Raja G Tusi Grate O

Raja G Tusi Grate O Asslam Alikum. Friends: Like our page for a good post. thanks

*ہر `الوداع` میں دونوں نہیں روتے**روتا وہی ہے جو `رکنا` چاہتا ہے۔۔۔۔۔❤️‍🩹🤌🏻🥀*> ⃝❥Raja Awais Islam ✍🏻💔🥀  »___Raja G Tusi ...
06/09/2025

*ہر `الوداع` میں دونوں نہیں روتے*

*روتا وہی ہے جو `رکنا` چاہتا ہے۔۔۔۔۔❤️‍🩹🤌🏻🥀*

> ⃝❥Raja Awais Islam ✍🏻💔🥀 »___
Raja G Tusi Grate O

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت ...
06/09/2025

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت نے دوسری شادی کی تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے نئے شوہر کے گھر منتقل ہو گئی۔ نیا شوہر بہت امیر تھا، اس لیے اس نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ اس کا بیٹا بھی ان کے ساتھ رہے۔ شروع میں وہ اس بچے کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور اسے اپنا ہی سمجھتا تھا۔

لیکن ایک سال بعد، جب ان کا اپنا بیٹا پیدا ہوا، تو شوہر کی محبت اور توجہ بدلنے لگی۔ اب وہ اپنے سوتیلے بیٹے سے کترانے لگا اور اس کے ساتھ پہلے جیسا سلوک نہیں کرتا تھا۔ اس کا سارا دھیان اب اپنے حقیقی بیٹے پر تھا۔ ایک دن جب وہ کام سے واپس آیا، تو اپنے بیٹے کے لیے ایک نئی سائیکل لے کر آیا۔ ماں کا دل کٹ گیا جب اس نے اپنے یتیم بیٹے کو اپنے چھوٹے بھائی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے پایا۔

ماں نے شوہر سے درخواست کی کہ وہ اپنے سوتیلے بیٹے کے لیے بھی ایک سائیکل خرید دے، لیکن شوہر نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس بچے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر ماں نے دوبارہ اس بارے میں بات کی، تو وہ بچے کو گھر سے نکال دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کے تحفظ کے لیے یہ بات مان لی۔

وقت گزرتا گیا اور دونوں بچے بڑے ہوگئے۔ شوہر نے اپنے حقیقی بیٹے کو ایک بہترین پرائیویٹ اسکول میں داخل کروا دیا، لیکن سوتیلے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، اس لیے اس پر اپنا پیسہ کیوں خرچ کرے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا نہ تو اس کا نام لے گا اور نہ ہی اسے کوئی فائدہ پہنچائے گا۔

ماں نے غصے سے جواب دیا: "ہاں، وہ شاید تمہارا خون اور گوشت نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے تعلیم سے محروم رکھو اور اسے جہالت کے اندھیرے میں چھوڑ دو۔ کیا تمہارے دل میں ذرا سی بھی رحمت اور شفقت نہیں؟" شوہر نے کہا: "بس بہت ہو چکا، میں اب اس کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اسے اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتا۔"

لڑکا اپنی ماں کے پاس آیا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: "ماں، پریشان نہ ہو، کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لیے آپ کو رونا پڑے۔ میں تھک چکا ہوں آپ کو روزانہ میری خاطر اس شخص کی توہین برداشت کرتے دیکھ کر۔ آپ کی خوشی کے لیے میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔" وہ لڑکا اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا، اپنے کپڑے اٹھائے اور گھر سے نکل گیا۔ ماں کا دل جیسے آگ میں جلنے لگا۔ اس کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے کہ اس کا بیٹا کہاں جائے گا؟ کہاں رہے گا؟ کہاں کھائے گا؟ اور اگر وہ بیمار پڑ گیا تو کون اس کی دیکھ بھال کرے گا؟

ماں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی: "اے اللہ! میں اپنے یتیم بیٹے کو تیرے سپرد کرتی ہوں، اس کی حفاظت فرما اور اسے محفوظ و سلامت واپس لے آ۔"

