Ishfaq Virtual Assistant

Ishfaq Virtual Assistant Software Engineer , Graphic Designer , Video Editor , Wordpress Developer , Computer Science , Technology , Blogs Advertisement
and Much More Coming Soon...

We are a team of IT Professionals living in PakPattan District, a very less developed far off area. We are all highly talented, motivated and experienced IT Professional who are teamed up under this platform to help the People of PakPattan in a more convenient and professional way. We will provide following Service at Start

DNS Hosting & Web Hosting
Desktop Application
Web Application
Online Store
Android Application
Social Media Marketing (Facebook etc...)

24/08/2024

انٹرنیٹ کبھی صحیح چلے گا کبھی سلو ہو جائے گا انٹرنیٹ مختلف شہروں میں مختلف وقت پر خراب ہوگا کوئی کہے گا میرا ٹھیک چل رہا ہے کوئی کہے گا میرا خراب چل رہا ہے زیادہ تر موبائل نیٹ ورک پہ خراب رہے گا کبھی کبھار یہی مسئلہ فائبر لائن یعنی پی ٹی سی ایل اور دوسرے فکس انٹرنیٹ پر بھی ائے گا. اس طرح عوام آپس میں لڑتی رہے گی۔لیکن ایک بات کنفرم ہے کہ فائروال ہر قیمت پر انسٹال ہو گی۔چاہے نیٹ بند یا سلو ہو یا نہ چلے۔
کاپیڈ

زیادہ اعتماد پریشانی کا سبب ھو سکتا ھےمجھ پر یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ کے کچھ دوست خفیہ طور پر آپ سے نفرت کرتے ہیں" ت...
22/08/2024

زیادہ اعتماد پریشانی کا سبب ھو سکتا ھے
مجھ پر یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ کے کچھ دوست خفیہ طور پر آپ سے نفرت کرتے ہیں" تعلقات کے بارے میں ایک گہری اور کبھی کبھی پریشان کن حقیقت کی عکاسی کی جاتی ھے کہ کہیں کوئی ایسے تعلقات میں نقصان نہ اٹھا بیٹھے۔ لہزا مکمل اعتماد کرتے وقت علم و عقل کا استعمال کر لینے سے انسان کچھ حد تک مصائب سے بچ سکتا ھے۔
1. اعتماد اور خیانت اور پوشیدہ جذبات:
یہ ھیڈنگ اس خیال کو اجاگر کرتا ہے کہ ہر وہ شخص جو آپ کا دوست دکھائی دیتا ہے اس کے دل میں آپ کے بہترین مفادات نہیں ہیں۔ ظاہری شکل کے باوجود کچھ لوگ آپ کے تئیں منفی جذبات یا ناراضگی پیدا کر سکتے ہیں۔
2. آگاہی اور سمجھداری:
محتاط رہیں: یہ آپ کے تعلقات میں محتاط اور سمجھدار رہنے کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جو آپ کے قریب ہے وفادار یا مددگار ہو، اور یہ ضروری ہے کہ ممکنہ پوشیدہ دشمنیوں سے آگاہ ہو۔
3. انسانی فطرت، حسد اور عدم تحفظ:
یہ عنوان عام انسانی جذبات جیسے حسد یا عدم تحفظ کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے، جو کبھی کبھی پوشیدہ ناراضگی کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ دوست بھی مسابقتی یا حسد محسوس کر سکتے ہیں، جو منفی جذبات کا باعث بنتے ہیں جن کا وہ کھل کر اظہار نہیں کر سکتے۔
4. رشتوں کی عکاسی اور دوستی کا اندازہ لگانا:
یہ پیغام آپ کی دوستی کے معیار اور صداقت پر خود غور کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ اس بات پر غور کرنے کی دعوت ہے کہ آیا آپ کے آس پاس کے لوگ واقعی معاون ہیں یا ان تعلقات میں بنیادی مسائل ہو سکتے ہیں۔
5. گھٹیا پن بمقابلہ حقیقت اور توازن کا نقطہ نظر:
اگرچہ اس ھیڈنگ کو مذموم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یہ انسانی تعلقات کے حقیقی پہلو کو بھی چھوتا ہے۔ صحت مند شکوک و شبہات کے ساتھ اعتماد میں توازن رکھنا آپ کو ممکنہ خیانت سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نتیجہ:
ایک واضح یاد دہانی ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ کس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس بات سے آگاہ رہیں کہ تمام دوستیاں اتنی حقیقی نہیں ہیں جتنی کہ وہ نظر آتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کو احتیاط سے منتخب کرنے کی اہمیت کی تجویز کرتا ہے جن کے ساتھ آپ اپنے ارد گرد رہتے ہیں اور انسانی جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیوں سے آگاہ ہیں۔
Copied

