Al Huda Online Quran Academy

  • Home
  • Al Huda Online Quran Academy

Al Huda Online Quran Academy You can watch everything here like and subscribe our page Thanks

ARE YOU LOOKING BEST QURAN ACADEMY ??

�BOOK YOUR CLASS NOW,�

Al Noor is International Online Quran Academy.

�We are Teaching in English,Arabic,Pashto,Hindi and Urdu.
�We Provide 1 to 1 Class to Every
Student.
� We Offer Home Based Learning
�We Don’t Take Any Registration
Fee.
�The Quran Tutors are Highly
Qualified and Trained.
�We Charge Very Affordable

Monthly
Fee. We Offer 3 Days Free Trial Classes

Students of All Nations are Welcome
https://www.facebook.com/965156846894302/posts/3422044007872228/

18/03/2024

آج کل کم فہم لوگ علماء کو نشانہ بنا رہے کے علماء ہمیں خود سے قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے کیوں منع کرتے ہے۔؟ علماء اس بات سے خوب واقف ہے کے اگر جاہل لوگ خود سے ترجمہ پڑھینگے تو کافی لوگوں کو گمراہ کرینگے اس کی مثال انجنئیر کی لے لے کتنے لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ کیونکہ ترجمہ پڑھنا آسان ہے سمجھنا مشکل ہے اسلئیے۔
قرآن کریم کی آیات میں عام طور سے دو طرح کے مضمون ہوتے ہیں:
١) عام وعظ ونصیحت کی باتیں، سبق آموز واقعات، خوف الٰہی، فکر آخرت اور جنت وجہنم کا تذکرہ وغیرہ۔
٢) وہ آیات جن میں شریعت کے احکام وقوانین، عقائد وعبادات کے مسائل وغیرہ ذکر ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کی آیات کے معنی ومفہوم کو معمولی عربی پڑھا ہوا شخص بھی ادنی غور و تدبر سے سمجھ سکتا ہے، البتہ دوسری قسم کی آیات کو کماحقہ سمجھنے کے لیے اسلامی علوم میں پوری مہارت اور بصیرت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ احکام ومسائل کے مضمون والی آیات کو ان علوم میں پختگی حاصل کیے بغیر سمجھنا انتہائی دشوار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ باوجود اہل زبان ہونے کے قرآن کریم کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں طویل مدتیں صرف کیا کرتے تھے، جیسا کہ صحابہ کرام ؓکے اس حوالے سے واقعات مشہور ہیں، موطّا امام مالک کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے صرف سورہ بقرہ سیکھنے میں پورے آٹھ سال صرف کیے۔
اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ کے لیے ان کی عربی دانی فہمِ قرآن کے لیے کافی نہیں تھی، بلکہ باقاعدہ ان کو نبی اکرم ﷺ سے قرآن کریم کی مراد و مفہوم کو سیکھنے کی ضرورت تھی تو آج چودہ سو سال بعد غیر اہل زبان کے لیے صرف عربی جاننا یا صرف اردو ترجمہ پڑھ کر قرآن کریم کے تمام مضامین کو سمجھنا کیسے ممکن ہوگا ؟
اور یہ بات بھی ہر ذی شعور سمجھتا ہےکہ صرف انگریزی زبان جاننے والا میڈیکل کی کتابیں پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی تعلیم اس فن کے ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی حاصل کرنی پڑتی ہے تو قرآن کریم کے معانی ومطالب سمجھنے کے لیے صرف عربی سمجھنے کو کیوں کافی سمجھ لیا جاتا ہے؟ جبکہ بعض ستم ظریف تو صرف قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ کر ہی اپنے آپ کو قرآن کریم کا عالم سمجھنے لگتے ہیں اور قرآن کریم کی من مانی تشریح کرتے ہیں، جو بسا اوقات سلف صالحین کی تفسیر کے برخلاف ہوتی ہے۔
خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نہایت خطرناک طرز عمل ہے جو دین کے معاملے میں بہت گمراہ کن اور ہلاکت کی طرف لے جانے والا ہے، اسی طرزعمل پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے قرآن کے معاملے میں بغیرعلم کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے "۔ اسی طرح فرمایا: "جس نے قرآن کے معاملے میں محض اپنی رائے سےگفتگو کی اور کوئی بات صحیح بھی کہہ دی، تب بھی اس نے غلطی کی "۔ (ابو داود و نسائی، از الاتقان فی علوم القرآن : ج ٢ ص: ١٧٩ )
لہذا جو لوگ علوم عربیہ سے ناواقف ہوں، ان کے لیےبہتر یہ ہے کہ وہ مستند علماء کرام( جو تفسیرِقرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں) سے روزانہ سبقاً سبقاً قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھیں یا ہفتہ میں ایک دن کسی مستند عالم دین کے درس قرآن میں جاکر ان کے درس کو سن کر قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اردو کی معتبر ومستند تفسیر کو کسی معتبر عالم کی رہنمائی میں مطالعہ کریں، اس طور پر کہ جہاں جو بات سمجھ نہ آئے، خود سے فیصلہ کرنے کے بجائے ان سے رجوع کرلیا کریں تاکہ قرآنی ہدایت کا نور اس کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے حاصل ہو جائے۔

Address


Telephone

+923129858066

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Huda Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share