کرام نے اسے کئی بار مجمع میں تقریر کرنے کو کہا، مگر وہ بھرے مجمع کے سامنے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی تھی۔

وانیہ کی اسلامیات کی ٹیچر نے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ان کی جگہ ایک اڈھیر عمر کے سر، جن کا نام محمد علی تھا، اسلامیات پڑھانے کے لئے آئے تھے۔وہ بہت غصے والے، مگر وہ بہت تجربہ کار استاد تھے۔وہ اپنے طالب علموں کو گرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔جب سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کی جماعت پنجم کی طالبہ وانیہ کے اندر اعتماد نہیں ہے تو انھوں نے اس کے اندر سوئے ہوئے اعتماد کو جگانے کا فیصلہ کیا۔

دس اگست کا دن تھا۔اسکول میں جشن آزادی کی تقریب کے لئے تیاریاں ہو رہی تھی۔سر محمد علی نے وانیہ کو اسٹاف روم میں بلایا۔وانیہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوئی۔سر نے اس سے کہا:”اس بار تمہیں یومِ آزادی کے دن تقریر کرنی ہو گی۔“
وانیہ سر کی بات سن کر گھبرا گئی:”سر․․․․․میں ت۔ت۔تقریر نہیں کر۔رر سکتی۔ی۔“
سر نے کہا:”میں نے جو کہہ دیا، سو کہہ دیا، اب جاؤ اور تیاری کرو۔

وانیہ بے چاری پریشان ہو گئی۔اس نے گھر جا کر اپنی امی کو بتایا۔امی نے کہا:”بیٹا! یہ تو اچھی بات ہے۔چلو اب تقریر کرنے کی تیاری کرو۔وقت نہ ضائع کرو۔“
آج 14 اگست کا دن تھا۔وانیہ کی امی نے اسے اچھی طرح تقریر کی تیاری کروائی تھی، مگر پھر بھی وہ تھوڑا تھوڑا گھبرا رہی تھی۔ٹیچر اب تقریر کرنے والوں کے نام لینے والی تھیں۔وانیہ کا دل دھک دھک ہونے لگا۔
اتفاق سے مس نے سب سے پہلا نام وانیہ کا ہی لیا۔سر محمد علی نے مس کو وانیہ کا پہلا نام لکھنے کو کہا تھا۔وانیہ ڈرتے ڈرتے اسٹیج پر آئی اور تقریر کرنے لگی۔تقریر کرتے ہوئے اس کے پاؤں بری طرح کانپ رہے تھے، مگر وانیہ نے اتنی زبردست تقریر کی کہ تقریر کے مقابلے میں وہ سب سے آگے رہی۔سب نے اس کی حوصلہ افزائی کی، کیونکہ یہ اس کی پہلی تقریر تھی۔سر محمد علی کو بہت خوشی ہوئی۔اس کے بعد سے وانیہ کو اسکول کی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں مزہ آنے لگا۔اب اگر اسے کسی بھی مقابلے میں حصہ لینے کے لئے کہنا نہیں پڑتا تھا۔
جب بھی سر محمد علی سے اس کی بات ہوتی ہے تو وہ ان کا شکریہ ادا کرتی۔اگر وہ اس وقت وانیہ پر سختی نہ کرتے تو اس کے اندر اعتماد نہ پیدا ہوتا۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارادیکھنے میں تو یہ فعل تو بہت چھوٹا ہے مگر تکلیف میں دوستوں کے لئے اتنی سی زحمت بہت بڑی رحمت بن جاتی...
28/10/2024

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

دیکھنے میں تو یہ فعل تو بہت چھوٹا ہے مگر تکلیف میں دوستوں کے لئے اتنی سی زحمت بہت بڑی رحمت بن جاتی ہے

