Informative World

Informative World I am Digital & Social media marketer. All costomers contact me at this WhatsApp number 03014532322. [email protected]

  🇵🇰☠️🇺🇸🛬💥🪖🥭🪖💥🔫جنرل ضیاء کو پتہ چل چکا تھا کہ امریکہ نے اسے استعمال کر لیا ہے اب اڑائے گا۔ اس لئے بہت احتیاط کرتا تھا۔ ج...
24/08/2026



🇵🇰☠️🇺🇸🛬💥🪖🥭🪖💥🔫
جنرل ضیاء کو پتہ چل چکا تھا کہ امریکہ نے اسے استعمال کر لیا ہے اب اڑائے گا۔ اس لئے بہت احتیاط کرتا تھا۔ جنرل اختر عبدالرحمٰن سے میٹنگ اپنے گھر کے اندر ایک درخت کے نیچے کرتا تھا۔ ساتھ ہی اختر عبدالرحمٰن کا گھر تھا۔ جنرل صاحب صحن میں آکر سیٹی مارتے اور اختر عبدالرحمن دیوار کے اندر ایک چھوٹے سے دروازے سے ہوتے ہوئے اجاتے۔ دونوں گھنٹے سرگوشیاں کرتے۔ پاکستان کی سرحدیں دریائے عمو (انکل) تک پھیلانے کے منصوبے بناتے۔ روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کو جنرل ضیاء الحق اپنی عظیم سلطنت اسلامیہ میں شامل کرنے کے منصوبے بناتے۔ یہ خیال بھی نہیں کیا کہ بھئی یہ کرائے کا جہاد تھا جو مرد مومن لڑ رہے تھے۔ اس کے پیسے امریکہ اور سعودی عرب دے رہا تھا۔

خیر اس درخت پر ایک طوطا بیٹھتا ان کی سب باتیں سن کر سی آئی اے تک پہنچاتا تھا۔ (وہ طوطا جنرل صاحب کی ناگہانی وفات کے بعد آرمی چیف بن گیا تھا۔) جنرل ضیاء نے جہاز میں بھی بیٹھنا چھوڑ دیا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اس کی سلطنت اسلامیہ امریکہ کو پسند نہیں ائی۔ 17 اگست 1988 کو اس لئے جہاز میں بیتھ گئے کیونکہ امریکی سفیر اور ڈیفنس اٹیچی بھی تھا۔ مرد مومن نے سوچا کہ اب امریکہ اپنے لوگوں کو تو نہیں مارے گا نا۔ اس لئے 6 جرنیلوں اور پانچ پسندیدہ برگیڈیروں کو لے کر بیٹھ گیا۔ امریکہ نے دیکھا کہ یہ موقعہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ ہمارے سب کرائے کے مجاہد ایک جگہ جمع ہوگئے ہیں۔ دو امریکی بھی چلے جائیں تو خیر ہے۔ آموں کو حکم دیا وہ پھٹ گئے۔

ہمارے لوگوں میں مسئلہ یہ ہے کہ ڈالرز لے کر دوسرے کے لئے جنگیں لڑتے ہیں۔ اسے جہاد قرار دے کر مرد مومن بن جاتے ہیں۔ عوام کو بتاتے ہیں ہماری شہادت کی خواہش ہے جو پھر امریکہ کو پوری کرنا پڑتی ہے۔
Jimmy Virk

ضیاء کے باپ کا نام مولوی اکبر ماں کا نام البتول تھا اکبر جالندھر میں آرائیں خاندان کا غریب کسان اور برٹش آرمی کا ملازم تھا جو دوسروں کی زمینوں پر کاشتکاری بھی کرتا تھا ملائیت کی وجہ سے لوگ کچھ امداد بھی کر دیتے تھے اکبر دیوبندی مولانا اشرف علی تھانوی کا جالندھر میں خلیفہ نامزد تھا جو کبھی ڈارھی چھوٹی کروا لیتا تھا کبھی رکھ لیتا تھا جالندھر سے آکر پشاور میں آباد ہوئے ضیاء کے بھائی نے پشاور میں جوتیاں بیچنے کا شروع کیا، ضیاء کی پیدائش 1924 تعلیم میٹرک تھی دوسری جنگ عظیم میں انگریز سرکار نے عام فوجی بھرتی شروع کی تو ضیاء کا ٹیڑھا پن اور جنرل موسی کا اونچا سننا نظرانداز کر کے فوج میں بھرتی کر لئے گئے فوج میں جنرل گریسی کے اردلی کی ڈیوٹی انجام دیتا رہا 1945 میں کمیشن ملا 1970 تک ترقی کرتے ہوئے برگیڈیر کے درجے پر پہنچ گیا تھا بحثیت برگیڈیر اردن میں تعینات تھا اس وقت فلسطین لبریشن آرمی اور اردن کے درمیان جنگ الاسود ہورہی تھی اردن کیطرف سے کمان ضیاء کے ہاتھ میں تھی 20 ہزار فلسطینی بچوں بوڑھوں عورتوں کو قتل عام کیا فلسطینیوں کا پانی بند کر دیا تھا۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے بیان دیا تھا ہم نے 20 سال میں اتنے فلسطینی نہیں مارے جتنے ضیاء نے 11 دنوں میں مار دئیے اس دن کو فلسطین یوم سوگ کے نام سے بلیک ڈے بلیک ستمبر بولتے ہیں۔

