Al HUSAN MOBIL PHONE

Al HUSAN MOBIL PHONE we deal in Cell Phones & Accessories

شام بخیرجب تری جان ہو گئی ہوگیجان حیران ہو گئی ہو گی..شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پروہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی..اس کی خاطر ...
29/05/2021

شام بخیر
جب تری جان ہو گئی ہوگی
جان حیران ہو گئی ہو گی..
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی..
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی..
ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہو گی..
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہو گی..
اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی..
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہو گی..
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہو گی..
جون ایلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب
نا شناس
+1646-665-4022

.قاضی عیسی کی 22 کروڑ کی فصل کون کہتا ہے بلوچستان میں ذراعت نہیں ہوتی؟فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے مطابق اس نے لندن ...
30/04/2021

.قاضی عیسی کی 22 کروڑ کی فصل

کون کہتا ہے بلوچستان میں ذراعت نہیں ہوتی؟
فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے مطابق اس نے لندن میں 22 کروڑ مالیت کی تین جائدایں اپنی فصلیں بیچ کر خریدیں یعنی "ذراعت" کی کمائی سے۔

نہ بتانے پر تیار نہیں کہ "فصل" کون سی بیچی تھی اور پیسے کیسے لندن بھجیے؟ سرینا عیسی نے ججز سے سوال کیا کہ اگر کل آپ لوگوں سے سوال کیا گیا کہ دولت کہاں سے آئی تو کیا جواب دینگے؟
جس کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ قاضی عیسی اور ان کی بیگم سے ان کی دولت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائیگا۔

معاملے کا مختصر سال احوال پھر پیش خدمت ہے۔

تحقیقاتی اداروں نے فائز عیسی کی لندن میں خفیہ جائدداوں کا انکشاف کیا۔
صدر مملکت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے "منی ٹریل" مانگا۔ فائز عیسی نے جواب میں فرمایا کہ میرے خلاف سازش ہورہی ہے، میں نے پاکستان بنایا تھا اور میں عدلیہ کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوں۔
ان دلائل کو سپریم کورٹ نے "منی ٹریل" تسلیم کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا بس اتنا کہا کہ "چلیں "منی ٹریل" نہ دیں اس خفیہ دولت پر ٹیکس جمع کرایا یا نہیں وہ ایف بی آر کو چیک کر لینے دیں۔"

ایف آبی آر نے کچھ تحقیقات کیں جس نے پتہ چلا کہ قاضی کی بیوی سرینا عیسی نے دوسرا شناختی کارڈ ذرینہ عیسی کے نام بھی بنوا رکھا ہے۔ ذرینہ نےے سرینا کو پیسے بھیجے۔ شوہر کے ساتھ ملکر خفیہ اکاؤنٹ چلاتی رہیں جس میں نامعلوم ذرائع سے دولت آتی رہی۔ پاکستان سے کروڑو روہے خفیہ طریقے سے باہر بھیجے۔ جن پیسوں کا وہ آج بتا رہی ہے کہ جائدادیں خریدنے بھیجے تھے ان کا اس وقت کہا تھا بچوں کی پڑھائی کیے لیے بھیج رہی ہوں۔ ایف بی آر نے قاضی عیسی اور اس کی بیوی کے اپنے ہی جمع کردہ کاغذات میں بہت بڑی جعل سازیوں کا انکشاف کیا۔

فائز عیسی کو دوبارہ غصہ آیا اور سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اپنا پرانا فیصلہ پھر تبدیل کریں اور "ہمیں ہر قسم کی تحقیقات سے متثنی قرار دیں۔"

سپریم کورٹ نے وجہ پوچھی تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ "پاکستان گٹر سے مشابہ ہے، میں شہید ہوا تو جنتی ہونگا، عمران خان نے بال ٹمپرنگ کی تھی، میری ساس کا نام رخشندہ ہے، مجھے رخشندہ سے محبت ہے اور میری چھوٹی سالی بہت تکلیف میں ہے۔"