22/08/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ
شکر گزاری کی عادت انسان کو ہر طرح کے حالات میں رہنا آسان کر دیتی ہے، اپنے پاس اُن چیزوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے رہا کریں، جن کے لیے اکثر لوگ ترستے ہیں اور ایسا یقینی طور پر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موجود کئی نعمتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو پانے کا کئی لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے
اللہ پاک سے دعا کرتے رہا کریں کہ وہ ہمیشہ شکر گزاروں میں سے رکھے، یہ توفیق بہت بڑی عطا اور سکون کا باعث ہوتی ہے، خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں اور مسکراتے رہیں
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین اور شفاعتِ کبریٰ کا باعث ہے

‏دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز ...
19/08/2024

‏دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا،
انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘
تعلیم شعور دیتی ہے لیکن’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں،
’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘
اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘
’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی،
یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں
چنانچہ یہ لوگ ڈگری ہاتھ میں لیکر نوکری ڈھونڈنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں
چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ یہاں وہ محنت سے مقام پاتے ہیں ۔
دنیا میں ہر چیز کا متباد موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘
’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا
لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔
یاد رکھیے دنیا میں ان نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں
جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض تعلیمی قابلیت بتانے والے ڈگری نام کے کاغزی ٹکڑے سے دنیا ان کے قدموں میں ہوگی
تعلیم کے ساتھ ہنر لازم ہے ہنرمندوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے'
’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے
ہنر سیکھیے حالات پر رونے کی بجائے کمائی کے اسباب پیدا کیجیے...!!!

ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔  بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت ...
19/08/2024

ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔
بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت کی داستان ہے، ہر طرف خوشی ہی خوشی!"
جب وہ شیروں کے پنجرے کے پاس گئے، تو بیوی نے دیکھا کہ شیر اپنی بیوی سے دور، خاموشی سے بیٹھا ہے اور کہا: "یہ کتنی افسردہ محبت کی کہانی ہے، سب کچھ دکھ بھرا ہے!"
شوہر نے کہا: "یہ خالی بوتل اٹھا کر شیرنی کی طرف پھینکو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔"
جب بیوی نے بوتل پھینکی، تو شیر غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے اٹھا اور اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھا!
پھر شوہر نے کہا: "اب یہ بوتل بندر کی بیوی کی طرف پھینکو۔"
جب بیوی نے ایسا کیا، تو بندر اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگ گیا تاکہ بوتل اس کو نہ لگے!
شوہر نے کہا: "ظاہر پر مت جاؤ، لوگوں کے سامنے جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی جعلی محبت سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی محبت کو دل کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔
یاد رکھو:
- جو تنہا رہتا ہے، وہ خواہشات سے خالی نہیں ہوتا!
- جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ فیشن سے بے خبر نہیں ہوتی!
- جو سخی ہے، وہ مال سے نفرت نہیں کرتا!
بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو پا کر مضبوط ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
"اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکتا رہا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔" (سورۃ النازعات: 40-41)
میرے محترم قاری:
آپ کا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، بلکہ یہ آپ کے دین اور تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس لیے:
- اپنی اخلاقیات میں مالدار بنو،
- اپنی قناعت میں امیر بنو،
- اور اپنے تواضع میں بڑے بنو۔
اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو پیٹھ پیچھے بات کرتے ہیں، کیونکہ وہ واقعی تمہارے پیچھے ہیں۔

Must Read if You are a Father of Daughter,کسی گاؤں میں ایک پہلوان رہتاتھا۔۔اپنے علاقے کا بہت مشہور اور جانا مانا۔۔۔۔اسکی...
18/08/2024