بھٹو کے خلاف 1973ء میں اٹک سازش کیس پر قابو پا کر بھٹو سے وفاداری کا ثبوت دیا بھٹو کے سامنے ہمیشہ سر جھکائے رہتا تھا۔ 1976 میں ضیاء نے بھٹو کو تلوار پیش کی تھی۔ بھٹو کے بوٹ پکڑ کر پالش بھی کئے تھے جس کا چشم دید گواہ اسلم بیگ ہے خوشامدی پسندی بھٹو پر غالب آ گئی بھٹو نے 7 سینئر افسران کو چھوڑ کر یکم مارچ 1976 کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے کچھ دنوں بعد 14 جولائی 1977 کو ضیاء نے ٹی وی پر بھٹو کو عظیم سیاستدان بہادر لڑاکا جرنیل بول کر تعریفوں کے انبار لگا دئیے تھے۔

ضیاء نے غیر مسلموں کے لئے تبلیغ کرنے پر پابندی لگا دی خود نواز شریف کے باپ میاں شریف کے ساتھ ملکر دنیا کا پہلا سب سے بڑا تبلیغی مرکز رائیوند قائم کروایا جس نے فرقہ واریت کو عروج پر پہنچا دیا اور کہا جو میرے لائے ہوئے اسلام پر یقین نہیں رکھتا ملک چھوڑ جائے بھٹو دور میں کی گئی تمام زرعی اصلاحات کو ختم کو دیا زمینوں کو واپس کر کے تمام اعزازات نواب سردار وغیرہ بحال کر دیئے تمام تعلیمی اداروں قومیائی ملیں کارخانے نا صرف واپس کئے بلکہ سرمایہ داروں کو نقصان سے کئی گنا زیادہ ادائیگی بھی کی گئی اتفاق فونڈری کے میاں شریف کی بھی لاٹری نکلی فیکٹریوں کے مالکان نے جو مانگا وہ ملا اتفاق فونڈری نے سکریپ پر ٹیکس معاف کروا کر اربوں روپے بنائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی خانہ کعبہ کی چار دیواری مسجد نبوی کے اندر کھڑے ہو کر کئی دفعہ الیکشن کروانے کے وعدے کئے مکر ہر دفعہ مکر گیا شرعی عدالتیں شروع کی جن کا سارا نزلہ پیپلزپارٹی پر گرتا تھا۔ 50 ہزار جیالوں کو کوڑے مروائے صحافیوں وکیلوں ڈاکٹروں کو کوڑے مارے گئے ہزاروں لوگوں کو اندر کیا گیا پیپلزپارٹی کے احتجاج پر آئے دن گولی چلائی جاتی میرے ساتھ احتجاج کرنے والے ایک لڑکے کو گولی لگی۔ راجہ محمد بوٹا نامی غریب آدمی کو کبھی کسی وقت بھٹو نے سائیکل دی تھی اس نے کسی صحافی کو بول دیا اخبار میں آ گیا ضیاء نے اس غریب سے سائیکل چھین کر اس کو گرفتار کروا دیا تھا جیالوں کی بیویوں ماوں بیٹیوں کو ذلیل کر کے تھانے لے جاتے تھے قیوم نظامی جیالے کی بیوی کو گھسیٹ کر تھانے لے گئے جبکہ اس کی گود میں 2 ماہ کا بچہ تھا۔

زکواۃ کا نظام علماء کے مشورے کے بغیر جبری نافد کیا تلنگوں بدمعاشوں کو زکواۃ کمیٹیوں کا چئرمين بنا دیا گیا لاہور کا مشہور غنڈہ چوہدری اسلم عرف اچھا شوگر والا بھی زکواۃ کمیٹی کا چئرمين تھا۔ توہین رسالت کا قانون بنایا جس کی وجہ سے کوڑا کڑکٹ گند اٹھانے والے غریب جمعداروں پر بھی کیس بننا شروع ہو گئے جو تاحال جاری ہیں 1984 کو ریفرنڈم کروایا جس میں یہ سوال رکھا کیا آپ اسلام چاہتے ہیں اگر تو ہاں پر مہر لگائی تو ضیاء کو ووٹ تصور کیا جائے گا ریفرنڈم میں صرف 8 فی صد لوگوں نے ووٹ کاسٹ کئے۔ بدنام زمانہ 58۔2A پھر 58۔2B نافد کی جس کو زرداری حکومت نے ختم کروایا۔

7 جون 1982 کو پوپ جان پال نے کراچی میں ضیاء سے ملاقات کر کے امریکہ آنے کی دعوت دی ویٹی لائبریری میں ریگن اور ضیاء کی ملاقات کا بندوبست کیا گیا وہاں ضیاء کو فری میسن کا حصّہ بنایا گیا روس کے خلاف ساتھ دینے پر مالی امداد تا حیات اقتدار میں رہنے کی گارنٹی دی گئی جو کہ سچ ثابت ہوئی۔