برسات میں موسلا دھار بارش ہوئی۔جنگل کنارے ریت کے ایک ٹیلے پہ موجود چیونٹیوں کے بل میں پانی گھسنے لگا۔بیچاری چیونٹیاں اس آفت سے جان بچانے کی فکر میں اِدھر اُدھر پیر مار رہی تھیں۔
اوپر درخت پہ بیٹھی شہد کی مکھی نے جب یہ سب دیکھا تو بہت پریشان ہوئی اور جلدی سے ان کی رشتہ دار ٹیلے کے اوپر رہنے والی چیونٹیوں کو خبر دی۔
تو یہ سن کر ان کی ملکہ نے اپنی کالونی کی چیونٹیوں کو حکم دیا ”فوراً ان مصیبت زدہ بہنوں کی خیریت دریافت کرنے جاؤ، مگر ہاں دیکھو خالی ہاتھ کوئی نہ جائے“ سب کچھ نہ کچھ لے کر جائیں۔چیونٹیاں ایک ایک کر کے بل سے نکلیں تو ان میں سے کسی کے منہ میں چاول، کسی کے روٹی کا زرہ تو کسی کے دانتوں میں کسی حشرات کے جسم کا ٹکڑا تھا۔

چیونٹیاں مدد لے کر فوراً اس مصیبت زدہ کالونی میں پہنچیں اور ان مصیبت زدہ چیونٹیوں کو جمع کیا انھیں کھانا پیش کیا اور تسلی دی کہ جب تک پانی ختم نہیں ہوتا آپ سب ہمارے گھروں میں آ کر ٹھہر سکتی ہیں۔

ساری چیونٹیاں دن بھر ان کے ساتھ مل کر انھیں پانی سے نکلنے میں مدد دیتی رہیں اور شام کو انھیں ساتھ لے کر واپس اپنی کالونی میں لوٹ آئیں۔
دو دن جھڑی لگی رہی۔بہت پانی جمع ہو گیا۔مگر اللہ پاک کی رحمت سے تیسرے دن خوب تیز دھوپ نکلی اور اگلے تین چار دن میں پانی سوکھ گیا۔تب متاثرہ چیونٹیوں نے واپس جانے کی اجازت مانگی۔ملکہ چیونٹی نے خود جا کر دیکھا کہ سیلاب سے متاثرہ کالونی بھی خشک ہو چکی تھی تو اس نے سب چیونٹیوں کو اس طرح رخصت کیا کہ سب کے منہ میں اگلے کئی دن کا کھانا پینا موجود تھا۔بچو! دیکھنے میں تو یہ فعل تو بہت چھوٹا ہے مگر تکلیف میں دوستوں کے لئے اتنی سی زحمت بہت بڑی رحمت بن جاتی ہے دوسرے لفظوں میں آپ اسے کہہ سکتے ہیں کہ ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“۔

بابا جان کی نصیحت اچھے بچے ایسا کام نہیں کرتے ہیںاحسن کے امتحانات ختم ہو گئے تھے۔اس کے ابو اسے اپنے دوست کے گھر لے گئے،و...
24/10/2024

بابا جان کی نصیحت

اچھے بچے ایسا کام نہیں کرتے ہیں

احسن کے امتحانات ختم ہو گئے تھے۔اس کے ابو اسے اپنے دوست کے گھر لے گئے،وہاں احسن نے ان لوگوں کی چیزوں کو چھیڑنا شروع کر دیا تھا۔
”محمود انکل!یہ گھر تو بہت خوبصورت ہے۔یہ آپ نے کہاں سے لیا ہے؟“احسن نے شیشے کا بنا ہوا چھوٹا سا گھر اٹھانے کے بعد کہا۔
”بیٹا جب میں اٹلی گیا تھا،تب میں وہاں سے یہ لے کر آیا تھا۔
“محمود صاحب نے احسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔کچھ دیر بعد احسن نے گھر میز پر رکھ دیا تھا اور پھر اس کا دھیان دوسری چیزوں کی جانب چلا گیا تھا۔
”یہ گلدان بھی بہت حسین ہے۔“احسن نے شیشے کا گھر میز پر رکھنے کے بعد گلدان اٹھا لیا تھا۔
”احسن بیٹا!چیزوں کو یوں اُٹھاتے نہیں ہیں۔