Must Read if You are a Father of Daughter,
کسی گاؤں میں ایک پہلوان رہتاتھا۔۔اپنے علاقے کا بہت مشہور اور جانا مانا۔۔۔۔اسکی ایک ہی بیٹی تھی۔۔۔بہت لاڈ اور پیار سے پالی۔۔۔۔خوبصورت اور نازک سی۔۔۔بیٹی جوان ہوئی تو اسکی شادی کی فکر ہوئی۔۔۔
چونکہ پہلوان تھا۔۔۔اسلیئے بیٹی کے لیئے ایک پہلوان ہی پسند آیا۔۔۔اونچا لمبا تنےہوئے بدن کا مالک۔۔۔گھنی موچھوں والا۔۔۔گھبرو۔۔۔زمیندار۔۔۔
نازو پلی بیٹی وداع کردی۔۔۔
چھے ماہ بھی ناگزرے تھے کہ پہلوان داماد نے بیٹی کومار پیٹ کر نکال دیا۔۔۔کہ گھر کا کوئی کام نہیں آتا اسے۔۔۔
باپ کادل بہت رنجیدہ ہوا۔۔۔مگر کسی کوکچھ نا کہا۔۔۔کہ فضول میں تماشا بنے گا۔۔۔۔۔بیوی سے کہا کہ اسے ہر چیز سکھاو۔۔۔جو گھرداری کے لیئے ضروری ہوتی۔۔۔ماں نے بیٹی کو جھاڑو پوچا۔۔۔کھاناپکانا۔۔۔سب سیکھیا۔۔چند ماہ بعد صلح صفائی ہوئی۔۔۔داماد کو بلایا۔۔۔معافی مانگی کہ شرمندہ ہیں لاڈ پیار میں گھرداری ناسیکھائی۔۔۔
چھے ماہ ناگزرے۔۔۔بیٹی پھر مار کھاکر میکے واپس اگئی۔۔۔کہ کوئی سیناپرونا نہیں آتا۔۔۔۔پھر پہلوان بہت دکھی ہوا۔۔۔پھر بیوی کو کہا اسے سیناپرونا سیکھاو۔۔۔۔
بیوی نے سلائی کڑھائی۔۔۔۔گوٹاکناری۔۔۔۔رضائیاں بچھائیاں۔۔۔یہاں تک کے پراندے اور ازاربندھ بھی سیکھائے۔۔۔پھر داماد کو بلایا۔۔۔غلطی کی معافی مانگی۔۔۔اور بیٹی رخصت کی۔۔۔۔
پھر چند ماہ گزرے۔۔۔بیٹی پھر نیل ونیل۔۔۔مار کھاکر میکے واپس۔۔کہ کھیت کھلیان نہیں سنبھال سکتی میرے ساتھ۔۔گائے بھینسوں کادودھ دوہنا نہیں آتا۔۔پہلوان بہت ہی دکھی۔۔۔رنجیدہ۔۔۔۔یااللہ کیسا نصیب ہے بیٹی کا۔۔۔خیر۔۔۔بڑی عزت تھی زمانے میں۔۔خاموش رہا۔۔۔بیٹی کوساتھ لے جاتا کھیتئ بھاڑی کے کام سیکھائے۔۔۔اور ایک بار پھر بیٹی بہت دعاوں کے ساتھ رخصت کی۔۔۔
پھر چند دن گزرے۔۔۔پھر بیٹی روتی میکے۔۔۔پہلوان نے سوال کیا بیٹی اب کیا ماجرہ ہوا۔۔۔۔کہنے لگی میرا شوہر کہتاہے تو آٹاگھوندھتے ہوئے ہلتی بہت ہے۔۔۔۔
پہلوان کو اب ساری بات سمجھ میں آئی۔۔۔اس کے داماد کو عادت پڑھ چکی تھی مارنے کی اور لت لگ گئی تھی بیوی پہ رعب جمانے کی۔۔۔کہنے لگا بیٹی۔۔۔۔میں تجھے سب سیکھایا۔۔۔مگر یہ نہیں سیکھایاکہ تو بیٹی کس کی ہے۔۔۔بیٹی حیران ہوئی۔۔۔۔مگر کچھ ناسمجھی۔۔۔۔
چند دن بعد داماد پہلوان کو احساس ہوا کہ بہت عرصہ گزرا نا سسر نا معافی مانگی نا بیٹی واپس بھیجی۔۔۔۔
خیرخبرلینے سسرال کے گھر گیا۔۔۔سسر نے دروازے پہ روک لیااور کہا۔۔۔انہی پیروں پہ واپس چلاجا۔۔۔آج کی تاریخ یاد رکھ لے۔۔۔پورے دوسال بعد آنا اور آکر بیوی لے جانا۔۔۔۔اگر اس سے پہلے مجھے تو یہاں نظر آیا تو ٹانگیں تڑواکر واپس بھیجوں گا۔۔۔داماد کو فکر ہوئی۔۔مگر انا آڑھے آئی۔۔۔اور لوٹ گیا۔۔۔
دن گزرتے رہے۔۔۔پہلوان بیٹی کو منہ اندھیرے کھیتوں میں لے جاتا۔۔۔اور سورج نکلنے پرگھر بھیجتا۔۔۔بیوی نے بارہا پوچھا مگر یہ راز نا کھلا۔۔۔
دوسال گزر گئے۔۔۔۔داماد بیٹی کو لینے آیا۔۔باپ نے خوشی خوشی رخصت کی۔۔۔۔
چند دن گزرے۔۔۔۔پہلوان داماد نے عادت سے مجبور۔۔۔چیخناچلانا شروع کردیا اور مارنے کے لیئے بیوی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔بیوی نے کسی منجھے ہوئے پہلوان کی طرح شوہر کوبازوسے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا۔۔۔۔اور کہا۔۔۔
تو جانتاہے نا میں بیٹی کس کی کی ہوں۔۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ اب کی بار دوسال میں باپ نے بیٹی کو کیا سیکھاکربھیجاہے
اور اسکے بعد پہلوان کو دوبارہ بیوی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھاگیا۔۔۔۔اور بیٹی کبھی دوبارہ مار کھاکرمیکے نہیں آئی۔۔۔۔
باپ نے بیٹی کو کیاسیکھایا۔۔۔آپ بھی جان گئے ہوں گے۔۔۔
ہرچیز ماں کے سیکھانے کی نہیں ہوتی۔۔۔کچھ باتیں کچھ اعتماد باپ بھی بیٹیوں میں لاتاہے۔۔۔
اس لیئے میں سمجھتی ہوں جو دور جارہاہے۔۔۔اسمیں بیٹیوں کو اپنی حفاظت کرنا۔۔۔ضرور سکھانا چاہیے۔۔۔
مصنف: نامعلوم