جب شوہر واپس آیا، تو اس نے دیکھا کہ بیوی خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ بیٹا گھر سے چلا گیا ہے اور پھر بھی بیوی خوش کیوں ہے؟ اس نے پوچھا: "تم خوش کیوں ہو اور اپنے بیٹے کے جانے پر اداس کیوں نہیں ہو؟" بیوی نے مسکرا کر کہا: "میں نے اپنے بیٹے کی حفاظت اس کے سپرد کر دی ہے جو اسے دیکھ بھال اور حفاظت کے قابل ہے، وہ جو کبھی تھکتا نہیں اور کبھی نا امید نہیں ہوتا، اور وہ بغیر کسی اجر کے سب کچھ کر سکتا ہے۔" شوہر نے حیرت سے پوچھا: "وہ کون ہے؟" بیوی نے کہا: "اللہ عز و جل۔"

شوہر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: "دنیا باہر رحم نہیں کرتی، اور کوئی بھی بھوکے پر ترس نہیں کھاتا، لگتا ہے تم نے اپنا دماغ کھو دیا ہے۔" وقت گزرتا گیا اور سالوں بعد، ماں کا بیٹا ایک دن واپس آیا، اپنے ہاتھ میں ایک بچہ اور ساتھ ایک عورت کے ساتھ۔

اس نے اپنی ماں کو سلام کیا۔ ماں حیرت اور خوشی سے پوچھتی ہے: "یہ عورت کون ہے اور یہ بچہ کس کا ہے؟" بیٹے نے جواب دیا: "یہ میری بیوی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے، اے ماں!" ماں نے پوچھا: "تم نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا، جب تمہارے پاس نہ پیسے تھے اور نہ ہی کوئی پناہ؟"

بیٹے نے کہا: "سچ بتاؤں تو میں خود نہیں جانتا کہ زندگی نے مجھے کہاں پہنچا دیا۔ میں بے یار و مددگار تھا اور نہیں جانتا تھا کہ کہاں جاؤں۔ پھر میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی مسجد میں پہنچا اور وہاں رات گزاری۔ دن میں کام کی تلاش کرتا اور رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ امام مسجد کو اپنی کہانی سنائی اور ان سے مسجد میں سونے کی اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دے دی اور ہر روز مجھے کھانا دیتے تھے۔ میں شام کو مسجد صاف کرتا تھا اور امام نے مجھے قرآن حفظ کروایا اور دین کی تعلیم دی۔ میں روزانہ مسجد کی لائبریری میں پڑھتا رہتا تھا۔ ایک دن امام بیمار پڑ گئے، تو میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسی دن سے میں لوگوں کا امام بن گیا۔ لوگ مجھے پسند کرنے لگے اور مجھ سے محبت کرنے لگے۔ انہوں نے میرے لیے ایک یتیم لڑکی سے شادی کا انتظام کیا، جس کے پاس صرف اس کی دادی تھی۔ میں نے شادی کی اور کچھ ہی عرصے بعد اس کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کو اس کی دادی کی وراثت سے زمین کا ایک ٹکڑا ملا، جسے میں نے کاشت کیا اور حالات بہتر ہو گئے، الحمدللہ۔ اب اللہ کے فضل سے میرے پاس بہت سی زرعی زمینیں ہیں، اور اللہ نے مجھے اپنے فضل سے نوازا ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، اور اللہ نے آپ کی وجہ سے میری مدد کی۔"

ماں خوشی سے رو پڑی اور جان گئی کہ اللہ نے اس کی دعائیں قبول کیں۔ اس نے اپنے پوتے کو گلے لگایا اور بیٹے نے ماں کے ہاتھ چومے۔ لیکن شوہر کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک دن وہ لڑکا ایک کامیاب اور امیر شخص بن کر واپس آئے گا۔ سبحان اللہ، اللہ ہی رازق ہے اور جسے چاہے بے حساب نوازتا ہے۔ اس یتیم بچے کو اس کی ماں کی دعاؤں اور رضامندی کی بدولت نوازا گیا۔

*اور آخر میں، حضرت نبی کریم ﷺ پر اور ان کی آل و اصحاب اور
تابعین پر قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنا نہ بھولیں۔❤️

