Multi Tech. Training Institute

  • Home
  • Multi Tech. Training Institute

Kashmir Means

K = Killing of Innocents...
A= Armed Forces Everywhere...
S= Sacrifice of Youth....
H= Home of Terrorists....
M= Modern Western System....
I= Indefinite Blood Streams....
R= Race of Death....

20/03/2026
19/03/2026

اے آئی اور ڈیجیٹل ثقافت :اے آئی کے دور میں اصل طاقت ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ذوق بن چکا ہے

مصنوعی ذہانت نے دنیا کو تیزی سے بدل دیا ہے، مگر اس تبدیلی کے درمیان ایک نیا لفظ خاموشی سے ابھرا ہے جو ٹیکنالوجی سے زیادہ انسان سے جڑا ہوا ہے۔ یہ لفظ ہے “ذوق”۔ آج کی سلیکون ویلی میں جہاں پہلے “جدت” اور “انقلاب” جیسے الفاظ گونجتے تھے، اب بات اس پر ہو رہی ہے کہ اصل فرق کون پیدا کرے گا، اور جواب دیا جا رہا ہے کہ وہ فرق ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان کا ذوق پیدا کرے گا۔

اہلِ ٹیک کی رائے میں اب وہ زمانہ آ رہا ہے جہاں ہر کوئی اے آئی کے ذریعے کچھ بھی بنا سکتا ہے۔ کوڈ لکھنا، ایپ تیار کرنا، ڈیزائن بنانا، یہ سب پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہو چکا ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں رہا کہ “آپ کیا بنا سکتے ہیں” بلکہ یہ ہے کہ “آپ کیا بنانا چاہتے ہیں”۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذوق کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ مہارت اور ٹیکنیکل علم ہی کامیابی کی کنجی ہیں، مگر اب منظر بدل رہا ہے۔ اگر ہر شخص کے پاس وہی ٹولز ہوں، وہی اے آئی، اور وہی طاقت، تو پھر کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کون بہتر انتخاب کرتا ہے، کون بہتر چیز تخلیق کرتا ہے، اور کون لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی ذوق ہے، اور یہی اب اصل برتری بن رہا ہے۔

مگر اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو کم نظر آتا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اس لفظ کو ایک نئے انداز میں استعمال کر رہی ہیں۔ وہ یہ تاثر دے رہی ہیں کہ ان کے اے آئی ٹولز نہ صرف طاقتور ہیں بلکہ تخلیقی بھی ہیں، انسانی بھی ہیں، اور ذوق رکھنے والے بھی ہیں۔ اشتہارات میں انسانی لمحات دکھائے جا رہے ہیں، جیسے لکھنا، سوچنا، کھیلنا، مگر پسِ منظر میں وہی مشین موجود ہے جو ہر چیز کو خودکار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ تضاد دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ ایک طرف اے آئی کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ انسانی تخلیق کا ساتھی ہو، اور دوسری طرف وہی ٹیکنالوجی انسان کے بہت سے کاموں کو خود انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “ذوق” کو ایک خوبصورت پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایک پیچیدہ حقیقت کو نرم انداز میں پیش کیا جا سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ ذوق صرف دیکھنے یا جاننے کا نام نہیں بلکہ محسوس کرنے کا نام ہے۔ خوبصورتی کو سمجھنا ایک بات ہے، مگر اس سے متاثر ہونا ایک بالکل مختلف تجربہ ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو انسان کو مشین سے الگ کرتا ہے۔ آج تک کوئی اے آئی ایسا نہیں جو واقعی کسی خیال، فن یا حسن کو محسوس کر سکے۔

اسی لیے یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ اگر سب کچھ اے آئی کر سکتا ہے تو پھر انسان کی اصل اہمیت کیا رہ جائے گی۔ شاید جواب یہی ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی آگے بڑھ جائے، ذوق، احساس اور انتخاب کی طاقت اب بھی انسان کے پاس ہی رہے گی۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

ماخذ: Kyle Chayka کی تحریر اور تجزیہ برائے اے آئی اور ڈیجیٹل ثقافت: نیویارکر

, , , , , ,

01/01/2026

انعامی مقابلہ : اے آئی کی دنیا کا لوگو / ڈی پی ڈیزائن کریں۔جیتنے والے کو ایک سال کی گوگل پرو کی سبسکرپشن اور جس جس نے ووٹ دیا ہو گا (لائیک وغیرہ) ان کوملے گا دھرووراٹھی کے اے آئی کورس کا لنک۔ اس لیے ووٹ / لائیک لازمی کریں۔

