17/01/2026
چین ہوا میں بجلی بنا رہا ہے، ہم آئی پی پیز کو ہوا میں ڈالر دے رہے ہیں!
چین 6 ہزار فٹ اوپر جا کر ہوا سے بجلی نچوڑ رہا ہے،
اور ادھر ہمارا کمال یہ ہے کہ
بجلی بنے یا نہ بنے،
IPP صاحب کو ڈالر پورے ملنے چاہئیں!
چین میں ٹربائن گھومتی ہے تو کرنٹ بنتا ہے،
ہمارے ہاں صرف معاہدہ گھومتا ہے
اور کرنٹ عوام کو لگتا ہے!
IPP کا سادہ سا فارمولا ہے:
بجلی نہ بناؤ
پلانٹ بند رکھو
پھر بھی Capacity Payment لو
وہ بھی ڈالر میں
وہ بھی قوم کی گردن پر!
عوام اندھیرے میں،
کارخانے بند،
بچے گرمی میں بلک رہے ہیں،
لیکن IPP صاحب آرام سے کہہ رہے ہیں:
“بجلی چاہیے؟ نہیں؟
کوئی بات نہیں، پیسے تو پورے دو”
چین کے انجینئر:
“ہوا ضائع نہ ہو”
ہمارے حکمران:
“قوم ضائع ہو جائے،
مگر معاہدہ نہیں ٹوٹنا چاہیے”
وہ لوگ مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں،
ہم ماضی کی غلطیوں کو پال رہے ہیں
اور ہر سال اربوں ڈالر نچھاور کر رہے ہیں —
وہ بھی ان پلانٹس پر جو اکثر چائے پینے کے موڈ میں ہوتے ھیں
لوڈشیڈنگ ہو یا نہ ہو،
IPP کا میٹر کبھی بند نہیں ہوتا!
واہ رے ریاستِ معاہدہ
نتیجہ صاف ہے:
چین: ہوا سے بجلی
پاکستان: عوام سے تاوان
IPP: بغیر کام کے تنخواہ
ُڑ_گیا_ہم_جل_گئے