Usman Bhatti

Usman Bhatti Developer � �

30/12/2022
30/12/2022
اپنی صبح کے مالک بنو(قاسم علی شاہ)’’جیف بیزوس‘‘ 171 بلین ڈالر کے ساتھ دنیا کا امیر ترین انسان بن گیا۔’’نوواک ڈی جوکو‘‘ د...
30/12/2022

اپنی صبح کے مالک بنو
(قاسم علی شاہ)
’’جیف بیزوس‘‘ 171 بلین ڈالر کے ساتھ دنیا کا امیر ترین انسان بن گیا۔’’نوواک ڈی جوکو‘‘ دنیا کا نمبر ون ٹینس پلیئر بن گیا۔’’بابر اعظم‘‘ دنیا کا بہترین بلے باز بن گیا ۔’’محمد بن راشد المختوم‘‘ نے دنیا کا سب سے بڑا ایکسپو قائم کیا۔’’جیمز سٹیوارٹ‘‘ ہالی ووڈکاسٹار بن گیا ۔’’رابرٹ لیوناڈو‘‘ دنیا کا بہترین فٹ بالر بن گیا۔ وغیرہ وغیرہ
یہ تمام باتیں سن کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ہماری ہی طرح کا ایک انسان اس مختصر سی زندگی میں اتنی شان دار ترقیاں کیسے کرلیتا ہے؟
اس سوال سے مجبور ہو کر ہم ان شخصیات کے بارے میں ریسرچ کرتے ہیں۔ ان کے انٹرویوز سنتے ہیں، ان کی آپ بیتی اور سوانح حیات پڑھتے ہیں اور دِل ہی دِل میں ان کی طرح کامیاب بن جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس بنیادی عادت کی بدولت یہ لوگ عام سے خاص بنے ، اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔
جی ہاں! ان تمام کامیاب ترین اور موثر ترین انسانوں میں جہاں اور بہت ساری چیزیں مشترک ہیں وہیں ان کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ یہ صبح سور ج طلوع ہونے سے پہلے جاگ جاتے ہیں۔ وہ وقت کہ جب الارم چلا چلا کر لوگوں کو بیدار کرنے کی خبر دے رہا ہوتا ہے اور وہ جاگ تو جاتے ہیں لیکن پھر غنودگی کا ایک زور دار جھونکا ان کے ذہن پر لگتا ہے اور وہ اپنے الارم کا گلہ دبا کر اپنے منہ پر تکیہ رکھ لیتے ہیں اور ایک بار پھر نیند کی وادیوں میں چلے جاتے ہیں تو ایسے میں یہ کامیاب لوگ اٹھتے ہیں، اپنے دِن کا آغاز کرتے ہیں اور خود کو تیار کرکے دنیا پر چھا جاتے ہیں۔
بادِ صبا کے جھونکوں میں خوش گوار احساس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی طاقت بھی ہوتی ہے جو جس انسان کے دِل ودماغ کو چھولے تو وہ حقیقی طورپر ایک باکمال انسان بن جاتا ہے۔ طلوع آفتاب سے پہلے والی روشنی کی چمک ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ جس پر پڑتی ہے اس کی زندگی میں روشنیوں کا بسیرا ہو جاتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ کہ آپ ﷺ نے دعا مانگی ہے کہ اے اللہ میری امت کے لیے دِن کے ابتدائی حصے میں برکت عطا فرما۔ (سنن الترمذی:1212)
جس چیز کے لیے سردار کائنات ﷺ نے دعا مانگی ہو پھر وہ خیر اور برکت سے کیسے خالی رہ سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اٹھ کر اپنے دِن کا آغاز کرنے والے لوگ شان دار ترقیاں حاصل کرلیتے ہیں۔
دسمبر 2018ء کو ایک کتاب شائع ہوئی جس کا نام ہے: The 5 AM Club اس کتاب کے مصنف رابن شرما ہیں جو کہ ایک بہترین موٹیویشنل ٹرینر اور سکسیس (Success) کوچ ہیں۔ آج سے بیس سال پہلے انہوں نے 5 AM Club کا نظریہ دیا تھا اور یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’’ اپنی صبح کے مالک بنو، خود کو کامیاب بناؤ۔‘‘
روبن شرما بذات خود ایک ایلیٹ پرفارمنس ایکسپرٹ اور لیڈرشپ کے موضوع پر اچھا خاصا عبور رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کلائنٹس کو بھی یہ راز سمجھایا اور اس فلسفے کی بدولت ان کی صحت ، خیالات و جذبات،قابلیت اور پروفیشنل ترقی میں بے انتہاء اضافہ ہوا۔
رابن شرما نے چار سال کے طویل عرصے میں یہ کتاب مکمل کی ۔کتاب میں موجود تمام نکات ان کی تحقیق اور آزمودہ تجربات پر مبنی ہیں۔یہ کتاب جب منظر عام پر آئی تو ہر طرف اس کے چرچے ہونے لگے اور کچھ ہی عرصے میں اس نے فروخت کے ریکارڈ توڑ دیے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا بھر میں مقبول ہوگئی اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے ۔دراصل اس کتاب کا فلسفہ اس قدرآسان اور شان دار ہے کہ جس نے بھی پڑھا ،وہ اس کو اپنانے پر مجبور ہوگیا۔رابن شرما کے بقول، دنیا میں موجود تمام وہ لوگ جوکسی بھی لحاظ سے لیڈرشپ کے عہدے پر ہوں ، وہ
5 AM Club
میں شامل ہوں گے ۔
آئیے ایک نظر اس شاندار کتاب پر ڈالتے ہیں۔
The 5 AM Club
میں مندرجہ ذیل فارمولے بتائے گئے ہیں:
(1) کامیابی کے لیے چار اندرونی زمینیں