1985 کو غیر جماعتی الیکشن کروائے اور کہا جماعتی الیکشن غیر شرعی ہیں اگلے 5 الیکشن بھی ایسے ہی کرواونگا اسی سال 1985 میں آپنے اختیارات بڑھانے کے لئے 56 ترمیمیں کی آپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلی توڑ کر آپنے نامزد کئے ہوئے وزیراعظم جونیجو کو ہٹا دیا. دیوبندیوں وہابیوں کو استعمال کرتا مگر جب لاہور آتا آدھی رات کو داتا صاحب پر بھی حاضری دینے جاتا
آپنے آپ کو خلیفہ المسلمین سمجھتا تھا کچھ ملا اس کو خلیفہ المسلمین بول کر مخاطب ہوتے تھے۔ جماعت اسلامی کا امیر میاں طفیل جو در پردہ مشورے دیتا تھا ضیاء کا رشتے دار تھا اور مولوی مشتاق تینوں جالندھری تھے. بازار سے ہر وہ کتاب اٹھا دی جس میں بھٹو کا نام تھا اور جو بھٹو کی سنگ بنیاد رکھنے کی تختیاں لگی ہوئی تھی وہ بھی ہتھوڑا چھینی سے کھرچ دی گئی۔ پاکستانی عوام کو روس سے ڈراتا تھا کہ روس گرم پانیوں پر قبضہ کر لے گا روس کو گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے 1500 میل کا دشوار گزار راستہ عبور کرتا جو ممکن نہیں تھا۔ افغان جہاد کے لئے سعودی عرب نے 10 بلین اور امریکہ نے 7 بلین دیئے صرف 2 بلین جہادیوں کو بانٹے باقی سب مل کر کھا گئے۔

ضیاء کے دور میں ریکارڈ گروپ بنے جن کا اثر تاحال جاری ہے ہتھوڑا گروپ اغوا برائے تاوان گروپ مراقبہ گروپ مصنوعی گروپ رسالت گروپ دبئی مدرسہ گروپ ناموس رسالت گروپ سانپ گروپ مومنین گروپ بہشتی گروپ بنک لوٹو گروپ حقیقی گروپ جنت کا طوطا گروپ وغیرہ۔ بھٹو دشمنی میں قادیانیوں کو بھی استمال کرتا رہا مسٹر زید بیگ لاہوری احمدی تھا 1974 کو قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دینے پر بھٹو کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا وعدہ معاف گواہ معسود محمود قادیانی اسکا سانڈو تھا مسٹر زید فاروقی الیکشن کمیشن کا سیکرٹری زید اے سلہری قادیانی تھے یہ سب کردار ضیاء کے چہیتے قادیانی تھے جو بھٹو کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے لگے ہوئے سرکاری نوکریوں کے لئے دعائے قنوت سنانے کی شرط رکھی تھی اعلی ڈگریوں والے جب انٹرویو میں پاس ہو جاتے تھے آخر میں مطالبہ کیا جاتا تھا دعائیں قنود سناو انٹرویو دینے والے پریشان ہو جاتے اور فیل کر دئیے جاتے جب کوئی قادیانی انٹرویو کے لئے جاتا دعائیں قنوت فرفر سنا کر نوکری حاصل کر لیتا ہر ادارے میں قادیانیوں نے یلغار کر دی شور مچا تو پھر دعائیں قنوت کی پابندی کو ختم کیا گیا. ضیاء پر قادیانی ہونے کا الزام بھی لگتا رہا بہت اعلی عہدوں پر قادیانی تعینات کرنے شروع کر دئیے ملا ضیاء کو قادیانی ہونے کے فتوے لگا رہا تھا قادیانی جماعت بھی مکمل ضیاء کی حمایئت کر رہی تھی گوجرانوالہ ایک مولوی نے مجمع کے سامنے پوچھا تم قادیانی ہو ضیاء نے غصہ میں کہا میں قادیانی مذہب پر لعنت بھیجتا ہوں اس واقعے کے بعد قادیانیوں کے خلاف قوانین بنانے شروع کر دئیے کیونکہ ضیاء نے قادیانیوں سے جو کام لینا تھا لے چکا تھا زبانی معافی دے کر کوڑے مروا دیتا تھا ایک غریب بزرگ صدارتی دفتر میں معمولی ملازم تھا اس کے جیالے بیٹے کو کوڑوں کی سزا ہو گئ اس غریب نے ضیاء کے سامنے ہاتھ جوڑ کر آپنے بیٹے کے لئے معافی طلب کی ضیاء نے وعدہ کیا تمہارے بیٹے کو کوڑے نہیں ماریں جائیں گے غریب آدمی خوشی سے جب گھر گیا پیچھے ضیاء نے فون کر کے خکم دیا اس لڑکے کو نکال کر ابھی کوڑے مارو جب بزرگ نے اپنے گھر ٹی وی پر اپنے بیٹے کو کوڑے لگے دیکھے تو پیٹنا شروع ہو گیا کوڑے مارنے کا عمل شروع میں جیل میں ٹکٹکی لگا کر مارے جاتے پھر کوڑے سرعام گراونڈ میں مارنے شروع کر دئیے اور جیالوں کے منہ کے آگے مائک لگا دیا جاتا تاکہ چیحیں سارا مجمع سنے مگر جب جیالوں کو کوڑے لگتے وہ جئے بھٹو کا نعرہ مستانہ لگاتے کئی جیالے کوڑے لگنے سے بیہوش بھی ہو جاتے جیل میں بھٹو کی ساتھ والی بیرک میں پاگلوں کو لا کر رکھ دیا جو سارا دن رات شور مچاتے تھے چیحیں مارتے تھے بھٹو کو سونے نہیں دیتے تھے بھٹو نے عدالت میں بھی شکائیت کی تھی۔