RJ Awais Islam Raja G Tusi Grate O Hifsa Rehman

AstaghfirAllah
04/09/2025

AstaghfirAllah

جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ڈیم🏞 سیلاب کو کنٹرول نہیں کرسکتے وہ صرف کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کے ڈیم موجودہ...
04/09/2025

جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ڈیم🏞 سیلاب کو کنٹرول نہیں کرسکتے وہ صرف کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کے ڈیم موجودہ سیلاب کو کنٹرول نہیں کرسکے اس لیے پنجاب میں سیلاب آیا۔

میرا موقف ہے کہ اگر انڈیا میں دریاوں پر اضافی ڈیم ہوتے تو موجودہ سیلاب کو کنٹرول کرکے اس کا زور توڑا جاسکتا تھا۔

اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔

دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر سالانہ اوسطاً 70 ملیئن ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جس میں سے 50 ملیئن ایکڑ فٹ سے زیادہ صرف مون سون کے موسم میں آتا ہے۔ جس میں سے 20 ملیئن ایکڑ فٹ سمندر میں چلا جاتا ہے( سالانہ اوسط کی بات ہورہی ہے)۔

جب تربیلا ڈیم کی سٹوریج کیپیسٹی ہی صرف 6.5 ملیئن ایکڑ فٹ ہے تو پھر تو 43.5 ملیئن ایکڑ فٹ سمندر میں جانا چاہئے لیکن جاتا صرف 20 ملیئن ایکڑ فٹ ہے۔

تربیلا ڈیم اور سمندر کے درمیان میں یہ 23.5 ملیئن ایکڑ فٹ پانی کہاں غائب ہوجاتا ہے۔

تو جناب یہ اضافی 23.5 ملیئن ایکڑ فٹ پانی تربیلا ڈیم اور دریاوں پر بنے بیراجوں سے پانی کی ریگولیشن کرکے نہروں میں ڈالا جاتا ہے ۔

یوں صرف 6.5 ملیئن ایکڑ فٹ کیپیسٹی والا ڈیم 23.5 ملیئن ایکڑ فٹ پانی کو ریگولیٹ کر لیتا ہے۔

دریائے سندھ پر ایک اور ڈیم بن جائے تو اس کی ریگولیشن اور فلڈ مینیجمنٹ مکمل ہوجائے گی اور دریائے سندھ میں 10 لاکھ کیوسک تک چلنے والے ریلے کی شدت توڑ کر پانچ لاکھ کیوسک سے نیچے لایا جاسکتا ہے۔

دریا میں ایک دن ایک لاکھ کیوسک پانی چلتا رہے تو اس روکنے کے لئے 0.2 ملیئن ایکڑ فٹ سٹوریج چاہئے ہوتی ہے۔

پانچ لاکھ کیوسک کا ریلہ اگر ایک دن جمع ہوتا ہے تو صرف ایک ملیئن ایکڑ فٹ سٹوریج کافی ہو گی اور ریلہ ایک دن لیٹ بھی ہو جائے گا۔

یوں ڈیم کی سٹوریج کیپیسٹی بڑھاتے جائیں اور سیلابی ریلے کو مزید لیٹ کرتے جائیں۔

ریلے کے لیٹ ہونے سے یہ کسی اور ریلے سے مل کر سیلاب کی شدت نہیں بڑھائے گا بلکہ چھوٹے موٹے ریلے دریا کی نارمل حدود کے اندر ہی آگے پیچھے چلتے رہیں گے یوں سیلاب کی شدت ٹوٹ جائے گی۔

یہی کام دریائے جہلم پر منگلا ڈیم کرتا ہے۔ یہی کام دریائے چناب پر مجوزہ چنیوٹ ڈیم کر سکتا ہے۔

پنجاب میں بھی میدانی دریاؤں میں سیلاب کے زور کو بھی توڑا جاسکتا تھا اگر انڈیا میں دریاؤں پر ایک ایک ڈیم اور ہوتا۔