سپریم کورٹ ان ٹھوس دلائل سے متاثر ہوئی لیکن فیصلہ کن دلیل اس کی بیوی نے دی جب سپریم کورٹ کے ججز سے سوال کیا کہ اگر کل آپ سے حساب مانگا گیا تو؟؟

اور سپریم کورٹ نے میاں بیوی کو ہر قسم کے سوال اور تحقیقات سے ماوراء قرار دے دیا۔

فائز عیسی نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ان کو حدیبیہ پیپر مل کی اربوں کی کرپشن سے نہ صرف نکال باہر کیا تھا بلکہ اس پر کوئی قانونی کاروائی تو کجا میڈیا میں بات کرنے پر بھی پابندی لگوا دی تھی۔
اس قسم کے فیصلوں کے بعد جب لندن میں اس کی دولت بڑھنے لگی تو آج سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ قاضی سے اس کی دولت کا حساب نہ مانگا جائے کہ کہاں سے آرہی ہے!!!

اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔

سپریم کورٹ کا جج ہونے کے ناطے قاضی فائز عیسی ریٹائرڈ ہوگا تو عوام کے پیسوں سے اس کو ۔۔

ماہانہ 9 لاکھ 28 ہزار روپے پنشن ملے گی،
56 ہزار خصوصی پنشن،
68 ہزار گھر کا کرایہ،
55 ہزار ماہانہ میڈیکل الاؤنس،
ایک ملازم،
1800 سی سی گاڑی بمع ایک ڈرائیور،
24 گھنٹے کی مستقل سیکیورٹی،
600 لیٹر ماہانہ پٹرول،
2 ہزار فون کالز کہیں بھی،
لاکھوں روپے کی بجلی اور گیس عوام کے پیسوں سے بلکل فری۔

یہ تنخواہیں اور مراعات یہ ججز اپنے لیے خود طے کرتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی "ذرعی آمدنی" ان کے علاوہ اور آج ہر قسم کے سوال سے بالاتر بھی قرار دے دیئے گئے۔

عدالتوں کو ٹھیک کیے بغیر پاکستان میں کوئی ایک بھی چیز ٹھیک نہیں کی جاسکتی اور اس کا آغاز ججوں کے احتساب اور جج بنانے کے طریقہ کار میں تبدیلی سے کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر وکلاء کو جج بنانے کا عمل بند کرنا ہوگا۔

تحریر شاہد خان

25/02/2021
https://youtu.be/_yyORpcHQto
01/12/2018

https://youtu.be/_yyORpcHQto

In this three part miniseries, we'll be unwrapping stereotypes about Pakistan as well as debunking myths created by mainstream media. My goal with this video...

05/10/2018

TM Travel & Tours
New Year Special: Thailand- Costa Cruise- Singapore
10 Nights /11 Days
31st Night in Singapore
2-Nights Bangkok - 2 Nights Pattaya – 3 Nights Costa Cruise – 3 Nights Singapore
Cost: US$ 1850/- Adult (sharing) USD 1189/- Child
(Air Tickets cost not included)

Tour Highlights:
 Costa Cruise : Pattaya- KOH Samui- Sea- Singapore
 Hotel 4*
 Daily breakfast
 Lunches & Dinners
 On Board entertainment
 Dinner cruise dinner – Bangkok
 Safari World with Marine park- Bangkok
 City Tour-Bangkok
 AL-Cazr show – Pattaya
 Coral island tour with lunch
 Elephant Show – Pattaya
 Gardens By The Bay – Singapore
 Jurong Bird Park
 Sentosa Island
 Universal studios
 All private luxury coach transfers
 3- Country visa must apply ( Thailand- Singapore & Malaysia) Cost included
 Airline ( Subject to booking)

For Booking & Visa Processing contact 923022340990
Agent commission per pckge 20,000/-PKR