ضیاء کے دور میں مدرسے گھاس کی طرح بنائے گئے بھٹو دور تک مدرسوں کی تعداد 900 تھی 1980 کو 10000 ہوگئی جب ضیاء جہنم رسید ہوا پاکستان میں مدرسوں کی تعداد 25000 تھی جب پاکستان بنا صرف 6 مذہبی سیاسی جماعتیں رجسٹرد تھی جمعیت علمائے پاکستان جماعت اسلامی خاکسار تحریک جمعیت اہلحدیث شعیہ پولیٹیکل پارٹیز تھی بھٹو کے اقتدار تک 32 سال میں 30 رجسٹرد مذہبی سیاسی پاڑٹیاں تھی ضیاء کے 11 سالہ دور 249 مذہبی سیاسی پارٹیوں کو رجسٹر کیا گیا سپاہ صحابہ جس کا آجکل نام اہلسنت والجماعت ہے جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھی رجسٹرد کر کے کھلے عام شعیہ سنی فسادات کروانے کی اجازت دے دی گئی۔

گجرات کے مشہور رسہ گیر سابق ٹریفک کانسٹیبل ٹریفک پولیس چوہدری ظہورالٰہی کو بھٹو کے خلاف پہلے استعمال کیا پھر لاہور میں قتل کروا دیا ظہورالٰہی کے خلاف ایوب دور میں بدعنوانی کا مقدمہ بنا تھا بھٹو کے پاؤں کو پکڑ کر منتیں کی مجھے بچا لو بھٹو نے کہا اگر کچھ نہیں کیا تو رو کیوں رہے ہو بھٹو نے صاف انکار کر دیا تھا جس وجہ سے وہ ہمیشہ بھٹو کے خلاف رہا ضیاء نے جس پین سے بھٹو کی کی پھانسی کے بلیک وارنٹ پر دستخط کئے تھے چوہدری ظہور الٰہی وہ پین ضیاء سے مانگ کر لے گیا جو آج بھی رسہ گیر خاندان کے پاس موجود ہے۔

مسٹر افضل سعید کی بیوی جو رشتے میں مولانا مودودی کی بھانجی لگتی تھی اس کو بھی بھٹو کے خلاف استعمال کیا تھا۔ سابق آئی جی پنجاب راو عبدالرشید کو کہا بھٹو کے خلاف ہو جاو وہ نہیں مانا اس پر اور اس کی بیوی پر بدترین تشدد کرکے اندر کر دیا۔ ضیاء کی رشتے میں ایک سالی انڈین انڈین فلموں کی ایکٹر مہہ پارہ تھی جس کی سفارش سے پاکستان کے سینماؤں میں پہلی دفعہ انڈین لگائی گئی. انڈیا کے دباؤ پر سلالہ ڈیم پر کام بند کروا دیا انڈیا نے راجستھان نہر شروع کر دی جس کو بھٹو نے رکوایا ہوا تھا شاہراہ قراقرم پر بھی کام بند کروا دیا۔ جب اندراگاندھی نے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دی تو بن بلائے کڑکٹ میچ دیکھنے بھارت چلا گیا جس کو کڑکٹ ڈپلومیسی کہا گیا۔

جس رات بھٹو کو پھانسی دی سارے پاکستان سے چن چن کر پیپلزپارٹی کے جیالوں کو پکڑ کر تھانوں میں بند کر دیا گیا صرف پنجاب میں 40 ہزار جیالے تھانوں میں بند کئے گئے جام ساقی اسلم لدھیانوی جیسوں نے ضیاء کا سارا دور جیل میں گزارہ اسلم لدھیانوی کی ماں صدمے سے مر گئی 2 بہنیں پاگل ہو گئی بینطیر شہید نے پلاٹ دینے کی کوشش کی مگر اسلم لدھیانوی نے نہیں لیا جب بی بی شہید کے حکم سے رہائی ملی تو وہ تشدد سے پاگل ہو چکا تھا چند دن ہی زندہ رہا۔

ضیاء نے حاکم علی زرداری پر بیٹے کی منگنی ختم کرنے کا دباؤ ڈالا اور دھمکیاں بھی دی وزیر اور مجلس شوری کا رکن بننے کی آفر بھی کروائی جب وہ نہیں مانا تو اس کی آبائی زمینوں کا پانی بند کروا دیا 1800 ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی حاکم علی زرداری پر 7 سال کیلئے سیاست میں حصہ لینے کی پابندی لگا دی گئی تمام تعمیراتی کاروباری منصوبے بحکم سرکار بند کر دیئے گئے بنکوں کو لین دین سے روک دیا جس کی وجہ سے حاکم علی زرداری کو بہت زیادہ مالی نقصان ہوا۔ بھٹو جیل میں تھا جہانگیر بدر نے حکومت سے ساز باز کر کے گروپ بندی شروع کر دی پیرزادہ نئی شادی کروانے چل پڑا بھٹو کی شہادت کے بعد جتوئی فوج سے مل گیا کھر کے ساتھ ملکر پاکستان نیشنل پارٹی کے نام سے علیحدہ پاڑٹی بنا لی حنیف رامے نے پاکستان مساوات پارٹی بنا لی کوثر نیازی نے پاکستان پروگریسیو پاڑٹی بنا کر آپنی راہیں علیحدہ کر لی پنجاب میں صرف لیفٹ ونگ کے جیالے بابائے سوشلزم شیح رشید خالد محمود بلوچ کی قیادت میں بی بی کے ساتھ مخلص اور ضیاء فرعون کے خلاف سرگرم عمل رہے جس میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔

بھٹو جیل کے چھوٹے پھاٹک سے نہیں گزرتا تھا بلکہ مکمل بڑا گیٹ کھلواتا تھا تاکہ جھکنا نا پڑے۔ ضیاء مردود نے جب بھٹو کو پھانسی پر لگایا سب سے پہلا احتجاج آزاد کشمیر میں ہوا جہاں فوج نے گولی چلا کر 8 بندے مار دئیے
بھٹو کی پھانسی پر 8 لوگوں نے آپنے آپ کو آگ لگائی آگ لگانے والوں میں ملک عزیز عبدالوحید قریشی یعقوب کھوکھر عبدالرشید عاجز منور حسن اور راشد ناگی شامل تھے۔ جن جیالوں کو پیپلزپارٹی کی حمایئت کرنے پر پھانسیاں دی ادریس طوطی رزاق جھرنا عثمان غنی ادریس بیگ ناصر بلوچ ایاز سموں حمید بلوچ نذیر عباسی عنائیت مسیح ابراہیم کلور لالہ اسد موسی گل میاں آعظم قیصر ہسیانی شہید شامل ہیں رزاق جھرنا کو شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں مسلسل تشدد کے بعد جب اطلاع دی گئی تم کو کل پھانسی دے دی جائے گی اس نے دھمال ڈالنا شروع کر دیا اور جئے بھٹو کے نعرے لگانے شروع ہو گیا، یکم اگست سے 10 اگست 1984 تک صرف 9 دنوں میں پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کے 21 سالہ ادریس بیگ 19 سالہ عثمان غنی 21 سالہ ادریس طوطی کو چند دن کے ٹرائل کے بعد پھانسی پر لٹکا دیا گیا لوگوں نے بہت کہا بچے ہیں معاف کر دو مگر ضیاء نہیں مانا ناصر بلوچ کو ضیاء کے خصوصی حکم پر بغیر ٹرائل کے پھانسی دے دی گئی نذیر عباسی کو جیل میں تشدد کرکے کے شہید کر دیا گیا عثمان غنی نے پھانسی سے پہلے سگریٹ کے خالی پیکٹوں سے ایک تاج بنایا تھا اور وصیت کی تھی جب محترمہ بینظیر میرے گھر آئے اس کو یہ تاج پہنانا لاہور دھرمپورہ میں جب بی بی اس کے گھر گئی وہ تاج پہنایا گیا عثمان غنی کو شاہی قلعہ میں ہی پھانسی دے دی گئی اس کی بہن پیپلزپارٹی کی ورکر شاہدہ جبین کو اس کے 6 ماہ کے بچے سمیت پکڑ کر شاہی قلعہ میں بند کر دیا۔ کراچی میں 2 سگے جیالے بھائی لالہ اسد لالہ اسلم پولیس سے قتل کروایا گیا
1978 میں ملز یونین کے حق میں جیالوں کو احتجاج کرنے پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعےنواب شاہ میں ایک ہی دن میں 200 جیالے شہید دئیے گئے۔ لاہور قذافی سٹیڈیم میں مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے سر پر لاٹھیاں برسا کر لہولہان کر دیا گیا۔ محترمہ بی بی شہید پہلی دفعہ اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا خکم دیا جن کی تعداد 16000 تھی۔

ضیاء نے مدرسوں کی ڈگریوں کو کالج کی ڈگری کے مساوی قرار دیا تھا اور قرآن حافظ کو میٹرک کا درجہ دیا جو صرف قرآن حافظ ہوتا کسی بھی کالج میں داخلہ لے سکتا تھا لوگوں کے بچوں کو جہاد پر بھیجتا تھا مگر آپنے بیٹے کو عرب کے بنک میں افسر کی نوکری کروا رہا تھا۔

امریکی کانگریس کا رکن چارلی ولسن جو امریکہ سے جہاد کے لئے پیسے لے کر دیتا تھا آئے دن پاکستان آتا رہتا تھا چارلی ولسن کو فیلڈ مارشل کا درجہ دیا ہوا تھا اس کی کسی پاکستانی لڑکی سے شادی بھی کروانے لگا تھا چارلی ولسن ضیاء کی موت پر دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔

ایم آر ڈی کی تحریک میں ملک سے بھاگنے لگا تھا مگر ایجنسیوں نے سلام اللہ ٹیپو جہاز اغوا کروا لیا ایم آر ڈی کی تحریک میں سوائے جماعت اسلامی کے سب پارٹیاں تھی ایم آر ڈی تحریک کو کچلنے کے لیے سنڈھ میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مارٹر گن شپ سے سروں پر فائرنگ کی گئی سینکڑوں جیالوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ضیاء کا خطاب نواز شریف نے اسمبلی میں کروایا اور نواز شریف نے اسمبلی میں کہا میری عمر بھی ضیاء کو لگ جائے نواز شریف ضیاء کی برسی پر کئ سال دیگیں بھی پکواتا رہا اور پنڈی سے اسلام آباد اعجاز الحق کے ساتھ ملکر کر برسی کا جلوس نکالتا رہا. نواز شریف کے باپ میاں شریف کی تجویز پر رائیوند میں دیوبندیوں کا تبلیغی مرکز شروع کروایا میاں شریف ضیاء کے ساتھ ملکر وہاں آپنے پلاٹوں کی وجہ سے پاکستان میں پہلی دفعہ اجتماع کا سلسلہ شروع کروایا جو دوسرے فرقوں میں پھیل گیا. حدود آرڈیننس میں ایک اندھی عورت کو بھی اندر کر دیا گیا وہ چیختی رہی کہ مجھے پتہ نہیں زیادتی کرنے والے کون تھے۔