مرزا غالب کا کھلا خط ، ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے پر خیالات کا اظہار     جانِ تمنّا ! یہ کیا ہو گیا کہ ہمارے اور ...
18/08/2024

مرزا غالب کا کھلا خط ، ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے پر خیالات کا اظہار
جانِ تمنّا ! یہ کیا ہو گیا کہ ہمارے اور تمھارے درمیان برقی روابط محدود کر دیے گئے ہیں ؟ سنا ہے سماجی رابطوں کے برقی نظام کے آگے آتِشِیں دیوار تعمیر کر دی گئی ہے۔ چینیوں نے تاتاری حملوں کی روک کے واسطے دیوارِ چین تعمیر کی تھی ، مشرقی جرمنوں نے شہر برلن کے بِیچ دیوار بنائی تھی اور اب یہ تیسری دیوار ہے جو ہمارے خرچ پر ہمارے ہی دلوں پر بنائی گئی ہے۔ آگے اطمینان تھا کہ جب ذرا طبیعت مُنَغَّض ہوئی تو تمھیں سامنے لا کر باتیں کر لیں ۔گاہے تحریر پڑھ لی ، گاہے تصویر دیکھ لی۔ بقول منشی موجی رام :
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
اب تو برقی اشاروں کی وصولی کے لیے بار بار بالا خانے پہ جانا پڑتا ہے۔ حاصل مقصود پھر بھی نہیں ہوتا، عکس آتا ہے نہ صَوت آتی ہے :
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ روز و شب و ماہ و سال کہاں
سخت بے چینی کے عالم میں ہوں۔ ملک بھر کے دیوانے سکتے میں ہیں، برقی نظام پر چلتا کاروبار ٹَھپ ہو چکا ہے ، سرمایہ ڈوب چکا ہے ،میرا اٹھارہ صد کا ماہانہ خرچ بھی رائیگاں جا رہا ہے۔ آئندہ اس خرچ کو بچا کر دیدہ زیب کاغذ ، قلم ، روشنائی اور مُصحَف خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ تم بھی یہی کرو اور مكتوب نگاری کی پرانی روایت کی جانب مراجعت کرو ۔
شبِ آدینہ
غالب
محلہ بَلی ماراں ، دلّی