یہ کھیلنے کی چیز نہیں ہے،ٹوٹ جائے گا۔احسن کے ابو فارس صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

”بابا جان یہ مجھے بہت اچھا لگا ہے۔تھوڑی دیر بعد اسے اس جگہ پر رکھ دوں گا۔“
احسن کی بات سننے کے بعد اس کے ابو کو بہت افسوس ہوا کہ ان کے بیٹے نے ان کی بات نہیں مانی۔جب وہ دونوں گھر واپس آگئے ،تب احسن نے محسوس کیا کہ ابو اس سے زیادہ بات نہیں کر رہے ہیں۔
”بابا جان کیا آپ ناراض ہیں؟“
احسن نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

”بیٹا!جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو ان لوگوں کی چیزوں کو اٹھا کر دیکھنا اچھی بات نہیں ہوتی ہے۔سب یہی کہیں گے کہ احسن اچھا بچہ نہیں ہے،بہت شرارتی ہے۔آپ کو میں نے ایسا کرنے سے منع بھی کیا لیکن آپ نے میرا کہنا نہیں مانا۔مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہوا ہے۔“احسن کے بابا جان نے اسے وہ بات بتا دی تھی ،جس کی وجہ سے وہ خفا ہوئے تھے۔
”بابا جان آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔آپ نے مجھے بہت پیاری بات بتائی ہے۔پھر کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔“
احسن نے جو کہا تھا وہ کرکے بھی دکھایا۔اس کے بعد وہ جب بھی اپنے بابا جان کے ساتھ کسی کے گھر جاتا تو دوسروں کی چیزوں کو بس دور سے ہی دیکھ لیتا تھا۔
پیارے بچو!اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ کسی کی چیزوں کو اٹھانا اور پھر کھلونا بنا کر کھیلنا بری بات ہے۔چیزیں گر کر ٹوٹ سکتی ہیں اور اس طرح دوسروں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔اچھے بچے ایسا کام نہیں کرتے ہیں۔

تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو یہ کہاوت ایسے موقعوں پر استعمال کی جاتی ہے جب ہم کسی سے یہ کہنا چاہیں کہ ابھی جلدی مت کرو، پ...
23/10/2024

تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو

یہ کہاوت ایسے موقعوں پر استعمال کی جاتی ہے جب ہم کسی سے یہ کہنا چاہیں کہ ابھی جلدی مت کرو، پورا نتیجہ یا انجام دیکھ کر لو لیکن یہ کہاوت بنی کیسے، یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔!

یہ کہاوت ایسے موقعوں پر استعمال کی جاتی ہے جب ہم کسی سے یہ کہنا چاہیں کہ ابھی جلدی مت کرو، پورا نتیجہ یا انجام دیکھ کر لو لیکن یہ کہاوت بنی کیسے، یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔!
ایک تھا شہزادہ اس کے چارد دوست تھے ۔ ان سب کا ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔وہ کسی وقت ایک دوسرے سے جدا نہ ہوتے تھے۔ کھانے پینے ،سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے، میں سب ہی ایک دوسرے کے شریک تھے۔
ان دوستوں میں ایک تو سپاہی تھا ایک مولوی، ایک اونٹ اولا اور ایک تیلی تھا۔
ایک دن اچانک بادشاہ کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ شہزادہ تخت نشین ہوا۔ شہزادے نے اپنی دوستی کا حق اس طرح ادا کیا کہ اپنے چاروں دوستوں کو اپنا وزیر بنا لیا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