بغض علی میں فوج کا نشان حیدر ختم کردیا اور فوج میں خون گرمانے کا نعرہ حیدری پر بھی پابندی لگا دی فوج میں مولانا مودودی کی کتابوں کو پڑھنا لازمی قرار دیا گیا۔ ضیاء کی بیٹی ذہنی مریض زین نے ضد کر کے کئی دفعہ وردی پہن کر ریکارڈنگ کا تماشا لگایا کبھی کیچوا کھانے کی فرمائش کر دیتی کبھی کچھ کبھی کچھ حکومتی مشینری کو مصیبت پڑی رہتی تھی پی ٹی وی والوں کو آئے دن آپنے گھر بلا کر فوجی وردی پہن کر تقریریں کرتی پی ٹی آئی والوں کو جعلی کیمرے لائیٹیں لگانی پڑتی تھی بیٹی کی فرمائش پر انڈین ایکٹر شٹرو گھن سہنا آئے دن پاکستان آتا تھا اور ضیاء کے گھر میں کے ایک فرد کی طرح رہتا تھا۔

قاری خوشی محمد جو باہر کے دوروں پر ضیاء کے ساتھ اکثر جاتا تھا ضیاء نے آپنی بیٹی کا رشتہ اس کے بیٹے کے ساتھ طے کیا ہوا تھا مگر جب ضیاء مرا تو قاری خوشی محمد نے رشتہ ختم کر دیا۔ پی ٹی وی کے چئرمین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں تقریر سے پہلے اسلام آباد سٹوڈیو میں تلاوت قرآن پاک جعلی طریقے سے تقریر سے پہلے فکس کروائی پی ٹی وی کے اختر وقار عظیم نے بھانڈا پھوڑا۔ اعجاز الحق ذہنی مریض کی شادی پر اپنے گھر میں ڈانس پروگرام رکھا ٹی وی کی مشہور ایکٹریس عظمی گیلانی نے ضیاء کے گھر ڈسکو دانس کیا۔

ایک صدارتی تقریب میں الن فقیر کو بلایا الن فقیر نے کہا میں شراب کے بغیر گا نہیں سکتا الن فقیر کے لئے شراب منگوائی گئی ضیاء کے سامنے پی کر آپنے فن کا مظاہرہ کیا ضیاء نے پاکستان میں پہلی دفعہ اداکاروں اور ناچنے گانے والوں کو ایواڑد تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ بھٹو کے مقدمے میں مولوی مشتاق لعنتی کو ہوٹ لائن لگا کر دی ہوئی تھی جس کا بل 70 لاکھ ادا کیا گیا۔ ہمایوں اختر نے بھی خوب لوٹ مچائی کوکا کولا کی فیکٹری لگائی۔

اسلام آباد گیسٹ ہاوس سے مولانا سمیع الحق روم سے افغان جوان لڑکیاں برآمد ہوئی تھی روس کے ساتھ جہاد کے پردے میں افغان لڑکیوں کو قابو کر کے سپلائی کا کاروبار بھی جاری رکھا ہوا تھا سمیع الحق پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف فتوی دینے والا ملا عمر کا دایاں بازو متحدہ مجلس عمل حرکت المجاہدین متحدہ دینی محاذ کا بانی اور اپنے باپ مولانا عبدالحق کے مدرسہ حقانیہ کا سربراہ تھا جو پاکستان میں سب سے بڑا دہشت گردی کا اڈہ ہے جس کو پحتونحواہ کے تعلیمی بجٹ سے عمران خان نے کئی دفعہ کروڑوں کی مالی امداد کی کیونکہ پحتونحواہ میں عمران کو دہشت گردی سے جتوانے میں مدرسہ حقانیہ کا بہت بڑا کردار تھا یہ وہی سمیع الحق ہے جس کو 14 سالہ افغانی لڑکے نے پنڈی کے مدرسے میں مکمل برہنگی حالت میں چھڑیاں مار کر قتل کر دیا تھا.

ضیاء آپنا خطاب اور ٹی وی خبروں کی ریکارڈنگ اکثر آپنے گھر کرواتا تھا گھر کے اندر ایک سٹوڈیو بنایا ہوا تھا اپنے سامنے ایڈیٹنگ کرواتا تھا کوئی عورت مرد کے بغیر اکاؤنٹ نہیں کھلواسکتی تھی ٹی وی پر دکھاوے کا اسلام لا کر نیوز کاسٹروں کو ڈوپٹے پہنا دئیے جبکہ ملک میں فحاشی غنڈہ گردی عام ہونے لگی گلی گلی میں بدمعاش نظر آنے لگے ہیروئین چرس عام بکنے لگی پہلی دفعہ کلاشنکوف پجارو کلچر سامنے آیا پہلی دفعہ کڑکٹ میں جوا لگنا شروع ہوا، پہلی دفعہ ضیاء کے دور میں دیہاتوں میں مخالفین کی عورتوں کو ننگا کروا کر چکر لگوانے کے واقعات عام ہونے لگے۔ اکثر عوامی سینماؤں میں ٹوٹے گندی فلمیں چلتی تھی انڈین فلموں کی ویڈیو کا کاروبار ابتدا ہوئی ہیروئین کا سب سے بڑا ڈیلر لیفٹیننٹ جنرل فضل الحق سی آئی اے کی طرف سے ضیاء کو اسلحہ پہنچاتا تھا.