08/08/2018

*کاش یہ اکٹھے ہوتے.....؟*

ہاری ہوئی پارٹیوں کے حالیہ اجلاس دیکھ کرمجھے جگتو فرنٹ یاد آرہا ہے۔ نئی نسل جگتو فرنٹ سے واقف نہیں، اس لئے تھوڑا سے آگاہ کردیتا ہوں تاکہ پڑھنے والوں کو حالیہ اجلاسوں کی پوری سمجھ آسکے۔ جگتو فرنٹ ایک ایسااتحاد تھا جس میں شامل لوگ ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے مگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس اتحاد کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ یہ پاکستان کے قیام کے چھ سال بعد ڈھاکہ کے بھارتی قونصلیٹ میں قائم ہوا۔ اس میں عوامی لیگ، گنگاتنتری دل، کمیونسٹ پارٹی، نظام اسلام پارٹی اور کرشک سرامک پارٹی شامل تھی۔ اس اتحاد میں شامل نظام اسلام پارٹی کی قیادت کا کہنا تھا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام کی شاخ ہے۔ جگتو فرنٹ میں مولانا اطہر، مولانا بھاشانی، فضل حق اور سہروری جیسے لیڈر شامل تھے جن کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ یہ عجب اتفاق تھا کہ اس اتحاد میں ایک ہی وقت میں انتہائی لبرل جماعتوں کے علاوہ اسلامی نظام کی خواہش مند پارٹیاں بھی شامل تھیں اور بعض تو وطن کے خلاف باتیں کرتی تھیں۔ سو، دوستو! یہ تھا جگتو فرنٹ۔
آج جب اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ پر ہاری ہوئی جماعتوں کا اجلاس ہوتا ہے تو بے اختیار جگتو فرنٹ یاد آجاتا ہے کیونکہ اس اتحاد میں پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی لبرل پارٹیاں بھی موجود ہیں ۔ مسلم لیگ جیسی قومی اور درمیانی سوچ کی جماعت بھی موجود ہے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو مذہبی سیاست کرتے ہیں۔ رہی محمود خان اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی، تو اس کے بارے میں وضاحت کی کیا ضرورت ہے، بس نام ہی کافی ہے جہاں کہیں محمود خان اچکزئی کا نام آتا ہے تمام پاکستانی سمجھ جاتے ہیں کہ نظریہ کیا ہے؟ تصویری جھلکیوں میں آفتاب شیر پائو بھی موجود ہیں، سنا ہے کہ اب یہ پارٹیاں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گی، باقی پارٹیوں کی تو سمجھ آتی ہے مگر آفتاب شیر پائو اور محمود اچکزئی کی پارٹیاں اندر کیسے احتجاج کریں گی ان کی تو اندر نمائندگی ہی نہیں ہے، چلو خیر یہ باہر اودھم مچا سکتی ہیں۔ جماعت اسلامی پہلے ایم ایم اے میں مولانا فضل الرحمٰن سے تنگ تھی، رہی سہی کسر اس اتحاد نے پوری کردی ہے جو مولانا پہلے حلف نہ اٹھانے کی باتیں کررہے تھے اب انہوں نے اپنے صاحبزادے اسد محمود کو ڈپٹی اسپیکر کے لئے نامزد کردیا ہے۔ سنا ہے جماعت اسلامی کو اس پر اعتراض ہے بلکہ اب تو جماعت کے کئی لوگوں کو مبینہ طور پراپنے امیر پر اعتراض ہے، پتہ نہیں اس اتحاد میں شامل جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما، اے این پی کے اسفند یار ولی کو دینی قاعدہ پڑھانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر اسفند یار ولی سرخ سویرا اتارنے میں کامیاب ہوتے ہیں، مسلم لیگ ن پتہ نہیں اگست کے اس مہینے میں محمود اچکزئی کے ساتھ مل کر کونسے ملی نغمے گاتی ہے یا اچکزئی اپنا نظریہ جگاتا ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ آصف علی زرداری کو لاہور، لاڑکانہ اورپشاور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا ارادہ رکھنے والے شہباز شریف کس طرح خورشید شاہ کو ووٹ دیں گے؟ واقفان حال کہتے ہیں کہ خورشید شاہ کو ووٹ دینا آسان ہے کیونکہ ن لیگ کے نزدیک شاہ صاحب اپنے بندے ہیں۔ اصل امتحان تو آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا ہے۔ آصف علی زرداری ووٹ دیتے وقت یہ ضرور سوچیں گے کہ میں ایک ایسے شخص کو ووٹ دینے لگا ہوں جو مجھے گھسیٹنے کا خواہش مند تھا، جو میرا پیٹ پھاڑنا چاہتا تھا اور میں نے بھی ان لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ ہر ایک سے صلح ہو سکتی ہے مگر شریفوں سے نہیں ہوسکتی۔ دوسرا اہم مسئلہ بلاول بھٹو زرداری کا ہے جسے بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کے سامنے پہلا سوال یہ ہوگا کہ یہ شخص میرے باپ کے بارے میں کیا کچھ کہتا رہا، کیا مجھے ایسے شخص کو ووٹ دینا چاہئے؟ پھر یہ لوگ میری والدہ سے متعلق کیا کچھ کہتے رہے، میری والدہ اور میری نانی کی تصاویر کی بے حرمتی کرتے رہے، کیا مجھے ایسے لوگوں کو ووٹ دینا چاہئے؟ پھر ان میں سے بہت سے لوگوں نے میرے نانا کی پھانسی پر مٹھائی بانٹی تھی، کیا ایسے لوگوں کو ووٹ دینا مناسب ہے؟ اسی طرح شہباز شریف کے سامنےبھی ایک سوال کھڑا ہوگا کہ میرا بھائی اور بھتیجی کہتے تھے کہ ’’آصف زرداری اور عمران خان دونوں ایک ہی ہیں، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں‘‘ کیا ان کے ساتھ چلوں؟