آج کے دور میں ہر شخص خو دکوکامیاب دیکھنا چاہتا ہے ۔لیکن جب تک انسان اپنی اندرونی چار زمینوں کو تیار نہ کرلے تو کامیاب ہونا بہت ہی مشکل ہے۔
وہ چار زمینیں یہ ہیں:
مائنڈ سیٹ
ہارٹ سیٹ
ہیلتھ سیٹ
سول(Soul) سیٹ
’’مائنڈ سیٹ‘‘ کا تعلق نفسیات کے ساتھ ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں اورانھی رویوں سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ صرف ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کو بہتر کرکے انسان کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ، کیونکہ کامیابی حاصل کرنے میں اس کا کردار صرف 25فیصد ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ باقی تین زمینیں بھی تیار کرنی ضروری ہیں۔
اپنے ’’ہارٹ سیٹ‘‘کو بہترکرنا بھی ضرور ی ہے ۔یہ انسان کے جذبات ہیں ۔جس میں پیار ،غصہ ، محبت ،نفرت، غم اور سرور شامل ہیں۔
واضح رہے کہ انسان جس قدر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھ سکے گا ، اس قدر ہی اس میں لیڈرشپ کی صلاحیت پروان چڑھے گی ۔وہ انتقام کے بجائے درگزر اورمعافی سے کام لے گا اور اسی وجہ سارے لوگوں کا پسندیدہ بن جائے گا۔
تیسرے نمبر پر’’ہیلتھ سیٹ‘‘ ہے ،جس کا انسان نے ہر حال میں خیال رکھنا ہوتاہے، کیونکہ انسان جو کچھ بھی ہے ،اپنی صحت کی بدولت ہے۔اگر اس کی صحت ہی نہ رہے توپھر وہ جی بھی نہیں سکے گا اور نہ ہی اپنی اس زندگی سے لطف اٹھاسکے گا۔’’ہیلتھ سیٹ‘‘ کو بہتر کرنے کے لیے انسان کو کم سے کم خوراک لینی چاہیے ۔ورزش باقاعدگی کے ساتھ ہو اور پانی کااستعمال بھرپور ہو۔یاد رکھیں کہ اس چیز پر کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے ،ورنہ انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کرسکے گااور یوں وہ ترقی بھی نہیں کرسکے گا۔
چوتھے نمبر پر ’’سول سیٹ‘‘ ہے جس کو بہتر اور مضبوط کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔یہ انسان کا رب کے ساتھ تعلق ہے ،عبادت ، مراقبہ اور دعا ہے ۔اللہ کی نعمتوں کا شکر اور تمام مخلوق کے لیے خیرخواہی چاہنا ہے۔یاد رہے کہ ’’روحانی مضبوطی ‘‘ہی انسان کو وہ طاقت دیتی ہے جس کی بدولت وہ زندگی میں بہت آگے جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ ذہنی مسائل سے بھی بچ سکتا ہے۔
(2) عادات کاٹوٹنا اور بننا:
اس کتاب میں ایک بہترین نکتہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی عادات کس طرح ٹوٹتی اور بنتی ہیں۔ظاہر ہے کہ صبح اٹھنا ایک مشکل کام ہے اور اس پر استقامت اختیار کرنا اس سے بھی مشکل ۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنی عادت اس طرح بنادی جائے کہ صبح خود بہ خود اٹھاجائے ۔روبن شرما کہتے ہیں کہ انسانی عادات ٹوٹنے اور نئی عادات بننے کے لیے 66دِن درکار ہوتے ہیں۔یہ 22دِن کے تین سرکل ہوتے ہیں۔پہلے 22دِن مستقل مزاجی کے ساتھ ایک عادت پر عمل کرنے سے پرانی عادت ٹوٹ جاتی ہے ۔22دِن کے دوسرے سرکل میں نئی عادات کے راستے بنتے ہیں اور آخری 22دِنوں میں وہ عادت ہمارے تحت الشعور میں بیٹھ جاتی ہے اور پھر انسان خود بخود وہ کام کرنے لگ جاتا ہے۔
آپ نے اگر صبح جاگنے کا تہیہ کرلیا ہے تو ابتداء میں یہ کام بڑا مشکل لگے گا ،لیکن اگر آپ اس کو مستقل مزاجی سے کریں تو آہستہ آہستہ یہ آسان ہوتا جائے گا اور ا س کے بعد تو کوئی مشکل ہی نہیں رہے گا۔
محمد علی کلے کہتا ہے :
’’میں نے اپنی تربیت کے ایک ایک منٹ سے نفرت کی تھی لیکن میں نے کہا ، چھوڑنا نہیں ہے ۔آج تکلیف اٹھالو ، باقی کی زندگی چیمپئن بن کر گزرے گی ۔‘‘اور پھر ایسا ہی ہو۔
رابن شرما بتاتا ہے کہ صبح اٹھنے کے لیے آپ کو اپنے لیے کوئی ایک محرک ڈھونڈنا ہوگا جو آپ کو ترغیب دے ۔جب آپ کی آنکھ کھل جائے توانتظار مت کریں، فوراً بستر سے نکلیں ورنہ آپ کاذہن آپ کو ورغلانا شروع کردے گا کہ’’ اس پرسکون بستر کوچھوڑ کر اور باہر جاکر کیا کرلوگے ، سوجاؤ یار ، نیند کے مزے لو۔‘‘
لیکن آپ نے اس کی بات نہیں سننی ۔
اپنے اس عمل کو آپ مستقل مزاجی سے کرتے رہیں اورجب آپ کو محسوس ہو کہ آپ اس ٹریک پر چل پڑے ہیں تو خود کو شاباش دیں ،آگے کا کام آپ کے لیے آسان ہوجائے گا۔
(3) بیس/بیس/ بیس کا فارمولہ