محمد عزیز، ایک 72 سالہ کتاب فروش ہیں، جو مراکش کے شہر ربا میں رہتے ہیں۔ وہ روزانہ 6 سے 8 گھنٹے کتابیں پڑھنے میں صرف کرتا...
17/08/2024

محمد عزیز، ایک 72 سالہ کتاب فروش ہیں، جو مراکش کے شہر ربا میں رہتے ہیں۔ وہ روزانہ 6 سے 8 گھنٹے کتابیں پڑھنے میں صرف کرتا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی، عربی اور انگریزی میں 5000 سے زائد کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ 43 سال سے اسی پوزیشن پر ہیں۔ وہ ربا میں سب سے قدیم کتاب فروش کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جب ان سے کتابیں باہر رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کہاں چوری ہو سکتی ہیں تو انہوں نے جواب دیا:
جو پڑھ نہیں سکتے وہ کتابیں نہیں چراتے اور جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ چور نہیں ہوتے۔

حاجی صاحب مالش کرنے والے سے مالش کروا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا:" کیا حال ہے حاجی صاحب... آپ نظر نہی...
12/08/2024

حاجی صاحب مالش کرنے والے سے مالش کروا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا:
" کیا حال ہے حاجی صاحب... آپ نظر نہیں آتے آج کل؟ "
حاجی صاحب نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی. وہ بندہ کہنے لگا:
" حاجی صاحب... میں آپ کی سائیکل لے کے جا رہا ہوں"
وہ سائیکل مالشی کی تھی. کافی دیر ہو گئی تو مالشی کہنے لگا:
" حاجی صاحب... آپ کا دوست آیا نہیں ابھی تک واپس میری سائیکل لے کر؟ "
حاجی صاحب بولے :
" وہ میرا دوست نہیں تھا"
مالشی بولا:
" مگر وہ تو آپ سے باتیں کر رہا تھا"
حاجی صاحب بولے:
" میں تو اس کو جانتا ہی نہیں ہوں.
میں تو سمجھا تھا کہ وہ تمہارا دوست ہے"
مالشی بولا:
" حاجی صاحب... میں غریب آدمی ہوں. میں تو لٹ گیا"
حاجی حاحب بولے:
" اچھا تو رو مت. میں تجھے نئی سائیکل لے دیتا ہوں. تم سائیکل والی دوکان پر جا کے پسند کر لو
مالشی نے ایک سائیکل پسند کی
اور چکر لگا کے دیکھا. واپسی پر آکر کہنے لگا کہ حاجی صاب یہ سائیکل زرا ٹیڑھی چل رہی ہے
حاجی نے کہا:
"جا یار نئی سائیکل ہے. یہ ٹھیک ہے. دکھاو میں چیک کرتا ہوں"
حاجی صاحب سائیکل پر چکر لگانے گئے اور واپس آئے ہی نہیں.
مالشی کو اس سائیکل کے پیسے بھی دینے پڑ گئے 🤔🤣😂😂🤣
آج ایسا ہی حال پاکستانی قوم کے ساتھ ہو رہا ہے. ہر نیا آنے والا حکمران حاجی ہے اور عوام مالشی 🤷🏻‍♂️

12/08/2024
دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے. قاضی نے پوچھاتم دونوں میں سے...
12/08/2024

دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے.
قاضی نے پوچھا
تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟
ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.
وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.
قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟
وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.
جج صاحب میری طلاق ہوگئی.
کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی.
قاضی حیرت سے پھر ؟
وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.
کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟
اس نے ہاں کرلی
میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.
میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.
قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر پوچھا کہ
اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟
میری پھوپھی کہنے لگی :
قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔
قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:
مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.
اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی۔۔۔

ارشد ندیم کو غریب ، لاواث ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ معاملہ اس کے الٹ ہے۔ پڑھئیے اصل حقائق --------------------ـ...
11/08/2024

ارشد ندیم کو غریب ، لاواث ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ معاملہ اس کے الٹ ہے۔ پڑھئیے اصل حقائق
--------------------ـ
ارشد ندیم ایک دہائی قبل واپڈا میں طرف سے کھلاڑیوں کے کوٹہ میں ملازم بھرتی ہوا تھا۔ اسوقت شاید 18 گریڈ میں ہو البتہ اس کے کیریر کا آغاز 2015 سے ہوتا ہے
2016 میں حکومتی خرچہ پر ساؤتھ ایشین گیمز میں حصہ لیا bronze medal جیتا۔ اس وجہ سے اسے world athletics سکالرشپ ملا اور ساتھ ہی Maritius میں واقع بہترین ٹریننگ سنٹر IAAF High Performance Training Centre میں ٹریننگ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
2016 میں ہی 17th junior asian games جو کہ ویتنام کے شہر ho chi min میں منعقد ہوئی، گورنمنٹ کے خرچے پر شرکت کی اور میڈل جیتا
ایسے ہی 2017, 2018, 2019 میں باکو، آسٹریلیا، جکارتہ، دوہا مختلف گیمز میں گورنمنٹ سپانسر پر شرکت کی اور مختلف میڈلز جیتے۔
2022 میں ورلڈ چیمپئین شپ سے سٹارٹ ہونے سے پہلے ساؤتھ افریقہ میں Terseus Liebenberg جو کے دنیا کے بہترین کوچ ہیں ان سے ٹریننگ حاصل کرنا شروع کر چکے تھے۔
2022 میں انکی کہنی اور گھٹنے کی injury ہوئی اور Athletics Federation of Pakistan نے حکومتی خرچے پر انکا علاج کیلئے Spire Cambridge Lea Hospital England میں بندوبست کیا۔(انکے علاج اور ساؤتھ افریقہ کی ٹریننگ کا خرچہ دوکروڑ سے زائد تھا)
پوسٹ کا مقصد کوئی تنقید نہیں بلکہ حقائق بتانا اور یہ بتانا ہے کہ ہماری قوم کو اوتار/کرشماتی قسم سے ہیرو گھڑنے کی عادت ہے۔ ارشد ندیم کی جیت کے پیچھے اسکی محنت، حکومت کی انوسٹمنٹ اور قدرتی صلاحیت تینوں چیزوں کا ہاتھ ہے۔
دودھ لسی کی طاقتوں سے اتنے بڑے مقابلے نہی جیتے جاتے۔ ایسے مقابلے بڑے اداروں، حکومتی سپورٹ اور بہترین ٹریننگ سے ہی جتنا ممکن ہوتا ہے، کوئی پیدائشی سپرمین نہیں ہوتا کہ پنڈ میں تھرو پھیکنتا پھیکنتا اولمپکس جیت لے۔
2021 میں انکی والد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انکے پاس پریکٹس کرنے کیلئے گراونڈ یا باقی سہولتیں میسر نہیں۔ اور حالیہ ویڈیوز مین اسکے بھائی کے بیانات بھی ایسے ہی ہیں جن سے یہی تاثر جاتا ہے کہ غریب لوگ ہیں اور ٹریننگ بھی خود ہی کی۔ صاف الفاظ استعمال نہیں کیے گئے کیونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے حقائق چند منٹس میں باہر آجاتے ہیں۔
اور جہاں تک تعلق ہے اس کی رہائش، رہن سہن کا تو
میاں چنوں کی مہنگی سوسائٹی رحیم گارڈن میں ایک اچھا گھر اور اچھی گاڑی اس کی ملکیت ہے۔

Address

Arifwala
57480

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ishfaq Virtual Assistant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ishfaq Virtual Assistant:

Share