اس تمام صورتحال پر صوبیدار خلیل کا پوتا خوش ہے کہ چلو یہ سب اکٹھے تو ہوئے، ان کے نظریات مختلف سہی مگر چلو عمران خان کے خلاف تو ایک ہوئے ہیں۔ اس صورتحال پر پاکستانی عوام کی بھی ایک سوچ ہے، وہ سوچتے ہیں کہ

کاش یہ تمام رہنما ایک ہوتے، صرف پاکستان کے لئے۔

کاش! یہ اکٹھے ہوتے، اس مقصد کیلئے کہ جو بھی ہم نے لوٹ مار کی ہے وہ پیسہ پاکستان لے آتے ہیں۔

کاش! یہ اکٹھے ہوتے اس بات کے لئے کہ چلو اکٹھے ہو کر اپنے ملک کے لئے ڈیم بناتے ہیں۔

کاش! یہ ایک ہوتے اس بات پر کہ آئو ملک کو جہالت کے اندھیروں سے نکالتے ہیں، علم کی روشنی کے لئے کام کرتے ہیں، اپنے ملک کے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں۔

کاش! یہ ایک ہوتے کہ ملک سے غربت، افلاس اور بھوک کا خاتمہ کرتے ہیں۔

کاش! یہ اکٹھے ہوتے اس مقصد کیلئے کہ آئو ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کرتے ہیں، آئو ڈالر کو سستا کرنے کیلئے روپے کو مضبوط کرتے ہیں۔

کاش! یہ انصاف اور مساوات کیلئے ایک ہوتے۔

کاش! مگر کاش! ایسا نہیں ہے، یہ محض اپنے اقتدار کیلئے ایک ہوئے ہیں، انہیں ہار ہضم نہیںہورہی، یہ نیا جگتو فرنٹ اپنے لئے ایک ہوا ہے، پاکستان کیلئے نہیں۔ بقول نوشی گیلانی؎

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

04/07/2018

نواز شریف نے بجلی پوری کر دی تھی لیکن سوئچ کہاں لگایا تھا؟

یہ بتایا تھا کسی کو؟

نہ کوئی ھائیڈل پاور منصوبہ مکمل کیا
نہ کول پاور کا
نہ ونڈ پاور کا
نہ کسی ایٹمی بجلی گھر کا
نہ شمسی توانائی کا