شاہنواز بھٹو نے جب پاکستان آنے کا اعلان کیا موساد کے ساتھ ملکر فرانس میں قتل کروا دیا ضیاء پاکستان میں آپنے صحافی چمچوں کے ذریعے پی ٹی وی اور اخبارات میں شاہنواز بھٹو کی موت کو نشہ کی وجہ مشہور کر دیا جبکہ ہم نے ساری زندگی یورپ میں کسی کی موت نشے کی زیادتی کیوجہ سے دیکھی نا سنی اور نا ہی کسی اخبار میں پڑھا۔

جالب کو کئی دفعہ گرفتار اور تشدد کیا گیا پھر پاسپورٹ ضبط کر کے اس کو کراچی جلاوطن کر دیا ایک صوبے کی خبریں دوسروں صوبوں میں پابندی تھی۔ پروفیسر وارث میر اینکر حامد میر کے باپ نے ضیاء کی ہر شق کو قرآن و سنت سے غلط ثابت کیا حدود آرڈیننس پر ( کیا عورت آدھی ہے) نامی کتاب بھی لکھی جب خریدا نہیں گیا اس کے بیٹے پر قتل کا مقدمہ بنا دیا۔

خالصتان تحریک حمایئت کی وجہ سے انڈیا نے کراچی میں لسانی مسئلہ شروع کروا دیا اور سیاچین گلیشئر پر قبضہ کر لیا جو تاحال جاری ہے قبضہ کے 5 ماہ بعد بی بی شہید نے عوام کو بتایا تو لوگ حیران ہو گئے تو ضیاء نے کہا وہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی بدنام زمانہ سیٹھ عابد اسمگر کا ضبط کیا ہوا سارا سونا واپس کر کے اس کو فیملی دوست بنا کر بلیک مارکیٹنگ کی کھلی اجازت دے دی۔ برطانیہ کی انشورنس کمپنیوں کے 40 لاکھ پونڈ جو بھٹو مان نہیں رہا تھا برطانیہ کا وزیراعظم ایک رات کے لئے آیا ضیاء سے 40 لاکھ پونڈ لے گیا اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد بھٹو سے 3 ملاقاتیں کی 2 مری میں جنرل چشتی کے ساتھ ایک اپنے گھر میں اور 2 دفعہ فون کر کے بھٹو کی تعریفیں کرتا رہا بقول رمضان کے دن تھے مری ملاقات میں ضیاء نے بھٹو کو سگار پیش کیا بھٹو نے کہا میرا روزہ ہے

سعودی عرب لیبیا سمیت کئی ملکوں نے کہا بھٹو ہم کو دے دو اس نے سب سے وعدہ کیا پھانسی نہیں دونگا خانہ کعبہ میں سعودی بادشاہ سے وعدہ کیا پھانسی نہیں دونگا مگر پاکستان آکر پھانسی لگا دی جسٹس کے ایم صمدانی نے بھٹو کو ضمانت پر رہا کیا تو سارا لاہور استقبال کے لئے نکل آیا راقم بھی موجود تھا دوبارہ 29 جولائی کو پکڑ لیا گیا جسٹس صمدانی سینئر ترین جج تھے اور چیف جسٹس بننے والے تھے مگر بھٹو کی ضمانت لینے پر جسٹس صمدانی سے جج کا عہدہ چھین کر مولوی مشتاق حرامی کو لگا دیا گیا۔

کٹر کانگریسی سرخپوش لیڈر سرحدی گاندھی نے پختونستان کا نعرہ لگایا تو ضیاء نے جواب میں اس کو محب وطن قرار دیا اے کے برورہی جی ایم سید ولی خان کو بھی محب وطن قرار دیا تمام مقدمے ختم کر کے ان کے پاس پھولوں کے گلدستے لے کر گیا۔ مولا بخش سومرو کٹر گانگریسی تھا جس نے قائداعظم پر آپنے بھائی کے قتل کا الزام بھی لگایا تھا قائد اعظم کو گالیاں دیتا رہتا تھا ضیاء نے اس کو آپنا مشیر خاص بنا رکھا تھا۔ گل نامی شخص جو اسرائیل کے لئے عراق میں جاسوسی کرتا تھا عراق میں اس کو گولی ماری گئی مگر بج گیا کسی طریقے سے پاکستان آگیا ضیاء نے اس کو بھی آپنا مشیر رکھ لیا۔

بنیاد پرست جماعت اسلامی جس نے سیاست کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے ضیاء حکومت کی ہمیشہ مددگار رہی ہمیشہ مجلس شوری میں بیٹھی رہی
طالبعلموں کی یونینوں پر پابندی لگا دی مگر جمعیت پر پابندی نہیں لگی جمعیت طلباء کے الیکشن بھی کرواتی رہی 1981 میں کراچی کالجوں میں اس کو داخلہ ملتا تھا جس نے جماعت اسلامی کا بیج لگایا ہوتا تھا۔ امیر جماعت میاں طفیل کٹر دیوبندی تھا (مودودی کا مذہبی عقیدہ علماء میں بحث طلب ہے مگر مودودی جعمہ کی نماز لاہور دیوبندیوں کے مرکز جامعہ اشرفیہ پڑھنے جاتا تھا جماعت اسلامی کے اج تک جتنے بھی امیر بنے سب کٹر دیوبندی بنے میاں طفیل نے ضیاء دور میں لاہور شاہ نور اسٹوڈیو کے ارد گرد بے شمار سرکاری پلاٹ آپنے عزیزوں کے نام الاٹ کروائے جماعت اسلامی کی ایکٹو عطیہ عنائیت اللہ ضیاء کی معشوقہ مشہور تھی جس کے سامنے ضیاء بھیگی بلی بنا رہتا تھا۔ جماعت اسلامی کی آپا نثار ضیاء کی رشتے میں پھوپھی لگتی تھی۔ نون لیگ کے احسن اقبال کی ماں ضیاء کی چچی لگتی تھی۔ جتنے بھی اسلامی قوانین متعارف کروائے درپردہ میاں طفیل کے مشورے بھی شامل تھے قادیانیوں کے خلاف نت نئے قوانین بنانے میں جماعت اسلامی کا بہت بڑا کردار تھا۔