آس پاس کے ملکوں کے بادشاہوں نے مل کر اس ملک پر حملہ کر دیا ۔

اب تو شہزادے جو اب بادشاہ حضور بن چکے تھے بہت گھبرائے اور اپنے چاروں وزیر دوستوں سے صلاح مشورہ کرنے بیٹھے۔
سپاہی نے کہا”اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے بس ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیجئے فتح انشاء اللہ ہماری ہی ہوگی۔“
مولوی صاحب بولے۔” جناب! مجھے تو اس رائے سے اتفاق نہیں جنگ ہوئی تو ہزاروں لوگ مرجائیں گئے اور ان سب کا خون آپ کی گردن پر ہوگا۔
اس لئے آپ ناحق جھگڑے میں نہ پڑئیے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا نا کہ ملک چھن جائے گا۔چھن جانے دیجئے اللہ اور دیدے گا۔“
اونٹ والے نے ان دونوں کی باتیں سنیں تو کہنے لگا ” حضور! آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ ہر بات کی مہار اللہ میاں کے ہاتھ میں ہے ۔آپ تو یہ دیکھئے اونت کس کل(کروٹ) بیٹھتا ہے۔ “ یعنی معاملہ کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے۔
اب تیلی کی باری آئی۔
اونٹ والے دوست کی بات سن کر وہ کہنے لگا” جہاں پناہ! میرے خیال میں ہمارے اس دوست ساربان(اونٹ والا) کی بات لاکھ روپے کی ہے۔ کسی کام میں جلدی نہیں کرنی چاہیے ۔ ابھی تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔“
معلوم نہیں بادشاہ نے کسی کی بات مانی یا نہیں مانی اور ہمیں تمہیں اس سے غرض بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں تو بس یہ یاد رکھنا ہے کہ سارا بان اور تیلی نے ہمارے کہاوتوں والے قیمتی اور بیش بہا خزانے میں دو اور کہاوتوں کا اضافہ کر دیا ہے یعنی!
”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو“
” دیکھیے اونٹ کس کل بیٹھتا ہے۔
ایسی سینکڑوں کہاوتیں ہیں اور ہر کہاوت کا رشتہ ایک دل چسپ کہانی سے جڑتا ہے۔ یہ کہانی تاریخ کا کوئی واقع بھی ہو سکتی ہے یا گزرئے ہوئے زمانے کی داستان یا محض خیالی بات یا اس لئے کہ کبھی کبھی کہاوتیں اس طرح بنتی ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور لاکھ کھوجئے پر بھی آدمی اس بات کا پتہ نہیں لگا پاتا کہ اس کہاوت کے بننے کے پیچھے کیا کہانی پوشیدہ ہے۔

تہذیب کی پہچانچھوٹے سے بچے کی سلیقہ مند گفتگو سن کر میں حیران ہو رہی تھی اور خیالوں میں کھو گئی کہ جسے ہم براؤن گیٹ والا...
21/10/2024

تہذیب کی پہچان
چھوٹے سے بچے کی سلیقہ مند گفتگو سن کر میں حیران ہو رہی تھی اور خیالوں میں کھو گئی کہ جسے ہم براؤن گیٹ والا گھر کہتے ہیں اردو میں کتھئی رنگ کہنا کتنا اچھا لگا۔
”خالہ جان!“ کسی کی میٹھی سی آواز سنائی دی، لیکن میں کچھ نہ بولی اور بدستور صحن کے گملوں میں لگے پودوں کو پانی دینے میں مصروف رہی۔اتنے میں دوبارہ وہی آواز سنائی دی:”خالہ جان! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہُ۔“
میں نے فوراً مڑ کر دیکھا۔ایک سات آٹھ سالہ پیارا سا بچہ سفید کپڑے پہنے دروازے پر کھڑا تھا۔
”خالہ جان! سنیے کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔جی میں معذرت چاہتا ہوں، بڑے دروازے کا پٹ کھلا ہوا تھا تو میں اندر داخل ہو گیا۔ہم آپ کے پڑوس میں نئے کرائے دار ہیں۔کتھئی رنگ کے دروازے والا گھر ہمارا ہے۔امی جان نے کہا ہے کہ آپ کسی وقت ہمارے گھر تشریف لے آئیے۔“
چھوٹے سے بچے کی سلیقہ مند گفتگو سن کر میں حیران ہو رہی تھی اور خیالوں میں کھو گئی کہ جسے ہم براؤن گیٹ والا گھر کہتے ہیں اردو میں کتھئی رنگ کہنا کتنا اچھا لگا۔
مجھے کالج کے زمانے میں کہیں پڑھا ہوا شعر یاد آ گیا۔
میرے کانوں میں مصری گھولتا ہے
کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے
ایسے رسیلے الفاظ، جیسے سنیے، تشریف لائیے، زحمت نہ ہو تو، خالہ جان! وغیرہ، کانوں میں کیسی مٹھاس گھولتے ہیں۔مثلاً لفظ خالہ جان۔آج کوئی کسی کو خالہ جان نہیں کہتا، سب آنٹی ہی کہتے ہیں۔
میں خیالوں میں گم تھی کہ اس بچے نے مجھے پھر مخاطب کیا:”خالہ جان! امی جان سے کیا کہوں؟“
میں نے جواب دیا:”جی جی بیٹا! اُن سے کہنا میں شام کو ضرور آؤں گی۔