ٹیچر حضرات آن لائن ٹیچنگ کر کےکیسے بہترین انکم حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔🌹ایسے ٹیچر حضرات جو کسی بھی سبجیکٹ کو پڑھانے میں ماہر...
11/10/2025

ٹیچر حضرات آن لائن ٹیچنگ کر کےکیسے بہترین انکم حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔

🌹ایسے ٹیچر حضرات جو کسی بھی سبجیکٹ کو پڑھانے میں ماہر ہیں ان کے لئے آن لائن ٹیچنگ فیلڈ میں سوچ سے کہیں زیادہ سکوپ ہے اور بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے۔۔۔

🌹خاص کر اگر آپ ایک خاتون ٹیچر ہیں اور کوئی سبجیکٹ اچھے سے پڑھا سکتی ہیں اور ساتھ بچوں کی کاؤنسلنگ بھی کر سکتی ہیں تو پاکستان میں معروف سکولز اور کالجز میں جتنی پورے ماہ کی فیس ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ فیس ایک بچے کی دی جاتی ہے۔۔۔

💲دنیا بھر سے لاکھوں ٹیچرز آن لائن پڑھا کر بہترین انکم حاصل کر رہے ہیں، آن لائن فیلڈ میں ٹیچر حضرات کی بہت مانگ ہے اور معاوضہ بھی بہت ہی اچھا دیا جاتا ہے۔۔۔

✈️صرف انڈیا کی بات کی جائے تو انڈین ٹیچرز دنیا بھر میں مقبول ہیں گھر بیٹھے ٹیوشن پڑھا کر لاکھوں کما رہے ہیں، انڈیا میں سینکڑوں آن لائن کوچنگ، آن لائن ٹیوشن سینٹرز ہیں جہاں سے دنیا بھر کے سٹوڈنٹس کو آن لائن پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا رہی ہے۔۔۔

❤️پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستانی ٹیچرز کی بھی بہت مانگ اور ویلیو ہے، پاکستانی ٹیچرز کا انداز اور طرز انڈین سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے اسی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں پاکستانی ٹیچرحضرات دنیا بھر کی نامی گرامی یونیورسٹیز، کالجز اور پرائیویٹ فرمز میں آن لائن اور فزیکلی ٹیچنگ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔

🌷پاکستان میں بہت سے قابل اور ماہر ٹیچرز حضرات موجود ہیں، اپنے فن اور علوم میں یکتا ہیں مگرافسوس یہ ہے کہ اس طرف کوئی کسی کی رہنمائی نہیں کرتا جن کو علم ہے وہ بھی زیادہ تعاون اور گائیڈ نہیں کرتے، آن لائن فیلڈ میں کوئی کسی دوسرے کو نہ تو بتاتا ہے اور نہ ہی راستہ دکھایا جاتا ہے ۔۔۔

🎯 اگر آپ سکول، کالج، یونیورسٹی سبجیکٹس کی ٹیوشن اچھے انداز میں پڑھا سکتے ہیں اور سٹوڈنٹس کو اچھے سے سمجھا سکتے ہیں تو یقین جانیں آپ گھر بیٹھے اتنی بہترین انکم حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ کی سوچ ہے۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــ
🌷اگر آپ ایک اچھے ٹیچر ہیں تو آپ آن لائن فیلڈ میں ضرور آئیں گھر بیٹھے ان شاء اللہ بہترین انکم حاصل کریں گے۔۔۔

❤️جس طرح آن لائن قرآن ٹیچنگ میں پاکستان کے اساتذہ دنیا بھر میں مشہور و معروف ہیں اور والدین شوق سے پاکستانی ٹیچرز سے پڑھانا چاہتے ہیں اسی طرح دوسرے سبجیکٹس کی بھی مانگ اور سکوپ ہے۔۔۔

✈️ دنیا کے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں جتنے بھی سبجیکٹس پڑھے پڑھائے جاتے ہیں وہی سب آن لائن بھی پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے۔۔۔

📶خاص کر حالیہ کورونا کے بعد آن لائن ٹیچنگ فیلڈ میں بے تحاشہ سکوپ اور ڈیمانڈ بڑھا ہے بچوں کے والدین اور عام لوگوں کی خواہش یہی ہے کہ آن لائن ہی پڑھا جائے۔۔۔