جب انسان دِن بھرکی تھکاوٹ کے بعد پرسکون نیند لے لیتا ہے اور صبح جاگتا ہے تو اس کے دماغ کے تمام مسلز بڑے ہی متحرک ہوتے ہیں اور یہی وقت ہے جس میں انسان اپنے ذہن کو بہترین انداز میں پروگرام کرسکتا ہے اور اس پروگرامنگ کی بدولت وہ اپنے تمام دِن کو شان دار بناسکتا ہے جو کہ یقینا اس کی ذاتی اور پروفیشنل زندگی کوترقی کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔
رابن شرما صبح اٹھنے کے بعدوالے پہلے گھنٹے کو’’ فتح کا گھنٹہ‘‘ کہتا ہے اور اس میں وہ تجویز کرتا ہے کہ اس گھنٹے کو بیس بیس منٹ کے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر حصے میں الگ الگ سرگرمی کی جائے ۔یہ تین سرگرمیاں ’‘بھرپورحرکت‘‘ ،’’ خود کاجائزہ لینا‘‘ اور’’ خودنموئی‘‘ پر مشتمل ہیں۔
The 5 AM Club
کے مطابق فتح کے گھنٹے کے پہلے بیس منٹ میں بھرپور ورزش کرنی ہے اور گہرے گہرے سانس لینے ہیں۔ورزش اس انداز میں کرنی ہے کہ پسینے چھوٹ پڑیں۔یہ سرگرمی آپ کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ جاگنے کے بعد ہارڈ ورک کرنے سے ڈوپامین اور سیروٹونین کابہاؤ تیز ہوجاتا ہے،جس کی وجہ سے انسان کا ذہن چست ، طاقتور اور مضبوط ہوجاتا ہے اور اس کی کارکردگی میں جان آجاتی ہے۔یہ عمل روز کرنے سے انسان کامدافعتی نظام بھی مضبوط ہوجاتا ہے جس سے وہ بیماریوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اور یوں انسان ہمیشہ صحت مند اور فٹ رہتا ہے۔
اگلے بیس منٹ میں آپ کے پاس چار سرگرمیاں ہوتی ہیں:
ڈائری لکھنا ،پلاننگ کرنا ، ، مراقبہ ، عبادت اور دعا
اس کی بدولت آپ کے خیالات مثبت ہوں گے۔رب سے تعلق مضبوط ہوگا جو آپ کو احساس تشکر سے بھردے گا۔اس عمل سے آ پ کا شعور بڑھے گا اور آپ اپنے بارے میں آگاہی حاصل کرلیں گے ۔یہ تمام چیزیں آپ کو پرسکون رکھنے میں بھرپور مدد دیں گی جس کی وجہ سے آپ کی تخلیقی صلاحیت پروان چڑھے گی اور آپ بہترین پرفارمنس دے سکیں گے۔
20 منٹ کے تیسرے راؤنڈ میں آپ نے خود کو بہتر کرنا ہے ۔اس میں آپ اپنے گولز اور اہداف کا تجزیہ کرسکتے ہیں ۔کتاب پڑھ سکتے ہیں۔آڈیو کتاب (Audio Book) سن سکتے ہیں یا ایسی ہی کوئی بہترین ویڈیو دیکھ سکتے ہیں جس سے آپ کچھ نیا سیکھیں اور وہ آپ کی قابلیت کو مزید پروان چڑھائے ۔
رابن شرما کہتا ہے کہ ’’The 5 AM Club‘‘میں شامل ہونے کے بعد پہلے گھنٹے کو اس انداز میں گزارنے سے کچھ ہی دِنوں میں آپ اپنے اندرشان دار تبدیلیاں محسوس کرسکیں گے۔
(4) موبائل فون :تخلیقیت کا دشمن
اس کتاب کا ایک اہم اور کمال نکتہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں موجو دجتنے بھی باکمال اور کامیاب ترین افراد ہیں وہ خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھتے ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں دخل اندازی کی مرتکب ہورہی ہوں۔آج کے دورکا سب سے بڑا نشہ موبائل فون ہے اور یہی انسان کی تخلیقی صلاحیت میں انتشار کا سبب بھی بنتا ہے۔دنیا کے کامیاب لوگ اس چیز پر مضبوط کنٹرول رکھتے ہیں اور خود کو ایسی کسی بھی چیز کا غلام نہیں بننے دیتے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں بڑی بڑی کمپنیاں ہماری’’ توجہ‘‘ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالرز خرچ کررہی ہیں اور جب ہم اس جال میں پھنس جاتے ہیں تو پھر وہ اس سے اربوں ڈالرزکماتی ہیں۔آج کی سب سے قیمتی چیز انسان کا وقت اور توجہ ہے جو کہ بدقسمتی سے ہم بری طرح ضائع کررہے ہیں۔یاد رکھیں کہ فیس بک ، یوٹیوب ، ٹویٹر کے بے تحاشا استعمال سے آپ ’’فالور‘‘ تو بن سکتے ہیں، لیڈر کبھی نہیں۔
رابن شرما بتاتاہے کہ ضرورت کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ اپنے کوالٹی ورک پر خرچ کرنا چاہیے۔اس کے لیے وہ ایک پورا فریم ورک بھی بتاتا ہے کہ دنیا کے جتنے بھی عظیم لوگ ہیں ، وہ رات 8 بجے کے بعد خود کو موبائل سے دور کردیتے ہیں ۔وہ اپنی فیملی کو وقت دیتے ہیں۔کتاب پڑھتے ہیں اور 9:30 پر بستر پر چلے جاتے ہیں۔وہ بھرپور اور گہری نیندلیتے ہیں اور صبح تازہ دم ہوکر ’’The 5 AM Club‘‘کی روٹین پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔وہ اس لائف اسٹائل پر مکمل پابندی کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے دنیا پر راج کرتے ہیں۔
اپنے اندر بہترین عادات پیدا کرنے اور ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آپ کے لیے بے حد مفید رہے گا۔