”جی بہتر، اب میں چلتا ہوں خالہ جان!“
وہ سر جھکا کر سلام کرتا ہوا چلا گیا۔میں شام کو ان کے گھر گئی۔ایک تمیزدار بچی نے دروازہ کھولا اور مسکرا کر کہا:”اندر تشریف لائیے۔“
میں آگے بڑھ گئی۔بچے کی والدہ اور دادی جان نے پُرتپاک خیر مقدم کیا:”ارے آئیے نا آپ کا اپنا ہی گھر ہے، تشریف رکھیے۔دراصل ہمیں یہاں آئے ہوئے دو ہفتے ہی ہوئے ہیں، سوچا شام کی چائے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر پئیں۔
کہیں آپ کو کوئی مصروفیت تو نہیں ہے؟“
میں نے جواب دیا:”نہیں نہیں بالکل نہیں۔آپ نے اتنی اپنائیت سے بلایا، بہت بہت شکریہ۔“
چھوٹے بچے بھی اسی انداز سے گفتگو کر رہے تھے:”آپ ہماری پنسل واپس کر دیجیے ورنہ ہم بابا جان سے آپ کی شکایت کر دیں گے۔“
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
میں واپس آنے لگی تو میں نے بڑی محبت و اپنائیت سے انھیں گھر آنے کی دعوت دی، جسے انھوں نے بڑی خوشی سے قبول کیا۔
کہنے لگیں:”چشم ما روشن دل ماشاد“ ضرور آئیں گے بیٹا! آپ کہیں ہم نہ آئیں ایسے تو بد لحاظ نہیں اور پھر مجھے دعائیہ کلمات سے رخصت کیا:”فی امان اللہ۔“
میں گھر آئی تو اُداس ہو گئی جیسے ہماری تہذیب کا بہت نقصان ہو گیا ہے۔میں سوچ رہی تھی کہ ان کے گھر کوئی آتا نہیں، بیٹھتا نہیں، بلکہ سب تشریف لاتے اور رکھتے ہیں۔وہاں کوئی ڈرائنگ روم، باتھ روم، بیڈ روم نہیں، بلکہ مہمان خانہ یا بیٹھک ہے، باورچی خانہ، غسل خانہ ہے۔
بیڈ شیٹ نہیں، بلکہ پلنگ پوش ہے۔وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلاتے ہوئے کہتے ہیں، یہ سارا ختم کیجیے یا بیٹا! آپ ٹھیک سے کھائیے، جب کہ ہمارے ہاں مائیں بچوں کو کھانا کھلاتے ہوئے کہتی ہیں:”جلدی جلدی فنش (Finish) کرو شاباش گڈ بوائے۔“
مجھے ان کے گھر کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ان کی والدہ نے اپنی بیٹی سے کہا تھا:”علینہ بیٹی! یہ رکابیاں یہاں تپائی پر رکھ دیجیے اور چائے کی پیالی بہن کو پکڑائیے۔