یہ واٹر ریگولیشن اور فلڈ مینیجمنٹ ہوتی کیا ہے؟

جب دریا میں زیادہ پانی ہوتو اسے ڈیم کی سٹوریج میں ذخیرہ کرلیں اور جب دریا میں کم پانی ہو تو ڈیم سے آہستہ آہستہ نکال لیں۔ ہر بڑے پانی کی پانی کی آمد سے پہلے ڈیم کو خالی کرلیں۔

سندھ اور پنجاب میں بیراجوں سے نکلنے والی نہریں اسی واٹر ریگولیشن سے ہی ہر سال 100 ایکڑ فٹ تک پانی دریاوں سے نکال لیتی ہیں یوں تربیلا ڈیم کی 6.5 ملیئن ایکڑ فٹ اور منگلا کی 8 ملیئن ایکڑ فٹ کی کیپیسٹی سے واٹر ریگولیشن 100 ملیئن ایکڑ فٹ ہوجاتی ہے۔

پنجاب اور سندھ کے تمام کھیت ہماری 100 ملیئن ایکڑ فٹ کی سٹوریج کیپیسٹی کی آف لائن سٹوریج ہیں۔

کچھ لوگ اس پوسٹ پر انڈس ڈیلٹا میں پانی کی کمی یا انڈیا کی طرف سے مشرقی دریاوں کی بات کرنا شروع کردیں گےلیکن آپ نے ان کی باتوں سے کنفیوز نہیں ہونا۔ میری اس پوسٹ کا واحد مقصد آپ کو فلڈ ریگولیشن کے بارے میں آگاہ کرنا ہے کہ ڈیم کیسے فلڈ کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

انڈس ڈیلٹا اور مشرقی دریاؤں پر بعد میں بات ہوتی رہے گی کیونکہ اس وقت سیلاب کو لے کر ڈیمز کے خلاف بات ہورہی ہے تو اس پوسٹ کو اسی تناظر میں سمجھیں۔

ویسے دریائے سندھ ڈیم سمندر میں مون سون کے چند دنوں میں جانے والے اوسطاً سالانہ 20 ملیئن ایکڑ فٹ پانی کو بھی ریگولیٹ کرکے ڈیلٹا میں روزانہ کی بنیاد پر 10 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی چلتا رکھ سکتا ہے جوکہ سندھ حکومت کی ڈیلٹا کے لیے پانی کی ڈیمانڈ ہے۔

انجینیئر ظفر اقبال وٹو
03_ستمبر 2025
Copy Past

14/07/2025

Hi

🌱مون سون میں قلموں سے تیار ہونے والے پودے🌱تقریباً تمام پودے جن کے پتے دسمبر، جنوری میں جھڑ جائیں ان کی قلمیں لگ سکتی ہیں...
14/07/2025

🌱مون سون میں قلموں سے تیار ہونے والے پودے🌱
تقریباً تمام پودے جن کے پتے دسمبر، جنوری میں جھڑ جائیں ان کی قلمیں لگ سکتی ہیں۔
قلم کیلئے پکی ٹہنی بہترین ہے جس کی عمر ایک سال ہو اور قلم کا سائز 7 انچ تک ہونا چاہیے، جس پے 3 سے 5 آنکھیں, کونپل(Bud) ہوں, اور کم از کم 2 کونپلیں زمیں میں ہوں ۔
قلم کاری کے لیے قدرے موٹا حصہ زمین میں دبائیں اور قدرے پتلا حصہ زمین سے باہر رکھیں. زمین سے باہر والے حصے کے سر کے اوپر کوئی ایسی چیز لگانی چاہیے جو اسکو جلد خشک نہ ہونے دے. اس مقصد کے لیے مختلف قسم کے جیل مارکیٹ سے مل جاتے ہیں۔ اور اگر کچھ نہ ملے تو بیرونی سرے پر شاپر کو لپیٹ دیں ۔
قلم لگانے 🌱کا موسم مون سون🌧️

آج کا سوال ہے کہ مون سون میں قلموں سے تیار ہونے والے پودے کون کون سے ہیں ⁉️
تو جواب سمپل سا ہے جناب کہ 💁
تقریباً وہ تمام پودے🌳 جن کے پتے دسمبر، جنوری میں جھڑ 🍂 جائیں ان کی قلمیں🪵 لگائی جا سکتی ہیں۔
مون سون🌧️ میں مندرجہ ذیل پودوں🪴 کو کٹنگ سے آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے
مون سون میں مندرجہ ذیل پودوں کی کٹنگ آسانی سے تیار کی جا سکتی ہے۔۔۔