✈️یورپ، امریکہ،کینڈا، آسٹریلیا اور دوسرے ممالک میں والدین بچوں کو آن لائن ٹیوشن پڑھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں،
🌹خاص کر مسلم والدین کی اولین ترجیح اور خواہش یہی ہوتی ہے کہ بچہ ایک ہی جگہ یا ایک ہی ادارے سے اسلامک و سکولنگ سبجیکٹس کی ٹیوشن لے۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــ
♻️ بچوں کے سکول سبجیکٹس میں میتھ/ سائنس/ فزکس/ کمسٹری/ بائیولوجی/ لینگویجز/ سوشل سٹڈی اور دوسرے سبجیکٹس کی بہت ہی اہمیت اور مانگ ہے۔۔۔

🌷اس کے علاوہ وہ سبجیکٹس جن میں حد سے زیادہ سکوپ ہے اور آن لائن ٹیوشن میں بہت ہی ڈیمانڈ اور سکوپ ہے ان میں۔۔۔
بزنس اینڈ مینجمنٹ/ کمپیوٹر سائنس/ اے آئی/ پروگرامنگ/ ڈیزائننگ/ اکنامکس/ الیکٹرونکس/ انرجی/سولرٹیکنالوجی/ ارتھ سائنس/ انجینئرنگ/ انوائرمینٹل/ میتھا میٹکس/ ہسٹری/ لاء/ سائیکالوجی/ پیتھالوجی/ ڈیٹا انالیسز/ ہیومنیٹیز/ لینگویجز/ آرٹ اینڈ کلچرز/ آرکیٹیکچرز،/ لائف کمیونکیشن/ سوشل سائنس/ایجوکیشن ٹیچرز ٹریننگ اس کے علاوہ بھی بہت سارے سبجیکٹس ہیں جن کی بے تحاشہ ڈیمانڈ ہے۔۔۔

🤔یہاں ایک سوال ہوگا کہ یورپ امریکہ کے لوگ پاکستانی ٹیوٹرز سے کیوں پڑھائیں گے بھلا۔۔۔؟

😊اس کا جواب یہ ہے کہ یورپ امریکہ کے ٹیوٹرز بہت مہنگے پڑتے ہیں تو عموماً پاکستانی والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ آن لائن کسی ٹیوٹر سے پڑھایا جائے۔۔۔

ـــــــــــــــــــــــــ
👍کمنٹ سیکشن میں آن لائن ٹیچنگ کے حوالے سے دنیا بھر کی ٹاپ ویب سائٹس کے لنکس دیے گئے ہیں ان سب کو سٹڈی کریں سرچ کریں اور کوشش کریں ان شاء اللہ العزیز سوچ سے کہیں زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔

📶اس کے علاوہ ایک بڑا فائدہ ان پلیٹ فارمز کا یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کامیاب ہوگئے اور آپ کا ٹیچنگ سٹائل پسند آگیا تو کالجز یا یونیورسٹیز آپ کو مستقل ہائیر کر لیتی ہیں اور فی گھنٹہ یا فی لیکچر کے حساب سے آپ کے ساتھ طے کر لیا جاتا ہے۔۔۔

♻️لہذا اگر آپ ایک اچھے اور ماہر ٹیچر ہیں اور کوئی سبجیکٹ اچھے سے پڑھا سکتے ہیں تو اپنے لئے پلان کریں، یورپ امریکہ کے سکولز سرچ کریں ان کا سلیبس اور انداز سیکھیں اور باقاعدہ ٹریننگ لیں
💲یقین جانیں اگر آپ اس فیلڈ میں کامیاب ہوگئے تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔۔۔

-----------
💲آپ صرف اپ ورک کے دئے گئے ان لنکس کو اوپن کر کے ٹیچرز کے فی گھنٹہ کے حساب سے انکم، فی گھنٹہ ریٹ چیک کر کے ماہانہ انکم کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ٹیوشن پڑھا کر کتنا کمایا جا سکتا ہے۔۔۔

❤️اس کے علاوہ
کمنٹ سیکشن میں آن لائن ٹیچنگ کی مشہور اور معروف ویب سائٹس لسٹ دی جا رہی ہے ان کو سٹڈی کریں،
ان پر اپنے اکاؤنٹس بنائیں اور اپنی مارکیٹنگ کریں، شوق اور لگن سے محنت کریں ان شاء اللہ آپ گھر بیٹھ کر بہت ہی اچھی اور بہترین انکم حاصل کریں گے۔۔۔

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00

Telephone

+923179017557

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Multi Tech. Training Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Multi Tech. Training Institute:

Share