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
اس زباں کو وہی بولے، جسے اردو آئے
ایک اس دور کے لوگ پورے کے پورے انگریزوں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔مجھے ان انگریزی لفظوں سے وحشت ہونے لگی ہے، جو ہم نے فیشن کے نام پر اپنی روزمرہ کی زندگی میں زبردستی شامل کر لئے ہیں۔اردو کتنی خوبصورت، کتنی مہذب زبان ہے۔ہم نے اسے کیوں چھوڑ دیا۔اردو تو ہماری عالی شان تہذیب کی پہچان ہے۔
ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
ہمیں یہ ڈر ہے، مستقبل میں اردو کون بولے گا؟

لالچ کی سزا:یہ روٹی میں بڑی مشکل سے اٹھا کر لائی ہوں، اس لئے میں اکیلی ہی کھاؤں گی۔کسی جنگل میں دو بلیاں رہتی تھیں۔ایک ب...
17/10/2024

لالچ کی سزا:

یہ روٹی میں بڑی مشکل سے اٹھا کر لائی ہوں، اس لئے میں اکیلی ہی کھاؤں گی۔

کسی جنگل میں دو بلیاں رہتی تھیں۔ایک بلی کالی اور دوسری اورنج تھی۔دونوں آپس میں اتفاق سے رہتی تھیں اور مل جل کر شکار کھیلتیں۔کھانے کو جو کچھ مل جاتا مل بانٹ کر کھا لیتیں۔کالی بلی کوئی شکار کرتی تو وہ اورنج بلی کو بلا لیتی اور اورنج بلی کو کوئی شکار ملتا تو وہ بھی اکیلے نہ کھاتی۔دونوں ہنسی خوشی رہتی تھیں۔

ایک دن کالی بلی گاؤں میں چلی گئی۔وہ ایک گھر میں داخل ہوئی اور وہاں سے اسے گھی کی روٹی مل گئی۔اس نے پہلے کبھی گھی والی روٹی نہیں کھائی تھی، اس لئے گھی کی خوشبو اسے بے حد پسند آئی۔گاؤں میں کتے بھی تھے اور وہ کتوں سے بہت ڈرتی تھی، اس لئے وہیں بیٹھ کر کھانے کی بجائے روٹی اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگی۔اس نے سوچا کہ یہ گھی کی روٹی تو بڑی مزیدار ہے، اس لئے یہ میں اکیلے ہی کھاؤں گی۔