’’اپنا بیڈ ٹھیک کرو‘(قاسم علی شاہ)آپ صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام کیا کرتے ہیں؟عام طورپر اکثر لوگ صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپ...
18/12/2022

’’اپنا بیڈ ٹھیک کرو‘
(قاسم علی شاہ)
آپ صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام کیا کرتے ہیں؟
عام طورپر اکثر لوگ صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنا موبائل فون چیک کرتے ہیں۔ کچھ اٹھتے ساتھ ہی بیڈ ٹی کے نام پر چائے کا کپ پیتے ہیں اور اس کے بعد باقی کام کرتے ہیں۔ کچھ لوگ باتھ روم جاکر منہ ہاتھ دھوتے یا شاور لیتے ہیں اور کچھ لوگ صبح جاگ کر بھی بستر پر لیٹے رہتے ہیں، وہ جاگ تو جاتے ہیں لیکن ان میں اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی اور کافی سارا وقت بستر پر لیٹے لیٹے گزار کر پھر اٹھ جاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنا بیڈ ٹھیک کرتے ہیں، تکیہ درست کرتے ہیں، موبائل، کتابیں اور دوسری چیزیں اپنی اپنی جگہوں پر رکھتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے کاموں کی طرف بڑھتے ہیں۔
آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ یہ تو ایک عام سی بات ہے لیکن درحقیقت یہ عام سی بات نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ موجود ہے۔
2014 میں یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن (امریکہ) کے گریجویشن کی اختتامی تقریب تھی اور اس تقریب میں ایک شخص نے خطاب کیا لیکن وہ خطاب اس قدر شاندار تھا کہ اب تک سوشل میڈیا پر اس کو 17ملین سے زیادہ لوگ دیکھ اور سن چکے ہیں۔
یہ امیریکن نیوی کا سابقہ سیلر (ر) ایڈمرل ولیم میکریوین تھا، جس نے بڑی سخت زندگی گزاری تھی۔ ولیم نے اس خطاب میں اپنی پروفیشنل زندگی کے بارے میں کچھ ایسی بہترین ٹپس دیں کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ان کا یہ خطاب جس نے بھی سنا، اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی بدلاو ضرور آیا۔
2017 میں ولیم میکریوین نے اپنی پروفیشنل زندگی کے ان ہی تجربات پر Make Your Bed
کے نام سے ایک شاندار کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب نے آتے ساتھ ہی تہلکہ مچادیا اور بہت جلد نیویارک ٹائم بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل ہوگئی۔ اس کتاب میں ولیم میکریوین نے کچھ ایسے اصول بتائے ہیں جن کو اپنا کر انسان زندگی میں بھرپور ترقی کرسکتا ہے اور اپنی مشکلات کو حل کرسکتا ہے۔
ولیم میکریوین جس وقت نیوی میں زیر تربیت تھا تو وہ صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام یہ کرتا کہ اپنی بیڈ کی چادر جھاڑتا، فوم ٹھیک کرکے اس پر چادر بچھاتا اور تکیے سے شکنیں دور کرکے سلیقے کے ساتھ رکھتا ۔ یہ کام وہ اس قدر بہترین انداز میں کرتا کہ چادر کے اوپر ایک معمولی شکن بھی دیکھنے کو نہ ملتی ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کا انسٹرکٹر روز اس کا بیڈ چیک کرتا اور جس روز بھی اس کے بیڈ پر معمولی سی شکن بھی ہوتی تو پھر ولیم کی شامت آجاتی ۔بطورِ سزا اس کو ساحل سمندر پر بھیج دیا جاتا اور اس کو حکم ہوتا کہ پہلے پانی میں خود کو گیلا کرواور اس کے بعد ساحل کی ریت پر لوٹ پوٹ ہوکر اپنا پورا جسم ریت سے بھردو۔یہ ایک تکلیف دہ سزا تھی ، جس سے بچنے کے لیے ولیم روز اپنا بیڈ مکمل طورپر ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا اورپھر رفتہ رفتہ یہ ولیم کی پکی عادت بن گئی اور اسی ایک عادت کی وجہ سے اس کو شاندار ترقیاں ملیں۔