جماعت اسلامی کی جہادی تیار کرنے پر ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی جو وہ بخوبی انجام دیتی رہی جس کے منہ مانگے دام وصول کرتی تھی ان پیسوں سے جماعت اسلامی نے کئی ڈسپنسریاں قائم کر لی جماعت اسلامی لاہور کا بنیادی دفتر چند مرلے کے مکان کے اندر تھا ضیاء کی کرم نوازی سے کئی ایکڑ اراضی پر مشتمل فلم اسٹوڈیو خرید کر منصورہ قائم کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی نے ضیاء دور میں پیپلزپارٹی کے خلاف بھر پور بےہودہ مہم چلائی بی بی شہید کے خلاف گندی زبان کا استعمال اور پیپلزپارٹی کی خواتین کو گھٹیا القابات کی وال چاکنگ ثواب دارین سمجھ کر کیا کرتی تھی جیالوں کی مخبریاں کیا کرتی تھی۔ بھٹو کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتی رہی بھٹو کی پھانسی پر سارے پاکستان میں سوگ کی کیفیت تھی پیپلزپارٹی کے دشمن بھی خاموش تھے مگر جماعت اسلامی خوشیاں منا رہی تھی سارے پاکستان میں واحد مولانا مودودی نے بھٹو کی پھانسی کو درست کہا تھا
ضیاء مولانا مودودی کو اس کی رہائش گاہ لاہور اچھرہ میں اکثر ملنے جایا کرتا تھا اور ڈکٹیشن لیتا تھا۔

1970 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کی ریکاڑد ضمانتیں ضبط کروائی تھی جماعت اسلامی سارے پاکستان سے صرف 4 سیٹیں جیت سکی میاں طفیل کی لاہور میں ضمانت ضبط ہو گئی تھی جس کی وجہ سے مولانا مودودی کو اور میاں طفیل کو پیپلزپارٹی پر غصہ تھا مولانا مودودی اسلامی سوشلزم کے نعرے کی وجہ سے نظریاتی اختلاف بھی رکھتا تھا کیونکہ مولانا مودودی جاگیرداری اور سرمایہ داری کی حمایئت کرتا تھا اپنی کتابوں میں سرمایہ داری اور جاگیرداری کو اسلام کے مطابق ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔
بقلم خود : گلریز بلوچ

ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ...
30/03/2026

ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ، 9 ﺳﯿﺎﺭﮮ ، 27 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ میٹرﺍﺋﭧ ‏ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮ ﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔
ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟
ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔ " ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ‏
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:5 ‏)
ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ "
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ‏( Barrier ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:20 ‏)
ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ "
ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:40)
ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ:
" ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:38)
ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ‏(ﭼﮭﺖ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ:
" ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ:47 ‏)
ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ " ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ " ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ اس ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ
" ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ؟
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ:3 ‏)
ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺍﮰ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ لئے ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؟
ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ سیکھے؟
ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎتیں۔ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں۔ ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ پگل ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کے لئے ﺍپنے ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍے ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﺍﮈﺍﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺴﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭە ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯿﮟ۔ ﺍﻧﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ ؟
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟
ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮنٹیاں ‏( Ant ‏) ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ موسم سردا ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ تنظیم ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ہیں ﺟﮩﺎﮞ مینیجمینٹ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔
ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟
سوشل مینیجمینٹ ﮐﮯ ﯾﮧ اصوﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ سکھائے؟
ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ؟
ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ -67 1/2 ﮈﮔﺮﯼ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔
ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟًﺎ ﺟﻨﻮﺑًﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ؟
ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ‏( Nitrous Oxide ‏) ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ کے لئے ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ ‏( Submarine ‏) ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ
ﺯﻣﯿﻦ ،ﺳﻮﺭﺝ، ﮨﻮﺍﻭٴﮞ، پہاﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ رکھا ہے تاﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ۔
ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮجاتا ہے۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨوتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ جاتا ہے۔
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟
ﮨﻤﺎﺭﮮ Pancreas ‏( ﻟﺒﻠﺒﮯ ‏) ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ منظم باقاعدہ حرکت سے ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ 75ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ ‏( Kidneys ‏) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ہیں ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ کے لئے ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ اور ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ ‏( Chemical Complex ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ،ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭیٹس ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﮱ ﺗﮭﮯ؟
ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﭩﻮﺭ، ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ سینٹر، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ کے ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ ‏( Cell ‏) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ پروگرامنگ لکھی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ چلتی ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ پروگرامنگ ہے؟
ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟
ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ ‏( Cell ‏) ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ ؟
ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟
ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ . . . لا الٰہ الا اللہ. . . . . . . . .❤❤❤❤❤

Address

Atharan Hazari
20

Telephone

03014532322

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Informative World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Informative World:

Shortcuts

Share