کالی بلی جونہی جنگل میں داخل ہوئی اورنج بلی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی۔اسے بھی گھی کی خوشبو پسند آئی تھی۔
اورنج بلی نے پوچھا:”کالی بہن یہ روٹی کہاں سے لائی ہو“؟
کالی بلی بولی:”میں آج گاؤں گئی تھی، وہاں مجھے یہ روٹی ملی ہے۔گاؤں میں کتے بھی تھے میں ان سے بچتی ہوئی مشکل سے یہاں آئی ہوں۔“
اورنج بلی نے کہا:”آؤ مل کر روٹی کھائیں“۔
جس پر کالی بلی بولی:”نہ نہ یہ روٹی میں بڑی مشکل سے اٹھا کر لائی ہوں، اس لئے میں اکیلی ہی کھاؤں گی“۔
اورنج بلی بولی:”کالی بہن کیسی باتیں کر رہی ہو، ہم تو ہمیشہ ہر شے مل بانٹ کر کھاتے ہیں“، لیکن کالی بلی نہ مانی اور دونوں جھگڑنے لگیں۔ان میں اچھی خاصی لڑائی ہونے لگی۔
جنگل میں ایک بندر بھی رہتا تھا، وہ درخت پر بیٹھا بلیوں کی لڑائی دیکھ رہا تھا۔
اس نے سوچا کہ یہ بلیاں پہلے آپس میں اتفاق سے رہتی تھیں مگر آج لالچ کی وجہ سے لڑ رہی ہیں، انہیں سبق سکھانا چاہیے۔وہ اچھل کر درخت سے نیچے اترا اور بولا:”پیاری بہنوں آپس میں لڑتی کیوں ہو، مل جل کر اتفاق سے رہنا اچھا ہوتا ہے۔لاؤ میں تم دونوں میں روٹی بانٹ دوں“۔
بلیاں خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگیں۔بندر نے روٹی لیتے ہوئے کہا:”ٹھہرو میں ترازو لے کر آتا ہوں، اس طرح صحیح انصاف ہو جائے گا، تم میرا انتظار کرنا“۔
بندر نے اتنا کہا اور روٹی لے کر بھاگ گیا۔
بلیاں دیر تک اس کا انتظار کرتی رہیں۔انہیں خبر تک نہ ہوئی کہ بندر درخت پر بیٹھا روٹی چٹ کر گیا ہے۔جب کافی دیر گزر گئی اور بندر واپس نہ آیا تو بلیاں سمجھ گئیں کہ انہیں اپنے لالچ کی سزا مل چکی ہے۔جس پر اورنج بلی بولی:”کالی بہن، دیکھا تم نے لڑائی کا انجام“۔
”ہاں بہن غلطی میری ہی تھی“ کالی بلی نے اعتراف کرتے ہوئے اپنا سر جھکا لیا۔

چمکیلا خطرہ:اس سے صرف وہی کام لو جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اور ہم نے اسے خریدا ہے.میرا اکلوتا بیٹا ثاقب سالانہ امتحان می...
23/09/2024

چمکیلا خطرہ:
اس سے صرف وہی کام لو جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اور ہم نے اسے خریدا ہے.
میرا اکلوتا بیٹا ثاقب سالانہ امتحان میں بہت کم نمبر لے سکا تھا۔مجھے وجہ کا اندازہ ہو گیا تھا۔ہمارے ملک میں ٹچ موبائل فون کی آمد آمد کے دن تھے۔پھر بھی میں نے اسے کافی تاخیر سے خریدا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہماری دفتری اور گھریلو زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے بیٹے کو جدید موبائل دلا دیا۔
انٹرنیٹ کے توسط سے مختلف کھیل، کارٹون، ڈرامے، جانوروں اور جادوئی فلموں کا خزانہ اس میں موجود ہوتا ہے۔بچے ایسی ہی چیزوں کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں۔یہی کچھ ثاقب کے ساتھ ہوا۔آہستہ آہستہ ثاقب کی موبائل فون سے قربت گہری ہونے لگی۔وہ اب اس کا استعمال زیادہ کرنے لگا تھا۔میں اسے تنبیہ کر کے موبائل لے لیتا، لیکن وہ میری شفقت کا فائدہ اُٹھا کر کچھ دیر اور استعمال کرتا۔
”مجھے تم سے اس درجہ کم نمبروں کی اُمید نہ تھی۔“ میں نے رزلٹ کارڈ دیکھ کر ثاقب سے کہا۔
”پاپا! میں نے محنت تو کی تھی۔“ ثاقب کے الفاظ اُس کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
”اگر محنت کی تھی تو اتنے کم نمبر کیوں․․․․؟“وہ خاموش کھڑا رہا۔
”ثاقب میرے ساتھ آؤ۔“ وہ میری جانب دیکھ کر میرے ساتھ چل پڑا۔اپنے کمرے میں پہنچ کر میں نے پیار سے اُسے اپنے سامنے بٹھایا اور کہا:”ثاقب! تم تو ہمیشہ اچھے نمبر حاصل کرتے ہو، مگر اس بار اتنے کم نمبر کی وجہ تمہیں بھی معلوم ہے اور مجھے بھی۔
“وہ خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھا رہا۔
”بیٹے! اگر تم موبائل کا استعمال زیادہ نہ کرتے تو تمہاری توجہ تعلیم کی طرف زیادہ رہتی۔“
میں نے محسوس کیا کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔شرمندگی کے گہرے آثار اُس کے چہرے پر موجود تھے۔
”میں یہ نہیں کہتا کہ تم اس جدید سہولت سے فائدہ نہ اُٹھاؤ۔اس سے صرف وہی کام لو جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اور ہم نے اسے خریدا ہے۔
مثلاً فون کرنا، واٹس ایپ اور یوٹیوب سے معلوماتی پروگرام دیکھنا اور وہ بھی دن میں صرف ایک گھنٹہ۔بیٹا! تم نے کتابوں سے دوستی چھوڑ دی۔تم صرف نصابی کتابیں ہی پڑھتے ہو، دیگر علمی، ادبی اور معلوماتی کتابیں پڑھنے پر تم توجہ ہی نہیں دیتے ہو۔اسکرین پر کچھ پڑھنے کے لئے نظریں ایک جگہ جمانی پڑتی ہیں۔اسکرین سے تابکار لہریں نکلتی ہیں، جس سے بینائی رفتہ رفتہ کم ہونے لگتی ہے۔
اس کے علاوہ ذہن پر بھی زور پڑتا ہے، یہاں تک کہ انسانی رویہ تک تبدیل ہو جاتا ہے۔کاغذ پر چھپی کتابوں سے ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔“
ثاقب نے کہا:”جی پاپا! مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔یہ ایک چمکیلا خطرہ ہے۔میں اب دن میں صرف ایک گھنٹہ ہی موبائل فون استعمال کروں گا۔“
”بیٹے! مجھے خوشی ہے کہ تمہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔“
اگلے دن میں دفتر سے گھر آیا تو میرے ہاتھ میں چند کتابیں بھی تھیں۔وہ میں نے ثاقب کو پڑھنے کے لئے دیں۔اُس نے خوشی کا اظہار کیا۔میں نے اُس سے کہا:”جب تم انھیں پڑھ لو گے تو تمہیں دوسری کتابیں لا دوں گا۔“ اس کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ کر مجھے اطمینان ہو گیا۔