دراصل صبح اٹھ کرجب انسان سب سے پہلے اپنے بیڈ کو درست کرتا ہے تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ میں نے دِن کا آغاز ایک کام کو بہترین انداز میں مکمل کرنے سے کیاہے۔اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور اس کے بعد پورے دِن میں جتنے بھی کام آنے ہوتے ہیں ،چاہے وہ مشکل سے مشکل ہی کیوں نہ ہوں توصبح بیڈ ٹھیک کرکے ملنے والے حوصلے کی بدولت انہیں بخوبی انجام دے دیتا ہے۔روزانہ یہ کام کرنے سے انسان کے اندرڈسپلن پیدا ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہر کام پرفیکٹ طریقے سے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ اس کتاب کا پہلا سبق ہے کہ روز اپنا بیڈ ٹھیک کرکے اٹھیں تاکہ آپ کے اندر ڈسپلن اور احساس ذمہ داری پیدا ہو اور
آپ زندگی میں آنے والے ہر کام کو بہترین انداز میں کریں اور یوں آپ ترقی کرتے جائیں گے۔
ٹریننگ کے دوران ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ولیم نے اپنے اس دِن کا ٹاسک پورا کرلیا لیکن اس کے باوجود بھی اس کے انسٹرکٹر نے اس کو بطورِ سزا ساحل پر جاکر ،اپنے جسم پر ریت ملنے کاحکم دیا ۔ولیم اٹھا ، اور چپ چاپ جاکر حکم کی تکمیل اور پھر واپس آکر اپنے انسٹرکٹر کے سامنے پیش ہوا۔انسٹرکٹر نے پوچھا:’’ولیم ! تم نے مجھ سے پوچھا نہیں کہ تمہیں یہ سزا کیوں ملی؟‘‘
دراصل میں تمہیں ایک سبق سکھانا چاہتا تھا ۔اس وقت تمہار ا کوئی قصور نہیں تھا ، تم سزا کے مستحق نہیں تھے لیکن پھر بھی تمہیں سزامل گئی ۔دراصل تمہیں یہ سکھانا مقصود تھا کہ زندگی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی ، کبھی کبھار ہمیں ایسی سزاؤں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں ہمارا کوئی قصورنہیں ہوتا لیکن اس وقت نہ ہی گلہ کرنا ہے اور نہ ہی شکایت ۔بس چپ چاپ سزاکاٹنی ہے اور پھر اس لمحے کو فراموش کرکے آگے بڑھنا ہے۔
یہ اس کتاب کا دوسرا سبق ہے کہ زندگی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھار تلخ بھی بن جاتی ہے اور انسان کو ایسا پٹختی ہے کہ اس کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں لیکن اس وقت کسی سے الجھنا نہیں ، شکوہ نہیں کرنا،اپنی منزل پر نگاہ رکھنی ہے اور چلتے رہنا ہے۔
امیریکن نیوی کی ٹریننگ میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جس میں سیلر کو Hell Week میں ایک ہفتہ گزارنا پڑتا ہے۔اس ایک ہفتے کے دورانیے میں انہیں بدترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے ۔انہیں ٹارچر بھی کیا جاتا ہے ۔ان کا کھانا پینا اور سونا بھی بدنظمی کا شکار ہوجاتا ہے۔اسی دوران ایک دِن انہیں ایک مخصوص علاقے میں جانے کا آرڈر ملتا ہے۔اس علاقے میں ہرطرف گیلی مٹی ہوتی ہے ۔جس پرکوئی بھی کھڑا نہیں رہ سکتابلکہ گھٹنوں تک اس گیلی مٹی میں دھنس جاتا ہے ۔سیلرز کو کہا جاتا ہے کہ تم نے پورا دِن یہاں کھیلنا ہے۔سارا دِن کھیل کھیل کر جب وہ تھک ہارجاتے ہیں تو اس وقت سورج غروب ہورہا ہوتا ہے اور موسم کی ٹھنڈک بھی بڑھ رہی ہوتی ہے۔