پھر یہ سوئچ کہاں لگایا تھا جہاں سے بجلی آرہی تھی؟

جی وہ تیل سے بجلی بنا رہا تھا۔ دنیا کی سب سے مہنگی بجلی جس کو تھرمل بجلی بھی کہتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ جنریٹر چلا رہا تھا۔

یہ وہ بجلی ہوتی ہے جس کا خرچہ امریکہ، انڈیا اور چین جیسے بڑے اقتصادی ممالک بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ بھی اپنی آدھی سے زائد بجلی کوئلے اور بقایا پانی سے بناتے ہیں۔

اب ذرا توجہ سے پڑھیں۔

پاکستان میں تھرمل پاور پراجیکٹس یا سادہ لفظوں میں جنریٹرز نوے کی دہائی میں بے نظیر صاحبہ نے انسٹال کروائے اور پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی۔
ان "جنریٹرز" کی کل پیدواری صلاحیت 21000 میگاواٹ ہے اور یہ سارے نجی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

انتہائی مہنگے ہونے کی وجہ سے دیگر حکومتوں نے ان سے کم ہی بجلی بنائی۔ لیکن اس کے باؤجود 2013ء تک پاکستان تھرمل بجلی کے ضمن میں 480 ارب روپے کا مقروض ہوچکا تھا۔

2013ء میں نواز شریف آیا اور آتے ہی ان نجی کمپنیوں کو یک مشت 480 ارب روپے کی ادائیگی کر کے قومی خزانہ خطرناک حد تک خالی کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جنریٹرز ( آئی پی پیز ) زیادہ تر میاں منشاء کی ملکیت ہیں جس کو نواز شریف کا فرنٹ مین کہا جاتا ہے۔ لہذا بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ درحقیقت تیل سے بجلی بنانے والی یہ کمپنیاں نواز شریف کی ہی ہیں اور خزانہ خالی کروا کر نواز شریف نے خود اپنے پیسے وصول کیے ہیں۔

ان پاکستانی آئی پی پیز کی نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی تھرمل بجلی بنائی جاتی ہے یہ ان سب سے مہنگی ہیں تقریباً دگنی قیمت پر بجلی بناتے ہیں۔

اب آگے چلیں۔۔

جو 480 ارب روپے نواز شریف نے آئی پی پیز کو ادا کیے ان میں کوئی بھی بڑا ڈیم بنایا جا سکتا تھا جو پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محتاجی سے نجات دلا دیتا اور سب سے بڑھ کر پانی کی ضرورت بھی پوری کرتا۔

480 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد ان کا قرضہ 0 ہوگیا۔
لیکن اس کے بعد نواز شریف نے اپنے پانچ سالوں میں پچھلی حکومتوں کے بجلی کے لیے شروع کروائے گئے تمام منصوبے ایک ایک کر کے ناکام بنا دئیے۔

نندی پور پاور پراجیٹ ناکام
تھرکول پاور پراجیکٹ ناکام
قائداعظم سولر پارک ناکام
اور نیلم جہلم پر کام اتنا سست کروا دیا کہ تقریباً روک دیا۔ جس دوران انڈیا نے کشن گنگا ڈیم بنوا کر نیلم جہلم کی استعداد پر کاری ضرب لگائی یوں اس پر کئی گئی تمام محنت اور بے پناہ سرمایہ کاری تقریباً ضائع ہوگئی۔
(نواز شریف نے نیلم جہلم ڈیم پر کھڑے ہوکر کہا تھا کہ " ہم بھارت سے بجلی خریدیں گے")
جبکہ تربیلا، منگلا اور دیگر فوجی ڈیموں کی صفائی کا عمل روک دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی چلی گئی۔