Keep Trying
28/12/2023

Keep Trying

𝐀𝐜𝐤𝐧𝐨𝐰𝐥𝐞𝐝𝐠𝐞 𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐅𝐞𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠𝐬Admitting that you're feeling anxious or angry is an important step in addressing and managing ...
28/12/2023

𝐀𝐜𝐤𝐧𝐨𝐰𝐥𝐞𝐝𝐠𝐞 𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐅𝐞𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠𝐬
Admitting that you're feeling anxious or angry is an important step in addressing and managing those emotions. By acknowledging your feelings, you can begin to work through them and find a sense of calm.

𝐄𝐚𝐭 𝐚 𝐛𝐚𝐥𝐚𝐧𝐜𝐞𝐝 𝐝𝐢𝐞𝐭Consume a variety of foods, including fruits, vegetables, legumes, nuts, seeds, and whole grains. Aim...
28/12/2023

𝐄𝐚𝐭 𝐚 𝐛𝐚𝐥𝐚𝐧𝐜𝐞𝐝 𝐝𝐢𝐞𝐭
Consume a variety of foods, including fruits, vegetables, legumes, nuts, seeds, and whole grains. Aim to eat at least 5 servings (400 grams) of fruits and vegetables every day

What you want in 2024....?Muhammad Tahir Dilbar
27/12/2023

What you want in 2024....?
Muhammad Tahir Dilbar

In life, when you lose something, remember: what's gone will be replaced by something better. Losses create space for ne...
27/12/2023

In life, when you lose something, remember: what's gone will be replaced by something better. Losses create space for new beginnings, unseen treasures, and un experienced joys. Embrace the belief that the universe conspires to fill every void with something more magnificent. Let go, for in life's grand design, each loss is a step towards a more beautiful journey.

Address

Bahawalpur

Telephone

+923083568735

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistani Memers Community's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share