سارے سیلرز تھکاوٹ ، بھوک ، پیاس اورسردی سے نڈھال پڑے ہوتے ہیں کہ ایسے میں ایک انسٹرکٹر انہیں ذہنی طورپر بریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔وہ ان کے سامنے آکر کہتا ہے:
’’تمہیں ابھی اسی وقت اس مصیبت سے نجات مل سکتی ہے۔تمہیں آگ کے گرد بٹھالیا جائے گا اور کھانے کو گرم گرم سوپ بھی مل جائے گا، بس ایک شرط ہے۔تم میں سے پانچ آدمیوں نے ہمت ہارجانی ہے اور اعلان کرلینا ہے کہ ہم ہار گئے۔‘‘
جب ولیم کے گروپ کے ساتھ ایسا ہوا تو ان میں سے ایک سیلر اٹھا اور اس نے کہا :ٹھیک ہے میں ہارمانتا ہوں ۔اس کاخیال تھا کہ میری دیکھا دیکھی اور لوگ بھی آجائیں گے اور ہمیں اس آزمائش سے نجات مل جائے گی۔اتنے میں ایک جانب سے کسی سیلر نے ایک گانا گانا شروع کیا جس کے بول بہت ہی جذباتی تھے ۔یہ گانا سن کر باقی سب نے بھی اونچی آواز میں وہ گانا شروع کرلیا اور ان کی امید اورحوصلہ ایک بار پھر جوان ہوگیا اور وہ اپنے اس عمل سے یہ ظاہر کررہے تھے کہ جو بھی ہو ہم نے ہار نہیں ماننی۔ مزے کی بات یہ کہ جس سیلر نے ہار مان لی تھی وہ بھی واپس ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور سب کے سب گانا گانے لگے ۔ان کے چہرے جذبات سے تھمتھمارہے تھے اور وہ مکمل جوش کے ساتھ اس عمل میں اس حد تک مصروف ہوگئے کہ انسٹرکٹر کے چلانے کے باوجود بھی وہ خاموش نہ ہوئے اور مسلسل گاتے رہے۔اس گانے کی وجہ سے سب کے چہروں پر چھائی تھکاوٹ ، اداسی اور مایوسی ختم ہوگئی اوروہ تازہ دم ہوگئے۔
یہ اس کتاب کا تیسرا سبق ہے کہ مشکل وقت میں جب سب لوگوں کا حوصلہ ماند پڑچکا ہو اور وہ ہمت ہارچکے ہوں تو ایسے میں ایک انسان کی ہمت اور امید باقی سب میں بھی امید کا دیا روشن کرسکتی ہے۔
جس دِن ولیم میکریوین کی نیوی میں ٹریننگ شروع ہوئی، اس کے بیج فیلو کی تعداد 150تھی۔ان کے انسٹرکٹر نے ان کے امیدوں کو توڑتے ہوئے کہا:
’’میں تمہیں بھرپور مشقت میں رکھوں گا، تمہیں ٹارچر کروں گا،تمہیں اس قدر آزمائش میں ڈالوں گا کہ تم ساری زندگی اس مرحلے کو یاد رکھوگے ۔اس لیے اس دوران اگر تم میں سے کوئی اس پر مشقت مرحلے سے بھاگنا چاہے تو وہ سامنے لگی بیل تین بار بجاسکتا ہے۔اس کو آزادی مل جائے گی ، وہ یہاں سے چلا جائے گا اور گھر میں ایک پرسکون زندگی گزارسکے گا،لیکن ۔۔۔۔یہ بات یاد رکھنا کہ اگر تم نے ہار مان لی اور اپنے حوصلے کوتوڑدیاتو یہ ایک پچھتاوا بن جائے گا جو ساری زندگی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔‘‘
ٹریننگ کے اختتام پر 150میں سے صرف33لوگ باقی بچے تھے ۔
یہ اس کتاب کا چوتھا سبق ہے کہ زندگی میں چاہے جیسے بھی حالات پیش آئیں ، کبھی ہار نہیں ماننا، اپنے جذبے کو تازہ رکھنا ہے توپھر تمہیں ایساحوصلہ مل جائے گاجس کی بدولت ان سارے حالات کو برداشت کرسکوگے۔
ولیم میکریوین نے بھی ہار نہیں مانی ،ایک سخت ترین ٹریننگ کے بعد وہ ایک قابل سیلر بناورپھر ایک شاندار کیرئیر اس کا منتظر تھا۔وہ ترقی کرتے کرتے ایڈمرل کے عہدے تک پہنچ گیا۔یہی وجہ تھی کہ آج وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن چکا ہے اور لوگ اس کے تجربات سے استفادہ کرکے اپنی زندگیوں کو سنوار رہے ہیں۔