جب بجلی کے متبادل منصوبے نہ رہے تو پاکستان نے تھرمل بجلی ہی بنانی تھی۔

تب نواز شریف نے دبا کر ان کمپنیوں کو بجلی بنانے کا سگنل دیا اور صرف پانچ سالوں میں ان کمپنیوں کی بدولت پاکستان 1100 ارب روپے مقروض ہوگیا۔ جو رقوم ان کو ادا کی گئیں ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔

اگر یہ کمپنیاں عدم ادائیگی کی وجہ سے آج بجلی کی سپلائی معطل کر دیں تو پورا پاکستان یکلخت اندھیروں میں ڈوب جائیگا کیونکہ بجلی کا کوئی متبادل بندوبست نہیں کیا گیا۔

نواز شریف نے بیک وقت دو بڑے فائدے حاصل کیے۔

(پہلا) ان آئی پی پیز کی مدد سے سینکڑوں ارب روپے کا فائدہ جو اس کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں پہچ گئے ہیں اور کچھ پہنچنے والے ہیں۔

(دوسرا) عوام خوش ہوگئی کہ "بجلی آرہی ہے" ۔ ان کو اندازہ ہی نہیں کہ ان کے سروں پر بجلی گرنے والی ہے۔

یہ ہے اصل حقیقت جس کو یہ خوب جانتے ہیں۔ تب ہی یہ " شریف " خاندان بار بار کہہ رہا ہے کہ " ہم نے تو بجلی پوری کر دی تھی۔ کل کو اچانک بند ہوگئی تو ہمیں نہ کہنا "

ویسے کیا آپ کو اندازہ ہے کہ چند گھنٹے لوڈ شیڈنگ کم کرانے کی نواز شریف نے آپ سے کیا قیمت وصول کی ہے؟

٭ چونکہ تاروں میں کچھ بجلی آرہی تھی اس لیے عوام مطمئن تھی اور ڈیم بنانے کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی۔ تب ڈیم نہیں بنائے گئے اور انڈیا نے بنا لیے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان خشک ہونے جا رہا ہے۔

٭ مہنگی ترین بجلی بنانے کے لیے ریکارڈ ساز قرضے لیے گئے جس کے لیے پاکستان کے موٹر ویز، ائرپورٹ اور دیگر اثاثے تک گروی رکھوائے گئے۔

٭ مہنگی بجلی نےکارخانوں کی پیدواری لاگت اتنی بڑھا دی کہ پاکستان کی اکثر صنعتیں بند ہوگئیں جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، برآمد کم ترین ہوگئیں، بے روزگاری اور مہنگائی تباہ کن سطح پر پہنچ گئی۔

٭ چونکہ پاکستان کی پوری بجلی نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جا چکی ہے اس لیے جنگ یا کسی بڑی ایمر جنسی کی صورت میں یہ غیر ملکی کمپنیاں بجلی کی پیدوار روک کر پاکستان کو خطرناک حالات سے دوچار کر سکتی ہیں۔

٭ اس عارضی بجلی کی وجہ سے ایک کرپٹ اور پاکستان دشمن شخص جاہل عوام سے دوبارہ لوڈ شیڈنگ کم کرانے کے نام پر ووٹ لے کر پاکستان کی مزید تباہی کا سامان کر سکتا ہے۔

ایوب خان نے بجلی کے جو منصوبے دئیے وہ اس کے جانے کے پچاس سال بعد بھی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

نواز شریف آخر کہاں سے پاکستان کو بجلی دے رہا تھا جو اس کے جانے کے چوبیس گھنٹے بعد معطل ہوگئی ؟

کبھی سوچا ہے؟

اگر نہیں سوچا تو اب سوچ لو!!!

Address

Qasimia R/A
Sharjah

Opening Hours

Monday 09:30 - 23:00
Tuesday 09:30 - 23:00
Wednesday 09:30 - 23:00
Thursday 09:30 - 23:00
Friday 03:30 - 23:00
Saturday 09:30 - 23:00
Sunday 09:30 - 23:00

Telephone

0559855004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al HUSAN MOBIL PHONE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al HUSAN MOBIL PHONE:

Share