جن درختوں کی ٹہنی زمین میں دبانے سے پودا اُگتا ھے یا ٹہنی پھوٹ کر پودا بنتی ہے، وہ مندرجہ ذی

ہیں،
اور باقی کے درخت جن کا نام اس لسٹ میں نہیں وہ ظاہر ہے بیج سے اُگتے ہیں۔
جلدی کریں بس یہی مہینہ ہے ۔ اور اگلے مہینے میں بہار کی آمد کے ساتھ ہی شجر کاری شروع ہو جائے گی،۔ انشاء اللہ،۔
1.انگور
2.انار
3.گلاب
4.مٹھا (ٹنل میں)
5.سکھ چین
6.موتیا
7.پاپولر
8.پلکن
9.شیشم
10.سوھانجنا(مورنگا)
11.انجیر
12.بوگن ویلیا
13.املوک جاپانی پھل
14.شہتوت
15 امرود
16 پپل
17 برگد
گدائی نیوز #بوٹے #شجرکاری #شجردوست
Raja G Tusi Grate O
RJ Awais Islam

جرمنی سے یہ ⬇️ پیاری دوشیزہ پچھلے چھ ماہ سے میرے ساتھ اٹیچ ہے انسٹاگرام سے وٹس اپ پر  ، پھر لمبی باتیں روزانہ ویڈیو کال ...
14/07/2025

جرمنی سے یہ ⬇️ پیاری دوشیزہ پچھلے چھ ماہ سے میرے ساتھ اٹیچ ہے انسٹاگرام سے وٹس اپ پر ، پھر لمبی باتیں روزانہ ویڈیو کال گندی باتیں 🌚 ، ہر چیز کی شیئرنگ کچھ دن پہلے مُوترمہ بضد ہوگئیں کچھ لنکس ہیں انکو تم نے کھولنا ہے میری خاطر
مُوترمہ روزانہ مجھے بتاتی آج میں اتنے ڈالر کمائے یہ میری گاڑی یہ میرا گھر فلاں فلاں فلاں
ٹھرکی کو کیا لگے پیسے سے 🧀 اسکو تو چاہئے سینڈوچ
جسکی اسکو بُھوک ہے
خیر تین رات پہلے انکا میسج آیا انکو کچھ ضروری کام ہے
فوری سمجھ گیا کونسا کام ہو سکتا ہے ،
یا تو پیسے مانگے گی یا کوئی لنک دے گی
خیر باتوں باتوں میں تھوڑی دیر بعد لنک آگیا
کہ اسکو اپنے موبائل میں کھولو میں جو جو کہوں گی فِل کرتے جانا ، میں لنک کلک کیا سامنے کچھ اور
لیکن کچھ ویب سائٹ چیکنگ کے طریقے ہیں
تو چیک کیا پتہ لگا فُون Hack ہوجائے گا
جس میں ہر چیز کے پاسورڈ ہوتے ہیں
خیر لمبی سٹوری
لنک کو فِل کرنے سے صاف منع کردیا بی بی چار دن تک ہزاروں ڈالر آمدنی کے قصے سناتی رہی جب دیکھا نہیں پھنس رہا تو ساری محبت کہانیاں ویڈیو کالز بُھول کر I Hate u والا میسج کرکے جرمنی کے شہر Berlin سے گُڈ بائے بول کر بلاک کر گئی 💦
جا میرے اوئے خوابوں کو جگا کر اُن پر پانی پھیرنے والیئے
تیرے بیڑہ غرق
سوچا تھا رشین ٹائپ جرمن مِل گئی
پر خیر امید پر دنیا قائم 💐🌾🌷
Copy Past
Raja G Tusi Grate O
Raja Ahsan official
RJ Awais Islam

Address

Baba Nanga Street Sheenbagh
Attock City

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raja G Tusi Grate O posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Raja G Tusi Grate O:

Share