18/12/2022

.📌ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں کا کوئی شوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے. جنکی ماؤں کو سمارٹ فونز کے لاک کھولنا نہیں آتے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں فلٹرز سے دور ہیں بس صابن کی ٹکیہ، دنداسہ، تبت، سنو کریم اور تبت پاؤڈر ہی جنکا ٹوٹل میک اپ ہے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں اتنی سادہ ہیں کہ انہیں اپنی سالگرہ کا بھی پتہ نہیں ہوتا.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں نے صبر شکر کیساتھ انتہائی کم ضرورتوں میں اپنی زندگی گزار دی ہے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں انہیں گھر سے رخصت کرتے وقت See you soon نہیں بلکہ فی امان اللہ کہہ کر اللہ کے حوالے کرتی ہیں اور چہرہ چادر کی اوٹ میں چھپا کر ہلکا سا دروازے سے باہر سرک کر تب تک دیکھتی رہتی ہیں جب تک بچہ نظروں سے اوجھل نہ ہو.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں کا لباس بس شلوار قمیض، ازار چادر، سینہ بند اور برقعے پر ختم ہو جاتا ہے وہ ٹائٹس، پلازو، کرتی، گھاگھرا، پٹیالہ کچھ بھی نہیں جانتیں.

📌 ہاں ہم وہ آخری پیڑھی ہیں جن کی مائیں ان کی پیدائش پر چھوٹی چھوٹی تلائیاں سیتی ہیں چارپائی کے ساتھ جھولا باندھتی ہیں اور ڈھائی سال ہمیں اپنے سینوں سے پلا کر سینے لٹکوا لیتی ہیں.

📌 جی ہاں ہم وہ آخری پیڑھی ہیں جن کی مائیں فجر سے پہلے جانور کا دودھ نکال لیتی ہے فجر کی نماز کے متصل بعد چاۓ کی پتیلی چولہے پر چڑھا کر آٹے کے پیڑے کوٹ کر ہوا میں اچھال کر توۓ پر دھر چکی ہوتی ہیں.

📌 باخدا ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں ہمیں کھو دینے کے بعد پھولوں میں لِپٹے ہماری تصویریں فیس بک وٹس اپ پر ڈال کر دعاۓ مغفرت کی التجاء نہیں کریں گی بلکہ اپنی پینشن نکلوا کر مہینہ بھر دودھ بیچ کر چار پیسے کما کر وہ پیسے ہمارے نام کے مان کر کسی مسجد مدرسے میں دے آئیں گی.

