30/09/2026
استاد، والدین اور بزرگوں کے احترام میں کھڑے ہونے کے حوالے سے احادیث مبارکہ سے چند اہم دلائل اور روایات درج ذیل ہیں:
۱. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ کا استقبال کرنا
> حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
> "جب بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، انہیں بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے؛ اور جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ کے لیے کھڑی ہو جاتیں، آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتیں، آپ ﷺ کو بوسہ دیتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔"
> (سنن ابی داؤد: 5217، جامع ترمذی: 3872)
>
۲. حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑے ہونے کا حکم
> حدیث: جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بنو قریظہ کے معاملے کا فیصلہ کرنے آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا:
> "قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ"
> (اپنے سردار [اور معزز شخص] کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔)
> (صحیح بخاری: 3043، صحیح مسلم: 1768)
>
۳. کس قسم کے لیے کھڑا ہونا منع ہے؟
احادیث میں اس بات کی وضاحت بھی ملتی ہے کہ کس طرح کا کھڑا ہونا ناپسندیدہ ہے:
> حدیث: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے پتلے کی طرح (یعنی تکبر اور تعظیم کے لیے) کھڑے رہیں، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
> (جامع ترمذی: 2755)
>
خلاصہ:
اگر استاد یا کسی بزرگ کی آمد پر محبت، ادب اور ان کی قدر دانی کی نیت سے کھڑا ہوا جائے، تو یہ سنتِ صحابہ اور پسندیدہ عمل ہے۔ لیکن اگر استاد خود اپنے لیے کھڑے ہونے کا حکم دے يا اس پر فخر و تکبر محسوس کرے، تو ایسا کرنا اور پسند کرنا دونوں ناپسندیدہ ہیں۔