📌 اور ہاں یہ اکیلی کتابوں کی ہی نہیں ایسی ماؤں کی بھی آخری صدی ہے باخدا ہماری اولادیں اگلی صدی میں ایسی ماؤں کو ترسیں گی اور تب تک ایسی ساری ماؤں کی ہڈیاں قبر میں چُورا چُورا ہو چکی ہوگی....

29/09/2022

ایک جٹ کا رشتہ لکھنو میں ہوگیا
بارات جانے سے پہلے ماں نے سمجھایا,
"بیٹا ! لکھنو کے لوگ بہت مہذب ھوتے ہیں، کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے جٹوں کی بدنامی ھو"

جٹ نے فرمانبرداری سے پوچھا،
"ماں جی ، میں کرنا کی اے؟؟"
ماں بولی،
"بیٹا جب سسر ملنے کو آئے تو کہنا، ابا حضور آداب اور جب
ساس ملے تو کہنا، امی حضور آداب___
کھانا کھانے سے پہلے ھاتھ دھونا، چھوٹے نوالے لینا اور پلیٹ میں بالکل تھوڑا کھانا ڈالنا,
اور ہاں ایک اہم بات، لکھنو کے لوگ کھیر کو سویٹ ڈش کہتے ھیں، تم بھی سویٹ ڈش ہی کہنا"

بارات لکھنؤ پہنچی۔
سسر آیا تو دلہا بولا، "ابا حضور آداب"
سسر بہت خوش ھوا بولا، کتنا مہذب ہے ھمارا بیٹا۔
جب ساس ملی تو اسے کہا، "امی حضور آداب"
وہ بھی بہت خوش ہوئی۔

کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور آدابِ تناول پر میزبان عش عش کر اٹھے۔
سسر سے نہ رہا گیا اور بولا، "بھئی ھم نے تو سنا تھا کہ جٹ لوگ بس گنوار ہی ہوا کرتے ھیں ، مگر تم نے ثابت کیا کہ ہمارا داماد تو بہت ہی مہذب ہے"

دلہا جذباتی انداز میں بولا،
"اجے تُسی تہذیب ویکھی کتھے وے، ڈیلے تے تہاڈے اودوں پاٹنے نے جدوں میں کھیر نوں سویٹ ڈش آکھیا۔

21/09/2022

ہم لوگ پینڈُو سے ماڈرن کتنی قیمت دے کر ہوئے؟؟

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکّر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔۔ ہم نے آسانیاں ڈُھونڈیں اور اپنے لیے مُشکلیں کھڑی کر دیں۔۔ آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔۔ ہم نے خود اپنے اوپر جِینز مُسلّط کی اور اُس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔۔ ہمیں داڑھی مُونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!

ہم نے حُقّہ چھوڑ کے سگریٹ اُٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چِلّم دے کر اُسے پینا شروع کر دیا۔۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟

ہم نے لسّی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستُّو ترک کیا اور سلش کے جام اُنڈیلے، ہم نے اِملی آلو بُخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مُہر بند ڈبے خرید کے بچّوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتّے کا ہوتا ہے۔۔ ہم نے ہی اِس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔۔

ہم نے دُودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چِٹّا سفید مکّھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اُس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دُودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!

اصلی دُودھ سے ہمیں چائے میں بُو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دُودھ نہیں۔۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سُوکھا دودھ باہر مُلک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!

ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اُس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔۔

ہم گُڑ کو پینڈُو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔۔ اب ہم اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گُڑ بھی کھاتے ہیں تو پِیلے والا کہ بُھورا گُڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔۔

آئیں، ہم سے مِلیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹُونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ اُبال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پِیتے ہیں۔۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔۔

ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں، چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اُس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اُٹھ جانا تھا۔۔

سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔۔ وہی سُوکھے پِسے ہوئے پتّے جب حکیم پچّاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔۔

پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹّھی کا ٹُکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔۔‘

ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون مِلا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔۔

ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے، ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچّوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔۔ ہم اردو یا انگریزی کے رُعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈُھونڈتے ہیں کہ ہم ’مِس فِٹ‘ کیوں ہیں!!

عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکُون سے بیٹھ گئے۔۔ ’فورٹی رُولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چُومتے نہیں تھکتے۔۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دِمنہ اور اپنے دیسی قصّے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ اُستاد مال تو اپنا تھا۔۔

جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں، پاؤلو کوہلو اُسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بِگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصّے ہیں، ہماری جانے بلا!!

ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نِیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سُورج سخت ہو گئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چُکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹّی کی خوشبُو کو ہم نے عِطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔۔

وہ بابا جو نِیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حُقّے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔۔ اُسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نئیں آتی!!

Address

Damac Business Tower, Business Bay
Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman Bhatti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Usman Bhatti:

Share